فالٹ لائن پر موجود ممالک

فالٹ لائن پر موجود ممالک

اسپیشل فیچر

تحریر : تنزیل الرحمن جیلانی


زمیں کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹس کے ٹکرانے یا سرکنے سے زمین میں حرکت پیدا ہوتی ہے، جسے زلزلہ کہتے ہیں۔ ترکی چونکہ متعدد فالٹ لائنز پر واقع ہے اس لئے وہاں زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ فالٹ لائن، پلیٹوں یا پتھروں کے درمیان ایک ایسا فریکچر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوتا ہے جو حرکت کا باعث بنتاہے۔ اس فالٹ لائن پر واقع ممالک میں زلزلے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ آتے ہیں ۔ زلزلوں کی شدت کی پیمائش ریکٹرسکیل پر کی جاتی ہے جو 1935ء میں امریکی سائنسدانوں چارلز ایف رچر اور بینو گٹنبرگ نے تخلیق کیا تھا۔پلیٹوں کی حرکت کے دوران گرم پتھر اوپر کی جانب اٹھتے ہیں اور ٹھنڈے پتھر نیچے کی جانب جاتے ہیں جس وجہ سے ہلچل پیدا ہوتی ہے اور پلیٹیں ایک دوسرے کے اوپر یا نیچے کھسک جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چاند اور سورج کی کشش ثقل بھی ان پلیٹوں پر پریشر ڈالتی ہے، جس سے اکثر سمندر میں زلزلہ آتا ہے اور سونامی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ سونامی اتنے خطرناک ہوسکتے ہیں کہ دنیا کی جیوگرافی بھی بدل سکتے ہیں۔ جاپان میں مارچ 2011ء کو آنے والا زلزلہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ اس زلزلے کی وجہ سے پورا جاپان2011ء میں نارتھ امریکہ کی جانب 2.4 میٹرکھسک گیا۔
ترکی کے زیادہ تر علاقہ اناطولیہ کی ٹیکٹونک پلیٹ پر واقع ہے اور یہ پلیٹ ، یوریشیا،افریقہ اور عرب پلیٹ کے درمیاں میں پائی جاتی ہے۔ترکی میں قدرتی آفات کے لئے قائم کئے جانے والے ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 22ہزار چھوٹے و بڑے زلزلے ریکارڈ کئے گئے۔1999ء کو ترکی کے علاقے ازمیت میں آنے والے زلزلے کو ترکی کی تاریخ کا بدترین زلزلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی شدت 7.4ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد17ہزار سے بھی زیادہ تھی۔ لیکن گزشتہ روز آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی ہے جو Magnitude کے لحاظ سے اس کو ترکی کا بدترین زلزلہ بناتی ہے۔زلزلے کے شدید جھٹکے ترکی اور شام دونوں ممالک میں محسوس کئے گئے ہیں جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جارہی تھی،ماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ہماری دنیا میجر اور مائنر پلیٹوں پر مشتمل ہے جس میں 7میجر پلیٹیں ہیں۔ جن کے نام یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، انڈو آسٹریلین پلیٹ، انٹارکٹک پلیٹ، نارتھ امریکن پلیٹ، پیسفک پلیٹ اورساؤتھ امریکن پلیٹ ہیں۔ جاپان ان میں سے چار کے جنکشن پر موجود ہے۔ پلیٹیں ایک دوسرے کے اندر یا اوپر یونہی نہیں جاتیں بلکہ اپنے ساتھ بڑے پیمانے پر راکی فارمیشن اور پانی لے کر جاتی ہیں۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق دنیا کی تاریخ میں تین مرتبہ براعظم ایک دوسرے کے قریب آئے اور دور گئے ۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پلیٹوں کی حرکت کی وجہ سے ہی 180ملین سال پہلے اس براعظم کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ وہ جیوگرافی بنی جو ہمیں آج نظر آتی ہے۔
ویسے تو دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔جن کی اوسط سالانہ تقریباً 2ہزار ہے۔ 2021ء میں صرف ٹوکیو میں پانچ ایسے زلزلے آئے جن کی شدت 5 ریکٹر سکیل سے زیادہ تھی اور تقریباً 20 زلزلے 4سے 5 شدت کے تھے جبکہ 20زلزلے 3شدت کے اور 12معمولی نوعیت کے تھے۔ زمین کی اس قسم کی حرکات کو سیزمک ایکٹیویٹی کہتے ہیں۔
سائنسدانوں نے یہ پیشگوئی بھی کی ہے کہ آئندہ دس سال میں ٹوکیو کو ایک انتہائی خطرناک زلزلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے ننکائی ٹرف پھٹنے کا ڈر ہے۔ جاپان میں پیسیفک سمند ر کی طرف ننکائی ٹرف 900 کلومیٹر کا علاقہ ہے، جہاں سیزمک ایکٹیویٹی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ جاپانی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مارچ2011ء میں آئے زلزلے (سونامی) سے زیادہ خطرناک زلزلہ آنے کی امید نہیں ہے۔ وہ جاپان کی تاریخ کا سب سے خطرناک زلزلہ تھاجسے ''دی گریٹ ایسٹ جاپان ارتھ کوئیک‘‘ کا نا م دیا گیا تھا۔ اس زلزلے کی وجہ سے فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ پھٹا اور 20ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔ جاپان میں زیادہ زلزلے آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک ''سرکم پیسفک موبائل بیلٹ‘‘ پر واقع ہے جہاں اکثر ہی سیزمک ایکٹیوٹیز دیکھی جاتی ہیں۔
2011ء میں جاپان میں آنے والے زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی وجہ سے زمین کے ایکسز پر بھی اثر پڑا۔ رپورٹس کے مطابق اس زلزلے کے بعد زمین کے ایکسز میں 10سے 25سینٹی میٹر کا جھکاؤ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ سے ہمارے دن 2مائیکرو سیکنڈ تک چھوٹے ہو گئے تھے۔جاپان بے شک دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے برداشت کرنے والا ملک ہے جبکہ ''رنگ آف فائر‘‘ میں جو دیگر ممالک ہیں ان میںانڈونیشیا، نیوزی لینڈ، پاپویا نیوگینی، فلپائن،امریکہ،چلی،کینیڈا، گوئتے مالا، روس، پیرو، سولومن آئی لینڈ اور میکسیکو شامل ہیں۔ پوری دنیا میں آنے والے زلزلوں میں سے 90 فیصد زلزلے اسی خطے میں آتے ہیں لیکن 40ہزار کلومیٹر طویل ہے۔
تنزیل الرحمن جیلانی نوجوان صحافی ہیں اور
تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
زیر زمین شہر کی دریافت

