غصہ آگ کا اک انگارہ

غصہ آگ کا اک انگارہ

اسپیشل فیچر

تحریر : سلمان عثمانی


ایک صالح بزرگ کو بلا وجہ شیر کے پنجرے میں پھینک دیا گیا لیکن اللہ نے ان کو بچالیا۔ باہر نکلنے کے بعد لوگوں نے پوچھا ''شیر کے پنجرے میں آپ کیا سوچ رہے تھے‘‘؟ بزرگ کہنے لگے ''مجھے غصہ بالکل نہیں آیا،میں سوچ رہا تھا کہ شیر کالعاب پاک ہے یا ناپاک؟علماء نے لعاب کے بارے میں کیا کہا ہے؟‘‘
ابن القیمؒ کہتے ہیں کہ انسان کی قیمت اس کی ہمت اور ارادے سے متعین ہوتی ہے؟ مصم ارادہ انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتا ہے۔سکراتِ موت میں بھی امام احمد بن حنبلؒ اپنی داڑھی کو پانی سے خلال کرنے کا اشارہ کر رہے تھے اور اسے وضو کرانے کے لئے کہہ رہے تھے۔''دنیا کی چاہت والوں کو ہم کچھ دنیا دے دیتے ہیں اور آخرت کا ثواب چاہنے والوں کو ہم وہ بھی دیں گے‘‘ (145:3)۔
حدیث پاک میں آیا ہے ''غصہ نہ کرو، غصہ نہ کرو، غصہ نہ کرو‘‘ اسی میں آگے یہ ہے کہ ''غصہ آگ کا ایک انگارہ ہے۔ شیطان تین اوقات میں بندے پر چھا جاتا ہے: غصہ ، شہوت اور غفلت کے وقت۔
اپنے اوپر زیادتی کواگر آپ معاف کر دیں اور درگزر کریں تو دنیا میں عزت اور آخرت میں بڑامرتبہ ملے گا جیسا کہ ارشاد فرمایا ''تو جودرگزر کر دے اور اصلاح سے کام لے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا‘‘ (40:42)
کسی شخص نے سالمؒ بن عبداللہ بن عمر ؓ تابعی سے کہا کہ تم برے آدمی ہو! فرمایا'' مجھے تمہارے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا‘‘۔ ایک امریکی ادیب کہتا ہے ''ڈنڈے اور پتھر میری ہڈیاں توڑ سکتے ہیں لیکن کلمات مجھے نقصان نہیں دے سکتے‘‘۔ ایک شخص نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا ''میں تمہیں ایسی گالی دوں گا جو تمہارے ساتھ قبر تک جائے گی!‘‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا ''بلکہ تمہاری قبر میں جائے گی!!‘‘ ایک شخص نے عمروؓ بن العارص سے کہا ''میں آپ سے جنگ کے لئے یکسو ہو جاؤں گا‘‘ فرمایا ہاں اب تمہیں مصروف کن کام ملا!! جنرل آیزن آور کہتا تھا: جن لوگوں کو ہم پسند نہیں کرتے ان کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنا وقت کیوں ضائع کریں۔ مچھرکھجور سے بولا، رکو میں اڑنا اور تمہیں چھوڑ دینا چاہتا ہوں۔ کھجور نے کہا، خدا کی قسم جب تو میرے اوپر اترا تھا میں نے اس وقت کچھ محسوس نہیں کیا تو جب اُڑ جائے گا تو کیوں محسوس کرنے لگا؟ حاتم نے کہا: شریف و سخی کی غلطیاں اس کی سخاوت کے باعث معاف کر دیتا ہوں اور کمینہ و ذلیل کی گالیوں سے اعراض اس لئے کرتا ہوں کہ اپنے شرف کی حفاظت کروں۔
کنفیوشش نے کہا ہے : غضبناک آدمی ہمیشہ زہر آلود رہتا ہے۔شکسپیئر کہتا ہے: اپنے دشمن کیلئے اتنا الاؤ نہ دہکاؤ کہ اس میں تمہارے بھی جل جانے کا سامان ہو جائے۔ آشوب چشم والی آنکھوں سے کہہ دو کہ بہت سی آنکھیں ہیں جو مطلع صاف ہو یا غبار آلود انہیں سورج دکھائی دیتا ہے۔ ان آنکھوں سے درگزر کرو جن کی بصارت اللہ نے چھین کر ان کا نور بجھا دیا، وہ نہ کچھ یادرکھتی اور نہ افاقہ پاتی ہیں۔ایک حکیم کہتے ہیں ''مجھے یہ بتاؤ آدمی کی دلچسپی کیا ہے، میں یہ بتاؤں گا کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔سمندر میں ایک کشتی پلٹ گئی ایک عابد و زاہد پانی میں گر پڑا تو اپنے اعضاء کو وضو کی مانند دھونے لگا، ناک میں پانی ڈالا، کلی کی، سمندر نے اسے نکال پھینکا وہ بچ گیا اس بارے میں اس سے پوچھا گیا تو کہاکہ موت سے پہلے میں طہارت کیلئے وضو کرنا چاہتا تھا۔
مضمون نگار معروف سکالر اور
کالم نگار ہیں، ان کے مضامین مختلف جرائد میں شائع
ہوتے رہتے ہیں

