نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس کل ہوگا
  • بریکنگ :- ملکی سیاسی،معاشی اورسیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیاجائےگا
  • بریکنگ :- کابینہ اجلاس میں 13 نکاتی ایجنڈےپرغورکیاجائےگا،ذرائع
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ کومعاشی اشاریوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- وزارتوں،ڈویژنزمیں سی ای اوزاورایم ڈیزکی خالی اسامیوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2019 کےقانون میں ترمیم کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ای اوبی آئی کےچیئرمین کی کنٹریکٹ پرتعیناتی کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ذیلی کمیٹی برائےادارہ جاتی اصلاحات کےفیصلوں کی توثیق کرےگی
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ ذیلی کمیٹی برائےتوانائی کےفیصلوں کی بھی توثیق کرےگی
Coronavirus Updates

نیلی وہیل : دنیا کا سب سے بڑا جانور

نیلی وہیل : دنیا کا سب سے بڑا جانور

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


اگر اچانک کسی سے سوال کیا جائے کہ دنیا کا سب سے بڑا جانور کونسا ہے؟ تو لوگوں کی اکثریت کا جواب ہاتھی یا ڈائنوسار ہوگا۔ زمین پر پائے جانے والے جانوروں میں تو شاید یہ جواب درست ہو لیکن اس کرہ ارض پر زمین کے ساتھ ساتھ دریا اور سمندر بھی ان گنت آبی مخلوقات سے بھرے پڑے ہیں۔ ایک ایک سمندری مخلوق کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں۔ گویا سمندر جو کرہ ارض کے 70 فیصد حصے پر قابض ہیں ہماری زمین سے کئی گنا زیادہ مخلوق کو سموئے ہوئے ہیں۔ سمندری علوم کے ماہرین کے مطابق ابھی تک سمندر میں چھپی صرف 5 فیصد مخلوق کے بارے ہی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکی ہے۔ تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق سمندری مخلوق ''نیلی وہیل‘‘ دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے قدیم جانور ہے۔
نیلی وہیل بنیادی طور پر دوسرے سمندری میمل کی طرح مچھلی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک پستان دار جانور ہے۔ اگرچہ اس کی بیرونی مماثلت مچھلی جیسی ہے لیکن یہ مماثلت محض اتفاقیہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مماثلت عارضی ارتقا کا نتیجہ ہے جو اس طرح کے ماحول اور حالات میں رہنے والے حیات میں اگرچہ پہلے مختلف ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ ان میں مماثلت اور مشابہت انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہے۔
دوسرے جدید جانوروں میں وہیل کی مشابہت مچھلی سے نہیں بلکہ ''ہیپوز‘‘ سے ہے۔ سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ پانچ کروڑ سال پہلے ''ہیپوز‘‘ کے آبائو اجداد کرہ ارض پر رہتے تھے۔ تب ان میں سے کچھ ''ہیپوز‘‘ نے سمندر کا رخ کیا اور یوں سمندری میمل نسل وجود میں آئی۔ ''ہیپوز‘‘ جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جانور ہے بنیادی طور پر زمین کا جانور ہے۔
