آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


کیتھرین اوّل نے اقتدار سنبھالا
9جولائی 1762ء کو کیتھرین اوّل، جسے عام طور پر کیتھرین دی گریٹ کے نام سے جانا جاتا ہے نے اقتدار سنبھالا، کیتھرین 1762ء سے 1796ء تک روس کی مہارانی رہیں۔ کیتھرین روس کی آخری مہارانی اور سب سے زیادہ طویل حکمرانی کرنے والی خاتون تھیں۔ وہ اپنے شوہر اور پیٹر سوئم کی معزولی کے بعد اقتدار میں آئیں۔ اس کے طویل دور حکومت میں روشن خیالی کے نظریات سے متاثر ہو کر، روس نے ثقافت اور سائنس کی نشاتہ ثانیہ کا تجربہ کیا، بہت سے نئے شہر، یونیورسٹیاں اور تھیٹر قائم کیے گئے، بڑی تعداد میں یورپی تارکین وطن روس چلے گئے اور روس کو یورپ کے بہترین ممالک میں سے ایک تسلیم کیا گیا۔ یورپ کی بڑی طاقتیں روس کو اپنا ہی ایک حصہ مانتی تھیں۔

ارجنٹائن کا اعلان آزادی
9جولائی1816ء کو گانگرس آف ٹوکو من نے آزادی کا اعلان کیا جسے آج کل ارجنٹائن کی آزادی کہا جاتا ہے۔ درحقیقت، ٹوکومن میں جمع ہونے والے کانگریسیوں نے جنوبی امریکہ کے متحدہ صوبوں کی آزادی کا اعلان کیا، جو ارجنٹائن جمہوریہ کے سرکاری ناموں میں سے ایک ہے۔ آزادی کی جنگ میں متحدہ صوبوں کو کانگرس کے کسی بھی پروگرام میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی ۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد کانگرس نے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کی اور آخر کار ارجنٹائن میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔

سوینسکسنڈ کی جنگ
9جولائی 1790ء کو کوٹکا کے باہر خلیج فن لینڈ میں سویڈش بحری افواج اور روسی بحری بیڑے کے درمیان ایک بہت بڑی بحری جنگ لڑی گئی۔اس جنگ کو جنگ سوینسکسنڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں روس کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔سویڈش بحری افواج نے روسی بحری بیڑے کو ایک بتاہ کن شکست سے دوچار کیا ۔روس کو اس شکست سے شدید نقصان پہنچا اور اسی وجہ سے اس جنگ کا خاتمہ بھی ہوا۔یہ جنگ بحیرہ بالٹک میں سویڈن کی سب سے بڑی بحری فتح اور اب تک کی سب سے بڑی بحری جنگ ہے۔

میلے کی لڑائی
میلے کی لڑائی ایک معرکہ آرائی تھی جو 9 جولائی 1745ء کو آسٹریا کی جانشینی کی جنگ کے دوران، اتحادیوں اور فرانسیسیوں کے درمیان لڑی گئی۔ مئی میں فونٹینائے میں ان کی شکست کے بعد ڈیوک آف کمبرلینڈ، فلینڈرس میں اتحادی کمانڈر، برسلز کے دفاع کیلئے آسٹریا کے دباؤ میں تھا۔ وہ گینٹ کی کلیدی بندرگاہ کی بھی حفاظت کرنا چاہتا تھا جو ایک بڑا سپلائی ڈپو تھا جسے فرانسیسیوں کی مغرب میں پیش قدمی سے خطرہ تھا۔کمبرلینڈ نے برسلز کو بچانے کیلئے اپنے سب سے اہم بریگیڈکو استعمال کرتے ہوئے اتحادیوں کو بھاری نقصان پہنچایا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی یومِ صحت