زیر زمین شہر کی دریافت

زمانہ آدم سے لے کرانسان نے ترقی کی بہت سے منازل طے کرتے ہوئے طویل اور کٹھن سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ پتھروں کے زمانے سے اپنی حفاظت کیلئے نت نئے طریقے اپنائے۔ شروع میں پہاڑوں پر قدرتی غاروں کو اپنا مسکن بنایا، پھر گزرتے وقت کے ساتھ قبیلوں کی صورت میں آبادیاں آباد کیںاور رہنے کیلئے چاردیواری اور چھتوں کا استعمال شروع کیا۔ جنگلوں اور غاروں سے نکل کر شہروںکو آباد کیا ۔موجودہ دور میں انسان نے قدیم دور کے بارے میں انسانوں کے رہن سہن اور تہذیبوں کے بارے میں دریافت کرناشروع کیا تووادی سندھ طاس جیسی سب سے قدیم اور منظم آبادیوں کو دریافت کیا گیا۔ جس سے پرانے لوگوں کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی گئیں اور انسانوں کے ترقی کی جانب سفر کو جانچنے میں مدد ملی۔ اسی طرح ترکی کے علاقوں میں بھی زمانہ قدیم کے آثار موجود ہیں جہاں پر ایک سو مربع میل کے علاقے میں 200 کے قریب زیر زمین دیہات دریافت کئے گئے ہیں ۔زمانہ قدیم میںموجودہ ترکی کے صوبہ نیو سیچہرکے علاقے کیپا ڈوشیاں پر ہٹی ، فارسی ، سکندر اعظم ، روم ، بازنطینی سلطنت، سلطنت عثمانیہ اور ترکوں نے حکومت کی۔ 1963ء میں صوبہ نیوسیچہر میں ایک شخص نے اپنے گھر کی تزئین و آرائش کا کام شروع کیا اس نے اپنے تہہ خانے میں ایک دیوار گرا دی۔ دیوار کی دوسری جانب اسے ایک پراسرار کمرہ ملا۔ اس نے کھدائی جاری رکھی اور ایک سرنگ دیکھی مزید کھدائی کرنے سے معلوم ہوا کہ زیر زمین ایک شہر موجود ہے۔ انجینئرنگ کے اس شاہکار کے 8 درجے تھے ۔ ان منزلوں پر رہنے والے باشندوں کو تہہ خانوں، ذخیرہ کرنے کی جگہوں، چیپلوں، ایک اسکول، ایک اسٹڈی روم اور دیگر ڈھانچے بھی ملے۔تمام منزلیں سرنگوں کے ایک وسیع نیٹ ورک سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زیر زمین شہر ایک پناہ گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ آپ باہر سے تعمیر نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی گہرائی تقریباً 279 فٹ ہے۔ یہ کمپلیکس اتنا بڑا تھا کہ تقریباً 20 ہزار لوگوں کے علاوہ ان کے مویشیوں اور خوراک کی فراہمی کو پناہ دی جا سکتی تھی۔ اس زیر زمین شہر میں تازہ ہوا کیلئے بھی بہترین انتظام کیا گیا تھا۔زیر زمین رہنے والے لوگ ہوا کیلئے بنائے گئے وینٹیلیشن کو کنویں سے پانی نکالنے کے بھی استعمال کرتے تھے یہ کنواں سطح زمین پر رہنے والے دیہاتیوں اور زیر زمین شہر میں چھپے لوگوں کو بھی پانی فراہم کرتا تھازیر زمین شہر کو تحفظ کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ سرنگوں کو اندر سے بڑے گول رولنگ پتھر کے دروازوں بنائے گئے تھے۔ گزرگاہیں انتہائی تنگ تھیں تاکہ حملہ آوروں کو اندر داخل ہونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔2014ء میں ترکی کی ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن (ٹوکیو) کی طرف سے کئے گئے شہری تبدیلی کے منصوبے کے دوران سیکڑوں عمارتوں کو مسمار کردیا گیایہ عمارتیں نیواشائر قلعے اور اس کے آپس پاس واقع تھیں۔ جب نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے زمین میں کھدائی شروع کی گئی تو ایک بڑے زیر زمین شہر کو دریافت کیاگیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شہر آج سے 5 ہزار سال پرانا ہے،بتایا جاتا ہے کہ یہ دنیامیں آج تک ہونے والے آثار قدیمہ کی سب سے بڑی تلاش سمجھی جا رہی ہے۔ اس زیر زمین شہر کے 600 کے قریب داخلی راستے ہیں اور سرنگوں کے ذریعے شہر کو آپس میں ملایا گیا ہے۔ اس زیر زمین شہر میں مویشیوں کے اصطبل، کنویں ، پانی کے ٹینک ، کھانا پکانا کیلئے کچن ، بڑے ہال کمرے ، باتھ روم اور مقبرے بھی موجود ہیں۔زیر زمین شہر کی تعمیر میں ہوا اور روشنی کیلئے بھی خاص انتظام کیا گیا تھا۔ ماہرین کے خیال کے مطابق اس زیر زمین شہر میں 20 ہزار سے زائد افراد کے رہنے کے انتظامات کئے گئے تھے۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برسوں کے دوران، 9 قدیم شہر ایک دوسرے کے اوپر بنائے گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع تھا، اس لیے یہ ایک خوشحال تجارتی اور ثقافتی مرکز بن گیا۔ اس اسٹریٹجک پوزیشن نے ٹرائے کو پوری تاریخ میں پرکشش بنا دیا۔ ٹروجن تنازعہ کے بعد، شہر کو 1100 - 700 قبل مسیح کے درمیان چھوڑ دیا گیا تھا، پھر یونانی آباد کاروں نے اس علاقے کو دوبارہ دریافت کیا، اور سکندر اعظم نے وہاں حکومت کی۔ رومیوں نے پھر شہر پر حملہ کر دیا۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس جگہ پر خطے میں کسی بھی کھدائی شدہ مایا بستیوں سے زیادہ تعمیرات دریافت کی گئی ہے۔ 1000ء کے بعد وہاں کی مایا تہذیب کو زوال کا سامنا کرنا پڑا۔شہر کی باقیات میں آرکیٹیکچرل کمپلیکس اور مجسمہ سازی کی یادگاریں، دفاعی نظام، کانیں، پانی کے انتظام کی خصوصیات، بڑے پیمانے پر مندر کے اہرام اور محلات شامل ہیں۔  

