’’مین آف دا ہول‘‘

’’مین آف دا ہول‘‘

اسپیشل فیچر

تحریر : خاورنیازی


برازیل میں بولیویا کی سرحد کے مشرقی جانب ریاست رونڈونیا کے علاقے تنارو میں صدیوں سے نسل در نسل آباد قبائل آباد چلے آرہے تھے۔ان قبائل کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ دنیا کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی انہوں نے اپنے طور طریقوں سے نہ تو سمجھوتا کیا اور نہ ہی باقی دنیا کے ساتھ اپنا میل جول رکھا۔ برازیل میں مقامی لوگوں کے بنیادی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم '' سروائیول انٹرنیشنل ‘‘ کے مطابق برازیل میں اس طرح کے مقامی قبائل کی تعداد لگ بھگ 240 کے قریب ہے۔ اس تنظیم نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا ہے کہ ان قبائل کی بقا کو مختلف مافیاز ، جن میں کسان ،کان کن اور درخت کاٹنے والے شامل ہیں ، سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ کیونکہ برازیل کے جنگلات کے آس پاس ہزاروں ایکڑ زمین جو بنیادی طور پر ان قبائل کی ملکیت ہوا کرتی تھی اور وہ صدیوں سے یہاں آباد چلے آ رہے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان مافیازکا نشانہ بنتے بنتے یہ قبائل اب معدوم ہو چکے ہیں۔اگرچہ یہاں اس مافیا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ برازیل کا قانون اور آئین ہے جو مقامی افراد کو اپنی روائتی زمین پر زندہ رہنے کا پورا پورا حق دیتے ہیں لیکن یہاں پر یہ حقیقت اب کوئی راز نہیں رہا کہ یہاں کا طاقت ور طبقہ ان لوگوں کوقتل کر کے ان کی زمینوں پر قابض ہونا چاہتا ہے ۔چنانچہ اس مافیا کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ برازیل کے مقامی لوگوں کی طرف سے بنائی گئی ایک تنظیم '' فونائی ‘‘ ہے جس کا کام مقامی لوگوں کی حفاظت اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اگرچہ ان میں سے بیشتر قبائل ان مافیاز کی ہوس کا نشانہ بن چکے ہیں یا ان طاقتور گروپوں کے خوف سے کہیں روپوش ہو گئے ہیں تاہم زندہ بچ جانے والے ان قبائلی گروہوں میں ایک ریاست رونڈونیا کے علاقے تنارو کا قبیلہ تھا جو برازیل کے جنگلات کے آس پاس سب سے زرخیز علاقے میں صدیوں سے آباد چلا آرہا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کے باسیوں پر مقامی لوگ حملہ آور ہوتے رہے۔حتی کہ ستر کی دہائی میں جب اس علاقے میں ایک سڑک گزاری گئی تو اس کے بعد اس مختصر سے قبیلے کے لوگوں کی جان مزید خطرات میں گھر گئی۔ جبکہ اس وقت تک کسانوں اور غیر قانونی لکڑیاں کاٹنے والوں کے ہاتھوں اس گروہ کے زیادہ تر لوگوں کو قتل کر دیا گیا تھا ۔اور اب اس قبیلہ کے بچ جانے والے لوگوں کی تعدا صرف سات رہ گئی تھی۔
1995ء میں دولت کے ان پجاریوں کے ہاتھوں اس خاندان کے چھ افراد کے قتل کے بعد اب فقط ایک شخص ہی زندہ بچ گیاتھا۔جس کے بارے مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کہیں گھنے جنگل میں یا روائتی طور پر جانوروں کا شکار کرنے کے لئے کھودے گئے گڑھوں میں چھپ گیا ہو گا۔ یہاں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں سے میل جیل نہ رکھنے کے سبب نہ تو اس قبیلے کا نام آج تک کوئی جان سکا ہے اور نہ ہی ان لوگوں میں سے کسی کا نام۔چنانچہ اس دن کے بعد میڈیا اس تنہا رہ جانے والے شخص کو '' دنیاکا تنہا ترین انسان ‘‘ کے لقب سے یاد کرتا ہے۔
چنانچہ برازیل کے مقامی لوگوں کی بقا کے لئے بنائی گئی تنظیم ''فونائی ‘‘نے اس تنہا رہ جانے والے شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لئے 1996ء سے ہی اس پر نظر رکھی ہوئی تھی۔جہاں تک تنظیم کا اس گروہ کے لوگوں سے رابطے کا تعلق ہے تو اس بارے ان کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنا ان تنہائی پسند لوگوں کی بقا کے لئے خطرناک بھی ہو سکتا تھا کیونکہ ان لوگوں میں جدید انسانوں کے جراثیم کے خلاف قوت مدافعت نہیں ہوتی اور یہ بڑی آسانی سے زکام اور دیگر وائرل امراض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔دنیا کا یہ تنہا ترین شخص اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب2018 ء میں مقامی قبائلیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم نے ایک خفیہ کیمرے کی مدد سے اس شخص کی ایک مختصر ترین وڈیو بنائی تھی۔ جس میں اس شخص کو ریاست رونڈونیا میں واقع ایمیزون کے جنگل میں کلہاڑی کی مدد سے لکڑیاں کاٹتے دیکھا گیا تھا۔ ویڈیو بنانے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کا مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ '' تنہا شخص ‘‘ زندہ ہے اور اس علاقے میں کسی کو نہ جانے دیا جائے۔ جبکہ اس سے پہلے کچھ قبضہ کرنے والے گروہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس علاقے میں اب کوئی قبائلی نہیں رہا۔
اس سے پہلے 2005ء میں اس شخص کی ایک دھندلی سی تصویراس کی بنائی ہوئی جھونپڑیاں ، تیر اور کلہاڑوں کی کچھ تصاویر منظر عام پر آچکی تھیں تاہم یہ مختصر سی ویڈیو پہلی بار منظر عام پرآئی تھی۔جبکہ بعض مقامی افراد کے مطابق کچھ ہی عرصہ بعد اس شخص نے اس جھونپڑی کو چھوڑ کر بہت سارے گڑھے کھود رکھے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حملہ آوروں کے خوف سے اس نے ان گڑھوں میں پناہ لینا شروع کر دی ہو گی جبکہ کچھ لوگوں کا خیال یہ بھی تھا کہ ایسے گڑھے عموما ً قبائلی جانوروں کا شکار کرنے کے لئے کھودتے ہیں۔ تاہم اس ویڈیو کے بعد انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں نے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ یہ شخص زندہ اور صحت مند دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ '' سروائیول انٹرنیشنل‘‘ نامی تنظیم کی فیونا واٹسن کہتی ہیں کہ اس شخص نے بہت ہی تکلیف دہ ادوار دیکھے ہیں اور یقینااس کا نقطۂ نظر یہ ہو گا کہ یہ دنیا ایک خطرناک جگہ ہے۔ گزشتہ سال اگست میں برازیل کی حکومت نے ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق ''ایمیزون کے جنگلوں میںایک قبیلے کا تنہا رہنے والا 60 سالہ ایک آخری شخص جس کا آج تک جدید دنیا کے کسی شخص سے کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔اس شخص کی لاش 23 اگست 2022ء کو بھوسے کے ایک جھونپڑے کے باہر ایک جھولے میں ملی ہے۔اس کے جسم پر کسی قسم کے تشدد کے کوئی نشان نہیں ملے۔تاہم پولیس بھی اسکا پوسٹ مارٹم کرے گی لیکن ظاہری طور پر اس کی موت کو قدرتی کہا جاسکتا ہے۔اس شخص کو ''مین آف دا ہول ‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ اس نے گڑھے کھود رکھے تھے جن میں سے کچھ میں وہ جانوروں کو پھنساتا اور انکا شکار کرتا تھا جبکہ بظاہر کچھ اس نے اپنے چھپنے کے لئے بنا رکھے تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
خبردار! دنیا ’’مائیکرو پلاسٹک ‘‘ کے نشانے پر