عالمی یومِ صحت

تاریخ،مقاصد اور اہمیتمصروف اور تیز رفتار دورِ حاضر میں جہاں سہولیات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہیں انسانی صحت کو درپیش مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ذہنی دباؤ نے انسان کو مختلف بیماریوں نے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسے حالات میں صحت مند زندگی گزارنا نہ صرف ایک ضرورت بلکہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ صحت دراصل اللہ تعالیٰ کی ایک انمول نعمت ہے جس کی قدر انسان کو اکثر اس وقت ہوتی ہے جب وہ اس سے محروم ہونے لگتا ہے۔ہر سال 7 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن صحت کے عالمی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے، عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے مختلف ممالک میں سیمینارز، واکس، آگاہی مہمات اور طبی کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دی جا سکے۔عالمی یومِ صحت منانے کی بنیاد عالمی ادارہ صحت(WHO) کے قیام سے جڑی ہوئی ہے۔ دراصل 7 اپریل 1948ء کو عالمی ادارہ صحت کا باضابطہ قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں صحت کے معیار کو بہتر بنانا اور بیماریوں کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات کرنا تھا۔ اسی مناسبت سے 1950ء سے ہر سال 7 اپریل کو عالمی یومِ صحت کے طور پر منایا جانے لگا۔ہر سال اس دن کیلئے ایک مخصوص تھیم مقرر کیا جاتا ہے جو کسی اہم صحت کے مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر مختلف برسوں میں ذہنی صحت، ماں اور بچے کی صحت، متعدی بیماریوں، ماحولیاتی آلودگی اور یونیورسل ہیلتھ کوریج جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی گئی۔2026ء کا تھیم ''Together for health Stand with science‘‘ ہے یعنی ''صحت کیلئے اکٹھے سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں‘‘۔ ان تھیمز کا مقصد عالمی سطح پر پالیسی سازوں، طبی ماہرین اور عوام کو ایک مشترکہ مقصد کیلئے متحرک کرنا ہوتا ہے۔عالمی یومِ صحت صرف ایک رسمی دن نہیں بلکہ یہ دنیا کو درپیش صحت کے چیلنجز پر غور و فکر کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ایک طرف جدید طبی سہولیات میسر ہیں وہیں نئی بیماریاں اور وبائیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ COVID19 جیسی عالمی وبا نے صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور یہ ثابت کیا کہ صحت صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس دن کے ذریعے حکومتوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ صاف پانی، متوازن غذا، ویکسینیشن اور بنیادی طبی سہولیات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ عالمی یومِ صحت اس بات پر زور دیتا ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرہ ہوتا ہے۔پاکستان کے تناظر میں اہمیتپاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے عالمی یومِ صحت کی اہمیت دوچند ہے۔ یہاں صحت کے شعبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں وسائل کی کمی، طبی سہولیات کی غیر مساوی تقسیم اور بڑھتی ہوئی آبادی شامل ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں لوگ معمولی بیماریوں کے علاج سے بھی محروم رہتے ہیں۔ پاکستان میں متعدی بیماریوں جیسے ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور ڈینگی کے علاوہ غیر متعدی بیماریوں جیسے ذیابیطس اور دل کے امراض کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ڈینگی بخار کے پھیلاؤ نے شہری علاقوں میں صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ ہیپا ٹائٹس ایک خاموش وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔اس کے علاوہ ماں اور بچے کی صحت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ عالمی یومِ صحت کے موقع پر ان مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حل کیلئے اقدامات کرنا نہایت ضروری ہے۔ اقدامات اور چیلنجز حکومت نے صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے مختلف اقدامات کیے ہیں جیسے بنیادی صحت مراکز کا قیام، ویکسینیشن پروگرامز وغیرہ مگر ان اقدامات کے باوجود بہت سے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ صحت کے بجٹ میں کمی اور عملے کی کمی جیسے مسائل نظام کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔عالمی یومِ صحت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت صحت کے شعبے کو اوّلین ترجیح دے اور بجٹ میں اضافہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی صحت کے میدان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنا ضروری ہے۔عوامی شعور کی ضرورتصحت کے مسائل کا حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے عوامی شعور بھی ضروری ہے۔ صاف ستھرا ماحول، متوازن غذا، ورزش اور باقاعدہ طبی معائنہ صحت مند زندگی کے بنیادی عناصر ہیں۔ چہل قدمی جیسی سادہ عادت بھی انسان کو کئی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔آگاہی کے ذریعے لوگوں کو صحت کے اصولوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔عالمی یومِ صحت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کے حصول کیلئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور عوام سب مل کر ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اگر ہم آج صحت کے شعبے پر توجہ دیں گے تو کل ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں گے۔

