رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
اسپیشل فیچر
حسن وجمال سے انسانی روح کی پیاس اور جبلت کی تسکین ہوتی ہے۔ پھول، تتلی، خوشبو، قوس وقز ح، جھرنوں کا جلترنگ اور کوئل کی کُوک یہ سب جمالیاتی اظہار کے کرشمے ہی توہیں۔ رنگ نہ ہوں توحسن کیا اور جمال کیا؟ رنگوں کے بغیرکائنات میں بچتا ہی کیا ہے۔ نیوٹن نے دنیا کو بتایا کہ روشنی جب کسی پرزم یعنی منشورمیں سے گزرتی ہے تو سات رنگوں میں ڈھل جاتی ہے شاید اسی لیے مصوَرِ کائنات نے سورج کی کرنوں کو بارش کی بوندوں میں سے گزارا اور فضا میں قوس وقزح کی صورت میں اپنی جلووں کے رنگ بکھیر دیے ۔
بنیادی رنگ تو صرف تین ہوتے ہیں، سرخ سبز اور نیلا مگر یہ تینوں مل کر ہزاروں رنگ اور شیڈز بنادیتے ہیں۔کچھ رنگ گرم اور کچھ ٹھنڈے سمجھے جاتے ہیں ۔ سرخ ،اورنج اور زرد گرم اورشوخ رنگ ہیں جو ہمارے جذبات کو ابھارتے ہیں ۔انسان میں انرجی، خوشی ،جوش اور اشتعال پیدا کرتے ہیں۔ٹھنڈے رنگوں میں سبز، نیلااور پرپل رنگ شامل ہیں جو انسان میں ذہنی سکون،ٹھہرائو ،افسردگی اور تخلیقی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔دنیاکے کئی ممالک میں سیاہ رنگ غم اورصدمے کی علامت سمجھا جاتا ہے اور کئی ممالک میں سفید رنگ دکھ اور غم کا استعارہ ہوتا ہے ۔
انسانی دماغ مختلف بائیو کیمیکلز اور ہارمونز کی مدد سے کام کرتا ہے جن کی کمی بیشی سے ایک رنگ کے بارے میں دو افراد متضاد ردعمل بھی دے سکتے ہیں۔سرخ رنگ ایک شخص کا پسندیدہ تو کسی دوسرے کا ناپسندیدہ رنگ ہو سکتا ہے۔
کمرے میں سرخ یا اورنج کلر کا پینٹ کیا گیا ہو تو تھوڑی ہی دیر میں آنکھوں کو تھکاوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔طبیعت بوجھل ہوجاتی ہے کیونکہ سرخ رنگ جذبات کو بھڑکاتا ہے ، جسم میں توانائی کا احساس پیدا کرتا ہے ۔ سرخ رنگ بیک وقت دومتضاد جذبات کو ابھارتا ہے۔ یہ محبت اور جوش کے ساتھ ساتھ غصے اور خطرے کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔کسی کی توجہ حاصل کرنے کیلئے سرخ رنگ بہترین رزلٹ دیتا ہے۔ تمام سرخی مائل شیڈز جسم میں ہیجان پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کا بلڈ پریشر ہائی ہو سکتا ہے۔کالج کے 71طلبا ء پر ایک تجربہ کیا گیا ۔ امتحان سے کچھ دیر پہلے انہیں سرخ ،سبز اور نیلے رنگ کے نمبرز دیے گئے، انہیں پیپر سے پہلے مسلسل اپنے نمبر کو دیکھنے کے لیے کہا گیا ۔نتائج سے معلوم ہوا کہ سرخ نمبر والے سٹوڈنٹس کی امتحانی کارکردگی سب سے بُری رہی کیونکہ سرخ رنگ فوکس کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔سرخ رنگ بھوک میں بھی اضافہ کرتا ہے شاید اسی لیے تمام بڑی فوڈ چینز اپنی آئوٹ لیٹس پر سرخ رنگ کا بکثرت استعمال کرتی ہیں۔
سبز رنگ فطرت سے قربت، امید اور تروتازگی کی علامت ہے۔ جسم کو توانائی ،آنکھوں کو ٹھنڈک اورذہن کو آسودگی کا احساس دیتا ہے۔ نیلا رنگ تورنگوں کا بادشا ہ کہلاتا ہے۔حدِنگاہ تک ہمارے سروں پر چھایا نیلا آسمان اور چاروں طرف سے سمندروں کے نیلگوں پانیوں کے حصار میں گھری ہماری زمین۔ ہلکانیلایا آسمانی رنگ توازن اور تحفظ کے جذبات کو تقویت دیتا ہے۔ اسے دیکھنے سے جسم میں ایسے نیوروکیمیکلز پیدا ہونے لگتے ہیں جو ذہنی انتشار کو شانتی دیتے ہیں۔ چونکہ آسمانی رنگ آنکھوں کو ٹھنڈ ک اور ذہن کوسکون دیتا ہے اس لیے چین میں کلر تھراپسٹ پاگل پن کے مریضوں کو علاج کیلئے ایسے کمرے میں بند رکھتے ہیں جس میں ہلکے نیلے رنگ کا پینٹ کیا ہوتا ہے۔کچھ عرصے بعد مریض کا ذہنی بگاڑ اور انتشار، سکون اور توازن میں بدل جاتا ہے۔ چونکہ نیلے رنگ کو دیر تک دیکھنے سے اکتاہٹ نہیں ہوتی ،اسی لیے فیس بک ،ٹوئٹر اورسوشل میڈیا پرکمرشل اشتہارات میں نیلے رنگ کابکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔
