’’ایریا51‘‘کیا ہے؟ یہاں کون سے راز پوشیدہ ہیں
اسپیشل فیچر
سرد جنگ ہو یا عالمی جنگ ،امریکہ ہمیشہ سے ہی خفیہ حرکات وسکنات کیلئے مشہوررہاہے۔ اپنی فلموں کے ذریعے بھی ہمیشہ یہی دکھاتا رہا ہے کہ دنیا کی سب سے بہترین خفیہ ایجنسی امریکہ کے پاس ہے۔ امریکہ میں موجود'' ایریا51‘‘بھی انہی رازوں میں سے ایک ہے، جسے امریکہ آج تک دنیا سے خفیہ رکھے ہوئے ہے۔ ''ایریا 51‘‘ سے منسک پابندیوں نے کئی سازشی نظریات پیدا کئے ہیں ۔اس علاقے سے متعلق سب سے مشہور کہانی یہ ہے کہ یہاں پر خلائی مخلوق سے رابطے کیلئے کوئی سسٹم نصب کیا گیا ہے۔کچھ لوگوں کایہ بھی کہنا ہے کہ 1947ء میں نیومیکسیکو کے قریب کریش ہونے والا ائیر کرافٹ بھی ایک خلائی جہاز تھا۔ امریکی ادارے اس سے حاصل ہونے والے معلومات پر'' ایریا 51‘‘میں تحقیق کر رہے ہیں۔ اس لئے وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔
اس کریش سے متعلق ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ یہ کوئی خلائی جہاز یا ہتھیار نہیں تھا بلکہ امریکہ کا ایک انتہائی خفیہ جہاز تھا جس کا استعمال سوویت یونین کے نیوکلیئر ہتھیاروں پر نظر رکھنے کیلئے کیا جا رہا تھا۔ ماہرین اس پر تحقیق کر رہے ہیں اور اس کی ''ریورس انجینئرنگ‘‘ کر رہے ہیں۔امریکی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل کا وعویٰ ہے کہ انہوں نے روس ویل میں کریش ہونے والے خلائی جہاز کے ملبے کا خود معائنہ کیا ہے۔اسی طرح 1989ء میں روبرٹ لیزارڈ نام کے ایک سائنسدان نے لاس ویگس میں ایک انٹرویو کے دوران یہ بتایا تھا کہ انہوں نے بھی ''ایریا 51‘‘ میں ایلیئن ٹیکنالوجی‘‘پر کام کیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے خلائی مخلوق کی میڈیکل تصاویر بھی دیکھی ہیں، روبر ٹ کا یہ بھی وعویٰ تھا کہ امریکہ ''ایریا51‘‘ میں دوسری دنیا کے جہازوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر کام کررہا ہے۔
''ایریا51‘‘کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس علاقے کے اردگرد کئی مرتبہ یو ایف او کو آتے ہوئے دیکھا ہے۔کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں خلائی مخلوق نے اغوا کر لیا تھا اور ان پرمختلف تجربات کرنے کے بعدانہیںآزاد کر دیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سب من گھڑت کہانیاںہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ ''ایریا51‘‘ کو دوسری عالمی جنگ کے دوران ملٹری بیس کے طور پر بنایا گیا تھا۔اس بات کا اعتراف امریکی خفیہ ایجنسی نے 2005ء میں کیا تھا کہ '' ایریا 51‘‘ دوسری عالمی جنگ کے دوران بنائی گئی ایک خفیہ امریکی بیس تھی۔
سی آئی اے کے مطابق ''ایریا 51‘‘ کو U-2 اورA-12 OXCART نامی ہوائی نگرانی کے پروگرام کے تجربات کیلئے استعمال کر نے کیلئے بنایا گیا تھا۔خفیہ ایجنسی نے اعتراف کیا کہ ''ایریا 51‘ ‘کو خفیہ رکھنے کا مقصد روس سے اس علاقے کو محفوظ رکھنا تھا۔سی آئی اے کے مطابق جب روس نے شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا پر کئے جانے والے حملے پر خاموشی اختیار کی تو اسی وقت یہ خدشہ پیدا ہوا کہ روس اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کیلئے امریکہ پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔
اُس وقت روس پوری دنیا میں اچانک حملوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ امریکہ کو بھی یہی بات پریشان کر رہی تھی کہ کہیں روس اس پر حملہ نہ کر دے۔اسی خطرے کے پیش نظر1950ء کے آغاز میں امریکی بحریہ اور فضائیہ نے کم اونچائی پر پرواز کرنے والے جاسوسی جہازوں کو سوویت یونین کے خلاف استعمال کرنے کا سوچا لیکن کم اونچائی پر پرواز کی وجہ سے انہیں آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا اور روسی افواج انہیں تباہ کر سکتی تھیں۔ ان تمام خطرات کا سامنا کرنے کیلئے 1954ء میں امریکی صدر نے U-2 پروگرام کے نام سے منظوری دی۔ اس پروگرام کے تحت ایسے جہاز بنائے جانے تھے جو بہت اونچی پرواز کرنے کے ساتھ جاسوسی کرنے کیلئے بھی استعمال ہوں۔ ان جہازوں کی ٹیسٹنگ کیلئے ایک خفیہ جگہ کا انتخاب کرنا ضروری تھاتاکہ اس پروجیکٹ کو روسی خفیہ ایجنسی سے چھپایا جا سکے۔
اس خفیہ پروگرام کیلئے جنوبی نویڈا صحرا میں گروم لیک کے نام سے مشہور سالٹ فلیٹ کے پاس ''ایریا 51‘‘کا انتخاب کیا گیا۔اس علاقے کا نام ''ایریا51‘‘کیوں رکھا گیا یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔1955ء میں اس علاقے کے قریب ''یو ایف او ‘‘کے اڑنے کی خبریں ملیں جس سے امریکی حکومت اور خلائی مخلوق کے رابطوں کی خبروں نے شہرت حاصل کی لیکن حقیقت میں یہ UFOاور کچھ نہیں بلکہU-2ائیر کرافٹ تھے جنہیں تجرباتی مراحل سے گزارا جا رہا تھا۔ یہ ہوائی جہاز60ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ U-2ائیر کرافٹ کو کمرشل فلائٹس کے پائلٹس نے بھی کئی مرتبہ دیکھا اور جب اس سے رابطہ یا پہچان نہ ہو سکی تو ائیر ٹریفک کنٹرول کو آگاہ کیا جاتا لیکن ائیر ٹریفک کنٹرول بھی اس سے کوئی رابطہ نہ کر پاتا۔ اس دور میں کمرشل پروازیں 10سے 20ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کیا کرتی تھیں جبکہ ائیر فورس کے جہاز40ہزار فٹ تک پرواز کرتے تھے ا س لئے اس قدر اونچائی پر اڑنے والا جہاز سب کیلئے حیران کن تھا۔ انہیں وجوہات کی بنا پر لوگوں نے خلائی مخلوق کے وجود کی کہانیا ں بنانا شروع کر دیں۔لوگوں کے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے امریکی حکام نے ان جھوٹی کہانیوں کو اور بڑھاوا دیا تاکہ لوگ'' ایریا51‘‘سے دور رہیں۔
اس کے بعدبھی یہ بیسF-117A،A-12اور TACIT BLUE جیسے جہازوں کیلئے تجرباتی مراحل میں استعمال ہوتی رہی۔گوگل ارتھ کے مطابق ''ایریا51‘‘ آج بھی امریکی حکومت کے استعمال میں ہے اور وہاں ہونے والی تعمیرات کو سیٹلائٹ کی تصویروں کے ذریعے دیکھاجا سکتا ہے ۔اس علاقے کے متعلق اب بھی لوگوں کی آراء مختلف ہیں لیکن حقیقت کیا ہے ،کوئی نہیں جانتا۔