دیو ہیکل نیلی وہیل جس کا وزن 5300 من اور اس کی لمبائی 33میٹر تک ہو سکتی ہے۔ یہ جانور اب تک کی تحقیقات کے مطابق سب سے زیادہ وزن رکھنے والا جانور سمجھا جاتا ہے۔ سرمئی مائل نیلی رنگت کے ساتھ یہ جانور سمندر کی بھی سب سے بڑی مخلوق ہے۔ جس کی خوراک شرمپ کی شکل سے مشابہت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے ''کرل‘‘(Krill) ہوتے ہیں۔ کرل دراصل سمندروں کی نسبتاً ایک چھوٹی سی مخلوق ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہیل دنیا کا سب سے بڑا جانور ہونے کے باوجود بھی کسی بڑے جانور کے شکار سے کتراتی ہے اسی لئے ''کرل‘‘ اور چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ہی اس کی مرغوب غذا ہیں۔ نیلی وہیل اپنا شکار غوطہ لگا کر حاصل کرتی ہے۔ یہ خوراک کی تلاش میں 500میٹر گہرائی تک بھی غوطہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
نیلی وہیل مچھلی کا جسم دیگر مچھلیوں کے مقابلے میں لمبا اور سڈول ہوتا ہے۔ اس کا سر دوسری مچھلی کی اقسام سے قدرے مختلف یعنی چپٹا سا ہوتا ہے۔ اس جانور کے منہ کا سامنے والا حصہ موٹا سا ہوتا ہے جس میں 300سے لیکر 400 تک بالینی پلیٹیں ہوتی ہیں۔ بالین دراصل بالوں کی شکل کی ایک ریشے دار جھالر ہوتی ہے جو وہیل کے جبڑے کے اوپر والے حصے کے ساتھ لٹکی ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر جبڑے کے اندر اس جھالر کا مقصد بالینی پلیٹوں کے ساتھ مل کر فلٹر کا کام کرنا ہوتا ہے۔ جب وہیل منہ کھول کر اس میں پانی بھرتی ہے تو اس میں لاتعداد کرل بھی ہوتی ہیں۔ یہ پلیٹیں فلٹر کا کام کرتے ہوئے پانی کو خارج کردیتی ہیں اور منہ کے اندر صرف کرل ہی رہ جاتی ہیں جو اس وہیل کی اصل خوراک ہے۔ نیلی وہیل کا جبڑا اور حلق قدرت نے ایک مخصوص ڈیزائن میں تخلیق کیا ہوا ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے حلق میں کئی تہیں بنی ہوتی ہیں جن میں بیک وقت کافی مقدار میں پانی اور کرل جمع کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ ایک بالغ وہیل ایک دن میں لگ بھگ 3500سے لیکر 3800 کلو گرام کرل کھا جاتی ہے۔ جس کا ایک نوالہ کرل سمیت مختلف مچھلیوں کی صورت میں 500کلو گرام تک ہوتا ہے۔ ایک وہیل 4کروڑ کرل کھا سکتی ہے۔ اس کے بارے ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ نیلی وہیل کو جب افزائش نسل کے لئے مناسب علاقوں میں جانا ہوتا ہے تو یہ وہاں پر چھ ماہ تک بغیر کچھ کھائے بھی زندہ رہ سکتی ہے۔
یہ اپنے دیو ہیکل حجم کی مانند بہت بڑے پھیپھڑوں کی مالک ہوتی ہے جس کے باعث یہ 40منٹ تک گہرائی میں بغیر ہوا کے رہ سکتی ہے۔
ایک وہیل کا دل ایک زندہ گائے کے سائز کے برابر ہوتا ہے۔ وہیل میں سننے کی حس حیرت انگیز طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اس روئے زمین پر سب سے زیادہ شور مچانے والا جانور ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک وہیل مچھلی دوسری وہیل مچھلی کی آواز 1600کلومیٹر دور سے بھی سن سکتی ہے۔
زندہ وہیل کا وزن ابھی تک نہیں کیا جا سکا۔ اس کو ٹکڑوں کی صورت میں تولا جا سکتا ہے۔ وہیل مچھلی کی زبان ایک ہاتھی کے وزن کے برابر یعنی اوسطاً 80من تک ہوتی ہے۔ نیلی وہیل کے بچے کا قد پیدائش کے وقت 20 سے 25 فٹ کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ روئے زمین پر پیدا ہونے والا سب سے بڑا نومولود ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وہیل کا نومولود اپنی پیدائش کے چھ ماہ تک روزانہ 400 لٹر تک دودھ پی جاتا ہے۔ اس کا وزن 90کلو روزانہ کے حساب سے بڑھتا رہتا ہے۔
عام حالات میں ایک وہیل 20کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے، کسی غیر معمولی صورت حال میں اس کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بھی دیکھی گئی ہے۔ اس کی عمر اوسطاً 80سال سے 90سال تک ہوتی ہے۔
خاورنیازی لاہور میں مقیم ایک سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
آدم بیزار