خبردار! دنیا ’’مائیکرو پلاسٹک ‘‘ کے نشانے پر

آج سے لگ بھگ 120 سال قبل عالمی سائنسدانوں نے پلاسٹک کی ایجاد کے اعلان کے دوران اسے انسانی زندگیوں کیلئے ''رحمت‘‘ قرار دیتے وقت شاید یہ سوچا بھی نہ ہو گا کہ ایک دن اپنے اس دعویٰ کی نفی کرتے ہوئے انہیں چیخ چیخ کر دنیا کو اس کے استعمال سے مکمل طور پر اجتناب برتنے کی تلقین کرنا پڑے گی۔ ماہرین پلاسٹک کے استعمال کو اب برملا زہر قاتل قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پلاسٹک کا استعمال انسانی آنتوں، پھیپھڑوں، جگر اور دماغ کے خلیات میں زہریلے پن کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ یہ پینے کے پانی کی آلودگی کا باعث بھی بن رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ سمندری مخلوق، جنگلی مخلوق اور حیاتیاتی تنوع کیلئے بھی نقصان کا باعث بن رہا ہے۔جہاں تک پلاسٹک کے استعمال کا تعلق ہے ویسے تو انسان ہزاروں سالوں سے اسے استعمال کرتا آرہا ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ گئے زمانوں میں اس کا استعمال انتہائی محدود ہوا کرتا تھا اور تب پلاسٹک کی ہیئت آج سے یکسر مختلف تھی۔ اس کی بنیادی شکل ''شلیک‘‘ کی صورت میں ہوا کرتی تھی جو بنیادی طور پر ''لیک‘‘ کیڑوں کی ٹپکتی رال سے بنتی تھی۔ پلاسٹک کی جدید شکل بیسویں صدی کی ایجاد ہے جو 1907ء میں مصنوعی طریقے سے ایجاد کیا گیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق آج سے پچاس سال پہلے کے مقابلے میں پلاسٹک کا استعمال کئی گنا بڑھ چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ آج بین الاقوامی سمندروں، دریاؤں، پہاڑوں اور ندی نالوں سمیت ہمارے ارد گرد کے ماحول میں پلاسٹک کی موجودگی خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سمندروں میں ہر سال 9 ملین ٹن سے زائد پلاسٹک کچرے کی صورت میں سمندروں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں اصل المیہ یہ ہے کہ پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیاء کی طرح پلاسٹک وقت کے ساتھ گل سڑ کر زمین اور فطرت کا حصہ نہیں بنتا بلکہ اس کی مادی ہیئت صدیوں تک بھی قائم رہ سکتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم بھی ہو جاتا ہے اور یہی ٹکڑے بعد میں زمینی اور سمندری علاقوں میں پھیل جانے کے ساتھ ساتھ فضا میں بھی پہنچ جاتے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے انسانی خوراک تک بھی رسائی کر لیتے ہیں۔ اب سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ کرہ ارض پر ہوا اور پانی میں مائیکرو پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانی زندگیوں کیلئے خطرے کی وہ گھنٹی ہے جسے اگر سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ناقابل تلافی نقصان سے ہمیں کوئی نہ بچا سکے گا۔مائیکرو پلاسٹک اور نینو پلاسٹک ہیں کیا؟مائیکرو پلاسٹک بنیادی طور پر انتہائی چھوٹے سائز کے وہ ٹکڑے ہیں جو پلاسٹک سے بنی اشیاء کو تلف کرنے کے دوران ہوا میں یا بعد ازاں پانی یا مٹی میں شامل جاتے ہیں۔ پلاسٹک کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرات انتہائی زہریلے کیمیکل پر مشتمل ہوتے ہیں جو سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر اندرونی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں سائنس دانوں کو پتہ چلا ہے کہ ان پلاسٹک ذرات کا سائز پانچ ملی میٹر تک نوٹ کیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات جنہیں ''مائیکرو پلاسٹک‘‘ کا نام دیا گیا ہے کرہ ارض میں چاروں طرف سرایت کر چکے ہیں۔ وہ بحرمنجمد شمالی کی سمندری برف میں ہیں۔ سمندر کی گہری کھائیوں میں رہنے والے سمندری جانوروں کی آنتوں کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی میں رچ بس چکے ہیں۔پلاسٹک کے یہ ذرات ہمارے ماحول میں موجود ہر شے میں شامل ہو چکے ہیں۔ اور تو اور یہ ہماری روزمرہ غذا میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ ماہرین ایک عرصہ سے اس خدشے کا اظہار کرتے آ رہے ہیں کہ دنیا مائیکرو پلاسٹک کے پھیلاؤ سے پریشان ہے جبکہ ہمیں احساس ہی نہیں کہ مائیکرو پلاسٹک سے کہیں زیادہ خطرہ انسانوں کو ''نینو پلاسٹک‘‘ سے ہے۔ نینو پلاسٹک بنیادی طور پر پلاسٹک کے بادی النظر میں نظر نہ آنے والے وہ چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں جو خوردبین کے ذریعے ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔نینو پلاسٹک ذرات عام طور پر ایک مائیکرو میٹر تک ہو سکتے ہیں۔ نینو پلاسٹک اس لئے بھی خطرناک اور مضر ہیں کہ وہ مائیکرو پلاسٹک کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے پھیلتے ہیں اور یہ وہاں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں مائیکرو پلاسٹک ذرات نہیں پہنچ پاتے۔ساؤتھمپٹن یونیورسٹی کے ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر میلکم ہڈسن کہتے ہیں ''نینو پلاسٹک ذرات انتہائی چھوٹے چھوٹے ٹائم بموں کی طرح خطرناک ہیں جو دوران خون اور دیگر نظاموں کے ذریعے جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچ کر وہاں جمع ہو سکتے ہیں‘‘۔مائیکرو پلاسٹک صحت کیلئے کتنا نقصاندہ؟ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پلاسٹک کی تیاری کے دوران شامل کیمیکل، انسانی جسم کے اینڈو کرائن سسٹم اور ہارمونز کو متاثر کر سکتے ہیں جو انسانی نشوؤنما کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پلاسٹک میں پائے جانے والے کیمیکلز، کینسر، دل کی بیماریوں اور جنین کی نشوؤنما کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق مائیکرو پلاسٹک کی زیادتی انسانی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ''ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ انٹرنیشنل‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں عالمی برادری کو متنبہ کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ جدید دور میں انسان نے اپنے طرز زندگی کو جس طرح ڈھال رکھا ہے، اسے اس امر کا قطعی احساس نہیں ہے کہ وہ ہر روز ایک معقول مقدار میں پلاسٹک کھا پی رہے ہیں۔ یوں قطرہ قطرہ دریا کے مصداق اگر روزانہ کے حساب سے استعمال کئے جانے والے پلاسٹک کو جمع کیا جائے تو ایک عام آدمی کی زندگی میں اس کے جسم میں جمع ہونے والے پلاسٹک کا فی کس اوسط وزن 20 کلوگرام بنتا ہے۔ جو متعدد بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے یونیورسٹی آف ہل اور یل یارک میڈیکل سکول کے محققین کو ایک تحقیق کے دوران پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات ملے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ انسانی جسم کے اس عضو میں مائیکرو پلاسٹک کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ اس تحقیق کے 13 نمونوں میں سے 11میں 39 مائیکرو پلاسٹک کے ذرات پائے گئے ہیں۔اب کرنا کیا ہو گا؟دنیا بھر میںپلاسٹک کے استعمال کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب تو یورپی یونین نے بھی اس کا استعمال محدود کرنے کیلئے باقاعدہ طور پر ایک منصوبہ متعارف کرایا ہے۔ جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صرف کمپنیوں کو ہی نہیں بلکہ صارفین کو بھی اس مسئلہ کے حل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگے آنا ہو گا۔یورپی یونین نے اس نئے ضابطے کے تحت پلاسٹک کے کریئر بیگ کو مرحلہ وار 80فیصد تک کم کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ پلاسٹک کے تھیلوں کی بجائے کپڑے اور کاغذ کے بار بار استعمال ہونے والے تھیلوں کی حوصلہ افزائی کی تجویز رکھی گئی ہے۔پلاسٹک کے ایک بار استعمال ہونے والے شاپر عام طور پر سو فیصد کیمیائی مادے پولیتھین سے بنے ہوتے ہیں جسے معدنی تیل سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ بیگ ماحول کیلئے یوں ضرر رساں ہیں کہ یہ چار سو سے پانچ سو سال تک بمشکل تلف ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کی جگہ کئی بار استعمال ہونے والے بیگوں کو رواج دینا ہو گا کیونکہ یہ بیگ ماحول دوست ہوتے ہیں۔دنیا بھر میں یورپی یونین کی ان تجاویز کو سراہا گیا جس کے تناظر میں دنیا بھر کی ماحول دوست تنظیموں نے بھی عالمی برادری سے پلاسٹک کے استعمال میں احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔   