ٹینس بال بنائے زندگی آسان

ٹینس بال بنائے زندگی آسان

آپ نے آج تک ٹینس کی گیند صرف کھیل ہی کیلئے استعمال کی ہوگی، مگر حقیقت میں یہ گیند آپ کے روز مرہ کے کئی کام آسان کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹینس کی گیند کار پارکنگ میں آپ کی مدد کرسکتی ہے اور آپ کو میٹھی نیند سُلانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ ذیل میں ٹینس کی گیند کے چندحیرت انگیز فوائد کا ذکر کیا جارہا ہے۔ ان سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگی آسان بنائیں۔پائوں درد کا علاج اگر آپ کے پائوں میں درد ہے تو ٹینس کی گیند زمین پر رکھیں۔ اپنے جوتے اتاریں اور پائوں کو گیند پر رکھ کراسے گھمانا شروع کردیں۔ اس عمل سے آپ کے پائوں کو سکون ملے گا اور درد میں کمی واقع ہوگی۔کمر درد کا علاجاگر آپ کی کمر میں درد ہے تو ایک ٹیوب نما موزے میں چند ٹینس کی گیندیں ڈالیں اور اس کامنہ باندھ دیں۔ اب اسی موزے کو تولیے کی طرح کمر کے گرد اس طرح حرکت دیں، جس طرح آپ نہانے کے بعد کمر خشک کرتے ہیں۔درد میں افاقہ ہو گا۔ ٹول بکسآپ ٹینس کی گیند کو ٹول بکس کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے گیند پر چیرا لگائیں۔ پھر اس شگاف کو چوڑا کرنے کیلئے گیند کو دبائیں اوراس میں کچھ کیلیں ڈالیں۔ پھر گیند کو دبانا ترک کردیں، تاکہ گیند کا منہ بند ہوجائے۔ اب آپ اسے کہیں بھی ایک ٹول باکس کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی، گیند کو دبایا اور کیل نکال لی۔موزے رفو کرنااکثر افراد سلائی میں مشکلات کی وجہ سے اپنے موزے کی ایڑی اور پنجے میں سوراخ ہونے کے بعد انہیں پھینکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے موزے کی سلائی کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس میں ٹینس کی گیند ڈالیں اور اسے ایڑھی اور پنجے کے پاس رکھیں۔ یوں موزے کی مطلوبہ سطح کشادہ ہوجائے گی اور آپ آسانی سے رفو بناسکیں گے۔سائیکل سٹینڈٹینس کی گیند بائی سائیکل کو متوازن رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ساحل، چکنی مٹی یا گھاس میں اپنی سائیکل کھڑی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آپ کو خطرہ ہے کہ سائیکل کا اسٹینڈ ز زمین میں دھنس سکتا ہے تو ایسی صورت سے بچائو کے لیے اگر آپ ٹینس کی گیند میں شگاف کر کے اسے سائیکل کے اسٹینڈ میں لگادیں تو سائیکل زمین میں نہیں دھنسے گی اور متوازن رہے گی۔ بوتل کا ڈھکن کھولنابعض اوقات بوتل کا ڈھکن گھماکر اسے ٹھیک طرح کھولنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسے عمل کو آسان بنانے کیلئے ٹینس کی گیند کو دو حصّوں میں تقسیم کیجیے۔ پھر ایک حصّے کو بوتل کے ڈھکن پر رکھ کر گھمایے۔ یوں آپ بغیر کسی مشکل کے بوتل کا ڈھکن کھول سکتے ہیں۔نرم لکڑی میں کیل ٹھونکنا اگر آپ کسی نرم لکڑی میں کیل ٹھونکنا چاہتے ہیں اور آپ کو ہتھوڑی کی ضرب سے لکڑی ٹوٹنے کا خدشہ ہے تو ٹینس کی گیند میں چیرا لگا کر اسے ہتھوڑی کے آگے لگالیں اور کیل پر ضرب لگائیں۔ یوں، آپ کا کام آسان ہوجائے گا۔ کار پارک کرنا گیراج میں کار پارک کرنا بھی ایک فن ہے۔ اکثر کار کے دیوار سے ٹکرانے یا غلط جگہ پارک کرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کا ایک آسان حل یہ ہے کہ آپ جس جگہ کار کھڑی کرتے ہیں، وہاں چھت سے دھاگا باندھ کر گیند لٹکادیں۔ اب جب بھی آپ مقررہ جگہ پر کار لے کر آئیں گے، تو گیند اس سے ٹکرائے گی تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ آپ نے کار درست جگہ پارک کی ہے۔خراٹوں سے نجات عموماً کمر کے بل سوتے ہوئے انسان زیادہ خراٹے لیتا ہے۔ خراٹوں سے بچنے کیلئے ایسے افراد ٹینس کی گیند سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سوتے ہوئے اگر ایسے افرادکے پاجامے کی عقبی جیب میں ٹینس کی گیند رکھ دیں تو یہ گیند انہیں کمر کے بل سونے نہیں دے گی اور وہ کروٹ کے بل سونے پر مجبور ہوں گے۔ یوں آپ ان کے خراٹوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔ ٭...٭...٭  