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بانس کا درخت اور انسانی زندگی

بانس کا درخت اور انسانی زندگی

اگر ہم نے زندگی کو گزارنے کے بہترین اصول سیکھنے ہیں تو قدرت کا مشاہدہ کرنا شروع کردیں۔ قدرت نے بہت سے رازوں کو ہمارے لئے عیاں کر رکھا ہے۔دن رات ہر زی روح کیلئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ دن کے وقت ہم روز مرہ کے کاموں کو سر انجام دیتے ہیں اور رات کے وقت آرام کرتے ہیں۔ قدرت نے ہمارے لئے بہت آسانی اور زندگی کے کاموں کو ایک ترتیب سے کرنے کیلئے ایک دن اور رات کا بہترین نظام ترتیب دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ آپ پودوں کی پرورش کا مشاہدہ کریں تو ایک بیج سے پودا نکلنا اور پھر ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرنا یہ ہمارے لئے واضح اشارہ ہے کہ جو ثابت قدمی اور مستقبل مزاجی کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں وہی معاشرے میں مضبوط اور بہترین مقام پاتے ہیں۔ اسی طرح قدرتی نظام میں دیگر اشارے ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فطرت ہمیشہ انسانوں سے بات کرتی ہے اور مختلف طریقوں سے سبق بھی دیتی ہے۔ لیکن اکثر اوقات انسان ان اسباق سے نصیحت حاصل کرنے کیلئے اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور کانوں سے سننے کے باوجود ان پر توجہ نہیں دیتا۔نظام قدرت کے بہت سے عناصر میں بانس کے درخت کی افزائش کے عمل میں انسان کیلئے بہت گہرا سبق چھپا ہوا ہے۔تمام پودوں کی طرح، بانس کے پودے کو بھی افزائش کیلئے پانی ، زرخیز مٹی،اورسورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب آپ بانس کا درخت لگاتے ہیں تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اسے کافی حد تک پانی، صحیح قسم کی مٹی، اور سورج کی روشنی کی مناسب مقدار ملتی رہے لیکن آپ مشاہدہ کریں گے کہ پہلے سال بیجے گئے بیج کی کوئی نشوؤ نما ہوگی مگر آپ نے نا امید نہیں ہونا کیونکہ دوسرے سال بھی مطلوبہ جگہ پر زمین کے اوپر کچھ بھی نہیں اُگے گا۔یہاں تک کہ آپ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اسے متواتر پانی لگاتے رہیں گے ۔آپ تیسرے سال اور پھر چوتھے سال بھی اس کی نشوؤنما کیلئے پانی لگانے کا عمل جاری رکھیں گے تو تب بھی آپ دیکھیں گے کہ چار سال گزرنے کے باوجود بانس کے بوئے گئے بیج کی جگہ پر کوئی پودا نمودار نہیں ہوگا۔ پانچ سال گزرنے کے بعد آپ غور کریں گے کہ صرف چھ ہفتوں میں بانس کا پودا 80فٹ اونچا ایک درخت بن جائے گا۔اس کا مطلب ہے کہ بیجکی چار سال کی پرورش رائیگاں نہیں گئی، آپ چار سال تک اس کی جو آبیاری کرتے رہے اس سے یہ پودا زمین کے نیچے اگ رہا تھا مگر آپ اسے دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک بلند وبالا عمارت بنانے کیلئے مضبوط اور گہری بنیادیں بنانا ضروری ہوتا ہے بالکل اسی طرح ایک بڑے اور لمبے درخت کیلئے زمین کے اندر جڑوں کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے اسی لئے قدرت نے پہلے چار اس کی جڑوں کو مضبوط کیا اور زمین کے اندر اس کی نشوئونما ہوتی رہی تا کہ جب سطح زمین پر نمودار ہو تو بلند و بالا درخت مضبوطی کے ساتھ قائم و دائم رہے۔