نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:سابق فاسٹ بولرشعیب اخترکاویڈیوپیغام
  • بریکنگ :- پاکستان ٹیم کو ہلکانہیں لےسکتے،سابق فاسٹ بولرشعیب اختر
  • بریکنگ :- ویرات کوہلی کاکہناہےپاکستان کوہرانےکیلئےبہترین کرکٹ کھیلنی پڑےگی،شعیب اختر
  • بریکنگ :- ٹیم میں شرجیل خان کوبھی شامل کرلیتےتواچھاہوتا،شعیب اختر
  • بریکنگ :- تبدیلی کےبعدپاکستان ٹیم کاکمبی نیشن اچھابن گیاہے،شعیب اختر
  • بریکنگ :- پاکستانیوں آپ نےگھبرانانہیں ہے،اپنی ٹیم کاساتھ نہیں چھوڑنا،شعیب اختر
  • بریکنگ :- پاکستانی ٹیم جیتےیاہارےہم ساتھ ہیں،سابق فاسٹ بولرشعیب اختر
Coronavirus Updates

حکمت کی باتیں

حکمت کی باتیں

اسپیشل فیچر

تحریر :


صاحب حکمت
اللہ صاحب حکمت ہے۔ دنیا میں ہونے والا ہر واقعہ اس کی دانائی، بصیرت اور اس کے حکیمانہ مقاصد کا حامل ہوتا ہے۔ ہماری نگاہ اس پر نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مصیبت کتنی بڑی ہے بلکہ اس پر ہونی چاہیے کہ یہ کیوں آئی ہے، اس لئے کہ اس حکیم و خبیر سے یہ توقع نہیں کہ وہ بلاوجہ ہمیں کسی ابتلا میں ڈال دے گا۔ وہ یقینا درج بالا مقاصد ہی کے لئے ہمیں آزماتا ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ہر کام کو حکمت پر مبنی سمجھا جائے، اس لئے کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ اس کی یہ صفات اس سے کسی حالت میں بھی الگ نہیں ہوتیؒ، اس لئے یہ جان لینا چاہیے کہ اگر وہ کسی کو سزا بھی دے رہا ہو تو وہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ اس کو ہم ایک ادنیٰ درجے پر ماں کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں، جو اپنے بچے کو بدتمیزی کرنے یا محنت نہ کرنے پر صرف اس لئے سزا دیتی ہے کہ اس کی عادتوں کا بگاڑ اس سے دور ہو یا اس کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ ماں کے ذہن کی یہ حکمت بعض اوقات بیٹے سے اوجھل ہوتی ہے اور وہ ماں سے باغی ہو جاتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ اگر ماں اپنے بیٹے پر یہ ستم اس لئے توڑتی ہے کہ وہ سدھر جائے، اس کا مستقبل سنور جائے، وہ آنے والے دنوں میں پریشان نہ ہو تو کیا خدا ماں سے زیادہ حکیم نہیں ہے، اور وہ اس سے زیادہ مستقبل سے باخبر نہیں ہے؟ یہی اس کا علیم و حکیم ہونا ہے جو ہمارے لئے باعث اطمینان ہے۔اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بسا اوقات ہم یہ خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کاروبار چل جانا چاہیے، ہمیں ملازمت مل جانی چاہیے، ہمارے ہاں اولاد ہونی چاہیے لیکن معاملہ اس کے برعکس رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے اللہ کا علم یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے لئے مستقبل میں نقصان کا باعث ہوگا۔ وہ ہمیں اس نقصان سے بچانے کے لئے سب سب کچھ سے محروم رکھتا ہے۔
پست خیال انسان
پست خیال انسان آکاس بیل کی طرح خود پھیلتا ہے اور دوسروں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ وہ دوسروں کو اُن کے حقوق سے محروم کر کے اپنے نفس کی تسکین چاہتا ہے۔ بلند خیال انسان شمع کی طرح جلتا ہے اور روشنی دیتا ہے۔ جلتا ہے، روشن رہتا ہے۔ بلند خیالی روشنی ہے۔ وہ روشن رہتا ہے، روشن کرتا ہے اور پھر اپنے اصل کی طرف یعنی نور کی طرف رجوع کر جاتا ہے۔ اُس کی زندگی دوسروں کے لیے اور دوسروں کا دُکھ اپنے لیے۔ وہ بلند خیال ہے۔ پست خیال کو ہم خیال بنانا اُس کا دین ہے، اُس کا مذہب ہے، اُس کا منصب ہے۔
چیونٹی اور مکھی
ایک دن ایک چیونٹی اور مکھی دونوں اپنی فضیلت اور برتری پر لڑنے لگیں اور اپنی بحث وتکرار کرتے ہوئے مکھی نے کہا:
''میری بزرگی مشہور ہے، جب خدا کے لیے نذر یا قربانی کی غرض سے جو بھی جانور ذبح ہوتا ہے اس کے گوشت، ہڈیوں اور انتڑیوں کا مزہ سب سے پہلے میں چکھتی ہوں۔ مساجد اور خانقاہوں میں بھی اچھی جگہ پر بیٹھی ہوں۔ میں عمدہ سے عمدہ جگہوں پر بلاروک ٹوک جاتی ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت عورت جو میرے پاس سے ہو کر گزرتی ہے، میرا دل چاہتا ہے تو میں اس کے نازک ہونٹوں پر جا بیٹھتی ہوں۔ کھانے پینے کے لیے مجھے محنت نہیں کرنا پڑتی۔ اعلیٰ سے اعلیٰ نعمت مجھے میسر رہتی ہے تو بے چاری غریب مسکین میرے رُتبے پر کہاں پہنچ سکتی ہے اور میری برابری کہاں کر سکتی ہے‘‘۔
چیونٹی، مکھی کی یہ بات سُن کر بولی: ''خدا کی نذر یا قربانی میں جانا تو بہت باعث برکت ہے لیکن جب تک کوئی بلائے نہیں تیری طرح بن بلائے جانا تو بڑے بے شرمی کی بات ہے اور تو جو درباروں، بادشاہوں اور خوبصورت ہونٹوں پر بیٹھنے کا ذکر کرتی ہے تو یہ بھی بے جا ہے کیونکہ ایک دن گرمی کے موسم میں جبکہ میں دانہ لانے جا رہی تھی، میں نے ایک مکھی کو فصیل کی دیوار کے پاس ایسی غلیظ چیز پر بیٹھے دیکھا جس کا نام لینا بھی مناسب نہیں اور وہ اس غلاظت کو چپڑ چپڑ کھا رہی تھی اور تو نے مسجدوں اور خانقاہوں میں جانے کا کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو سستی اور کوتاہی کی ماری ہوئی ہے اس لیے وہاں جا کر پڑی رہتی ہے تاکہ کوئی زحمت اُٹھانا نہ پڑے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے جو سست اور کاہل ہوتے ہیں ان کو کوئی اپنی محفل میں آنے نہیں دیتا۔ اس لیے ادھر ادھر گھستے پھرتے ہیں۔ تو نے یہ کہا کہ تجھے کوئی کام نہیں کرنا پڑتا اور مجھے سب کچھ بغیر محنت کے مل جاتا ہے، بات تو سچ ہے لیکن یہ بھی سوچ گرمیوں کے دنوں میں جب تو ادھر ادھر کھیل تماشے میں کھوئی رہتی ہے تو سردیوں میں بھوک سے مرتی ہے اور ہم اپنے گرم گھروں میں مزے سے کھاتے پیتے اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کرتے ہیں‘‘۔