کشمیر میں منایا جانے والا مشہورتہوار شہشرترائو

کشمیر میں منایا جانے والا مشہورتہوار شہشرترائو

دنیا بھر میں علاقائی رسم و رواج اور ثقافت ایک خاص مقام رکھتے ہے۔ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے اپنی روایات اور رسم و رواج کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ گزرنے وقت کے ساتھ یہ رسومات تہواروں کادرجہ حاصل کرچکی ہیں اور کئی صدیوں سے نسل در نسل ان تہواروں کو بدلتے وقت کے ساتھ منایا جاتا آ رہا ہے۔ دور قدیم سے دور جدید تک منائے جانے والے یہ تہوار اپنی بنیادی اساس کو قائم رکھے ہوئے مگر وقت میں جدت آنے کے ساتھ ساتھ ان کے طریقہ کار میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں دہائیوں سے سردیوں کے اختتام اور بہار کے شروع ہونے پر جوتے پھینکنے کی رسم ایک تہوار کے طورپر منائی جاتی ہے۔ اس تہوار کو مقامی زبان میں شہشر ترائو تہوار کہا جاتا ہے۔ یہ تہوار مارچ کے دوسرے ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کا مقصد گائوں کے لوگوں کی جانب سے سردیوں کی مشکلات سے نکلنے اور بہار میں آنے کی خوشی میں منانا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں موسم سرما کسی آفت سے کم نہیں ہوتاخاص طور ان علاقوں میں جہاں برف باری ہوتی ہے۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس تہور کو منانے والوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے لیکن اب بھی کشمیر کے بہت سے علاقوں میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔شہشر تراؤ تہوار کے آغاز میں گاؤں کے لڑکے اکٹھے ہو کر ایک رسی کے ساتھ کچھ پرانے جوتے باندھتے ہیں، ان جوتوں کو لے کر وہ ہر گھر میں جاتے ہیں اور گھر کے سامنے جا کر یہ نعرے لگاتے ہیں۔''شہشر شہشر تراؤ آ، نئی بھاند آؤو آ‘‘ یعنی ''سردیاں بھاگ گئیں، بہار آ گئی‘‘گھر میں موجود خواتین یا مرد باہر آ کر ان سے پوچھتے ہیں تو یہ لڑکے پھول دے کر موسم بہار کی آمد کی خبر سناتے ہیں۔ جس کے بعد گھر والے ایک پرانا جوتا ان کے پاس موجود جوتوں کے ساتھ باندھ کر سردی کی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں اور بہار کی آمد کی خوشی میں کھانے کی اشیا مثلاً چاول، چینی، گھی، مصالحہ اور چائے کی پتی وغیرہ ان کو دیتے ہیں۔ جس کے بعد یہ نوجوان نعرے لگاتے ہوئے اگلے گھر کا رخ کرتے ہیں اور یہ سلسلہ گاؤں کے آخری گھر تک جاری رہتا ہے۔ گاؤں کے گھروں سے سامان دیتے ہوئے خواتین یہ بات ضرور یاد کرواتی ہیں کہ اس شہشر کو کسی خشک جگہ رکھنا ہے کیونکہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر شہشر کو کسی ایسی جگہ پھینک دیا جہاں بارش ہو یا اس کو پانی لگ گیا تو بہار میں بھی بارشوں کا سلسلہ نہیں رکے گا، لیکن اگر یہ جوتے کسی خشک جگہ رکھے جائیں گے تو موسم بہار میں بارشیں کم ہوں گی اور موسم خوشگوار رہے گا۔ گاؤں میں ایک ایسی جگہ شہشر رکھنے کیلئے مخصوص ہوتی ہے جہاں بارش کا پانی نہ داخل ہو سکے۔ گاؤں سے جمع ہونے والے جوتوں کو شہشر مورا میں رکھا جاتا ہے اور شہشر مورا میں جوتے پھینکنے کے بعد لوگ خوشی مناتے ہیں کہ ہم نے سردیوں کا بھگا دیا ہے، اب بہار میں آسانیاں ہیں۔اس تہوار میں حصہ لینے والے والے لوگ جب تمام گاؤں کے گھروں میں گھوم رہے ہوتے ہیں تو اگر کسی گھر سے اشیا یا نقدی نہ ملے تو پھر سب مل کر اس کو بدعا دینے کیلئے نعرہ لگاتے ہیں '' نیلا تاگہ پیلا پٹ، جیڑا کج نا دیوے اس دا جہگا پٹ‘‘ یعنی ''کچھ نہ دینے والے کا ککھ بھی نہ رہے‘‘۔