بانس کے درخت کی کہانی ان لوگوں سے بہت اچھی طرح سے منسوب کی جاسکتی ہے ہے جو اپنا کاروبارکا آغاز کرتے ہیں۔ان کو اس بات کی کہانی سے واضح سابق ملتا ہے کہ انہوں نے جس کاروبار میں قدم رکھا ہے اس کے ابتدائی چند سال انتہائی مشکل ہوں گے کیونکہ آپ کی آنکھوں کے سامنے کوئی واضح ترقی نہیں ہوگی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں زیادہ تر لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ بزنس کا آغاز کرنے والے بانس کے درخت کی طرح ابتدائی سالوں میں اس کی پرورش کرتے رہیں تو اس کاروبار کی مضبوط بنیادیں قائم ہونے کے بعدوہ کاروبار نمایاں مقام حاصل کرلے گا۔بانس کے درخت کی نشوؤ نما کی کہانی سے سب سے اہم سابق یہ ملتا ہے کہ کامیابی جلدی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہاں تک کہ اگر آپ مسلسل محنت اور لگن سے کام کرتے ہیں، تب بھی آپ اپنے مقاصد کو فوراً حاصل نہیں کر پائیں گے۔ اپنے مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنے میں زیادہ وقت لگنے کی توقع رکھیں اور صبر کریں۔بانس کے درخت کی طرح، آپ کے کاروبار کو مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ نتائج کیلئے جلدی کرنے کی بجائے، ایک مضبوط بنیاد بنانے پر وقت صرف کریں۔ خاص طور پر اگر آپ کے مقاصد بڑے ہوں اور آپ کے خواب آپ کی موجودہ سطح سے باہر ہوں۔بانس کا درخت اس وقت تک نہیں بڑھ سکتا جب تک اس کی مستقل پرورش نہ کی جائے۔ پودا مر جائے گا اگر آپ صرف پہلے مہینے تک پرورش کرتے رہیں۔ اسی طرح، آپ کے مقاصد اور خواب اسی طرح کام کرتے ہیں۔ آپ کو اپنے اہداف کو حقیقت میں بدلنے کیلئے مسلسل کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔تاخیر میں مشغول ہوکر آپ کو یہ بھول جائے گا کہ آپ کے حقیقی خواب کیا ہیں۔ لہٰذاآپ اپنے منزل پر توجہ مرکوز رکھیں اور یہ یاد رکھیں گے بلند مقام تک پہنچنے کیلئے ایک صبرآزما اور محنت سے بھرپو طویل انتظار درکار ہوگا۔بانس کے درخت کی کہانی سے یاد رکھنے والی ایک اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی ذات پر پختہ یقین رکھیں۔ اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں، تو آپ کو یقین کرنا پڑے گا کہ چیزیں کسی نہ کسی طریقے سے کام ضرورکریں گی۔کامیابی آپ کے پاس کبھی بھی تیزی سے نہیں آئے گی۔ آپ کو اپنے کام میں ثابت قدم رہنا ہوگا اور صبر سے کام لینا ہوگا۔ زیادہ تر لوگ ناکام ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس صبر نہیں ہوتا ہے اور وہ اپنی فوری دولت مندی کی اسکیموں کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کر پاتے ہیں۔ اس لیے، چاہے کچھ بھی ہو جائے، صبر اور استقامت سے کام لیں اور کبھی ہمت نہ ہاریں۔