عقل مند بیٹا
کسی بادشاہ نے ایک تیلی سے دریافت کیا کہ ایک من تلوں سے کتنا تیل نکلتا ہے؟ تیلی نے کہا: دس سیر۔ پھر پوچھا دس سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی سیر۔ بادشاہ نے پوچھا: اڑھائی سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی پائو۔ سلسلہ سوالات کے آخر میں بادشاہ نے پوچھا، ایک تل میں سے کتنا تیل نکل سکتا ہے؟ تیلی نے جواب دیا کہ جس سے ناخن کا سرا تر ہو سکے۔ کاروبار دنیوی میں تیلی کی اس ہوشیاری سے بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ علم دین سے بھی کچھ واقفیت ہے؟ تیلی نے کہا: نہیں۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر کہا کہ دُنیاوی کاروبار میں اس قدر ہوشیار اور علم دین سے بالکل بے خبری۔ اس کو قید خانہ میں لے جائو۔ جب تیلی کو قید خانے میں لے جانے لگے تو تیلی کا لڑکا خدمت میں عرض کرنے لگا کہ ''میرے باپ کے جرم سے مجھے مطلع فرمائیںتو کرم شاہانہ سے بعید نہ ہو گا‘‘۔
بادشاہ نے کہا: ''تیرا باپ اپنے کاروبار میں تو اس قدر ہوشیار ہے لیکن علم دین سے بالکل بے بہرہ ہے۔ اس لیے اس غفلت کی سزا میں اس کو قید خانے بھیجا جاتا ہے‘‘۔ تیلی کے لڑکے نے دست بستہ عرض کی: ''حضور! یہ قصور اس کے باپ کا ہے جس نے اس کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا، نہ کہ میرے باپ کا؟ میرے باپ کا قصور اس حالت میں قابل مواخذہ ہوتا، اگر وہ مجھے تعلیم نہ دلاتا۔ لیکن میرا باپ مجھے تعلیم دلا رہا ہے۔ آئندہ حضور کا اختیار ہے‘‘۔ بادشاہ لڑکے کے اس جواب سے بہت خوش ہوا اور کہا: ''تمہاری تھوڑی سی تعلیم نے نہ صرف اپنے باپ کو مصیبت قید سے چھڑا لیا بلکہ تم کو بھی مستحق انعام ٹھہرایا‘‘۔ چنانچہ بادشاہ نے تیلی کو رہا کر دیا اور اس کے لڑکے کو معقول انعام دے کر رُخصت کیا۔
صبر
ہر طرح کی آزمائش میں صحیح رویے اور عمل کو اختیار کرنا صبر کہلاتا ہے۔ صبر کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ہر صورت میں صحیح موقف پر قائم رہے۔ اللہ اسے دے تو وہ شکر گزار رہے، فرعون وقارون نہ بنے اور اللہ چھینے تو وہ صابر رہے، کفر وشرک اختیار نہ کرے، اللہ کے دروازے سے مایوس نہ ہو۔ صحیح موقف سے مراد یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے اخلاق سے نہ گرے۔ اپنے عزیزوں اور اپنے ساتھ بُرائی کرنے والے لوگوں سے بالخصوص اپنا رویہ صحیح رکھے۔ ان کے حقوق پورے کرے، ان کی عزت قائم رکھے۔ ان سے اگرسہوونسیان ہوا ہے تو بالخصوص ان سے درگزر کا رویہ اختیار کرے اور اگر ان کی طرف سے دانستہ کوئی چیز سرزد ہوئی ہے تو سزا دینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یہاں بھی پسندیدہ یہی ہے کہ اگر ہو سکے تو انھیں معاف کر دے۔
خدا کی طرف سے آنے والی مشکلات میں بھی صبر ضروری ہے۔ ان چیزوں میں آدمی اگر صبر نہ کرے تو وہ مایوس ہو کر کفر وشرک تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کو ہم اپنے معاشرے کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور وہ علاج معالجہ کراتا ہے، دُعائیں کرتا ہے لیکن پھر بھی جب اولاد نہیں ہوتی تو وہ مایوس ہو جاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کے درباروں اور استھانوں کے چکر لگاتا ہے۔ ان کو خدا کی ایک صفت میں شریک وسہیم بنا دیتا ہے۔ چنانچہ اچھا خاصا آدمی محض اولاد سے محرومی کے دکھ میں شرک کر بیٹھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ صبرو استقامت سے کام لیا جائے۔
کنکر نہیں ہیرے
ایک قافلہ ایک اندھیری سُرنگ سے گزر رہا تھا کہ اُن کے پائوں میں کنکریاں چبھیں۔ کچھ لوگوں نے اس خیال سے کہ یہ کسی اور مسافر کو نہ چبھ جائیں، نیکی کی خاطر اُٹھا کر جیب میں رکھ لیں۔ کچھ نے زیادہ کچھ نے کم۔
جب اندھیری سرنگ سے باہر آئے تو دیکھا وہ ہیرے جواہرات تھے۔ جنھوں نے کم اُٹھائے وہ پچھتائے کہ کم کیوں اُٹھائے۔ جنھوں نے زیادہ اُٹھائے اور بھی زیادہ پچھتائے۔
دُنیا کی زندگی کی مثال اُس اندھیری سُرنگ کی سی ہے۔ نیکیاں یہاں کنکریوں کی مانند ہیں۔ اس زندگی میں جو نیکی کی وہ آخرت میں ہیرے موتی جیسی قیمتی ہو گی اور انسان ترسے گا کہ اور زیادہ کیوں نہیں کیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
بیگم نصرت بھٹو : عزم و استقامت کا پیکر، جمہوریت کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں

بیگم نصرت بھٹو : عزم و استقامت کا پیکر، جمہوریت کے لئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں

نصرت بھٹو مرحومہ کی زندگی صبر، حوصلہ، استقلال اور استقامت کا نادر نمونہ رہی ہے۔ ایک باوفا بیوی، مشفق ماں اور ایک مستقل مزاج رہنما کے طور پر انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ انھوں نے جس انداز میں آمریت کو للکارا، اس نے تاریخ میں جرات، ہمت اور اصول پرستی کا ایک نیا باب رقم کیا۔جمہوریت کی علامت اور بہادری سے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کی مزاحمت کرنے والی اس خاتون کو بچھڑے آج دس سال ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ نصرت بھٹو کا 23 اکتوبر 2011 کو دبئی میں انتقال ہوا تھا۔بیگم نصرت بھٹو 1929ء میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک امیر خاندان سے تھا اور ان کے والد کراچی کی ایک بڑی کاروباری شخصیت تھے۔ نصرت بھٹو کی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے 1951ء میں کراچی میں شادی ہوئی۔ ان کے چار بچے ہوئے۔ جن میں بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو شامل ہیں۔نصرت بھٹو کی زندگی میں سکھ کم اور دکھ بہت نظر آتے ہیں۔ ان کے شوہر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 51 سال کی عمر میں 1979ء کو پھانسی ہوئی۔ ان کے جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی 27 برس کی عمر میں فرانس میں مشکوک حالات میں موت واقع ہوئی۔ ان کے بڑے صاحبزادے مرتضی بھٹو کو 1996ء میں 42 برس کی عمر میں ان کی اپنی بہن بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا تھا۔ بیگم نصرت بھٹو کی بڑی صاحبزادی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں 2007ء کو دہشت گردانہ کارروائی میں 54 برس کی عمر میں قتل کیا گیا۔ بیگم نصرت بھٹو کے پائے کی اعلیٰ شخصیت شاید ہی کوئی ہوگی جس نے جمہوریت کے طویل سفر میں اپنے اتنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہوں۔بیگم نصرت بھٹو اپنے شوہر کی وزارت عظمیٰ تک سیاست میں سرگرم نہیں رہیں لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاالحق نے قید کیا تو ان کا حادثاتی طور پر سیاسی سفر شروع ہوا اور جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو وہ پاکستانی سیاست کا ایک نمایاں کردار بن چکی تھیں۔5 جولائی 1977ء سے 4 اپریل 1979ء تک پونے دو برس کا عرصہ محترمہ نصرت بھٹو کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا۔وہ ایک طرف شوہر کی زندگی بچانے کے لیے وکلا کے ساتھ مشاورت اور سفارتی سطح پر روابط کر رہی تھیں، دوسری طرف پارٹی کے معاملات چلاتے ہوئے اسے طاغوتی قوتوں کی چیرہ دستیوں سے بچانے کی کوششوں میں مصروف تھیں۔ اس کے ساتھ گھر کا انتظام اور بچوں کی دیکھ بھال کررہی تھیں۔ اس دوران وہ کئی بار گرفتار ہوئیں اور مختلف جیلوں میں قید و بند کی سخت صعوبتیں برداشت کرتی رہیں۔جنرل ضیاء الحق کے ظلم و جبر کے تاریک ایام میں وہ بھٹو صاحب کیلئے امید کی کرن تھیں۔ اس آمرانہ دور حکومت میں بیگم نصرت بھٹو نے یادگار کردار ادا کیا۔ بیگم صاحبہ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں جرات و ہمت کی لوبجھنے نہیں دی۔ان کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی جبرو تشدد کے باوجود مستحکم ہو کر آمریت کیخلاف سینہ سپر رہی۔ بیگم نصرت بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کیخلاف ایک تاریخ ساز بیان میں اعلان کیا تھا کہ ''ہم پاکستان کیلئے نسل در نسل لڑیں گے اور کسی ڈکٹیٹر کے آگے نہیں جھکیں گے‘‘۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف جمہوری جدوجہد میں اپنے اس قول کو حرف بہ حرف صحیح ثابت کیا اور پارٹی کے کارکنوں نے بیگم صاحبہ کی قیادت میں جنرل ضیاء الحق کا جس جرات اور بہادری سے مقابلہ کیا وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ بیگم نصرت بھٹو عزم و استقلال کا پیکر اور غیر جمہوری قوتوں کیخلاف مزاحمت کی علامت تھیں۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو جنرل ضیاء الحق کی کارروائیوں کیخلاف پیغام دیا تھا کہ ہمارے سر کٹ تو سکتے ہیں، لیکن جھک نہیں سکتے۔یہ ایسی صورتحال تھی، جو کسی بھی شخص کے حوصلے کو شکستہ کر دینے کے لیے کافی تھے۔ مگر محترمہ نصرت بھٹو مرحومہ نے اس دور ابتلا کو اپنی بصیرت، ہمت اور استقلال سے گزارا اور ان کے حوصلہ میں کوئی کمی نہیں آئی۔ گو وہ اپنے شوہر کو بچا نہیں سکیں، لیکن انھوں نے بھٹو کی نشانیوں (اولاد اور پارٹی) کو محفوظ رکھنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی۔بیگم بھٹو کی زندگی میں جدوجہد کا دوسرا دور شوہر کی وفات کے بعد شروع ہوا۔ اس دور میں ان کے پیش نظر پارٹی کی تنظیم سازی کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنا تھی۔بلاشبہ بیگم نصرت بھٹو کا وہ عظیم کردار کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کرنیوالے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب ان کی پارٹی بھی بکھر جائیگی۔ یہ بیگم نصرت بھٹو ہی تھیں، جنہوں نے ایک طرف اس پہاڑ جیسے غم کو برداشت کیا اور دوسری طرف مایوس اور غمزدہ کارکنوں کو جمع کر کے جنرل ضیاء الحق کی نیندیں حرام کر دیں۔ بیگم نصرت بھٹو سر پر لاٹھیاں کھا کر بھی کارکنوں کے ساتھ رہیں۔ انہوں نے ابتلا ء کے وقت میں ایک ماں، ایک رہنما اور زبردست قوت ارادی کی حامل سیاست دان کا کردار بیک وقت ادا کیا۔ ان کی دلیرانہ جدوجہد جنرل ایوب خاں کے دور سے شروع ہو کر جنرل ضیاء الحق کے دور تک محیط ہے۔وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی 1979ء سے 1983ء تک چیئرپرسن رہیں۔ کینسر کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر وہ علاج کے لیے لندن چلی گئیں اور ان کی بڑی صاحبزادی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ایرانی نژاد پاکستانی بیگم نصرت بھٹو جس پائے کی شخصیت تھیں ان میں وہ غرور یا تکبر نہیں تھا جو عام طور پر سیاسی خاندانوں کے افراد میں نظر آتا ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھیں لیکن وہ اپنے کٹر سیاسی مخالفین سے سختی سے پیش آتی تھیں۔بیگم بھٹو اپنے صاحبزادے میر مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد دماغی بیماری ''الزائمر‘‘ میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ اپنی زندگی کے آخری برس دبئی میں گزارے اور آخری ایام میں وہ کسی کو پہچاننے سے بھی قاصر تھیں۔23اکتوبر 2011ء کو ان کا انتقال ہوا۔ ملک، آئین اور جمہوریت کیلئے ان کی خدمات رہتی دنیا تک یاد رہیں گی۔(ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں، ملک کے موقر جریدوںمیں ان کے سیکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں)