آدم بیزار

میری اس سے دوستی 2003ء میں شروع ہوئی جب یہ ایک بڑے میڈیا گروپ کے ساتھ وابستہ تھا۔ اس کا اور میرا دفتر آمنے سامنے تھے۔ ہم دونوں کے فرصت کے لمحات اکثر اکٹھے گزرتے۔ اگر اور کہیں نہیں تو لاہور پریس کلب ہی اکٹھے ہو جاتے کیونکہ یہ ہمارے دفتروں سے چند قدم کی دوری پر تھا۔ یہ نہ صرف ایک بہت اچھا لکھاری بلکہ کئی کتابوں کا مصنف بھی تھا۔ اس کو تاریخ بالخصوص تاریخ پاک و ہند اور حالات حاضرہ پر بڑا عبور حاصل تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ ایک قومی ادارے کی طرف سے تاریخ پاکستان کے موضوع پر کتاب تحریر کرنے پر اسے سیکنڈ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ بعدازاں اس نے ایک اور میڈیا گروپ جوائن کر لیا لیکن ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ جوں کا توں رہا۔ایک دن جب میں پریس کلب کی ایک تقریب سے فارغ ہوا تو ایک دم ذہن میں آیا کہ کیوں نہ اس سے ملتا چلوں کیونکہ اس کا دفتر یہاں سے کچھ زیادہ دور نہ تھا اس لئے تھوڑی ہی دیر میں میں اس کے دفتر جا پہنچا۔ خلاف توقع اس دن یہ مجھے کچھ ریلیکس دکھائی دیا۔ میں نے بیٹھتے ہی کہا یار اچھی سی کافی بنواؤ۔ کہنے لگا کیوں نہ آج باہر چل کے کسی اچھی جگہ بیٹھ کر گپ شپ کے ساتھ کافی پی جائے؟ تجویز اچھی تھی اس لئے تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں مال روڈ کے ایک کافی ہاؤس پہنچے ہوئے تھے۔ایسا بہت کم ہوتا کہ مال روڈ آ کر میں انارکلی کی ایک تنگ سی گلی میں واقع اولڈ بک شاپس نہ جاؤں۔ کسی زمانے میں اس گلی میں پرانی کتابوں کی بے شمار دکانیں ہوا کرتی تھیں جہاں ہر وقت کتابوں کے شائقین کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ مگر افسوس اب سوشل میڈیا اور دوسرے پرکشش ذرائع نے نوجوان نسل کو تو کتاب سے بالکل ہی لاتعلق کر کے رکھ دیا ہے۔ جس کے سبب اس ''کتاب دوست مارکیٹ‘‘ کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور معدودے چند دکانیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ ان دکانوں پر ایسی ایسی نایاب کتابیں بھی ملتی تھیں جن کا انسان تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ اس مارکیٹ کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ ہر موضوع حتیٰ کہ میڈیکل سے لیکر انجینئرنگ تک کی نصابی کتابیں ہمہ وقت انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہوتی تھیں۔ اور تو اور سیکڑوں ڈالرزکی غیر ملکی کتابوں کے ''پائریٹڈ ایڈیشن‘‘ کی کتابیں محض چند سو روپوں میں طالب علموں کو مل جاتی تھیں۔ گویا شائقین کتب کے ساتھ ساتھ طلباء کے لئے بھی یہ دکانیں کسی نعمت سے کم نہ تھیں۔کافی پیتے پیتے جب میں نے اپنے اس دوست کو اس کتاب گلی جانے کا کہا تو کہنے لگا یار میں تو یہاں بہت باقاعدگی سے آتا رہتا ہوں چلو اٹھو چلتے ہیں۔ کتاب گلی زیادہ دور نہ تھی چنانچہ ہم کچھ ہی دیرمیں وہاں پہنچ گئے۔ ہم مختلف دکانوں کی کتابیں کھنگالتے کھنگالتے اس مخصوص دکان پر آ گئے جسے میں ہمیشہ آخر میں وزٹ کیا کرتا تھا۔ یہ سب سے مختلف نوعیت کی دکان یوں تھی کہ اس پر کتابوں کا ذخیرہ دوسری دکانوں کی نسبت کہیں زیادہ گاہکوں کی تعداد محدود اور دکاندار کا رویہ انتہائی خشک اور بے لچک ۔ لیکن پھر بھی جانے کیوں ہمیشہ سے یہ دکان میری ترجیحات میں شامل رہتی۔ اس دکاندار کا مخصوص انداز یہ تھا کہ یہ ہمیشہ دکان کے داخلی راستے میں ایک سٹول نما نشست پر آڑھا ترچھا بیٹھا ہوتا تھا جس کی نظریں اندر آنے والے گاہکوں اور باہر گلی کے درمیان متواتر گھومتی رہتی تھیں۔ اگر آپ کسی کتاب بارے پوچھ بیٹھتے تو بنا آپ کی طرف رخ کئے جواب دیتا، ''خود ہی ڈھونڈ لو، آگے پیچھے کہیں پڑی ہو گی‘‘۔اگر آپ قیمت کا سوال کرتے تو اس کا جواب ہوتا، ''پہلے صفحے کے اوپر پینسل سے درج ہے‘‘۔ایک مرتبہ ایک نایاب کتاب جس کی مجھے عرصے سے تلاش تھی اچانک نظر آگئی۔ میں نے اس کی قیمت دیکھی تو لکھا تھا، سات سو روپے۔ میں نے کہا محترم یہ تو ''سیکنڈ ہینڈ‘‘ کتاب ہے جبکہ اصل کی قیمت ہی آٹھ سو روپے ہے۔ میری طرف دیکھے بغیر کہنے لگا،''بہتر ہو گا آپ جا کر نئی ہی خرید لیں‘‘۔اس کی شخصیت کا ایک اور پہلو کہ یہ جہاں دیکھ رہا ہوتا تھا دوسرے سے بات کرتے ہوئے بھی اپنا رخ تبدیل نہیں کرتا تھا خواہ اس کی نظریں سامنے دیوار پر ہی کیوں نہ مرکوز ہوتیں۔میں اکثر سوچتا کہ کبھی اس سے اس کی ''آدم بیزاری‘‘ کی وجہ پوچھوں لیکن یہ سوچ کر کہ جو اپنے کاروباری معاملات بارے روکھا سا جواب دیتا ہے، وہ بھلا اپنی ذات بارے کسی کو کیوں کر کچھ بتلائے گا۔آج جانے کیسے میں نے ہمت کر کے اس سے ایک سوال کر ہی ڈالا کہ یہ اتنی ساری کتابیں جو ایک عرصے سے نہیں بک پاتیں ہوں گی تو کیا آپ کو غصہ نہیں آتا؟ چہرے پے ہلکی سی ناگواری لا کر بولا،''بھائی کیوں نہیں آتا‘‘۔ ساتھ پڑی ایک کتاب کو ان دیکھے اٹھا کے ہوا میں لہراتے ہوئے کہنے لگا، ''یہ اور اس جیسی لاتعداد منحوس کتابیں برسوں میرا منہ چڑھاتی رہتی ہیں۔ جس سے مجھے ہمیشہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس نے کتاب واپس اپنی جگہ پر پٹخی اور دوبارہ گلی کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنا شروع کر دیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ کتاب میرے ساتھ آئے اسی دوست کی انعام یافتہ کتاب تھی جو کچھ عرصہ پہلے بہترین کتاب کا انعام حاصل کر چکی تھی۔خاورنیازی لاہور میں مقیم ایک سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں)