آج کا دن

آج کا دن

گجرات قتل عام 28 فروری 2002ء کو گجرات فسادات کے دوران''نرودا پاٹیا قتل عام‘‘ احمد آباد، ہندوستان میں نرودا میں ہوا ۔5 ہزار انتہاپسند ہندوؤں نے 97 مسلمانوں کو قتل کیا۔ یہ قتل عام وشواہندو پریشد کے ایک ونگ بجرنگ دل نے کیا،گجرات میں بر سراقتدار بھارتی جنتا پارٹی بھی اس قتل عام میں شریک تھی۔اسی دن گلبرگ سوسائٹی میں بھی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، بشمول کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کے 35 افراد کو زندہ جلا دیا گیاجبکہ مجموعی طور پر 69 مسلمانوںکو شہید کیا گیا۔پہلی خلیجی جنگ کا خاتمہ1991ء میں آج کے روز پہلی خلیجی جنگ کا اختتام ہوا۔ خلیجی جنگ ایک مسلح مہم تھی جسے 35 ممالک کے فوجی اتحاد نے کویت پر عراقی حملے کے جواب میں چلایا تھا۔ یہ جنگ دو مراحل پر مشتمل تھی، پہلا مرحلہ ''آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ‘‘ اگست 1990ء سے جنوری 1991ء تک جاری رہا۔ دوسرے مرحلہ ''آپریشن ڈیزرٹ سٹارم‘‘ کا آغاز 17 جنوری 1991ء کو عراق کے خلاف فضائی بمباری کی مہم سے ہوا اور 28 فروری 1991ء کو کویت کی آزادی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔خلائی جہاز حادثہ28فروری1966ء کو امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کاجہاز ''ٹی38‘‘سینٹ لوئس،میسوری کے لیمبرٹ فیلڈ میں گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثے میں دو خلا باز ایلیوٹ سی اور چارلس باسیٹ ہلاک ہو گئے۔ خلائی جہاز میکڈونل ائیر کرافٹ کی عمارت سے ٹکراگیا جہاں ''جیمنی9‘‘خلائی جہاز کو تیار کیا جارہا تھا۔ ناسا کے ایک پینل نے حادثے کی تحقیقات کیں ۔موسم کی خرابی اور پائلٹ کی غلطی کو حادثے کی وجہ قرار دیاگیا۔مصر کا برطانیہ سے آزادی کا اعلان28فروری1922ء کو مصر نے آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا ،جس کے بعد برطانیہ نے مصر کو ایک خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔4 صدیوں تک عثمانی حاکمیت کے زیر اثر مصر 1882ء میں برطانوی سامراج کے ماتحت آگیا۔40 سالہ اس دور تسلط کے بعد بالاخر 28 فروری 1922ء کو برطانیہ نے اسے آزاد کرنے کا اعلان تو کردیا مگر اس کے بعد بھی اس کے نو آبادیاتی اثرات 1952ء کے انقلاب تک جاری رہے۔اسی سال مصر کا شاہی نظام ختم ہوا اور اس کی جگہ جمہوریت نے لے لی۔''228ہینڈ ان ریلی‘‘228 ہینڈ ان ہینڈ ریلی 28 فروری 2004ء کو تائیوان ''انسانی زنجیر ‘‘کی شکل میں ایک مظاہرہ تھا۔ تقریباً 20 افراد نے 500 کلومیٹر (310 میل) لمبی انسانی زنجیر بنائی، جو تائیوان کے شہر کیلونگ کے بندرگاہ سے لے کر ایلوانبی، پنگٹ کے جنوبی سرے تک تھی۔ اس مظاہرے کا مقصد امن کا مطالبہ تھا۔یہ مظاہرہ بالٹک وے سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ اس سے قبل 20 لاکھ افراد پر مشتمل انسانی زنجیر کا مظاہرہ بالٹک ریاستوں میں 1989 میں کیا گیا تھا۔  