ہرمل:کرشماتی جنگلی بوٹی، اس کی دھونی سے مچھروں اور زہریلے کیڑوں کا خاتمہ ممکن

ہرمل:کرشماتی جنگلی بوٹی، اس کی دھونی سے مچھروں اور زہریلے کیڑوں کا خاتمہ ممکن

چند دن پہلے میں نے اپنے ملازم کو فون کیا، تو وہ بتانے لگا کہ اس سال بارشوں کی وجہ سے جنگلی جڑی بوٹیوں کی اس قدر بہتات ہے کہ اگلی فصل کی تیاری کے لئے زمین کو تیار کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ''ہرمل‘‘ نامی بوٹی اس کثرت سے اُگ آئی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔''ہرمل‘‘ کا نام سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے اپنے بچپن کا زمانہ گھومنے لگا ،جب ہر سال ماہ اکتوبر کے شروع ہوتے ہی گھروں میں بڑے بوڑھے باقاعدگی سے ہرمل کی دھونی کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ کیا مجال کہ ہرمل کی دھونی والے گھر میں مچھر یا نقصان پہنچانے والے دوسرے موسمی کیڑے نظر آجاتے بلکہ ایسے گھر ممکنہ حد تک موسمی بیماریوں سے محفوظ رہتے تھے۔اس حوالے سے پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں سارا سال ہر پھل، ہر سبزی دستیاب ہوتی ہے۔ وجہ اس کی وطن عزیز میں چاروں موسموں کا ملک کے کسی نہ کسی کونے میں موجود ہونا ہے۔ اگر پنجاب میں سخت گرمی کا موسم ہے تو شمالی علاقہ جات کے کچھ علاقوں میں برف باری ہو رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب پنجاب کے بیشتر علاقوں میں گرمی کا آغاز ہونے کو ہوتا ہے تو سندھ کے بیشتر علاقوں سے گرمیوں کے پھل اور سبزیاں آچکے ہوتے ہیں۔پاکستان کو قدرتی بناتات کا گھر کہا جاتا ہے۔ جڑی بوٹیوں کو خواہ انگریزی ادویات میں استعمال کریں یا دیسی طریقہ علاج میں، ان کی افادیت اور اہمیت سے کسی کو انکار ممکن نہیں۔ہرمل ایک ایسی خود رو بوٹی ہے جس کے خواص کا احاطہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ہرمل کے پودے کی پہچان یہ ہے کہ اس پر چھوٹی چھوٹی ڈوڈی نما پھلیاں لگتی ہیں جو سیاہ دانوں سے بھری ہوتی ہیں۔ہرمل کیا ہے اور کہاں ہوتا ہے؟ہرمل بنیادی طورپر ریگستانوں کی ایک خود رو جنگلی بوٹی ہے لیکن اپنے اندر اوصاف کا خزانہ رکھنے اور شہری علاقوں میں مہنگے داموں بکنے کے سبب اب اسے کسی حد تک محفوظ کیا جانے لگا ہے۔ اس سے پہلے عمومی طور پر اسے تلف اس لئے کر دیا جاتا تھا کہ یہ فصلوں کو بڑھنے سے روکتی ہے۔ اس کا سائنسی نام Peganum Harmal ہے، انگریزی میں اسے Syrian Rue جبکہ فارسی میں اسے'' اسفند‘‘ کہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے ریگستانی علاقوں میںبکثرت ہوتاہے۔ہرمل کی خصوصیاتنظام قدرت ملاحظہ فرمائیں کہ مالک کائنات نے ایک جھاڑی سے لیکر درخت تک جو بھی نباتات اس روئے زمین پر پیدا کی ہے وہ بلا جواز نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہماری سوچ اور تحقیق اس تک نہ پہنچ سکی ہو۔کچھ ایسا ہی احوال ''ہرمل ‘‘ کے خود رو پودوں کا ہے جو عین انہی دنوں شباب کو پہنچتے ہیں جب گرمیوں کا موسم جا رہا ہوتا ہے اور سردیوں کی آمد آمد ہوتی ہے۔ یہی وہ دن ہوتے ہیں جب ہمارے ہاں مچھروں کی آمد کی شروعات ہو چکی ہوتی ہے۔ہرمل کو قدرت نے مچھر بھگانے کا حیرت انگیز وصف عطا کر رکھا ہے تبھی تو صدیوں سے جب مچھر بھگاؤ لوشن اورسپرے کاوجود بھی نہ تھا سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں انگارے جلا کر اس کے اوپر ہرمل کے دانے ڈال دیئے جاتے، جسے ''ہرمل کی دھونی‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کی بو سے مچھر بھاگ جاتے ہیں اور متواتر کچھ دن ہرمل کی دھونی کرتے رہنے سے کافی دنوں تک کے لئے مچھروں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اب تو جدید تحقیق نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ ہرمل ایک مکمل ''اینٹی بکٹیریل‘‘ اور ''اینٹی وائرل‘‘ خصوصیات کا حامل ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ہرمل کے ساتھ لوبان کا اضافہ بھی کر دیا جائے تو اس کے مزید بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کی دھونی صرف مچھروں کے لئے ہی کارآمد نہیں بلکہ ہر قسم کے کیڑے مکوڑوں، مکھیوں اور دیگر نظر نہ آنے والے جراثیموں بکٹیریا اور موسمی وائرس سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ اس کی متواتر دھونی سے مندرجہ بالا خطرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے بلکہ آج کل ڈینگی مچھر اور اس کے اثرات سے بچنے کا یہ انتہائی کار آمد نسخہ ہے۔ چین میں تو ہرمل کے ہرے پودے کو کمروں میں رکھنے کا رواج عام ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ جب تک ہرا پودا کمرے میں رہتا ہے، مچھر نزدیک نہیں آتے۔یہ چونکہ ایک زبردست جراثیم کش خصوصیات کا حامل پودا ہے جس کے باعث ہمارے دیہی علاقوں میں آج بھی ہرمل کی دھونی سے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔(خاورنیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں)