سیاہ رنگ انسان میں قوت ،عظمت اور سادگی کے احساس کو فروغ دیتا ہے ۔کالا رنگ پسند کرنے والے لوگ پراعتماد،بے لچک اور منظم زندگی کے مالک ہوتے ہیں۔مخلص ،خوبصورت اور پُراسرار لوگ سیاہ رنگ کو بہت پسند کرتے ہیں۔یہ خواتین کا بھی پسندیدہ رنگ ہے ۔ سیاہ لباس میں سفید رنگ بہت اٹھتا ہے جس سے خوبصورتی کو چارچاند لگ جاتے ہیں۔کئی معاشروں میں یہ غم اورافسردگی کی ترجمانی کرتا ہے۔
سفید رنگ خوبصورتی ،سادگی ،پاکیزگی اور معصومیت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔اسے نیوٹرل رنگ بھی کہا جاتا ہے۔ سفیدلباس ایک طرف انسانی شخصیت کے بارے میں ایک مثبت اور کلین تاثر پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف گرمیوں میں سفید رنگ کے لباس میں گرمی کی شدت کا احساس بھی کم ہوتا ہے کیونکہ سفید رنگ روشنی کی کرنوں کو جذب نہیں کرتااس لیے سورج کی تمام کرنیں منعکس ہو جاتی ہیں۔ سفید رنگ کو دنیا بھر میں امن اور صلح کا پیغام سمجھا جاتا ہے۔
آرٹسٹ اور انٹیریئر ڈیزائنر اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ رنگ کس طرح انسانی رویے اور موڈ کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے وہ تصاویربناتے اورگھروں کی تزئین وآرائش کرتے وقت رنگوں کااستعمال بڑی احتیاط اور نپے تلے انداز میں کرتے ہیں۔
انسان ابتدائے آفرینش سے ہی رنگوں کی مدد سے بیماریوں کا علاج کرتا آیا ہے جسے کرومو تھیراپی کہتے ہیں۔قدیم مصر ،یونان ،چین اور ہندوستان میں صدیوں سے کروموتھراپی کا سلسلہ جاری ہے جس میں مختلف رنگوں کی بوتلوں میں پانی بھر کر سورج کی کرنوں کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے جب روشنی کی انرجی پانی میں شامل ہو جاتی ہے تو اسے مریض کو پلادیا جاتا ہے۔
جس طرح آکوپنکچر میں جسم کے انرجی پوائنٹس میں سوئیاں لگا کرخون کے بہائوکو متحرک کیاجاتا ہے اسی طرح ایک کروموتھراپسٹ ہاتھ، پائوں کی انگلیوں اور پیشانی کے انرجی پوائنٹس پرمارکر سے مخصوص رنگ لگا کر بیماریوں کا علاج کرتا ہے ۔ہتھیلی اور انگلیوں پر سیاہ رنگ کے نشان لگانے سے ہائی بلڈ پریشر کم ہو جاتاہے۔سرخ رنگ کے استعمال سے کم بلڈپریشرہائی ہو جاتا ہے ۔ہتھیلی کے عین وسط میں ایک بڑاساسرخ نشان لگا کر دھوپ میں بیٹھ جائیں تو جسم کی چربی پگھلنا شروع ہو جاتی ہے اوروزن کم ہونے لگتا ہے ۔سرخ رنگ کمزور یادداشت کو بہتر بنانے یا ڈیمینشیا کے مریضوں کے علاج میں بہت مفید ہوتا ہے۔دونوں ہاتھوں کی چھوٹی انگلیو ں کے انرجی پوائنٹس پر سیاہ رنگ لگانے سے ڈپریشن اور غصے میں کمی آجاتی ہے ۔انگوٹھے کے انرجی پوائنٹ پر سیاہ رنگ کانشان بنانے سے مائیگرین کا درد ختم ہو جاتا ہے ۔اسی طرح ہتھیلی پر پیلا رنگ لگاکر ذیابیطس کا علاج کیا جاتا ہے۔ دونوں ہاتھوں کی چاروں انگلیوں کے وسط میں سبز رنگ کے نشان لگانے سے دل کی دھڑکن کی رفتار نارمل ہو جاتی ہے۔ کمرے کی ایک دیوار پر زردرنگ کرنے سے افراد خانہ میں غصہ اور لڑائی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ رنگ مزاج میں ٹھہرائو پیدا کرتا ہے۔ پیشانی پر سرخ بندیا لگانے سے جسم کے درد میں افاقہ ہو جاتا ہے۔ نوجوان عام طورپر شوخ رنگ زیادہ پسندکرتے ہیں مگر چھوٹے بچے پیلا رنگ دیکھ کر زیادہ روتے ہیں۔
کلر تھراپی میں اصل مہارت یہ ہے کہ آپ کو ہاتھ پائوں کی انگلیوں کے پریشر پوائنٹس اور مطلوبہ رنگ کی افادیت کا پوری طرح علم ہوتو ہی کسی بیماری کے خلاف بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