جب سورج ناراض ہوا! لوگ بدحواس ہوکر گھروں سے نکل آئے

جب سورج ناراض ہوا! لوگ بدحواس ہوکر گھروں سے نکل آئے

آپ نے دن کے وقت مکمل اندھیرے کا سامنا کیا ہے؟ ایسے میں سب کچھ بہت ہیبت ناک لگتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو انسان کو ہر دور میں پریشان کرتی آئی ہے اور اس کے حوالے سے ہمیشہ پراسراریت کو محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ آج بھی اگر دن کے اوقات میں کہیں سورج اپنی روشنی سے یکسر محروم ہو جائے تو ہم اس کے نتیجے میں حیران رہ جاتے ہیں اور خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔11اگست،1999ء کا دن بھی دنیا کیلئے ایسی ہی حیرت انگیز حقیقت لے کر آیا۔ اس دن جنوبی ایشیا میں سورج گرہن تھا اور تین سے چار منٹ کیلئے آسمان مکمل طور پربے سورج ہو گیا اور تارے نکل آئے۔ یہ منظر دیکھ کر بہت سوں پر ایسا خوف طاری ہوا کہ لوگ سجدے میں گر پڑے۔ پاکستان میں بھی سورج روشنی سے محروم ہوا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ ایسا موقع صدیوں میں کبھی ایک بار آیا کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ سورج کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کے ہوتے ہوئے آسمان تاریک کیوں ہو جاتا ہے؟ اس کی کئی وجوہ بیان کی جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی وجہ اتنی مستند نہیں کہ اس پر آنکھ بند کرکے یقین کر لیا جائے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ زمین 18ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خلا کی وسعتوں میں اڑی جا رہی ہے۔ اس کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے اور اس سفر کے دوران کئی سخت مقام بھی آتے ہیں۔ کبھی زمین کسی ستارے یا سیارے کی باقیات سے گزرتی ہے تو اس کے ذرات زمین کی فضا میں داخل ہو کر ایک فلٹر قائم کر دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایسا اندھیرا چھا جاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس قسم کے کئی واقعات کا ریکارڈ دستیاب ہے اور اس ریکارڈ کا جائزہ بہت سی حیرت انگیز باتوں کو طشت ازبام کرتا ہے۔26اپریل 1884ء کا دن امریکی شہر پریسٹن کیلئے پریشانیاں لایا۔ دن کے وقت ایسا اندھیرا چھایا جیسے کسی نے پوری فضا پر کمبل ڈال دیا ہو۔ لوگ بدحواس ہو کر گھروں سے نکل آئے۔ جانور اپنے لئے مختص جگہوں پر دبک گئے۔ اس صورت حال نے ان لوگوں کو عبادت کرنے پر مجبور کر دیا جو مذہب کی جانب زیادہ جھکائو رکھتے تھے ان کا خیال یہ تھا کہ اب دنیا کا خاتمہ ہونے کو ہے! آٹھ دس منٹ کے بعد سورج کی روشنی بحال ہو گئی اور زندگی معمول پر آ گئی۔ اس واقعے کی کوئی توجیہ پیش نہیں کی جا سکی۔امریکی ریاست منیسوٹا کے مقام ایٹکن نے بھی 12اپریل1889ء کو یہی منظر دیکھا۔ اس دن سورج سر پر تھا اور اچانک ایسا گھنگھور اندھیرا چھایا کہ لوگ ڈر کے مارے گھروں میں دبک گئے۔19اگست 1763ء کی یہ بات ہے۔ لندن میں زندگی معمول پر تھی کہ اچانک سورج کی روشنی ماند پڑنی شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف ایسا اندھیرا چھایا کہ روشنی کئے بغیر کچھ بھی دیکھنا ممکن نہ رہا۔ ماہرین فلکیات نے حساب لگا کر بتایا کہ اس دن کوئی بھی گرہن نہیں تھا پھر بھی یہ کیوں ہوا، اس کا ماہرین کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔19مارچ1886ء کو اوشکوش، وسکونسن (امریکہ) میں دن کے تین بج کر پانچ منٹ پر مکمل تاریکی چھا گئی اور یہ عالم دس منٹ رہا۔ تاریکی کا یہ سفر کئی شہروں پر محیط تھا۔ مغرب سے سلسلہ شروع ہوا اور کئی مشرقی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لیتا رہا۔ تین گھنٹوں تک یہ آنکھ مچولی جاری رہی۔ کیا سورج کی راہ میں فلکی جسم آ گیا تھا؟ نہیں۔ تو پھر کیا فلکی جسم کی راکھ یا ملبہ؟ اس سوال کا جواب بھی ماہرین نے نفی میں دیا۔ قصہ مختصر یہ کہ اس معاملے کو بھی پراسرار قرار دے دیا گیا۔2دسمبر،1902ء کو میمفس، ٹینیسی(امریکہ)میں صبح کے دس بجے جب لوگ کام پر جانے کیلئے گھروں سے روانہ ہوئے تو اچانک انہیں مکمل تاریکی نے آ لیا اور ایسے میں لوگ اس قدر بدحواس ہوئے کہ بھگدڑ مچ گئی۔ سب ایک دوسرے کو دھکیل کر اپنے اپنے گھر پہنچنے کی فکر میں تھے کہ اگر دنیا کا خاتمہ ہونے کو ہے تو کم از کم گھر والوں کے سامنے تو مرنا نصیب ہو۔ یہ موقع بھی عبادات میں ڈوبنے کا تھا۔ اس کے بعد کئی دنوں تک گرجا گھروں میں حاضری غیر معمولی طور پر زیادہ رہی۔ اس واقعے کی کئی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ لوگوں کو نفسیاتی طور پر سکون فراہم کرنے کیلئے کہا گیا کہ جنگل میں لگنے والی آگ سے دھواں پھیلا اور بلند ہو کر اس نے سورج کے سامنے ایک انتہائی گھنیرا فلٹر قائم کر دیا اور اس کے نتیجے میں سورج کی روشنی کا زمین تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔ ایک اور نفسیاتی وجہ یہ پیش کی گئی کہ ریگستان سے اٹھنے والے ریتیلے بادلوں نے سورج کی روشنی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کی۔24ستمبر1950ء کو پورے امریکہ میں سورج کی روشنی اچانک مدھم پڑ گئی اور پھر سورج نیلے رنگ کا دکھائی دینے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ کسی نے سورج کے سامنے فلٹر لگا دیا ہو۔26ستمبر کو یہی حال انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کا اور اس کے بعد ڈنمارک کا ہوا۔ ڈنمارک میں سورج دو گھنٹوں تک روشنی سے محروم رہا اور اس دوران لوگوں نے یہ سمجھا کہ دنیا ختم ہونے والی ہے اور اسی لئے انہوں نے اپنی رقوم نکلوانے کیلئے بینکوں کے باہر قطاریں لگا دیں۔ چار ممالک میں سورج کے اس طرح روشنی سے محروم ہو جانے کی وجہ یہ پیش کی گئی کہ البرٹا، کینیڈا میں جنگل میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے اٹھنے والے دھویں نے یہ اندھیرا کیا، مگر یہ توجیہ غلط ثابت ہوئی ۔ ایک طرف تو دھواں مغرب کی سمت جا رہا تھا اور اسی دھویں نے مشرق کی جانب بھی سفر کیا۔یہ کیسی ہوا تھی جو بیک وقت دو سمتوں میں بہہ رہی تھی؟(محمد ابراہیم خان متعدد کتابوںکے مصنف ہیں،انہوں نے تحقیقی اور تاریخی موضوعات کا گہرا مطالعہ کررکھا ہے)