اقتباسات

اقتباسات

رکوع کا رازمیں نے ندی کنارے لڑکیوں کو پانی بھرتے دیکھا اور میں دیر تک کھڑا ان کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ پانی بھرنے کے لیے جھکنا پڑتا ہے اور رکوع میں جائے بغیر پانی نہیں بھرا جا سکتا۔ ہر شخص کو رکوع میں جانے کا فن اچھی طرح سے آنا چاہیے تا کہ وہ زندگی کی ندی سے پانی بھر سکے، اور سَیر ہو سکے۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ انسان جھکنے اور خم کھانے کا آرٹ آہستہ آہستہ بھول رہا ہے اور اس کی زبردست طاقتور انا اس کو یہ کام نہیں کرنے دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دعائیں اور ساری عبادت اکارت جا رہی ہے اور انسان اکھڑا، اکھڑا سا ہو گیا ہے۔اصل میں زندگی ایک کشمکش اور جدوجہد بن کر رہ گئی ہے۔ اس میں وہ مٹھاس، وہ ٹھنڈک اور شیرینی باقی نہیں رہی جو حسن اور توازن اور ہارمنی کی جان تھی۔ اس وقت زندگی سے جھکنے اور رکوع کرنے کا پراسرار راز رخصت ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ محض جدوجہد باقی رہ گئی ہے۔لیکن ایک بات یاد رہے کہ یہ جھکنے اور رکوع میں جانے کا آرٹ بلا ارادہ ہو ورنہ یہ بھی تصنع اور ریاکاری بن جائے گا۔ اور یہ جھکنا بھی انا کی ایک شان کہلائے گا۔(اشفاق احمد : ''بابا صاحبا‘‘سے اقتباس)خبر نہ تھیدنیا بھر کی سیاحتی منزلوں کے راستے طے ہوتے ہیں، وہ وہاں موجود ہیں یہ طے ہوتاہے۔ پیرس، روم، دمشق یا قرطبہ، بہر طور وہاں ہیں تو ان کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہوئے آپ کے بدن میں ایک پر اشتیاق سنسنی پھیلتی ہے، خون میں شیمپیئن ایسے پر خُمار گلابی بلبلے پھوٹتے ہیں لیکن یہ جو دنیا جہان کے پار الاسکا ہے، تو یہ طے نہیں ہو پا رہا کہ وہاں ہے بھی کہ نہیں۔ صرف نقشے ہماری ڈھارس بندھاتے ہیں کہ وہاں ہونا چاہئے۔بے شک میری کوہ نوردیوں کا آغاز سولہ برس کی عمر میں ہوا جب میں گورنمنٹ ہائی کالج کی کوہ پیمائی کی ٹیم میں شامل ہو کر رتی گلی کی چوٹی تک پہنچا تھا لیکن میں بلندیوں کا تب اسیر ہوا، پہاڑوں کے جاہ و جلال کے اژدھے نے بھی مجھے ڈس کر ایک خمار آلود زہر میرے بدن میں تب داخل کیا جب میں درمیانی عمر کے زوال سے آشنا ہو رہا تھا۔اس کے باوجود میں پہاڑوں کی گوری شاہ گوری کی کنواری برفوں تک جا پہنچا تھا جو ایک معجزے سے کم نہ تھا۔ اس خُمار آلود زہر کی سیاہ طاقت کے سہارے میں جھیل کرومبرکے بلند اور تنہا خواب میں چلا گیا،دنیا کا طویل ترین برفانی راستہ طے کر کے سنو لیک کے راستے عافیت سے ہیسپر کے گاؤں میں جا نکلا لیکن تب مجھ میں کچھ ہمت اور سکت تھی، ڈھٹائی تھی اور اب نہ ہمت تھی اور نہ سکت البتہ ڈھٹائی جوں کی توں موجود تھی۔ مجھے کونج پر انحصار کرنا تھا کہ وہ مجھے اپنے پروں کے سہارے الاسکا تک لے جائے،وہ میری بیساکھی تھی۔الاسکا کے سفرکی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ایک اور''ٹریجڈی‘‘ ہو گئی۔مجھے خبر ہی نہ تھی۔جیسے شمس تبریز نے مولانا روم کو کتابوں کے انبار میں محو مطالعہ دیکھ کر اپنی دیوانگی میں سوال کیا تھا کہ یہ کیا ہے؟مولانا نے اپنے سرکاری درباری تکبر کے زعم میں نخوت سے کہا تھا کہ یہ وہ ہے جس کی تمہیں خبر نہیں۔ تو اسی ساعت ان کتابوں میں آگ لگ گئی اور مولانا ہراساں ہو کر بولے، یہ کیا ہے تو شمس تبریز نے بے اعتنائی میں کہا یہ وہ ہے جس کی تمہیں خبر نہیں۔تو میں بھی وہ تھا جسے خبر نہ تھی۔(مستنصر حسین تارڑ۔ سفرنامہ ''الاسکا ہائی وے‘‘ سے اقتباس) 