دنیا کے 5 بڑے:ماحولیاتی مسائل

دنیا کے 5 بڑے:ماحولیاتی مسائل

کرۂ ارض کو آج کل پانچ بڑے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ آخر یہ مسائل کیا ہیں اور ان کے ممکنہ حل کیا ہو سکتے ہیں؟آیئے جانتے ہیں۔1 :آلودہ ہوا اور موسمیاتی تبدیلیاں فضا میں اور سمندری پانیوں میں ضرر رساں کاربن گیسیں بڑھ رہی ہیں۔ اس باعث فضا اور سمندروں کے پانی کا گرم رہنا بلاشبہ ایک اچھی چیز ہے کہ اس کے بغیر ہماری دھرتی منجمد ہو کر رہ جائے لیکن معدنی ایندھن، زراعت کیلئے جنگلات کی کٹائی اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث کاربن گیسوں کی مقدار، جو دو سو سال قبل 280 پی پی ایم (پارٹس پَر ملین) تھی، اب بڑھ کر 400 پی پی ایم ہو چکی ہے اور بے شمار اموات کا بھی سبب ہے۔حل: معدنی ایندھن کی جگہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کا استعمال، پھر سے جنگلات اُگانا۔ زراعت کے عمل میں ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں تبدیلی۔2 :جنگلات کا کٹاؤ زراعت کیلئے زمین کے حصول یا مویشی رکھنے کیلئے اْستوائی خطّوں کے انواع سے بھرپور جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ آج کل زمین کا تیس فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جن کا ایک اہم کام کاربن گیسیں جذب کرنا بھی ہے۔ ہر سال اٹھارہ ملین ایکڑ رقبے پر پھیلے جنگلات کاٹ دیے جاتے ہیں۔حل: موجود قدرتی جنگلات کا تحفظ اور ہر خطّے کے مقامی درختوں پر مشتمل جنگلات کی کاشت۔ مشکل یہ ہے کہ جنگلات زیادہ تر غریب ملکوں میں ہیں، جہاں آبادی بڑھ رہی ہے، بد انتظامی ہے اور اقربا پروری ہے۔3 :ناپید ہوتی انواع زمین ہو یا سمندر، انسان مختلف طرح کے جانوروں اور قسم قسم کی مچھلیوں کا اس حد تک زیادہ شکار کر رہا ہے کہ کئی انواع کی بقا خطرے میں ہے۔حل: بائیو ڈائیورسٹی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی تجارت پر پابندی لگائی جائے۔ مقامی آبادیوں کو شامل کیا جائے، ایسے کہ انہیں جنگلی حیات کے تحفظ کے سماجی اور اقتصادی فوائد بھی ملیں۔4 :زرعی زمین کی کم ہوتی زرخیزی حد سے زیادہ چَرائی، کاشتکاری کے نت نئے طریقے یا پھر ایک ہی طرح کی فصلوں کی کاشت، اقوام متحدہ کے مطابق سالانہ بارہ ملین ہیکٹر زرعی رقبے کی زرخیزی کو طرح طرح سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔حل: ہل چلائے بغیر بیج ڈالنا یا پھر بدل بدل کر نئی فصلیں کاشت کرنا، زمین کی زرخیزی کی بحالی کیلئے نت نئے طریقے موجود ہیں۔5 :بڑھتی آبادی بیسویں صدی کے آغاز پر انسانی آبادی 1.6 ارب تھی، آج کل 8 ارب ہے، 2050ء تک دَس ارب ہو گی۔ انسانی وسائل پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔حل: خواتین کی تعلیم اور بہتر سہولتوں تک رسائی تاکہ وہ افزائش نسل کے بارے میں خود بھی فیصلے کر سکیں۔٭...٭...٭