لامحدود ہوکر سوچئے! اہداف تعین آپ کی جسمانی و ذہنی توانائی کو بڑھاتا ہے

لامحدود ہوکر سوچئے! اہداف تعین آپ کی جسمانی و ذہنی توانائی کو بڑھاتا ہے

اپنے اہداف کے تعین کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اپنے ذہن میں موجود ہر قسم کی حدود کو ذہن سے باہر جھٹکنا ہوگا۔ آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ ممکنات کی کائنات میں آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ آپ کا پہلا کام یہ ہے کہ بڑے خواب دیکھیں اور وہی طے کریں جو آپ واقعی اپنی زندگی میں حاصل کرنا چاہتے ہیں، خواہ اس کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہو۔ اس سے پہلے کہ آپ یہ سوچیں کہ کیا ممکن ہے، یہ طے کیجئے کہ کیا درست ہے۔ تصور کیجئے کہ آپ جو کچھ چاہتے ہیں، حقیقتاً وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، بن سکتے اور کر سکتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔اوّل، اپنے خوابوں کی فہرست بنایئے۔ عارضی طور پر یہ سوچئے کہ آپ کے پاس وقت، دولت، معلومات، تعلقات، تجربات اور تعلیم کی کوئی حد نہیں ہے۔ تصور کیجئے کہ آپ جو کچھ اس کاغذ پر لکھ سکتے ہیں وہ سب کچھ آپ کیلئے ممکن ہے۔ یاد رکھئے۔ آپ کاغذ پر جو کچھ واضح طور پر لکھتے ہیں وہ ممکن ہے، بشرطہ یہ کہ آپ اس کیلئے کافی طویل اور کافی سخت محنت اور قربانی کیلئے تیار ہیں۔بڑے اور چیلنج والے اہداف لکھنے کا عمل تین کام کرتا ہے۔اوّل: فوری طور پر آپ کے خیالات بہتر ہوتے ہیں اور آپ کی خود اعتمادی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔اہداف کے تعین کا اقدام خود اعتمادی مانگتا ہے اور اس کے ساتھ خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ جو کچھ چاہتے ہیں، اسے لکھنے کی جرأت آپ کی اس لاشعوری شبیہ کو بہتر کرتی ہے جو آپ نے اپنے تئیں گھڑ رکھی ہے اور پھر خود توقیری (سیلف اسٹیم) میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اہداف لکھنے کا عمل بذات خود شخصی قوت اور قابلیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔دوم: آپ اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو جلاتے ہیں۔ اہداف کا تعین دراصل آپ کے جسمانی اور ذہنی توانائی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ آپ کے دل کی رفتار اور سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ اہداف کے تعین کا اقدام بہت ہی ولولہ انگیز ہوتا ہے۔ گویا، آپ اپنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ اگر آپ یہ کام روزانہ کریں تو نتیجہ حیران کن ہوگا۔سوم: کاغذ پر عہد کیجئے، کاغذ پر ہدف کے تعین کا عہد حیرت انگیز طور پر آپ کے اہداف کے حصول کے امکان میں اضافہ کر دیتا ہے۔ آپ کا ذہن اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ وہ ہدف کو واضح طور پر کاغذ پر (اور کمپیوٹر پر بھی) نہیں لکھ سکتا۔ ایسے میں جب آپ ہدف تحریر کرتے ہیں تو یہ اس کے حصول کی اہلیت بھی پیدا کر دیتا ہے۔ایسی کئی ذہنی مشقیں ہیں جو آپ اپنے اہداف کے تعین کیلئے کر سکتے ہیں۔-1تصور کیجئے کہ آپ کے پاس دس لاکھ کا کیش ہے اور آپ اس رقم سے جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب کر سکتے ہیں۔ آپ سب سے پہلے کیا کریں گے؟ آپ کہاں جائیں گے؟آپ اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاںلائیں گے؟ اگر آپ کے پاس مکمل معاشی آزادی ہے تو آپ اب کے مقابلے میں کیا مختلف انداز سے کریں گے؟-2اپنی مثالی زندگی واضح کیجئے۔ تصور کیجئے کہ آپ اپنی مثالی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ ملک کے کس حصے میں رہنا پسند کریں گے؟ آپ کس قسم کی کمپنی میں کام کرنا پسند کریں گے؟ آپ کس قسم کی رہائش اور کار چاہیں گے؟ آپ اپنا وقت اور زندگی کیسے گزارنا چاہیں گے؟ آپ کس قسم کے تعلقات چاہیں گے؟-3اپنے آپ سے پوچھئے کہ اگر آپ کو پتا چلے کہ آپ کے پاس مزید زندہ رہنے کو صرف چھ ماہ باقی ہیں تو آپ کیسی زندگی گزاریں گے؟ اگر آپ کی زندگی میں کوئی حدود نہ ہوں تو آپ یہ چھ ماہ کیسے گزاریں گے؟ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ خود سے پوچھیں۔'' میرے لئے کیا اہم ہے‘‘؟ آپ یہ وقت کس کے ساتھ گزارنا پسند کریں گے؟ آپ کیا کرنا چاہیں گے؟-4اپنی زندگی کی تمام پریشانیوں اور مسائل کی فہرست بنایئے اور ایک ایسا ہدف لکھئے ۔ اگر پیسہ مسئلہ ہے تو وہ مقدار لکھئے کہ آپ کو کتنی رقم کی ضرورت ہے؟-5اپنی فیملی اور رشتے داروں کے بارے میں سوچئے اپنے خاندان کی مثالی کیفیت بیان کیجئے اور فرداً فرداً تمام رشتے داروں، خاص کر قریبی رشتے داروں سے اپنے تعلق کو واضح کیجئے کہ وہ کیسا ہونا چاہئے۔-6اپنی صحت کی طرف دیکھئے۔ بیان کیجئے کہ آپ کیلئے مثالی صحت اور تندرستی کیا معنی رکھتی ہے۔ پھر اس معیار کے مطابق اپنی صحت و تندرستی کے حصول کا پلان بنایئے۔-7اس شخصیت (ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر) کی وضاحت کیجئے جیسی شخصیت آپ خود کو بنانا چاہتے ہیں۔ پھر اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ نمو کیلئے پلان بنایئے کہ آپ کیوں کر مطلوبہ شخصیت پا سکتے ہیں۔ ان مشقوں کے بعد کہ جب آپ نے اپنے اہداف لکھ لئے ہیں۔ اگلا مرحلہ ان اہداف کو زندگی کے اہم شعبوں میں تقسیم کرنے کا ہے۔ انسانی زندگی کے چھ بنیادی شعبے ہیں ۔-1روحانی اہداف-2معاشی اور مادی اہداف-3خاندان اور ذاتی اہداف-4صحت اور تندرستی کے اہداف-5خود نموئی(سیلف امپروومنٹ) اور تعلیمی اہداف-6سماجی اور معاشرتی اہدافاپنی زندگی میں بہترین کرنے کیلئے آپ کو اپنی زندگی میں توازن رکھنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان تمام شعبوں میں آپ کے کچھ اہداف ضرور ہوں تاکہ آپ تمام اہم شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہوں۔

فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن، 29 نومبر 1947 ،جب فلسطین کو تقسیم کرنے گھناؤنی سازش گھڑی گئی

فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن، 29 نومبر 1947 ،جب فلسطین کو تقسیم کرنے گھناؤنی سازش گھڑی گئی

انبیاء علیہ السلام کی مقدس سر زمین فلسطین پرایک عالمی سازش کے تحت دنیا بھر سے اسلام دشمن شیطانی طاقتوں کو جمع کر کے ناقابل تسلیم ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس گھناؤنی سازش میں سرفہرست امریکہ اور برطانیہ تھے۔ ان طاقتوں کے زیر اثر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1947ء کو قرارداد 181 پاس کی، جس کے تحت سرزمین فلسطین کو غیر منصفانہ طریقے سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک حصے میں یہودی حکومت اور دوسرے حصے میں فلسطینی حکومت قائم کی جانا تھی۔اقوام متحدہ کی قرارداد اس قدر غیر منصفانہ تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1977ء کو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن قرار دیا۔ 1974ء میں یاسر عرفات نے فلسطین کے نمائندے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک قوم تسلیم کیا اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے کئی قرار دادیں منظور کیں۔اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد نہتے فلسطینیوں کو صیہونی ظلم وجبر برادشت کرتے 69 سال بیت گئے لیکن عالمی برداری کی بے حسی کے باعث فلسطینی عوام صیہونی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کئی عشروں سے اسرائیل کی جارحیت کا شکار فلسطینی آج بھی اسرائیل کی دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی ہی سر زمین پر قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیل کی بربریت اور وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف ہر سال 29نومبر کو اقوام متحدہ کے تحت فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں سیمینارز اور تقاریب میں اسرائیلی مظالم کی مذمت اور مظلوم فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہارکیا جاتا ہے۔اقوام متحدہ 1947ء سے فلسطین میں امن کے لئے کوشاں ہے مگر اسرائیل کے مظالم اسی طرح جاری ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اسرائیلی فوجی نہتے فلسطینیوں کو شہید کرتے رہتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہر سال اوسطاً 560 فلسطینی شہید ہوجاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کرنے کے واقعات گذشتہ برسوں کے مقابلے میں دگنے ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی دہشتگردی کی وجہ سے انفراسٹرکچر تباہ اور 20 لاکھ فلسطینی خراب معاشی صورتحال کا شکار ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے گھروں کو تباہ کئے جانے کے بعد ہزاروں فلسطینی کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اسرائیل اور یہودی طاقتیں دنیا کو ''ڈبل ایم‘‘ یعنی (Money and Media) کی پالیسی کے تحت خود کوتسلیم کروانے کیلئے انتھک کوششیں کر رہی ہیں۔ اسرائیل خود کو تسلیم کروانے کیلئے دنیا کو طرح طرح کے لالچ دیتا رہتا ہے۔ ان دنوں کورونا ویکسین مفت دینے اور کورونا کے باعث معاشی بدحالی میں مبتلا ممالک کو مالی امداد دینے کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ عالم اسلام کو انفرادی مفادکے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا چاہیے۔