CHATGPT

CHATGPT

تیز سیکھنے کا ذریعہ یا ذہنی سہارا؟مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹولز خصوصاً ChatGPT نے تعلیم کے میدان میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ ChatGPT طلبہ کو تیزی سے سیکھنے میں مدد دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اہم خامی بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ تحقیق جسے ScienceAlert نے رپورٹ کیا، ہمیں سیکھنے کے روایتی اور جدید طریقوں کے درمیان ایک دلچسپ تقابل فراہم کرتی ہے۔یہ تحقیق برازیل کی ریو ڈی جنیرو یونیورسٹی کے ماہر André Barcaui نے کی جس میں 120 یونیورسٹی طلبہ کو شامل کیا گیا۔ طلبہ کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو ChatGPT استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔دوسرے گروپ کو روایتی طریقوں (کتب، آرٹیکلز وغیرہ) سے تحقیق کرنے کو کہا گیا۔طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک پریزنٹیشن تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا جس کے لیے انہیں دو ہفتے کا وقت ملا۔تحقیق کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔ 45 دن بعد جب طلبہ کا اچانک ٹیسٹ لیا گیا توChatGPT استعمال کرنے والے طلبہ کا اوسط سکور10میں سے 5.75 رہا جبکہ روایتی طریقہ اپنانے والے طلبہ کا اوسط سکور 6.85 تھا۔ یہ تقریباً 11 فیصد کا فرق تھا جو ایک مکمل گریڈ کے برابر ہو سکتا ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ AI کے ذریعے سیکھنا آسان اور تیز ہے، لیکن طویل مدتی یادداشت میں کمی آ سکتی ہے۔سیکھنے کی رفتار بمقابلہ یادداشتتحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ChatGPT استعمال کرنے والے طلبہ نے کم وقت میں کام مکمل کیا۔AI گروپ نے تقریباً 3.2 گھنٹے میں جبکہ روایتی گروپ نے تقریباً 5.8 گھنٹے میں،یعنی ChatGPT نے سیکھنے کے عمل کو تیز تو بنایا مگر اس رفتار کی قیمت یادداشت کی کمزوری کی صورت میں سامنے آئی۔ ماہرین نے ChatGPT کو cognitive crutch یعنی ذہنی بیساکھی قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم معلومات حاصل کرنے کے لیے AI پر زیادہ انحصار کرتے ہیں تو ہمارا دماغ خود سے سوچنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت کم استعمال کرتا ہے،یہ تصور نیا نہیں۔ اس سے پہلے 2011ء میں Betsy Sparrowکی تحقیق نےDigital amnesia کی اصطلاح متعارف کروائی تھی جس کے مطابق انٹرنیٹ اور سرچ انجنز کے بڑھتے استعمال سے انسانی یادداشت متاثر ہو رہی ہے۔اس تحقیق کے مطابق مؤثر سیکھنے کے لیے ذہنی محنت ضروری ہے۔ جب طلبہ خود سے پڑھتے، نوٹس بناتے اور سوچتے ہیں تو معلومات دماغ میں زیادہ دیر تک محفوظ رہتی ہے لیکن ChatGPT جیسے ٹولزمعلومات کو فوری خلاصے کی صورت میں پیش کرتے ہیں،پیچیدہ موضوعات کو آسان بنا دیتے ہیں، ذہنی مشقت کو کم کر دیتے ہیں،نتیجتاً دماغ وہ ''مشقت‘‘نہیں کرتا جو مضبوط یادداشت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ روایتی طریقہ اپنانے والے طلبہ کے نتائج زیادہ یکساں تھے جبکہ ChatGPT استعمال کرنے والوں کے نتائج میں زیادہ فرق پایا گیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ AI کا استعمال ہر طالب علم کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں ہوتا۔کیا AI ٹولز نقصان دہ ہیں؟یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ AI ٹولز نقصان دہ ہیں۔ان ٹولز کے کئی فوائد ہیں جیسا کہ معلومات تک جلد رسائی،پیچیدہ موضوعات کی آسان وضاحت،وقت کی بچت،ذاتی نوعیت کی رہنمائی۔تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طلبہ مکمل طور پر AI پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔تعلیمی نظام کیلئے پیغاماس تحقیق میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے لیے ایک اہم اور واضح پیغام ہے کہ AI کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اسے ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے مثلاًطلبہ کو پہلے خود تحقیق کرنے دی جائے پھر AI سے وضاحت یا خلاصہ لیا جائے اوراسائنمنٹس میں AI کے استعمال کے واضح اصول بنائے جائیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل کی تعلیم کا انحصار Balanced learningپر ہوگا یعنیAI کی سہولت انسانی ذہنی مشقت = مؤثر سیکھنا۔ سیکھنے کے بنیادی اصول آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے پہلے تھے بلکہ AI کے دور میں ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ChatGPTایک طاقتور تعلیمی ٹول ہے جو سیکھنے کے عمل کو تیز اور آسان بناتا ہے، لیکن اگر اس پر حد سے زیادہ انحصار کیا جائے تو یہ طلبہ کی یادداشت اور تجزیاتی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔لہٰذا اصل حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ AI کو سہولت کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر۔یاد رہے کہ سیکھنے کا اصل مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے سمجھنا، یاد رکھنا اور عملی زندگی میں استعمال کرنا ہے،اور یہ کام اب بھی انسانی ذہن ہی بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