لیکن یہ سب کچھ تفریح کیلئے کیا جاتا ہے، کوئی بھی شخص اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ پورا گاؤں اس تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔جوتے پھینک کر واپس آنے کے بعد سارا سامان اکٹھا کرکے اس کو پکانے کے کام شروع ہوجاتا ہے جبکہ شہشر میں حصہ لینے والے نوجوانوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ ہوتا ہے، اس دوڑ میں پہلے نمبر پر آنے والے کو شہشر کا باپ اور آخری آنے والے کو شہشر کی ماں بنا دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ان نوجوانوں کو پورا سال شہشر کی ماں اور شہشر کا باپ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے۔کچھ لوگ اس تہوار کی مخالفت کرتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہندوانہ تہوار ہے، اس کو منانا گناہ ہے، لہٰذا اس کو ختم ہونا چاہیے، لیکن مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ تہوار ہمارے باپ دادا مناتے رہے ہیں، یہ ایک خوشی کا تہوار ہے اور اس سے مذہب کو کوئی خطرہ نہ ہے۔وادی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم جوتے پھینک کر سردی کو بھگاتے ہیں اور پھول دے کر بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

طنزومزاح:ضمیر نامہ

طنزومزاح:ضمیر نامہ

وطن عزیز میں ان دنوں سوتے، جاگتے اور اونگھتے ہوئے ضمیروں کے خوب چرچے ہیں۔ ضمیر سے مراد باطن، قلب، اخلاقی آگاہی اور خیر و شر میں تمیز کرنے کی حس ہے۔ انگریز لوگ اسے conscience کہتے ہیں۔ ہر شخص کے اندر ایک عدد ضمیر ہوتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے۔ جی چاہا تو جا گ لیا، جی چاہا تو سویا رہِا۔ قوم کے ہر فرد کا ضمیر اپنے تئیں بیدار اور زندہ ہوتا ہے مگر باقی سب لوگ مردہ یا خوابیدہ ضمیر ہوا کرتے ہیں۔گویا حق و باطل کی مثل آئینہ ضمیری اور ضمیر فراموشی بھی اپنی اپنی مرضیوں کے عین مطابق ہے۔ مخالفین اور حریفوں کے ضمیر ہمیشہ سوئے رہتے ہیں جبکہ اپنے اور اپنے ہم فکروں کے ضمیر صدا بیدار اور چاک و چوبند رہتے ہیں۔ جب کبھی ہم معتوب ہوں تو پوری قوم کے ضمیر سوئے ملتے ہیں اور شاعر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے!ضمیرِ قوم پر آہستہ بولوابھی ٹُک ڈرتے ڈرتے سو گیا ہےہمارے دیس کے ہر گھر میں ناصرضمیر اب لمبی تانے سو رہے ہیںادھر گرائمر کی رو سے ضمیر ایسا کلمہ ہے جو کسی اسم کی جگہ برتا جاتا ہے۔ سو اس لحاظ سے ہم سب ہی ضمیر ہوئے کیونکہ یہاں ہر نفس اپنا کام چھوڑے دوسرے کے کام میں پڑا ہے۔ ضمیر کی ایک قسم ''ضمیرِِ شخصی‘‘ ہے جس میں مخاطب، مخاطَب اور غائب پائے جاتے ہیں۔ سبھی کا ماننا ہے کہ مخاطِب اور مخاطَب آمنے سامنے ہونے کی وجہ سے باضمیر اور غائب اپنی غیر موجودگی کے موجب بے ضمیر ٹھہرتا ہے۔ کچھ لوگ اتنے مردہ ضمیر ہوتے ہیں کہ ان کا ضمیر بڑی بڑی کارروائیوں سے بھی نہیں جاگتا، بقول شاعر!خوابیدہ ضمیروں پہ ہوا شور قیامتخدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہےوہ کب بدلیں خدا جانے ضمیرو تم تو سو جائوپریشاں خَلق ساری ہے ضمیرو تم تو سو جائواس لیے سیانا بندہ اپنے ضمیر کو یہ مشورہ ضرور دیتا ہے!ہر وقت کا جاگا، تجھے بیمار نہ کر دےتنہائی کے لمحوں میں کبھی سو بھی لیا کرشعور انگشتِ بدنداں ہے کہ یہ قوم انقلاب کی داعی ہے مگر اس کا ہر بندہ اپنے فرائض سے یکسر غافل ہوکر دوسروں کی مردہ ضمیری کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے۔ جیسے دیس میں کرنے کو کوئی کام ہی نہ ہو اور ہروقت قوم کا ہر فرد مفتی، دانشور، عالم، مصلح، انجینئر اور طبیب بن کر سوشل میڈیا پر دوسروں کے ضمیر جھنجھوڑنے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔ آہ بے چارے ضمیر پر کیا گزرتی ہو گی؟