موسم بدل رہا ہے ،صحت کا خیال رکھیں ،صحت بخش غذا استعمال کرکے موسم سے لطف اندوز ہونا ممکن

موسم بدل رہا ہے ،صحت کا خیال رکھیں ،صحت بخش غذا استعمال کرکے موسم سے لطف اندوز ہونا ممکن

موسمِ سرما کی آمد آمد ہے۔ اس موسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کے لئے سردیوں کا موسم بہترین ہے۔ تاہم، اس موسم میں بار بار طبیعت کا خراب ہونا، بخار چڑھنا، نزلہ، زکام، کھانسی اور سردی لگنا جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لئے ہمیں اس موسم میں اپنی چند عادتوں کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ اچھی صحت کے ساتھ آپ اس موسم کا لطف اٹھا سکے۔مناسب نیند: جب آپ خوابوں کے نگر میں کھوئے ہوئے ہوتے ہیں تو آپ کا جسم خلیات کی مرمت اور خرابیوں کو درست کرنے میں مصروف ہوتا ہے، رات کو 8 سے 9 گھنٹے کی نیند سے آپ کے جسم کو اپنی مرمت اور تندرستی کا موقع مل جاتا ہے اور وہ فلو وائرس کو دور بھگا دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں نیند کی کمی ذہنی تناؤ کی طرح آپ کی جسمانی قوت مدافعت کو کمزور کردیتی ہے جس سے نزلہ زکام کو آسانی سے حاوی ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ورزش کریں: جسمانی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے خون کو جوش دلانا خون میں سفید خلیات کے وائرس کو نشانہ بنانے والی سرگرمیوں کو بڑھا دیتا ہے، دن بھر میں ایک گھنٹے کی ورزش چاہے وقفوں میں ہی کی جائے، بہت فائدہ مند ہوتی ہے اور ضروری نہیں کہ آپ بھاری وزن کے ساتھ ورزش کریں صرف چہل قدمی، سیڑھیاں اترنا چڑھنا بھی سردیوں میں ہر ایک کو لاحق ہوجانے والے نزلے زکام سے زبردست تحفظ فراہم کرتا ہے۔زنک (جست): درست مقدار میں صحت بخش غذا اور منرلز خوراک کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں اس سے جسم کو فلو وائرس کے خلاف جنگ کیلئے بھرپور طاقت مل جاتی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ چربی والی غذاؤں اور زیادہ مٹھاس سے گریز کرکے سبزیوں، پھلوں اور کم پروٹین والے کھانوں کا استعمال کیا جانا چاہئے اور ان صحت بخش غذائی اجزاء میں سے ایک زنک ہے جو خاص طور پر فلو سیزن کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے۔ زنک جسم کے اندر خلیات میں وائرس کی رسائی میں مداخلت کرتا ہے اور صاف ظاہر ہے نزلے زکام کی تکلیف لاحق نہیں ہوتی، ویسے کاجو بھی زنک سے بھرپور خشک میوہ ہے۔لہسن کا استعمال: جراثیم کش خاصیت سے بھرپور یہ سبزی موسم سرما کے مخصوص بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتی ہے۔ اس میں شامل جز الیسین انفیکشن کو بلاک کرتا ہے اور چکن سوپ کے ساتھ اسے استعمال کریں آپ کو اس کے فوائد یقیناً حیران کرکے رکھ دیں گے۔مناسب مقدار میں پانی پئیں: اچھی بات یہ ہے کہ سردیوں میں ہم میں سے اکثر افراد گرم گھروں میں رہائش کا لطف لیتے ہیں مگر اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں، اس سے گھر کے اندر کی ہوا ہمارے جسموں کو خشک کردینے کا باعث بن جاتی ہے۔ مناسب نمی کے بغیر جسمانی دفاعی نظام میں سرگرم خلیات بھرپور طریقے سے کام نہیں کرپاتے تو یہ ضروری ہوتا ہے کہ جسم میں پانی کی مقدار کو مناسب سطح پر رکھا جائے۔ہنسی بہترین علاج: مثبت رویہ آپ کو ہر میدان میں کامیابی دلاسکتا ہے بلکہ یہ عمر کی بھی سنچری مکمل کراسکتا ہے۔ زندگی میں ہنسی کو عادت بنا لینے سے آپ کو سردیوں میں نزلہ کی روک تھام میں مدد مل سکے گی۔ ابھی تک ہنسی کے اس انوکھے فائدے کے بارے میں طبی سائنس زیادہ وضاحت تو نہیں کرسکی ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ دل کھول کے ہنسنے سے جسمانی دفاعی نظام میں مخصوص خلیات کی تعداد بڑھتی ہے جس سے فلو وائرس کو حملے کی صورت میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔مساج (مالش): ذہنی تناؤ میں کمی کیلئے پسندیدہ حل یعنی مساج آپ کو جسمانی طور پر صحتمند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مساج کے نتیجے میں خون کی گردش میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جسمانی صحت میں بہتری آتی ہے اور اس دوران خون میں بہتری سے خوراک میں موجود غذائی اجزاء بہتر طریقے سے اپنا کام کرپاتے ہیں۔نمکین پانی: نمکین پانی آپ کے ناک کے اندرونی حصے کھول کر الرجی کا سبب بننے والی اشیاء کو دور کردیتا ہے یا ان کی شدت میں کمی لے آتا ہے۔ہلدی ایک دوا بھی: ہلدی کو اپنے سالن اور سوپ میں شامل کرنے سے لذت اور رنگ ہی شاندار نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ ناک کو کھولنے والی ایک دوا کی طرح بھی کام کرتی ہے، اس سے درد کرتے گلے کو سکون ملتا ہے اور کھانسی کی شدت میں کمی آتی ہے، سونے سے قبل گرم ہلدی والا دودھ پئیں۔