سیکرین:انسانی صحت کیلئے اچھی یا بری

سیکرین:انسانی صحت کیلئے اچھی یا بری

سیکرین ایک مصنوعی مٹھاس ہے جسے لیبارٹری میں مختلف کیمیکلز سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سفید کرسٹل پاؤڈر کی طرح لگتا ہے۔ سیکرین کو عام طور پر چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کیلوریز یا کاربوہائیڈریٹ نہیں ہوتے۔اس لیے یہ آپ کے جسم میں کوئی تبدیلی بھی پیدا نہیں کرتا۔یہ عام چینی سے تقریباً 300گنا زیادہ میٹھا ہوتاہے،اس لیے آپ کو میٹھا ذائقہ حاصل کرنے کیلئے صرف تھوڑی مقدار کی ضرورت ہے۔اگرچہ بعد میںیہ ایک ناخوشگوار اور تلخ ذائقہ پید کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیکرین کو اکثر دیگر کم یا زیرو کیلوری والے میٹھے کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔فوڈ مینوفیکچررز اکثر سیکرین کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کی شیلف لائف طویل ہے اور سالوں تک ذخیرہ کرنے کے بعد بھی یہ استعمال کیلئے محفوظ ہے۔کاربونیٹڈ ڈائیٹ ڈرنکس کے علاوہ سیکرین کا استعمال کم کیلوری والی کینڈیز، جیمز، جیلی اور کوکیز کو میٹھا کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بہت سی دوائیوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔شواہد بتاتے ہیں کہ یہ محفوظ ہے!صحت کے حکام اس بات پر متفق ہیں کہ سیکرین انسانی استعمال کیلئے محفوظ ہے۔ ان میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔تاہم یہ ہمیشہ ایسا نہیں تھا، جیسا کہ 1970ء کی دہائی میں چوہوں پر کئی مطالعات نے سیکرین کو مثانے کے کینسر کی نشوونما سے جوڑا ۔اس کے بعد انسانوں کیلئے بھی کینسر کے ایک عامل کے طور پر اس کی درجہ بندی کی گئی۔ تاہم نئی تحقیق سے پتہ چلا کہ چوہوں کی طرح کینسر کی نشوؤنما انسانوں میں نہیں ہو سکتی اور انسانوں میں مشاہداتی مطالعات نے سیکرین کے استعمال اور کینسر کے خطرے کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں دکھایا۔بہت سے ماہرین کا اب بھی خیال ہے کہ مشاہداتی مطالعات اس بات کو مسترد کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں کہ اس میں کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ لوگ سیکرین سے گریز کریں۔،چنانچہ سیکرین کو کینسر کی نشوونما سے جوڑنے والے ٹھوس شواہد کی کمی کی وجہ سے اس کی درجہ بندی کو '' انسانوں کیلئے کینسر کے طور پر درجہ بندی کرنے کے قابل نہیں ‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا۔تاہمبہرکیف یہ کہا جاسکتا ہے کہ مشاہداتی مطالعات میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ سیکرین کینسر یا انسانی صحت کو کوئی نقصان پہنچاتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