رائٹ برادرز جنہوں نے بارہ سیکنڈ میں تاریخ کا رخ بدل دیا

رائٹ برادرز جنہوں نے بارہ سیکنڈ میں تاریخ کا رخ بدل دیا

1878ء میں ایک پادری جو کسی مذہبی کام کے سبب سفر کر رہا تھا اس نے اپنے دو لڑکوں کیلئے ایک مشینی کھلونا خرید لیا۔ جب وہ گھر واپس آیا تو اس کے لڑکے اسے ملنے کی خاطر بھاگے۔ لڑکوں کو دیکھ کر اس نے کہا ''بیٹو! میں تمہارے لئے ایک چیز لایا ہوں، لو اسے کیچ کرو‘‘ اور اس نے ایک چیز ان کی طرف پھینک دی مگر اس چیز نے لڑکوں کی سمت میں جانے کے بجائے ایک ناقابل یقین بات کی، وہ چھت کی سمت اڑنے لگی اور چند لمحے پھڑ پھڑا کر فرش پر گر پڑی۔ لڑکے حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اسے پکڑنے کیلئے بھاگے۔وہ ایک اڑنے والا مشینی کھلونا تھا جو بانس اور کاغذ کا بنا ہوا تھا۔ اس کھلونے نے ان لڑکوں میں پرواز کرنے کا ایک ایسا شوق پیدا کر دیا جو ایک ایسی اڑن مشین کی ایجاد کا سبب بنا جس نے ہم سب کی زندگیوں پر گہرا اثر کیا ہے۔ ہزاروں برس پہلے بارود کی ایجاد کے سوا کسی دوسری ایجاد نے انسانی معاشرت کو اس قدر تبدیل نہیں کیا۔ان لڑکوں کا نام ولبررائٹ اور اورول رائٹ تھا۔وہ لڑکے اس اڑن کھلونے سے اتنی دیر تک کھیلتے رہے جب تک کہ وہ ٹوٹ نہ گیا۔ چونکہ ان کے پاس دوسرا کھلونا خریدنے کیلئے پیسے نہ تھے لہٰذا انہوں نے خود ہی اس قسم کا کھلونا بنا لیا۔ بعد میں انہوں نے پتنگیں۔ اس وقت سے رائٹ برادران کے دل میں اڑنے کی خواہش کروٹیں لینے لگی۔ایک دن اخبار میں انہوں نے برلن کے ایک انجینئر اوٹولینن تھال کی خبر پڑھی جو پرواز کرنے کی کوشش میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس خبر نے انہیں بے حد متاثر کیا۔ یہ شخص یعنی تھال کئی برس سے اپنے دونوں شانوں سے بڑے بڑے پر باندھ کر ایک پہاڑی سے نیچے کی جانب اڑا کرتا تھا ۔یہ خبر ان بھائیوں کی زندگی میں کایا پلٹ ثابت ہوئی۔ کیونکہ لینن تھال نے ثابت کر دیا تھا کہ ایک عقاب کی طرح انسان ہوا کے دوش پر اڑ سکتا ہے۔ ولبر رائٹ اور اورول رائٹ کو ایک ایسا خیال سوجھ گیا تھا جو جلد ہی ان کی زندگی کی قوت متحرکہ بن گیا۔ انہوں نے واشنگٹن میں سمتھ سونٹن ادارے کو خط لکھا اور اس سے ان تمام مضامین کی فہرست منگوالی جو انسانی پرواز کے بارے میں لکھے گئے تھے‘‘۔چار برس کے مطالعے کے بعد انہوں نے دھات کا ایک پتنگ نما صندوق بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کبھی کوئی ایسی مشین بنانے کا خواب نہ دیکھا تھا جو زبان و مکان کے تصور اور دنیا کے جغرافیے میں انقلاب بپا کر دے گی۔ لیکن ان کی ایجاد نے ہو بہو یہی کچھ کیا کیونکہ ہوائی جہاز کے ذریعے اب ہم دنیا کے دوسرے کنارے تک فقط ساٹھ گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں۔کیا رائٹ برادران خود کو سائنس دان یا موجد تصور کرتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے فالتو وقت کیلئے کوئی نہ کوئی مشغلہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ہوا میں پرواز کرنے کامشغلہ اپنا رکھا تھا۔ چونکہ انہیں اپنی روزی بھی خود ہی کمانی تھی۔ لہٰذا انہوں نے ڈے ٹون (اوہیو) میں سائیکلوں کی فروخت اور مرمت کی ایک دکان کھول رکھی تھی۔ رات کے وقت دکان بند کرنے کے بعد وہ ہوا میں پرواز کرنے کے تجربے میں مصروف ہو جاتے۔ ان کے پہلے پتنگ نما صندوق پر تین پونڈ صرف ہوئے۔ اس کے اوپر دو بازو تھے جو ایک دوسرے کے اوپر تھے۔ اس کا کوئی جسم اور کوئی دم نہ تھی اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا انجن تھا۔رائٹ برادران نے اس پتنگ نما صندوق میں اڑنے کی کوشش کی ۔ انہیں موسمیات کے دفتر سے پتہ چل گیا کہ شمالی کیلی فورنیا میں کل ڈیول ہل جگہ اڑنے کیلئے بہترین ثابت ہوگی۔ وہاں پر وقت سمندر کی سمت سے تیز ہوا چلتی رہتی ہے اور ساحل کی ریت بھی بہت نرم ہے۔ پہاڑی پر سے جب وہ اپنے پتنگ نما صندوق میں بیٹھ کر نیچے آئے تو انہیں کوئی حادثہ پیش نہ آیامگر وہ چند سکنڈ سے زیادہ ہوا میں نہ ٹھہر سکے۔ اگلے برس انہوں نے پہلے کی نسبت بہتر اور بڑا صندوق بنایا۔ اس مرتبہ بھی نتائج کچھ حوصلہ افزا نہ تھے۔ ممکن ہے آج ہوائی جہاز ایجاد نہ ہوا ہوتا اگر ایک انجینئر ان کی حوصلہ افزائی نہ کرتا۔ اس انجینئر کا نام اکٹیوچنیوٹ تھا اور اس نے اڑن مشینوں میں ترقی نامی ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کتاب نے اسے ہوائی پرواز پر ایک اتھارٹی بنا دیا تھا۔ رائٹ برادران کی پرواز کے وقت وہ بھی وہاں موجود تھا۔ انہوں نے دوری کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور وہ دنیا کے دو کامیاب ترین پرواز کرنے والے تھے۔انہوں نے لکڑی کا اٹھارہ انچ لمبا ایک صندوق لیا اور اس کا منہ دو طرف سے کھول دیا اور اس کے ایک سرے پر ہوا پیدا کرنے کیلئے ایک مشینی پنکھا لگا دیا۔ اس کے صندوق کے منہ پر شیشہ چسپاں کر دیا۔ تاکہ وہ اندر جھانک کر یہ معلوم کر سکے کہ ہوا میں اس چھوٹے سے ہوائی جہاز کے مختلف سائز کے پروں پر کیا اثر کرتی ہے۔ یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ وہ دنیا کی پہلی ہوائی سرنگ بنا رہا ہے اور سائیکل بنانے والا ہر شخص کبھی یہ تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ ہوا کے دبائو کے متعلق نامور سائنسدانوں کے جمع کئے ہوئے اعداد و شمار اور نقشوں کو وہ غلط ثابت کر دے گا۔ آرویل رائٹ نے ان ہوائی سرنگوں سے جو علم حاصل کیا اس کی عدم موجودگی میں نہ تو رائٹ برادران اور نہ ہی دنیا کا کوئی دوسرا شخص ہوائی جہاز بنا کر اڑا سکتا۔رائٹ برادران نے اپنے آخری پتنگ نما صندوق میں بیٹھ کر سینکڑوں کامیاب پروازیں کیں لیکن انہیں اپنے اس اڑن صندوق کیلئے ہر جگہ مناسب ہوا نہ ملتی تھی۔ عموماً ہوا یا تو ہلکی یا پھر زیادہ تیز اور تھپیڑے دار ہوتی۔ آخر تنگ آکر انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے پرواز کے متعلق انسانی جدوجہد کی تاریخ میں انقلاب پیدا کردیا۔ وہ یہ فیصلہ تھا انہوں نے اپنی ہوا بنانے کا فیصلہ کیا کس طرح؟ انہوں نے اپنے جہاز میں پٹرول سے چلنے والا انجن نصب کرنے اور برقی اتاروں کے ذریعے اسے جہاز کے پنکھوں کے ساتھ جوڑنے سے چونکہ کوئی مینوفیکچرز اتنے ہلکے وزن کے انجن نہ بناتاتھا لہٰذا انہوں نے خود ہی رات کے وقفے میں اپنی دکان کے اندر ایسا انجن تیار کیا اس ساری مشینیں اور انجن پر اس کا خرچ 14پونڈ سے کم آیا۔ دس بج کر پینتیس منٹ پر آرویل رائٹ پیٹ کے بل رینگ کر اپنے گرجتے ہوئے طیارے میں سوار ہو گیا پھر اس نے سوئچ آن کر دیا۔ عجیب و غریب مشین کے دہانے میں سے باہر کی سمت شعلے لپکنے لگے۔ ناممکن بات ممکنات میں داخل ہو گئی تھی۔ ہوا سے بھاری مشین واقعی ہوا میں اڑنے لگی اور اس نے 130فٹ کا فاصلہ طے کیا۔ انسانی تاریخ میں وہ نہایت اہم اور پرمعنی واقعہ تھا۔ اس کے باوجود آرویل رائٹ نے تسلیم کیا ہے کہ اس واقعہ نے اس کے جذبات میں کسی قسم کی ہلچل نہ پیدا کی تھی وہ جانتا تھا کہ یہ عجیب و غریب چیز پرواز کرے گیاور ایسا ہو گیا۔آرویل اور ولبررائٹ کی پہلی پرواز فقط دس سیکنڈ کی تھی لیکن وہ بارہ سیکنڈ آج بھی انسانی تاریخ میں گونج رہے ہیں۔ آخر صدیوں پرانا خواب حقیقت میں بدل گیا تھا۔ آخر انسان زمین کی زنجیریں توڑ کر ستاروں کی طرف پرواز کرنے لگا تھا۔رائٹ برادران نے اپنے آخری پتنگ نما صندوق میں بیٹھ کر سینکڑوں کامیاب پروازیں کیں لیکن انہیں اپنے اس اڑن صندوق کے لئے ہر جگہ مناسب ہوا نہ ملتی تھی۔ عموماً ہوا یا تو ہلکی یا پھر زیادہ تیز اور تھپیڑے دار ہوتی۔ آخر تنگ آکر انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے پرواز کے متعلق انسانی جدوجہد کی تاریخ میں انقلاب پیدا کردیا۔ وہ یہ فیصلہ تھا انہوں نے اپنی ہوا بنانے کا فیصلہ کیا کس طرح؟ انہوں نے اپنے جہاز میں پٹرول سے چلنے والا انجن نصب کرنے اور برقی اتاروں کے ذریعے اسے جہاز کے پنکھوں کے ساتھ جوڑنے سے چونکہ کوئی مینوفیکچرز اتنے ہلکے وزن کے انجن نہ بناتاتھا لہٰذا انہوں نے خود ہی رات کے وقفے میں اپنی دکان کے اندر ایسا انجن تیار کیا اس ساری مشینیں اور انجن پر اس کا خرچ 14پونڈ سے کم آیا۔ دس بج کر پینتیس منٹ پر آرویل رائٹ پیٹ کے بل رینگ کر اپنے گرجتے ہوئے طیارے میں سوار ہو گیا پھر اس نے سوئچ آن کر دیا۔ عجیب و غریب مشین کے دہانے میں سے باہر کی سمت شعلے لپکنے لگے۔ ناممکن بات ممکنات میں داخل ہو گئی تھی۔ ہوا سے بھاری مشین واقعی ہوا میں اڑنے لگی اور اس نے 130فٹ کا فاصلہ طے کیا۔ انسانی تاریخ میں وہ نہایت اہم اور پرمعنی واقعہ تھا۔ اس کے باوجود آرویل رائٹ نے تسلیم کیا ہے کہ اس واقعہ نے اس کے جذبات میں کسی قسم کی ہلچل نہ پیدا کی تھی وہ جانتا تھا کہ یہ عجیب و غریب چیز پرواز کرے گیاور ایسا ہو گیا۔آرویل اور ولبررائٹ کی پہلی پرواز فقط دس سیکنڈ کی تھی لیکن وہ بارہ سکنڈ آج بھی انسانی تاریخ میں گونج رہے ہیں۔ آخر صدیوں پرانا خواب حقیقت میں بدل گیا تھا۔ آخر انسان زمین کی زنجیریں توڑ کر ستاروں کی طرف پرواز کرنے لگا تھا۔