عمالقہ قوم ،سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے

عمالقہ قوم ،سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے

تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کو ان کے اعمال و کردار کے بل بوتے اگر سنبھالا ہے تو انہیں اپنے انجام تک پہنچایا بھی ہے۔ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اٹھا گئیں وہی فائدے میں رہیں اور جو احکام الٰہی سے سرکشی کی مرتکب رہیں ان کے لئے پھر رب نے ذلت اور رسوائی ہی لکھ دی۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی قوم گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سفاک اور جابر حکمرانوں کو ہی مسلط کیا۔ حضرت موسی ؑکے دور میں ایسی ہی ایک قوم عمالقہ تاریخ کی کتابوں میں سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔عمالقہ کون تھے؟تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ قوم عاد اور ثمود کے بعد کے دور میں ظاہر ہوئے تھے۔ مؤرخین بتاتے ہیں کہ عمالقہ قوم کے لوگ انتہائی دراز قد ، خون خوار اور وحشی فطرت کے تھے۔ عمالقہ قوم کے لوگ بنیادی طور پر عراق کے آس پاس کے علاقوں سے اٹھے اور رفتہ رفتہ مصر سے شام اور فلسطین تک خون خرابہ کرتے کرتے چاروں طرف پھیل گئے۔ قرآن کریم میں اس گروہ کو ''جبارین ‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکے دور میں یہ بحیرہ مردار کے مغرب میں آباد تھے۔ چونکہ یہ جہاں بھی گئے اپنی سفاکیت اور حرکتوں سے باز نہ آئے جس کی وجہ سے عراق کے اشوری بادشاہوں نے انہیں صحرائے سینا کی جانب دھکیل دیا تھا ، اس دور میں ان کی اکثریت بھیڑ بکریاں پالا کرتی تھی۔بنی اسرائیل نے جب اپنے رب کے احکامات کو فراموش کر کے بتوں کی پوجا شروع کر کے سفاکی ، سرکشی اور بدفعلی کو اپنا شعار بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ''جالوت ‘‘ نامی ایک قوم جسے ''عمالقہ ‘‘ کہتے ہیں ، مسلط کر دی۔ جالوت جو عملیق بن عاد کی اولاد میں سے تھا ، ایک سفاک اور جابر بادشاہ کی شہرت رکھتا تھا۔ عملیق بنیادی طور پر انفر کا بیٹا ، عیص کا پوتا اور حضرت اسحاق ؑ کا پڑپوتا تھا۔ اور کون نہیں جانتا کہ حضرت اسحاق ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے۔ عمالیق اور دیگر اولاد ابراہیم ؑ ، کنعان میں شہ زوری کی شہرت بھی رکھتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ عمالیق نسل فطرتاً خون خواری اور جنگجو خصلتوں کی حامل تھی۔ جالوت جو عمالقہ کا بادشاہ تھا۔ کہتے ہیں پندرہ فٹ طویل قد آور اس شخص کا سایہ ایک میل لمبا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوم بر بر کا تعلق بھی عمالقہ قوم سے ملتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس کی فوج تین لاکھ گھڑ سواروں پر مشتمل تھی۔عمالقہ نے اشوری بادشاہوں کے دورمیں فلسطین اور شام پر بزور بازو اپنا قبضہ جما لیا تو حضرت موسی ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ارض مقدس کو عمالقہ کے قبضے سے آزادی دلاؤ۔ چنانچہ جب حضرت موسی ؑ فلسطین کے قریب پہنچے تو انہوں نے بنی اسرائیل کے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا،'' اے قوم بنی اسرائیل! ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے،اور پیٹھ نہ دکھاؤ ورنہ خسارے میں رہو گے۔‘‘اس پر بنی اسرائیل کے یہ لوگ بولے، '' اے موسی ! تم اور تمہارا پرور دگار لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ وہاں تو ایک طاقتور قوم عمالقہ آباد ہے جس کا ہم مقابلہ کرنے کی قطعاً سکت نہیں رکھتے، صرف اس صورت ہم وہاں داخل ہو سکتے ہیں کہ وہ از خود اپنے وطن کو چھوڑ کر کہیں چلے جائیں۔ ‘‘چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سرکشی کی سزا کے طور پر بنی اسرائیل کو صحرائے تیہ میں قید کردیا اور یہ لوگ چالیس سال تک اسی مختصر سے صحرا میں بھٹکتے رہے۔میدان ِتیہ کا پس منظرمیدان ِ تیہ بنیادی طور پر شام اور مصر کے درمیان پانچ چھ فرسخ ( لگ بھگ موجودہ تیس کلومیٹر) کا ایک کھلا میدان تھا جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسی ؑ بنی اسرائیل کے ایک لشکر کے ساتھ قوم عمالقہ سے بیت المقدس کو آزاد کرانے نکلے تھے۔ لیکن فلسطین پہنچ کر بنو اسرائیل عمالقہ کی دہشت کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ کو جو سزا دی اس کے تحت یہ چالیس برس تک تقریباً تیس کلومیٹر کے میدان تیہ سے باہر نکلنے کے لئے صبح سے شام تک بھٹکتے لیکن باہر نہیں نکل سکتے تھے۔اس وادی کا یہ عالم تھا کہ یہاں نہ تو کوئی سایہ دار درخت تھا اور نہ ہی کوئی عمارت ، نہ ہی پینے کا پانی اور نہ ہی کھانے کی کوئی چیز بلکہ یہاں انسانی ضرورت کی کسی بھی چیز کا وجود تک نہ تھا۔ اگرچہ حضرت موسی ؑ اپنی قوم سے ناخوش تھے لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس قوم کے کھانے کیلئے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے آسمان سے من و سلوی نازل فرمایا، دھوپ سے بچاؤ کیلئے بادل بطور سائبان مہیا کئے اور پانی کی ضرورت کیلئے جب حضرت موسی ؑ نے پتھر پر عصا ماری تو آناًفاناً پانی کے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔بنی اسرائیل کی تنظیم ِنوحضرت موسی ؑ ، حضرت ہارون ؑ اور حضرت یوشع بن نونؑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس طویل عرصے کے دوران بنی اسرائیل کے وہ تمام لوگ ، جنہوں نے جہاد سے انکار کیا تھا اس جہان فانی سے رفتہ رفتہ کوچ کرتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ حضرت موسی ؑ کو حکم خداوندی ہوا کہ بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کر کے ان کی تنظیم نو کر کے ہر قبیلے کا الگ الگ سربراہ مقرر کریں جو اپنے قبیلے کے لوگوں کو دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ جہاد کی تربیت کی ذمہ داری بھی سونپے۔ دراصل یہ ساری تیاری بیت المقدس کی عمالقہ قوم سے رہائی کی پیش بندی کے طور پر کی جارہی تھی۔ چنانچہ حضرت موسی ؑ نے حکم الٰہی کی تعمیل میں بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کر کے حضرت یوشع ؑ کو ان بارہ قبائل کا سردار مقرر کر دیا۔ بنی اسرائیل کے لوگوں کی وادیٔ تیہ کی سزا ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ حضرت موسی ؑ رحلت فرما گئے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت یوشع ؑ نے جہاد کے لئے اپنے زیر اثر تمام قبائل کی جنگی تربیت کا آغاز کیا۔ ویسے بھی چونکہ اس وادی میں اللہ کی طرف سے من و سلوی کی فراہمی کے باعث کسی قسم کی معاشی سرگرمیاں تو تھیں نہیں۔ جس کے سبب ان لوگوں نے خوب دل جمعی سے جنگی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔بیت المقدس کی رہائی کا حکمبنی اسرائیل کے صحرائے تیہ میں سزا کے جب چالیس سال پورے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع ؑ کو حکم صادر کیا کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور بیت المقدس کو عمالقہ قوم کے غاصبوں سے آزاد کراؤ۔چونکہ بنی اسرائیل کی نئی نسل ماضی میں اپنے بزرگوں کی جہاد سے چشم پوشی کی غلطیوں سے آگاہ تھی اور اپنی مقدس سرزمین کی آزادی کیلئے بے تاب بھی ، اس لئے انہوں نے حضرت یوشع ؑ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔چنانچہ بارہ قبائل پر مشتمل جہاد کے جذبے سے سرشار بنی اسرائیل کے چھ لاکھ افراد نے حضرت یوشع ؑ کی سپہ سالاری میں '' اریحا ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ بنی اسرائیل کا یہ محاصرہ چھ ماہ تک جاری رہا۔بالآخر ایک دن بنی اسرائیل کے جاں نثار عمالقہ کے قلعہ کی دیوار کو گرا کر شہر کے اندر داخل ہو گئے اور اریحا شہر میں اپنا پرچم لہرانے میں کامیاب ہو ئے۔اس کے بعد کنعان کے شہر فتح کرتے ہوئے آخر میں ارض فلسطین اور شام کا پورا علاقہ فتح کرلیا۔ یوں رب نے اس روئے زمین پر ایک جابر اور سفاک قوم کو اپنے انجام تک جا پہنچایا۔(خاور نیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں۔تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں) 