عالمی اولمپک کمیٹی کا قیام23 جون 1894ء کو پیرس میں عالمی اولمپک کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک غیر منافع بخش، غیر سرکاری تنظیم ہے جس کا ہیڈ کوارٹر لوزان، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے۔ یہ تنظیم 100 فعال اراکین، 32 اعزازی اراکین اور ایک معزز رکن پر مشتمل ہے۔ یہ جدید اولمپک کا مقتدر ادارہ ہے جو ہر چوتھے سال سردیوں اور گرمیوں میں منعقد ہوتے ہیں۔ آئی او سی کی جانب سے پہلے گرمائی اولمپکس 1896ء میں یونان میں منعقد ہوئے تھے جبکہ پہلے سرمائی اولمپکس 1924ء میں فرانس میں منعقد ہوئے تھے۔ بھارتی تاریخ کا مہلک ترین فضائی حادثہ ایئر انڈیا کی فلائٹ 182 ایک مسافر پرواز تھی جو مونٹریال سے بھارت جا رہی تھی۔ 23 جون 1985ء کو بم کے دھماکے کے نتیجے میں یہ طیارہ بحر اوقیانوس پر تباہ ہو گیاتھا۔ طیارے کی باقیات آئرلینڈ کے ساحل سے تقریباً 190 کلومیٹر (120 میل) دور سمندر میں گریں، جہاز میں سوار تمام 329 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 268 کینیڈین شہری، 27 برطانوی شہری اور 24 بھارتی شہری شامل تھے۔ایئر انڈیا کی فلائٹ 182 پر بمباری کینیڈا کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ ہے، ایئر انڈیا کی تاریخ کا سب سے مہلک ہوا بازی کا واقعہ ہے۔ جنگ پلاسی : نواب سراج الدولہ کو شکست ''پلاسی کی جنگ‘‘ 23 جون 1757 کو بنگال کے نواب اور اس کے فرانسیسی اتحادیوں کے خلاف رابرٹ کلائیو کی قیادت میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فیصلہ کن فتح تھی۔ اس جنگ میں 3 ہزار انگریز سپاہیوں نے نواب سراج الدولہ کے 50 ہزار سپاہیوں کو شکست دی۔ یہ فتح نواب سراج الدولہ کے کمانڈر انچیف میر جعفر کے منحرف ہونے سے ممکن ہوئی۔اس جنگ نے 1772ء میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد کی۔ اگلے سو سالوں میں انہوں نے برما سمیت برصغیر کے بیشتر علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کیا۔ کرسٹوفر نے ٹائپ رائٹر کو پیٹنٹ کروایا 1868ء میں آج کے روز ٹائپ رائٹر کے موجد کرسٹوفر لیتھم شولر نے اس ایجاد کو اپنے نام کروایا۔کرسٹوفر لیتھم شولز (14 فروری 1819ء ۔ 17 فروری، 1890ء) ایک امریکی موجد تھا ، جس نے ''QWERTY‘‘ کی بورڈ بھی ایجاد کیا۔وہ اخبار کے پبلشر اور ایک سیاست دان بھی تھے۔مختلف کی بورڈ والے ٹائپ رائٹرز 1714 کے اوائل میں ہینری مل نے ایجاد کیے تھے اور 1800ء کی دہائی میں مختلف شکلوں میں دوبارہ ایجاد کیے گئے ۔ شولز کے ٹائپ رائٹر پچھلے ماڈلز میں بہتری لائے۔