دنیا کے انوکھے ریسٹورنٹ

دنیا کے انوکھے ریسٹورنٹ

آپ نے عجائب گھروں میں بے شمار عجیب و غریب اور حیران کن اشیاء دیکھی ہوں گی۔ ہم جب ریسٹورنٹ جاتے ہیں تو خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہاں پر طرح طرح کی سہولت ہو مگر ہم میں سے بہت سے قارئین نہ تیرنے والے ریسٹونٹ میں گئے ہوں نہ ریت سے بنے ریسٹورنٹ میں اور نہ ہی برفیلے ریسٹورنٹ دیکھے ہوں گے، تو چلئے آج سب سے پہلے تیرنے والے ایک ریسٹورنٹ میں چلتے ہیں۔تیرنے والا ریسٹورنٹسوئیڈن میں تیرنے والا ریسٹورنٹ ہے جو سوئیڈن کے جنوبی حصے میں کلیڈز نامی جزیرے میں واقع ہے۔ اسے 2008ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ دعوے کے مطابق یہ ماحول دوست تعمیر ہے، جس میں کھلی فضا میں بیٹھ کر لوگ کھا پی سکتے ہیں اور نہ صرف کھا پی ہی سکتے ہیں بلکہ دوسری منزل پر قیام بھی کر سکتے ہیں۔ اس کی بالائی منزل کو گرینائٹ کے فرش سے آراستہ کیا گیا ہے۔ اس تیرنے والے ریستوران میں مہمان گاہکوں کو سی فوڈ سے بنائے کھانے پیش کئے جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں اس جگہ ایک کانفرنس ہال اور میٹنگ روم بھی بنایا گیا ہے۔ تیراکی نہ جاننے والوں کے لیے اس ریسٹورنٹ میں قیام اپنی نوعیت کا انوکھا تجربہ ہے۔ریت سے بنا شاہکار ریسٹورنٹشاعر احمد ندیم قاسمی نے تو کہا تھا ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار، مگر ماہر تعمیرات نے برطانیہ کے جنوبی ساحل پر ریت سے ایک حیرت انگیز ریسٹورنٹ تعمیر کر لیا کہ اسے قاسمی صاحب کا پیغام نہیں پہنچا اور خود اس کے سر میں کچھ ہٹ کر ہنر کاری کا مظاہرہ کرنا سمایا ہوا تھا۔ اس نے ہزاروں ٹن ریت اور مجسمہ سازوں کی ایک ٹیم کی مدد سے صرف 7روز میں ایک شاندار ریسٹورنٹ تعمیر کر لیا۔ اس ریسٹورنٹ کی بھی کوئی چھت نہیں۔ رات کے مسافر آسمان پر چمکتے دمکتے ستاروں اور چاندنی رات کے طلسماتی احساس سے جی بھر کے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔اس ریسٹورنٹ کے مالک کا دعویٰ ہے کہ یہ ریت سے بنی ہوئی برطانیہ کی سب سے بڑی عمارت ہے۔ کیا پتا بارش اسے کب چند لمحوں میں زمین بوس کر دے اور یوں صرف گنیز بک ہی میں یہ قصہ بن کر رہ جائے۔برف سے بنایا گیا ریسٹورنٹیہاں برف تو اپنے وقت پر ہی گرتی ہے، مگر اسے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ تو خود برف کی ایک دنیا بسائے ہوئے ہے۔ کینیڈا میں واقع ہوٹ وی گلیس نامی ریسٹورنٹ مکمل طور پر برف سے بنایا گیا ہے۔ یہ حیرت انگیز برفانی ہوٹل کینیڈا کے شہر مونٹریال سے 149 میل دور واقع ہے۔ کینیڈا جانے والے سیاح چاہتے ہیں کہ ایک دورہ اس انوکھے ریسٹورنٹ کا بھی ہو جائے تو بھلا ہو لیکن برفباری میں یہاں جانے کا تصور بھی نہ کیجئے گا۔