گم شدہ اشیاء ڈھونڈنے والا روبوٹ

گم شدہ اشیاء ڈھونڈنے والا روبوٹ

کمال ہوگیا۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا روبوٹ بنالیا ہے جو بڑی تیزی سے گم شدہ چیزوں کے مقام کا تعین کرسکتا ہے اور اس طرح گم شدہ اشیاء دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ روبوٹ بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے گم شدہ اشیاء کو ڈھونڈ کر باہر نکال سکتا ہے۔ یہ بھی بڑی حیران کن بات ہے۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے ماہرین نے ایک ماڈل تیار کیا ہے جس کے روبوٹک بازو ہیں جس کے ہاتھ پر ایک کیمرہ ہے اور اس کے ساتھ ریڈیو انٹینا فریکویسی ہے ۔یاد رہے کہ ریڈیو فریکونسی ہر قسم کی سطح پر سفر کرسکتی ہے۔مال چوری ہونے سے بچنے کے لیے ایئر لائنز بھی انہیں استعمال کرتی ہیں تاکہ مسافروں کے سامان کی گزر گاہ کا پتہ چل سکے۔یہ کہا جاتا ہے کہ اس افراتفری کی دنیا میں اشیاء کی تلاش کسی مسئلے سے کم نہیں۔ ایم آئی ٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹس کا ہونا جو بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے نیچے گم شدہ اشیاء کو تلاش کرلے، آج کی صنعت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ محققین کے مطابق ایک دن ان کا نظام ایک ویئر ہائوس میں بھی چیزوں کے ڈھیر سے بہت کچھ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگا۔ کار بنانے والے پلانٹ میں ضروری اجزا نصب بھی کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ ان ضروری اجزا کی شناخت بھی ممکن ہوگی۔ مزید برآں ایک ضعیف آدمی کی گھر کے کاموں میں مدد بھی کی جاسکتی ہے۔محققین نے روبوٹ کو سکھانے کے لئے اعصابی نیٹ ورک کو استعمال کیاجس کا مقصد روبوٹ کی رفتار کو بہتر بنانا تھا۔ مختلف ہدایات کی روشنی میں اس کی تربیت کی جاتی ہے۔اس سے ہمارا دماغ بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ہمیں اپنے والدین اور اساتذہ کی طرف سے تحسین کی شکل میں بہت کچھ ملتا ہے۔ اسی طرح ہمیں کمپیوٹر گیمز بھی ''انعامات‘‘ دیتی ہیں۔ سیکھنے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ MIT کے ایک اور پروفیسر کا کہنا تھا ''ہم ایجنٹ کو غلطیاں کرنے دیتے ہیں یا پھر کوئی کام درست کرنے دیتے ہیں پھر اس کے بعد ہم نیٹ ورک کو سزا دیتے ہیں یا انعام۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے نیٹ ورک کچھ سیکھتا ہے۔ آر ایف یوزٹن سسٹم کے لیے پیش کارکردگی ایلگورتھم کو انعام دیا گیا جب اس نے ان حرکات کو محدود کردیا جو اسے کسی گم شدہ شے کے مقام کا تعین کرنے میں کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فاصلے کو بھی محدود کردیا جو اسے اس چیز کو اٹھانے کیلئے طے کرنا پڑا۔ جب ایک دفعہ سسٹم درست جگہ کی شناخت کرلیتا ہے تو پھر اعصابی نیٹ ورک آ رایف اور تصویری معلومات کو اکٹھا کرکے استعمال کرتا ہے۔ اس سے اسے اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ روبوٹک بازو کو کب چیز کو اپنے قابو میں کرنا ہے۔ یہ نظام گم شدہ چیز کے لیبل کو بھی جانچ لیتا ہے تاکہ یہ یقین ہوجائے کہ اس نے درست شئے کو اٹھایا ہے۔محققین نے اس سسٹم کو کئی بار ٹیسٹ کیا اور ان کے مطابق انہیں 96 فیصد کامیابی ملی۔ انہوں نے اس سسٹم کے ذریعے ان چیزوں کو ڈھونڈ نکالا جو بکھری ہوئی اشیاء کے ڈھیر کے نیچے چھپی ہوئی تھیں یا جنہیں چھپایا گیا تھا۔محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کبھی کبھی جب آپ صرف آ رایف کی پیمائشوں پر انحصار کرتے ہیں تو اس سے یہ ہوتا ہے کہ بیرونی حصوں کی پیمائش ہوتی ہے اور اگر آپ صرف تصویر پر بھروسہ کرتے ہیں تو اس میں یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ کیمرے سے کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ لیکن اگر آپ ان دونوں کو اکٹھا کردیں تو پھر یہ ہوگا کہ دونوں ایک دوسرے کو ٹھیک کردیں گے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ سسٹم کتنا مضبوط ہے۔ محققین کو امید ہے کہ مستقبل میں اس نظام کی رفتار بڑھا دی جائے گی تاکہ یہ آسانی سے حرکت کرے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ یہ سسٹم وقتاً فوقتاً پیمائشیں لینے کیلئے رک جاتا ہے۔ اس کیلئے مناسب یہی ہے کہ اس سسٹم کو وہاں نصب کیا جائے جہاں اشیاء کی پیداوار کے عمل کی رفتار بہت تیز ہو یا پھر اس مقصد کیلئے کسی ویئر ہائوس کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اور انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے۔ دوکتابوں کے مصنف بھی ہیں) 