ڈیبیٹ ایبل لینڈ:لاقانونیت اور جرائم کا گڑھ

ڈیبیٹ ایبل لینڈ:لاقانونیت اور جرائم کا گڑھ

آج کے دور میں کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہو کہ وہ کسی بھی شخص کو نہ صرف قتل کر سکتے ہیں بلکہ اسے لوٹ سکتے ہیںاور اسے تباہ بھی کر سکتے ہیں ؟ ۔حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ''اجازت نامہ‘‘ جو ایک فرمان کی شکل میں تھا اسے ایک پارلیمانی حکم کے بعد ایک قانون کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ سولہویں صدی کے وسط میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کی حکومت کی جانب سے جاری اس پارلیمانی فرمان کے الفاظ کچھ اس طرح سے تھے '' انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے لوگ کسی کو لوٹنے، جلانے، تباہ کرنے یا قتل کرنے کا پورا پورا اختیار رکھتے ہیں،اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی‘‘۔''ڈیبیٹ ایبل‘‘ کے نام کی شناخت رکھنے والا یہ علاقہ13ویں اور 16 ویں صدی کے دوران تین سو سالوں تک لاقانونیت اور جرائم کا گڑھ بنارہا۔لفظ ''ڈیبیٹ ایبل لینڈ‘‘ بنیادی طور پر انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے اس خود مختار علاقے بارے گھڑی گئی وہ اصطلاح اور اختراع ہے جو ہر قسم کے جرائم کے گڑھ کی وجہ سے کسی کے قابو نہ آنے والے ایک سرکش اور اڑیل گھوڑے کی مانند تھا۔ اس خطے کی بد قسمتی یہ تھی کہ اسے نہ تو انگلینڈ اور نہ ہی سکاٹ لینڈ اپنا حصہ تسلیم کرتے تھے۔ اس کی متعدد وجوہات تھیں۔ سب سے بڑی وجہ اس علاقے کا جرائم کا گڑھ ہونا تو تھا ہی لیکن اس کے علاوہ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ علاقہ اپنے خددو خال کی وجہ سے کسی کیلئے کارآمد نہیں تھا۔اس کی زمینیں کاشتکاری کے لائق تھیںنہ ہی زمینوں کو کسی اور مصرف میں لایا جاسکتا تھا۔ یہی وہ بنیادی نقطہ تھا جس کی خاطر کوئی بھی فریق اتنے پر خطر علاقے کی ذمہ داری لینے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔مورخین کے مطابق اس پارلیمانی حکم نامے کی وجہ دراصل ذمہ داری سے بچنے کی کوشش تھی کیونکہ کوئی فریق اس علاقے کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہ تھا۔ ''ڈیبیٹ ایبل لینڈ‘‘ جرائم کا گڑھ کیسے بنا ؟ یوں تو یہ علاقہ چھوٹی موٹی وارداتوں کی وجہ سے ہمیشہ ایک متنازعہ علاقہ رہا ہے لیکن جرائم کا گڑھ اور نو گو ایریا بننے میں سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان پہلی بار سرحدوں کا تعین تھا۔ 1237ء میں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈکے درمیان ''ٹریٹی آف یارک ‘‘کے تحت پہلی بار سرحدوں کا بٹوارہ ہوا۔ جب یہ بٹوراہ اختتام کو پہنچا تو معلوم ہوا کہ مختلف خاندانوں کی جائیدادوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی ہے۔جس کی رو سے متعدد خاندان اپنی جائیدادوں کا کثیر حصہ کھو بیٹھے تھے۔ شروع شروع میں لوگوں نے ہلکا پھلکا احتجاج کیا جو رفتہ رفتہ بغاوت کی صورت اختیار کرتا چلا گیا۔ چنانچہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق یہاں کے زور آور خاندانوں نے سرحد کے آر پار لوٹ مار کرنا شروع کردی۔ دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی اس ملک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کیلئے تیار تھا نہ یہاں اپنے وسائل خرچ کرنے پر تیار تھا۔جس کے سبب رفتہ رفتہ یہ علاقہ ''نو گو ایریا‘‘کی شکل اختیار کر کے جرائم پیشہ افراد کا گڑھ بنتا چلاگیا۔ان جرائم پیشہ افراد کو سرحدی ڈاکو کہا جانے لگا جنہیں مقامی لوگ '' بارڈر ریورز‘‘ کہتے تھے۔''بارڈر ریورز‘‘ نے سرحد کے آر پارمویشی چرانے سے اپنی منفی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان کے حوصلے بڑھے تو انہوں نے رفتہ رفتہ بڑی بڑی چوریاں اور ڈاکے ڈالنا شروع کر دئیے۔