عظیم مسلم سائنسدان ابن قتیبہ :ماہر لسانیات اور لغت نویس

عظیم مسلم سائنسدان ابن قتیبہ :ماہر لسانیات اور لغت نویس

ابن قتیبہ ماہر لسانیات اور لغت نویس زیادہ اور سائنس دان کم لگتا ہے۔ ادبی روایت میں اسے بغداد کے دبستان نحوی کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ در حقیقت وہ اپنے معاصرین ابو حنیفہ الدینوری اور الجاحظ کی طرح متداولہ علوم پر گہری نظر رکھتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس لغوی اور شاعرانہ مواد کو جسے بالخصوص کوفے کے نحویوں نے جمع کیا تھا اس انداز سے مرتب کرے کہ اس میں تمام تاریخی معلومات آ جائیں تو ایسی لغت ان تمام کاروباری لوگوں بالخصوص کاتب حضرات کی ضروریات کو بھی پورا کرے جو اس زمانے میں حکومتی معاملات میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے آرزومند تھے۔ابو محمد عبداللہ بن مسلم الدینوری الجبلی المعروف ابن قتیبہ828ء کو پیدا ہوئے اور بغداد میں 884ء یا 889ء میں انتقال کر گئے۔ ان کے آبائو اجداد مرو( جس کو اب بیرم علی کہتے ہیں) سے تعلق رکھتے تھے، جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ وہ ایرانی یا ترکی النسل ہوں گے ، لیکن وہ اپنی تحریروں میں اکثر مقامات پر عربوں کے حق میں پرزور دلائل دیتے ہیں اور ایرانیوں پر ان کی فوقیت ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔لسانیات اور تاریخ پر ان کی اہم کتابوں میں سے ''کتاب الانواع‘‘ نمایاں ہے، جو فلکیاتی تاریخ کے علم کے لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ قدیم عربی ماہرین لغت و لسانیات کے بہت سے رسائل اور مقالات میں سے ''کتاب الانواع‘‘ کو بلند مقام حاصل ہے۔ ایک اعتبار سے یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ ''انواع‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ ''نوع‘‘ کی جمع ہے۔ لفظ ''نوع‘‘ خود ایک لفظ''ناء‘‘ کا اسم مصدر ہے۔ یہاں اس سے مراد کچھ ستاروں کے جھرمٹ میں سے ستاروں کا اور قمر منازل کا غروب ہونا ہے، جبکہ اس کے برعکس ایک دوسرے معنوں میں اس سے مراد شمس و نحوم کا طلوع ہونا بھی ہے۔ اس طریقے سے موسموں،اہم واقعات اور زراعتی سرگرمیوں کی تاریخیں معلوم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ طریقہ قبل از سائنسی دور میں بھی استعمال ہوتا تھا۔ ''کتاب الانواع‘‘ جیسی کتابوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اہم ترین قسم ایسی کتابوں پر مشتمل ہے، جس میں فلکی اور موسمیاتی عوامل پر عربی زبان کا دو تمام علم اور معلومات جمع کی گئی ہیں جو قدیم ذرائع مثلاً لوک داستانوں، شاعری اور ادب میں موجود تھیں۔ اس میںایسی سائنسی کتابیں شامل نہیں جو ترجمے کے ذریعے دوسری تہذیبوں مثلاً ہندوستانی یا ایرانی ذرائع سے لی گئی تھیں۔ اس قسم کی کتابوں کے بیس سے زائد مصنفین گنوائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کی بھی کتاب کا قلمی نسخہ اب موجود نہیں۔ البتہ ان میں سے چند ایک غیر اہم سے کتابوں کے کچھ حصے چھپی ہوئی حالت میں ملتے ہیں جو یہ ہیں۔(1)کتاب الازمنہ، جو قطرب (821-22ء) کی لکھی ہوئی ہے اور اسے جزوی طور پررسالے Revue de laeademie de damab،جلد دوم حصہ اول، بابت جنوری 1922ء میں مرتب کرکے شائع کرایا گیا۔(2)حکیم ابن ماسویہ (متوفی 857ء کی لکھی ہوئی ایک اور ''کتاب الازمنہ‘‘ جسے پال سباتھ نے اپنی کتاب Bulletin de institut d,egypt (جلد15بابت 1933ء ) میں شامل کیا۔ اس کا فرانسیسی ترجمہ جی ٹروپونے Arabioa(جلد 15، بابت1968ء صفحہ142-113) میں شائع کرایا۔ (3) المرزوقی ( متوفی 1030ء) کی ''کتاب الازمنہ والا کمنہ‘‘ جو 1914ء میں حیدر آباد دکن سے دو جلدوں میں شائع ہوئی۔(4)تیرہویں صدی عیسوی کے ابن الاجدابی کی ''کتاب الازمنہ والانواع‘‘ جسے عزت حسین نے ''سلسلہ احیاء التراث القدیم‘‘ میں دمشق سے 1964ء میں شائع کرایا۔ عربی ذرائع سے تیار ہونے والی کتاب کا سہرا ابو حنیفہ الدینوری (متوفی 895ء) کے سر ہے۔ یہ اپنے وقت کا بہت بڑا تاریخ دان اور ماہر لسانیات تھا۔ بدقسمتی سے اس کی مکمل کتاب کہیں بھی نہیں ملتی، سوائے اقتباسات اور عبارات کے، جو لغت کی کچھ کتابوں مثلاً ابن سیدہ(متوفی 1066ء) کی کتاب ، مخصص‘‘(مطبوعہ قاہرہ،1901ء) میں اور المرزوقی کی ''کتاب الازمنہ والا مکنہ‘‘ میں پائے جاتے ہیں۔ موخر الذکر دونوں کتابیں اس لئے بھی اہم ہیں کہ یہ مکمل طور پر اپنی اصلی حالت میں شائع شدہ ملتی ہیں۔ نواع کے موضوع پر دوسری قسم کی کتابیں ایک کیلنڈر یا جنتری کی طرز پر لکھی گئی ہیں جن میں کسانوں اور چرواہوں کے لحاظ سے اہمیت رکھنے والے ایام کو ترتیب وار دیا گیا ہے۔ اس قسم کی ایک کتاب جو 961ء کیلئے تیار کی گئی تھی، قرن وسطیٰ کے لاطینی ترجمے کی شکل میں محفوظ ہے۔چونکہ ابن قتیبہ، ابو حنیفہ الدینوری کا ہم عصر تھا جس کی کتاب کتاب''الانواع‘‘ آفاقی شہرت حاصل کر چکی تھی، اس لئے اس الزام کا فیصلہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے جو وقتاً فوقتاً ابن قتیبہ پر لگایا جاتا ہے کہ اس نے ابو حنیفہ کی کتاب میں سے اکثر یا کم و بیش اقتباسات لئے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر انواع کی ان دوسری کتابوں جو لغت اور سائنس کے موضوع پر بکھری پڑی ہیں مثلاً الصوفی کی کتاب صورالکواکب‘‘ کے اقتباسات اور عبارات کا باہم تقابل کرا کے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ابن قتیبہ کی انواع اس قسم کی دوسری تمام کتابوں سے کسی بھی لحاظ سے مختلف نہیں۔ ابن قتیبہ کی یہ کتاب جس کے مخطوطات کا کسی بھی زبان میں کبھی ترجمہ نہیں ہوا، عربی زبان میں لکھی ہوئی ملتی ہے۔ تمام معلومات جو ابن قتیبہ فراہم کرتا ہے، کسی سائنسی تحقیق کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی ان معلومات کو جمع کرنے کیلئے کوئی سائنسی طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کتاب محض یہ بتاتی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف سے قبل کے عربوں کے پاس آسمان اور ستاروں اور ان سے متعلق مظاہر (فرضی یا حقیقی) کے بارے میں عوامی ادب کی صورت میں کیا کچھ موجود ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے پہلے نصف کے بعد عربوں کے ادب پر فلکیات اور علم نجوم پر دوسری زبانوںمیں لکھی ہوئی کتابوں کے ترجمے کے ذریعے سائنسی طریقہ کار کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔  