ناکامی :ایک تحفہ

ناکامی :ایک تحفہ

آپ بھی سوچ رہے ہوں گہ بھلا ناکامی تحفہ کیسے ہو سکتی ہے،کیونکہ لفظ ناکامی کے ساتھ تو مایوسی، اداسی اور نا امیدی وابستہ ہے۔جہاں تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بھی کام میں ناکامی کے بعدنہ صرف دل ٹوٹ جاتا ہے بلکہ اس کو دوبارہ کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔یہ صرف آپ کے سوچنے کا انداز ہے اور کچھ بھی نہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ ناکامی کس طرح ہمارے لئے بہت قیمتی تحفہ ہے۔ناکامی ہمیں عمل کا درس دیتی ہےمشہور موجد ٹامس ایڈیسن نے 5ہزار سے زائد بار کوشش کے بعد بجلی کا بلب بنایا تھا۔ایک انٹرویو میں اس سے پوچھا گیا۔ 5ہزار بار آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاآپ کو کیسا محسوس ہوتا تھا۔ایڈیسن نے جواب دیا '' میں ناکام نہیں بلکہ میں نے 5ہزار ایسے طریقے سیکھے ہیں جن سے بجلی کا بلب نہیں بن سکتا‘‘۔ناکامی ہمیں ایک نیاراستہ دکھاتی ہے، ایسا راستہ جو اب تک ہماری نظروں سے اوجھل تھا۔ جس طرح کوئی سیلز پرسن اپنی پروڈکٹ فروخت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ کوئی اور نیا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ایک نیا طریقہ سیکھتا ہے کہ نئی حکمت عملی استعمال کر کے اپنی کاکردگی میں بہتری لاسکتا ہے۔جس طرح ہم اگر نوکری کے لئے کہیں انٹرویو دینے جاتے ہیں تو ہم سیکھتے ہیں کہ اگلی بار ہم اس میں مزید کیا بہتری لا سکتے ہیں کہ ہمارا انٹرویو اس سے بھی زیادہ بہتر ہو۔ناکام ہونے کے بعد ہمیں بہت سے ایسے مختلف اور نئے راستے ملتے ہیں جن کے بارے میں پہلے ہم نے کبھی سوچا نہیں ہوتا۔ ناکامی ہمیں نئے راستوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ نئی تراکیب اپناکر ان پر عمل پیرا ہونے سے ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ ناکامی ہمارے راستے بند نہیں کرتی بلکہ یہ ہمارے لئے بہت سے نئے راستے اور حل وضع کرتی ہے۔ناکامی ہمیں سمجھنے کا موقع دیتی ہےچالیس کی دہائی میں ایک نوجوان نے اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر اپنا خواب پورا کرنے کی غرض سے اپنے والدین کی مرضی کیخلاف ایک میوزیکل بینڈ جوائن کیا۔گلوکاری اور موسیقی کا اسے شوق ضرور تھالیکن یہ اس کی فطرت نہیں تھی۔ابھی اس کا ٹیلنٹ اتنا بلند نہیں تھا کہ وہ اسے ایک پروفیشن کی طرح استعمال کر سکتا۔جلدی ہی اس کے دوسرے ساتھیوں کو بھی اندازہ ہو گیالیکن وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کی نسبت اپنا پیسہ بہت اچھے طریقے سے خرچ کرتا اور بچت کرتا تھا۔ بے روزگاری کے دور میں اس کی وہی بچت اس کے کام آئی۔اس کے دوسرے ساتھیوں کو بھی اس کی خوبی کا علم ہو گیاکہ یہ پیسے کو بہت اچھا مینج کرلیتا ہے تو انہوں نے اسے اپنا فنانس منیجر رکھ لیا۔اپنی اسی خوبی کو دیکھتے ہوئے اس لڑکے نے اپنے کرئیر کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سوچا کہ کیا کام وہ بہتر طور پر کر سکتا ہے اور اس نے اپنا کرئیرتبدیل کر لیا۔اس لڑکے کا نام ہے ایلن گرین سپین ،جوکہ فیڈرل ریزرو امریکہ کا چیئرمین رہا۔ جس نے اپنی عمدہ کارکردگی سے اپنی کمپنی کو اقتصادی بحران سے بچایا اور اسے ترقی دی۔اس کی ایک ناکامی نے اسے سکھایا کہ قدرت نے اس کے اندر کیا خصوصیات رکھی ہیں جنہیں وہ زیادہ بہتر طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ جو اس کی اپنی ذات اور معاشرے کے لئے سود مند ہیں۔جب تک آپ ناکامی کا سامنہ نہیں کریں گے ،آپ کوپتہ نہیں چل سکتا کہ آپ میں کون سی خوبیاں اور خصوصیات ہیں۔ ایک پیشے میں ناکامی کے بعد ہی ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم کون سا دوسرا کام زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ناکامی نیا انداز فکر دیتی ہےبار ہا ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ہدف یا مقصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہمارے لیے بہت اہم ہوتا ہے ،ہزار کوششوں کے باوجود اس کے ہمیں مطلوبہ نتائج نہیں ملتے۔دراصل ایسی ناکامی ہماری اقدار کا پتہ دیتی ہے۔یہ ناکامی ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری زندگی میں سب سے اہم کیا ہے۔جو شخص اپنی زندگی میں اپنے خاندان کو اوّلیت دیتا ہے ،اپنی فیملی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے وہ شائد اپنے کرئیر میں بہت اوپر نہیں پہنچ سکتا لیکن وہ ایک بہترین شوہر،ایک بہترین باپ ضرور بن سکتا ہے۔ایک عورت جو اپنے کام کو ہفتے کے 80گھنٹے دیتی ہے۔ وہ مالی طور پر مستحکم اور کامیاب ہوگی لیکن شاید وہ دوسرے رشتے نبھانے میں اتنی کامیاب نہ ہو۔ہماری ناکامی ہمیں ایک ہدف پر توجہ مرکوز کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔اس ہدف کو پانے کے لئے ہم اپنی پوری توانائی صرف کر کے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ایک سب سے بڑا اور اہم تحفہ جو ناکامی ہمیں دیتی ہے وہ یہ علم ہے کہ '' ناکامی کبھی بھی حتمی نہیں ہوتی‘‘۔ ناکامی کبھی بھی زندگی یا اور مواقعوں کا اختتام نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ہم خود ہی ہار نہ مان لیں یا جب تک ہم خود ناکامی کا انتخاب نہ کر لیں۔ اب انتخاب آپ کا ہے کہ آپ اپنے لئے کیا منتخب کرتے ہیں۔٭٭٭(بینش جمیل پشاور کے ایک تعلیمی ادارے میں معلمہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ مندرجہ بالا مضمون ان کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے)۔