انٹرنیٹ کا معیار (RFC1) شائع ہوا7 اپریل 1969ء کو ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی (ARPA) کے تحتRFC1 جاری کیا گیا جس کا مقصد ابتدائی کمپیوٹر نیٹ ورکس کے درمیان رابطے کے اصول وضع کرنا تھا۔RFC1 ایک غیر رسمی مگر انتہائی مؤثر دستاویز تھی جس نے مستقبل کے انٹرنیٹ کے لیے بنیاد فراہم کی۔ اس میں نیٹ ورک کے مختلف اجزاکے درمیان معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار پر بحث کی گئی۔ اس وقت ARPANET کی تشکیل جاری تھی جو بعد میں انٹرنیٹ کی بنیاد بنا۔آج انٹرنیٹ جس شکل میں ہمارے سامنے ہے اس کی بنیاد انہی ابتدائی کوششوں پر رکھی گئی تھی۔ روانڈا میں نسل کشی افریقی ملک روانڈا میں نسل کشی کا آغاز 7 اپریل 1994ء کو ہوا جو 20ویں صدی کے بدترین انسانی المیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سانحے میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد محض 100 دنوں میں قتل کر دیے گئے۔ان میں زیادہ تر توتسی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔یہ نسل کشی اس وقت شروع ہوئی جب روانڈا کے صدر جووینال ہیبری مانا کا طیارہ 6 اپریل کو گر کر تباہ ہو گیااقوام متحدہ نے 2004ء میں 7 اپریل کو روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کی یاد میں ایک عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کا مقصد عالمی برادری کو یہ یاد دلانا ہے کہ نسل کشی جیسے جرائم کو روکنے کیلئے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔فرانس میں میٹرک سسٹم کا نفاذ7 اپریل 1795 کو فرانس نے باضابطہ طور پر میٹرک نظام کو اپنایا جو آج دنیا بھر میں پیمائش کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نظام ہے۔ یہ فیصلہ فرانسیسی انقلاب کے دوران کیا گیا جب فرانس میں سائنسی اور سماجی اصلاحات کی ایک لہر جاری تھی۔ میٹرک نظام نے لمبائی، وزن اور حجم کے لیے ایک سادہ اور یکساں معیار فراہم کیا جیسے میٹر، کلوگرام اور لیٹر۔یہ نظام جلد ہی دیگر یورپی ممالک اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔ آج بھی بیشتر ممالک اسی نظام کو استعمال کرتے ہیں۔ ہنری فورڈ کا انتقالہنری فورڈ جو فورڈ موٹر کمپنی کے بانی تھے 7اپریل 1947ء کو انتقال کر گئے۔ وہ جدید صنعتی دور کے اہم ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آٹوموبائل صنعت میں انقلاب برپا کیا۔ہنری فورڈ نے اسمبلی لائن کے تصور کو فروغ دیا جس کے ذریعے گاڑیوں کی تیاری تیز، سستی اور مؤثر ہو گئی۔ ان کے کاروباری ماڈل نے نہ صرف صنعتی پیداوار کو بدل دیا بلکہ مزدوروں کے حقوق اور اجرتوں کے حوالے سے بھی نئی مثالیں قائم کیں۔

بچا ہوا کھانا کب تک محفوظ!

بچا ہوا کھانا کب تک محفوظ!