مورخین کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آیا کہ ''ڈیبیٹ ایبل لینڈ‘‘ ایساملک بن گیا جہاں ان کے اپنے اصول اور قانون تھے،یہ لوگ اس قدر طاقت ور اور بے خوف ہو چکے تھے کہ پورے برطانیہ میں جب چاہتے اور جہاں چاہتے لوٹ مار کے ساتھ ساتھ خونی کاروائیاں کر گزرتے‘‘۔ مورخین کہتے ہیں اس طرح کی سرگرمیاں کسی بڑی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں، اس لئے یہاں بھی صورتحال ایسی ہی تھی اور ان حملہ آوروں کو بڑے بڑے مقامی سرداروں کی پشت پناہی حاصل ہوا کرتی تھی۔''بارڈر ریورز‘‘ کی طاقت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی سب سے زیادہ خونی کارروائیاں انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے ایسے علاقوں میں ہوتی تھیں جن کے بارے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہاں کسی کی دراندازی ممکن ہے۔ اس بڑھتی لاقانونیت اور بے چینی نے بالآخر اشرافیہ کو اس مسئلہ کا حل نکالنے کیلئے سر جوڑ بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔ یوں 1551ء میں پہلی مرتبہ سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ ایک معاہدے تک آن پہنچے جس کی رو سے دونوں ملکوں کی سرحدوں پر ''سکاٹ ڈائیک‘‘ کی تعمیر کے ایک منصوبے پر غور شروع ہوا۔جس کی رو سے 1552ء میں ہمیشہ کیلئے دونوں ملکوں کی سرحدوں کی نشاندہی کرکے اس پر تقریباً پانچ کلومیٹر لمبے پشتے تعمیر کئے گئے جس سے عملاً ''ڈیبیٹ ایبل لینڈ‘‘ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔لیکن اشرافیہ کو اس وقت سخت دھچکا لگا جب ''بارڈر ریورز‘‘ کی کارروائیوں میں ذرہ برابر بھی فرق نہ پڑا اور ان کے حملے جوں کے توں جاری رہے۔ اس صورتحال پر اکثر محققین کہتے ہیں کہ ''جب تک کسی مخصوص علاقے کی ذمہ داری کوئی ملک قبول ہی نہ کرے تو شکوہ کس سے کر سکتے ہیں اور ویسے بھی ''بارڈر ریورز‘‘ اس بے لگام گھوڑے کی مانند تھے جن کے نہ تو کوئی اصول اور ضابطے تھے اور نہ کوئی منزل تھی‘‘۔ 1603 عیسوی میں سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کی حکومتیںایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھے اور یوں پہلی مرتبہ دونوں ملکوں کے درمیان الحاق ہوا تو برطانیہ کی بادشاہت کی توجہ سرحدی کارروائیوں پر مرکوز ہوئی۔قانون کی عمل داری کو فعال بنانے کیلئے سرحدی سرگرمیوں اور حملوں پر نظر رکھنے کیلئے سرحدی فوج میں اضافہ کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ علاقے کو چوروں اور ڈاکوؤں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے بڑے بڑے رسہ گیروں اور سہولت کاروں کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکادیا اور بیشتر کو ملک بدر کر دیا گیا۔سکاٹ لینڈ کی لوٹ مار اور قتل و غارت میں یہاں کے سرداروں کاکلیدی کردار رہا ہے۔ 1603ء کے بعد انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ نے امن و امان کے قیام میں جہاں ڈاکوؤں کا پیچھا جاری رکھا وہیں انہوں نے علاقے کے سرداروں کی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھی۔ مورخین کہتے ہیں ''ڈیبیٹ ایبل لینڈ‘‘ کی سرگرمیوں کی تاریخ لینگ سینڈی کے ذکر کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ چھ فٹ قامت کے سردار لینگ سینڈی جس کا اصل نام الیگزینڈر آرمسٹرانگ تھا سولہویں صدی کے سکاٹ لینڈ کا ایک طاقتور سردار تھا۔یہ ایک رعب اور دبدبے کی شخصیت کا مالک تھا۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ علاقے کا کوئی بھی اچھا یا برا کام اس کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس پورے علاقے میں اس کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔ 1610ء میں لینگ سینڈی نے برطانیہ کے بادشاہ کی طرف سے علاقے میں قانون نافذ کرنے کی کوششوں کی سخت مخالفت اور مزاحمت کی جس کی پاداش میں اسے 1610ء میں اپنے گیارہ بیٹوں سمیت پھانسی پر لٹکادیا گیاتھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ بہت سارے ''بارڈر ریورز‘‘ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔

نور محل بہاولپور:نواب صادق محمد خان چہارم کا ایک تعمیراتی شاہکار

نور محل بہاولپور:نواب صادق محمد خان چہارم کا ایک تعمیراتی شاہکار

نواب سر صادق محمد خان چہارم ریاست بہاولپور کے دسویں نواب تھے۔ آپ کی ساڑھے چار سال کی عمر میں دستار بندی کی گئی لیکن تخت نشینی بلوغت میں ہوئی۔ وہ تعمیرات کے ماہر تھے۔ اپنے اس ذوق کا انہوں نے جگہ جگہ مظاہرہ کیا۔ اس وجہ سے انہیں بہاولپور کا شاہجہان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے دور حکومت میں نور محل، صادق گڑھ پیلس اور دربار محل جیسی عظیم عمارتیں بنائی گئی۔نواب صادق محمد خان چہارم1861ء میں پیدا ہوئے اور 1899ء میں وفات پائی۔اپنی 38 سال کی عمر میں انہوں نے اس قدر عمارتیں اور محل بنوائے، باغات لگوائے کہ کسی حکمران نے اتنے کام نہیں کیے۔ انہوں نے اپنا دارالحکومت احمد پور شرقیہ سے بہاولپور منتقل کرنے کا سوچا اور رہائش کیلئے بہاولپور بسنے کی ٹھانی۔ ایک منصوبے کے تحت یہاں ایک محل بنوانے کی تجویز زیر غور ہوئی تو جگہ کے انتخاب کیلئے انہوں نے خود شہر بہاولپور کے اندر باہر چکر لگائے اور بستی ملوک شاہ کے قریب52 ایکڑ قطعہ اراضی حاصل کر کے نور محل کی بنیاد رکھی گئی۔نور محل کی تعمیر 1872 ء میں شروع ہوئی اور 1875ء میں ختم ہوئی۔ محل کیا تھا لق ودق صحرا میں بہشت بریں کا ٹکڑا تھا۔ درمیان میں نور محل کی عمارت، چار اطراف درخت ہائے ثمر بار اور قحطات سرسبز و گل ہائے رنگارنگ کی دلفریبی سے ذوق تمکنت حزیں کار فرما تھا ۔محل کا داخلی دروازہ جنوبی سمت رکھا گیا جہاں ایک باوقار پورچ میں چار سیڑھیاں چڑھ کر برآمدہ آتا پھر مستطیل کمرے کے داخلی دروازے تھے۔ اس کمرے سے ایک وسیع ہال میں داخل ہوا جاتا تھا۔ اس مرکزی ایوان میں شمالی جانب تخت شاہی ہوتا تھا جس کے عقب میں دیوار کے سائز کا آئینہ نصب کیا گیا تھا۔ دائیں بائیں معزز درباریوں، سند نشینوں اور وزراء کیلئے اعلیٰ و پائیدار کرسیاں تھیں جن پر در باری حفظ مراتب و آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سب جلوہ فگن ہوتے تھے۔اس دربار کی چھت جالی دار رکھی گئی تھی۔ جالی کی انتہائی گولائی زمین کے فرش سے تین فٹ بلند تھی۔ چھت کے زیریں حصے پر انتہائی نفیس گلکاری کی گئی تھی۔ گلکاری کے رنگ اور ان کی آرائش ایرانی خصائص کی غمازی کرتے تھے۔ بعض مقامات پر یہ تضاد انتہائی بار یک جزئیات سے بھی آشکارا تھی۔اس مصوری کے بنیادی اسلوب میں کسی کسی جگہ عمومی فن کاری کی خصوصیات اجاگر کی گئی تھیں۔ چھت کے نیچے مضبوط پیتل کی زنجیروں سے بلوری جھاڑ، فانوس جو تمام تر ولایتی تھے لٹکتے تھے۔ جب ان کی قندیلیں روشن کی جاتیں تو ایک عجیب روح پر در منظر پیش نظر ہوتا تھا۔ دربار کے انعقاد کے وقت جلال شاہی اور جمال در بار شاہی کا خوشگوار امتزاج ہوتا تھا۔ دربار کے عقب میں دیوار کے ساتھ لگے ہوئے آئینے میں دربار کا منظر منعکس ہوتا تو رعب و دبدبہ کا مظہر ہوتا۔ اس ہال کے مشرقی و مغربی جانب رہائشی کمرے جو نواب صاحب کی رہائش و مہمان نوازی کیلئے استعمال ہوتے وہ تمام تر ضروری سامان سے آراستہ تھے۔ خواب گا ہیں، نشست گا ہیں، غسل خانے ہر طرح خود کفیل تھے۔ ہر کمرے میں چھت، فرش اور دیواروں سے نفاست و ذوق آرائش کی مہک آتی تھی۔ سامان آرائش و زیبائش انتہائی اعلی نفیس ہونے کے علاوہ ایک ہی رنگ میں متعین کیے گئے تھے اعلیٰ و قیمتی پردے اس قدر عالیشان کہ عمل کی زمین دو تار میں اضافہ کرتے تھے۔دوسری منزل پر اس دربار ہال کے سر اطراف ایک چوڑی گیلری کی موجودگی سے نہ صرف نچلی منزل کے ہال میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھا گیا تھا کہ وہاں مجمع بوقت انعقاد دربار اور جشن کی تقریبات منائے جانے کی صورت میں آواز نہ گونجنے پائے۔ محل جو اطالوی طرز تعمیر کی خصوصیات رکھتا تھا، اس میں جنوبی جانب اور درمیان میں دو مخروطی گنبد تھے، جن کے اندر نیچے سے اوپر تک آنے کیلئے زینے بنائے گئے تھے تاکہ تیسری منزل تک با آسانی رسائی ہو سکے۔ تمام عمارت کی تعمیر میں چونے اور پنجکاری کا کام کیا گیا تھا۔ دو اینٹوں کے درمیان مصالحہ کی اس قدر تہہ رکھی گئی تھی کہ تمام اینٹیں گوند سے چپکائی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ شمالی جانب لوہے کا ایک گول زینہ ہے جس کی سیڑھیاں بالائی منزل تک رسائی کا کام دیتی ہیں۔ غالبا یہ زینہ پہرے داروں اور محافظین عمارت کیلئے بنایا گیا تھا۔ عمارت سے کچھ فاصلے پر بھی خانہ، تو شہ خانہ مطبخ (باورچی خانہ) اور اصطبل کی عمارت تعمیر کی گئی تھیں۔ مہتم عمارات و مطبخ محل کا ایک افسر ہوتا تھا۔ نور محل کے مغربی گوشے میں 1906ء میں نواب محمد بہاول خان پنجم نے ایک عالیشان مسجد تعمیر کرائی تھی۔پاکستان کے قیام کے بعد سرکاری تقریبات تو نورمحل میں نہ ہونے کے برابر ہو گئیں مگر ریاست کا عملہ دیکھ بھال کیلئے متعین تھا۔ 1955 ء میں ون یونٹ کے بعد اس میں کمی آ گئی مگر مرمت وغیرہ ہوتی رہی مگر 1966ء میں اس کے والی جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو محل کا کوئی والی وارث نہ رہا۔ بس اس کا اللہ ہی وارث ہے۔اب اس کا انتظام عسکری ادارے کے پاس ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستان کا بھارت کو سرپرائز2019ء میں پاکستان ایئر فورس نے بالاکوٹ میں دراندازی کے جواب میں بھارت میں مختلف مقامات پر چھ فضائی حملے کئے۔ 1971ء کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک کی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کے پار ایک دوسرے کی سرزمین پر فضائی حملے کیے ۔ بھارت نے بالاکوٹ میں جبکہ پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فضائی حملہ کیا۔ بھارتی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کا تعاقب کیا۔ ڈاگ فائٹ کے نتیجے میں، پاکستان نے دو ہندوستانی جیٹ طیاروں کو مار گرایا اور ایک ہندوستانی پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو گرفتار کرلیا۔کاربن 14 کی دریافتامریکی کیمیا دان مارٹن ڈیوڈ کامن (Martin David Kamen) نے سیم روبن (Sam Ruben)کے ساتھ مل کر 27 فروری 1940ء کو ''آئیسوٹوپ کاربن14‘‘ کی ترکیب دریافت کی۔ کامن پہلا شخص تھا جس نے بائیو کیمیکل سسٹم کا مطالعہ کرنے کیلئے ''کاربن 14‘‘ کا استعمال کیا اور اس کے کام نے بائیو کیمسٹری اور سالماتی حیاتیات میں انقلاب برپا کر دیا، جس سے سائنسدانوں کو مختلف قسم کے حیاتیاتی رد عمل اور عمل کا پتہ لگانے میں مدد حاصل ہوئی۔بروک جا معائدہبروک کا معاہدہ27فروری1560ء کو بروک ٹویڈ میں طے پایا۔ یہ معاہد ہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اورل کے نمائندے ڈیوک آف فولک اور سکاٹش رئیسوں کے گروپ ''سکاٹش لارڈز آف دی کانگری گیشن‘‘ کے درمیان طے پایا تھا۔اس معاہدے کا مقصد ان شرائط پر اتفاق کرنا تھا جس کے تحت برطانیہ اپنا ایک بحری بیڑا اور فوج کا کچھ حصہ سکاٹ لینڈ بھیجے گا جو فرانسیسی فوج کو سکاٹ لینڈ سے نکالنے میں سکاٹش فوج کی مدد کرے گا۔ لارڈز فرانسیسیوں کو بے دخل کرنے اور سکاٹش اصلاحات کو نافذ کرنے کی کوششیں کر رہے تھے،جس کی وجہ سے فسادات اور مسلح تصادم کا آغاز ہوا۔ترکی میں پہلی تصویر کی نمائش27 فروری 1863ء کوترکی میں سلطان عبدالعزیز خان کے دور حکومت میں پہلی تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔19 ویں صدی کے وسط میں ایسی نمائشوں اور میلوں کا اہتمام ایک روایت بن چکا تھا، جس سے متاثر ہو کرسلطان عبدالعزیز نے نمائش عمومییہ عثمانیہ کے انعقاد کی اجازت دی۔ جس میں فن مصوری کے علاوہ دیگر اہم ایجادات کی بھی نمائش کی گئی۔سوڈیم سیکرین کی تیاری امریکی کیمیا دان کونسٹانٹین فالبرگ نے1879ء میں آج کے روز ''سوڈیم سیکرین‘‘ نامی مصنوعی مواد تیار کیا۔ ''سوڈیم سیکرین‘‘ کو آج کل ذیابیطس کے مریضوں کو مصنوعی شکر کے طور پر استعمال کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس مواد کی تیاری کے حقوق 1884ء میں حاصل کئے گئے۔