آج کا دن

آج کا دن

بھارتی دراندازی26فروری2019ء کو بھارت نے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ کرتے ہوئے در اندازی کی اور رات کے اندھیرے میں بالاکوٹ کے ایک مقام پر جہاز کا ''پے لوڈ‘‘ پھینک کر فرار ہو گیا۔ بھارت نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کا شور مچایا۔ پاکستان نے دنیا کو اس من گھڑت سرجیکل سٹرائیک کی حقیقت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ بھارت نے ہمارے چند درختوں کو نقصان پہنچایا ہے۔27فروری کو پاکستان نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی اور اس کے دو جہاز مار گرائے۔ بھارتی ائیر فورس کا ایک پائلٹ گرفتار کیاگیا جسے جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارت کو واپس کر دیا گیا۔ دنیا کاپہلا ویب براؤزر 1991ء میں ٹم برنرز لی نے پہلا ویب براؤزر متعارف کرایا۔ ویب براؤزر ایسا سوفٹ ویئر ہوتا ہے جو انٹرنیٹ پر موجود تصاویر اور دیگر معلومات آپ تک پہنچاتا ہے۔ جو بھی معلومات انٹرنیٹ یا کسی بھی لوکل ایریا نیٹ ورک پر موجود ہوتی ہیں وہ براؤزر انٹرنیٹ سے ڈی کوڈ کرتے ہوئے آپ تک پہنچاتا ہے۔ جدید دور میںبراؤزر کی سب سے کامیاب مثال ہمیں گوگل کروم کی صورت میں نظر آتی ہے۔ سلطنت عثمانیہ کا زوال26 فروری 1925ء کو جنگ کریمیا کے بعد عثمانی سلطنت کا زوال شروع ہو ا۔ اسی زوال سے الجھتے ہوئے سلطنت نے قرضوں کی ادائیگی بند کر دی۔ قرضوں کے محصولات کی ادائیگی کیلئے سلطنت عثمانیہ نے تین بینکوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس کا نام '' رجی‘‘ رکھا گیا۔محصولات اکٹھے کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کمیٹی کو سونپی گئی۔ قیام جمہورت کے بعد اس کمیٹی کو ختم کر دیا گیا ۔لزبن میں خوفناک زلزلہ26فروری1531ء کو لزبن جو اس وقت پرتگالی سلطنت کے زیر انتظام تھا میں صبح5بجے کے قریب ایک خوفناک زلزلہ آیا۔زلزلے کی شدت کے متعلق وثوق سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس کے نتیجے میں آنے والے سونامی کی وجہ سے 30ہزار سے زائد افراد لقمۂ اجل بنے۔ اس ہولناک زلزلے کو یورپی تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔زلزے کے بعد کافی دن تک آفٹر شاکس بھی محسوس کئے جاتے رہے، آفٹر شاکس کی شدت نے کئی دن تک لوگوں کو خوف میں مبتلا کئے رکھا۔