فریج میں رکھی کچھ غذائیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، ماہرین کا انتباہبچا ہوا کھانا فریج میں محفوظ کرنا ایک عام معمول ہے، مگر کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ یہ کھانا کتنے عرصے تک محفوظ رہتا ہے؟ ماہرین کے مطابق ہر غذا کی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے، جس کے بعد اسے استعمال کرنا صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ان غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر محفوظ لگتی ہیں لیکن درحقیقت وہ خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ انکشاف اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خوراک کے معاملے میں معمولی سی لاپرواہی بھی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا احتیاط نہایت ضروری ہے۔ یونیورسٹی آف لیسٹر کی ماہر جراثیمیات ڈاکٹر پرائم روز فریسٹون (Dr Primrose Freestone)نے ایسے بچے ہوئے کھانوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں فریج میں رکھنا خطرناک ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق ٹھنڈے پیزا کے ساتھ ساتھ فرائیڈ رائس کے بارے میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں۔فوڈ پوائزننگ اس وقت ہوتی ہے جب ایسا کھانا کھا لیا جائے جو بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا، فنگس یا وائرس سے آلودہ ہو گیا ہو۔اگرچہ زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ فوڈ پوائزننگ خراب طریقے سے پکا ہوا کھانا یا غیر محفوظ کھانے کی تیاری کی وجہ سے ہو سکتی ہے، لیکن صحیح طریقے سے نہ رکھے گئے بچے ہوئے کھانے (Leftovers) بھی ایک اہم سبب ہیں۔اس لیے بچا ہوا کھانا محفوظ رکھنے میں احتیاط کرنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ کی صحت کو نقصان نہ پہنچے۔بچا ہوا پیزااگرچہ تازہ پیزا بے ضرر لگتا ہے، لیکن یہ کئی طریقوں سے فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق وہ خشک جڑی بوٹیاں اور مصالحے جو لوگ عموماً پیزا پر چھڑکتے ہیں، جیسے باسل، کالی مرچ اور اوریگانو، مائیکروبیل وغیرہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔جس کی وجہ انہیں غیر مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنا ہے۔ خوراک سے پیدا ہونے والے وہ جراثیم جو ان خشک جڑی بوٹیوں پر زندہ رہ سکتے ہیں، ان میں فوڈ پوائزننگ پیدا کرنے والے بیکٹیریا بھی شامل ہیں۔اگر یہ خشک جڑی بوٹیاں تازہ پیزا کی گرمی سے سٹیرلائز ہو جائیں بھی تو اگر پکانے کے بعد زیادہ دیر کمرے کے درجہ حرارت پر رہیں یا پیزا کے دیگر ٹاپنگز بھی اسی حالت میں رہیں، تو یہ ممکنہ طور پر نقصان دہ جراثیم کیلئے بہترین ماحول فراہم کر سکتی ہیں۔اس لئے بچا ہوا پیزا ڈلیوری کے دو گھنٹوں کے اندر فریج میں رکھنا ضروری ہے۔بچا ہوا چکنپکے ہوئے چکن کے بھی خراب ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں پانی اور غذائی اجزاء کی مقدار زیادہ اور تیزابیت کم ہوتی ہے، جو بیکٹیریا کی نشوؤنما کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ پکا ہوا چکن جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھ دیں۔کوشش کریں کہ یہ چکن کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ نہ رہے۔یہ فریج میں تین دن تک محفوظ رہ سکتا ہے۔بچا ہوئے چاولبچے ہوئے چاول کھانے میں فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق چاولوں میں وہ بیکٹیریا پایا جاتا ہے جو نشاستہ کھانوں کو پسند کرتا ہے اور فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتا ہے ۔اگرچہ بیکٹیریا پکانے کی گرمی سے مر جاتے ہیں مگر ان کے تولیدی ذرات (spores) زندہ رہ سکتے ہیں۔اگر چاولوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا جائے، تو یہ تولیدی ذرات تیزی سے بیکٹیریا میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔یہ چاولوں میں زہریلے مادے بھی خارج کر سکتے ہیں، جو شدید قے اور اسہال کا سبب بنتے ہیں۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق پکے ہوئے چاول صرف اسی صورت میں کھائے جا سکتے ہیں،جب انہیں پکانے کے فوراً بعد ٹھنڈا کیا جائے اور جتنا جلدی ممکن ہو فریج میں رکھ دیا جائے۔ بہتر یہی ہے کہ چاول 24 گھنٹوں کے اندر کھا لیے جائیں۔ ڈبہ بند کھانا بچے ہوئے ڈبہ بند کھانے کے معاملے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انہیں ڈھانپ کر فریج میں رکھنا ضروری ہے تاکہ ہوا میں موجود جراثیم ان پر اثر انداز نہ ہوں۔ یہ کتنے عرصے تک محفوظ رہیں گے، یہ کھانے کی نوعیت پر منحصر ہے۔زیادہ تیزابی کھانے پانچ سے سات دن تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس کی تیزابیت بیکٹیریا کی نشوؤنما کو روکتی ہے۔تاہم، کم تیزابی کھانے، جیسے گوشت، مچھلی، پھل، سبزیاں اور پاستا، صرف تین دن تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ڈاکٹر فریسٹون نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچا ہوا کھانا ٹھنڈا کھایا جا سکتا ہے۔ بس یہ یقینی بنائیں کہ پکانے کے فوراً بعد اسے جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھیں اور ایک یا دو دن کے اندر کھا لیں۔ 

کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن

کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن

اس سال یہ دن ''کھیل: پل تعمیر کرنا، رکاوٹیں توڑنا‘‘ کے موضوع سے منایا جا رہا ہےکھیل انسانی زندگی کا ایک اہم اور لازمی حصہ ہیں، جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، برداشت اور امن کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر سال 6 اپریل کو دنیا بھر میں ''کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کھیلوں کو ایک مثبت سماجی تبدیلی کے مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کھیل محض تفریح نہیں بلکہ ایک ایسی عالمی زبان ہیں جو رنگ، نسل، مذہب اور سرحدوں کی تفریق کو مٹا کر انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں اور ایک پرامن و متحد دنیا کی بنیاد رکھتی ہیں۔کھیلوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زبان، رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کو ختم کر دیتے ہیں۔ میدانِ کھیل میں سب برابر ہوتے ہیں اور کامیابی صرف محنت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی اصول معاشرے میں بھی اپنائے جائیں تو ایک پرامن اور ترقی یافتہ دنیا کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی کھیلوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کو نصاب کا حصہ بنانا طلبا کی شخصیت سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کھیل بچوں میں اعتماد، قیادت، برداشت اور ٹیم ورک جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔ یہی اوصاف مستقبل میں انہیں ایک کامیاب شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کھیل خواتین کے حقوق کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، لیکن کھیل انہیں خود اعتمادی، شناخت اور مواقع فراہم کرتے ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کی کامیابیاں نہ صرف ان کیلئے بلکہ پوری قوم کیلئے فخر کا باعث بنتی ہیں اور صنفی مساوات کے پیغام کو تقویت دیتی ہیں۔مزید برآں، کھیل نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں تو وہ جرائم، منشیات اور انتہاپسندی سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کھیل معاشرے میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر کھیل سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے کھیلوں کے مقابلے نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ یہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی سبب بنتے ہیں۔ اولمپکس اور دیگر عالمی مقابلے اس کی بہترین مثال ہیں، جہاں مختلف قومیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر امن اور دوستی کا پیغام دیتی ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے کھیلوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جنہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے کھیلوں کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات کریں، جیسے کھیلوں کے میدانوں کی فراہمی، تربیتی سہولیات اور مقابلوں کا انعقاد، تو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے۔2026ء میں ''کھیل برائے ترقی اور امن‘‘ کے عالمی دن کا مرکزی موضوع ''کھیل: پل تعمیر کرنا، رکاوٹیں توڑنا‘‘ ہوگا، جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کھیل ایک بکھرتی ہوئی دنیا میں تعلق، شمولیت اور امن کو فروغ دینے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ کھیل ایک عالمی زبان کی حیثیت رکھتے ہیں جو ثقافتی، سماجی اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ یہ سماجی تبدیلی کیلئے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ کھیل مختلف کمیونٹیز کو سرحدوں اور نسلوں کے پار جوڑتے ہیں، پسماندہ طبقات میں تنہائی کو کم کرتے ہیں، اور مکالمے، یکجہتی اور باہمی احترام کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ 2026ء کا یہ دن اس حقیقت کی توثیق کرے گا کہ کھیل لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور شمولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں، تاکہ کوئی بھی فرد پیچھے نہ رہ جائے۔کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی آلہ ہیں جو دنیا کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو محض رسمی طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر اپنائیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر ہم ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں کھیلوں کو فروغ دینا ہوگا۔ کیونکہ کھیل ہی وہ زبان ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو ختم کرتی ہے اور انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔

مصروف زندگی میں سکون پانے کا ’’گُر‘‘

مصروف زندگی میں سکون پانے کا ’’گُر‘‘

آج کا دور تیز رفتاری، مقابلہ بازی اور مسلسل مصروفیات کا دور ہے۔ انسان صبح سے شام تک کام، ذمہ داریوں اور مختلف فکروں میں الجھا رہتا ہے، جس کے باعث ذہنی دباؤ اور بے چینی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں سکون کا حصول ایک بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مصروف زندگی میں سکون کیسے حاصل کیا جائے؟ کیا واقعی ہم اپنی بھاگ دوڑ کے درمیان ذہنی اطمینان اور قلبی راحت پا سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں میں ہے، بشرطیکہ ہم اپنی ترجیحات، طرزِ زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی لائیں۔سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سکون باہر نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیسہ، بڑی نوکری یا زیادہ سہولیات ہی سکون فراہم کرتی ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سکون ایک داخلی کیفیت ہے جو اطمینان، شکرگزاری اور توازن سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنی موجودہ زندگی پر مطمئن ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے تو اسے اندرونی سکون حاصل ہو سکتا ہے۔مصروف زندگی میں سکون حاصل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ وقت کی بہتر منصوبہ بندی ہے۔ جب انسان اپنے دن کا واضح شیڈول بناتا ہے اور کاموں کو ترجیح کے مطابق ترتیب دیتا ہے تو بے ترتیبی اور ذہنی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ غیر ضروری مصروفیات سے اجتناب اور اہم کاموں پر توجہ مرکوز کرنا ذہنی سکون میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آرام کیلئے بھی وقت نکالنا ضروری ہے تاکہ ذہن اور جسم کو تازگی مل سکے۔سکون کے حصول کیلئے جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور مناسب نیند نہ صرف جسم کو تندرست رکھتے ہیں بلکہ ذہنی سکون میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ جب انسان صحت مند ہوتا ہے تو اس کی سوچ مثبت ہوتی ہے اور وہ زندگی کے مسائل کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔روحانی پہلو بھی سکون کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عبادات، ذکر و اذکار اور دعا انسان کے دل کو سکون عطا کرتے ہیں۔ جب انسان اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے تو اسے ایک ایسی داخلی طاقت حاصل ہوتی ہے جو ہر مشکل میں اس کا سہارا بنتی ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی دلوں کے سکون کا راز اللہ کے ذکر میں بتایا گیا ہے، جو ایک ابدی حقیقت ہے۔مزید برآں، مثبت سوچ اپنانا بھی سکون کیلئے نہایت ضروری ہے۔ منفی خیالات انسان کو پریشانی اور اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں، جبکہ مثبت سوچ انسان کو امید اور حوصلہ دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسائل کو مواقع کے طور پر دیکھیں اور ہر حال میں بہتری کی امید رکھیں۔سماجی تعلقات بھی انسان کی زندگی میں سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اپنے خاندان، دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ وقت گزارنا نہ صرف خوشی دیتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت، ہمدردی اور تعاون انسان کو تنہائی سے نکال کر سکون کی طرف لے جاتے ہیں۔ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک اور اہم مسئلہ مسلسل موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ یہ چیزیں وقتی طور پر تو تفریح فراہم کرتی ہیں، مگر زیادہ استعمال ذہنی تھکن اور بے سکونی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں اور حقیقی زندگی کے لمحات سے لطف اندوز ہوں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مصروف زندگی میں سکون حاصل کرنا کوئی ناممکن کام نہیں، بلکہ یہ ایک شعوری کوشش کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں توازن قائم کریں، اپنی ترجیحات کو درست کریں اور مثبت رویہ اختیار کریں تو ہم نہ صرف سکون حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک خوشحال اور کامیاب زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ سکون دراصل ایک طرزِ فکر کا نام ہے، اور جب یہ طرزِ فکر اپنایا جائے تو زندگی کی تمام مصروفیات کے باوجود دل مطمئن اور خوش رہتا ہے۔