کنسنگٹن پیلس برطانوی تاریخ کا عینی شاہد

کنسنگٹن پیلس برطانوی تاریخ کا عینی شاہد

یہ وہی کنسنگٹن پیلس ہے جہاں برطانیہ پر طویل عرصہ حکمرانی کرنے والی ملکہ وکٹوریہ کی 1819ء میں پیدائش ہوئی۔ انہوں نے اسی محل میں اپنی زندگی کے ابتدائی 18 سال گزارے۔ کنسنگٹن پیلس لندن کے مرکزی علاقہ کنسنگٹن گارڈن میں واقع ہے۔سترہویں صدی کے اوائل میں یہ ایک دو منزلہ حویلی تھی۔ اسے ایک رئیس سرجارج کاپن نے 1605ء میں تعمیر کروایا۔ جب اس حویلی کو نو ٹنگھم کے ارل اوّل نے خریدا تو اسے ''نوٹنگھم ہائوس‘‘ کہا جانے لگا۔1689ء میں بادشاہ ولیم اور اس کی ملکہ میری نے محسوس کیا کہ دریائے ٹیمز کے کنارے دھند اور سیلاب کا ہر وقت ڈر رہتا ہے، کیوں نہ شہر کے مضافاتی علاقہ میں شاہی رہائش گاہ ڈھونڈ لی جائے۔ انہوں نے کنسنگٹن ولیج میں ناٹنگھم ہائوس کا انتخاب کیا۔ 1689ء میں شاہ ولیم اور ملکہ میری نے یہ ہائوس 20ہزار پائونڈ میں خرید لیا اور شاہی آر کی ٹیکس سرکرسٹوفرورن کو ہدایات دیں کہ اس رہائش گاہ کی توسیع کرکے اسے محل کی شکل دی جائے۔ مختصر عرصہ میں محل تیار ہو گیا۔ اس کے ارد گرد پھولوں کے تختے اور درخت ایک خوبصورت باغ کی شکل اختیار کر گئے۔ اس شاہی خوبصورت حویلی نما محل کو کنسنگٹن پیلس کا نام دیا گیا۔اس طرح گزشتہ335سالوں سے کنسنگٹن پیلس شاہی خاندان کی رہائش گاہ چلا آ رہا ہے۔ یہ شاہی خاندان کے شہزادے، شہزادیاں، ڈیوک اور ڈچز کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ اس کے علاوہ شہزادی مار گریٹ اور دنیا میں لاکھوں دلوں کی ہر دلعزیز شہزادی ڈیانا کا بھی یہی گھر تھا۔ ڈیانا اور اس کے خاوند پرنس چارلس کے دونوں فرزند ولیم اور ہیری اسی محل میں پیدا ہوئے۔ لیڈی ڈیانا طلاق کے بعد مہلک حادثہ تک اسی محل میں مقیم رہی۔ملکہ وکٹوریہ کے یوم پیدائش کی سالگرہ پر 24مئی 1894ء کو کنسنگٹن پیلس کے کچھ کمرے عوام کے دیکھنے کیلئے کھول دیئے گئے تھے۔ کچھ کمروں میں ملکہ وکٹوریہ، شہزادی مارگریٹ اور لیڈی ڈیانا کے ملبوسات آویزاں کئے گئے ہیں۔ریڈیو بی بی سی کے نمائندہ مارٹن بشیر نے لیڈی ڈیانا کا انٹرویو ان کی رہائش گاہ کنسنگٹن پیلس ہی میں ریکارڈ کیا تھا جو بی بی سی کے مشہور پروگرام ''پینوراما‘‘ میں نشر کیا گیا۔31اگست 1997ء کو لیڈی ڈیانا کی موت کے وقت کنسنگٹن پیلس کے گیٹ پر عوام نے دس لاکھ گلدستوں کے ساتھ اپنا والہانہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ لیڈی ڈیانا سے اظہار عقیدت کیلئے لاکھوں لوگوں کا مجمع کنسنگٹن گیٹ پر اُمڈ آیا تھا۔لیڈی ڈیانا کے تابوت نے آخری رات اسی محل میں گزاری۔6ستمبر 1997ء کی صبح ماتمی گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی لیڈی ڈیانا کا تابوت توپ گاڑی پر رکھ کر آخری رسومات ادا کرنے کیلئے ویسٹ منسٹر ایبے کے بڑے چرچ کی طرف لے جایا گیا، جہاں لیڈی ڈیانا کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ مرنے کے دس سال بعد تک کنسنگٹن پیلس میں لیڈی ڈیانا کی رہائش گاہ خالی رہی۔لیڈی ڈیانا اور پرنس چارلس نے جب 1981ء میں شادی کی تو وہ کنسنگٹن پیلس کے اپارٹمنٹ نمبر8اور9میں ہی آکر رہائش پذیر ہوئے۔ اس طرح پرنس ولیم اور پرنس ہیری کا بچپن بھی کنسنگٹن پیلس ہی میں گزرا۔برطانیہ کا کنگ جارج دوم 1760ء میں فوت ہوا اور اس کی ملکہ کیرولین کا انتقال 1737ء میں اسی محل میں ہوا تھا۔بادشاہ کنگ جارج سوم کی ایک ہی بیٹی تھی، جس کا نام الیگزینڈرا وکٹوریہ تھا، وہ اسی محل میں 24مئی 1819ء کو پیدا ہوئی اور اس نے اپنا سارا بچپن یہیں گزارا۔ 18سال کی عمر میں برطانیہ کی ملکہ بنی تو اس وقت وہ کنسنگٹن پیلس سے بکنگھم پیلس منتقل ہو گئی(29جون 1839ء)۔ انیسویں صدی کے اواخر میں کنسنگٹن پیلس کی حالت بہت خستہ ہو چکی تھی اور یہ سوال اٹھنا شروع ہوئے کہ آیا اس کو مسمار کر دیا جائے، لیکن ملکہ وکٹوریہ نے کہا: "While she lived, The palace in which she was bern,should not be destroy"بعد میں 1897ء میں فنڈ مختص کئے گئے اور دو سال کے عرصہ میں مرمت کا کام مکمل ہوا اور اس کے دو سال بعد ہی 1901ء میں ملکہ وکٹوریہ کا انتقال ہو گیا۔ اس نے اپنی 82سالہ عمر میں برطانیہ پر ایک طویل عرصہ (64 سال) حکومت کی۔موجودہ تاجدار برطانیہ شاہ چارلس سوم کی والدہ ملکہ الزبتھ دوم کی والدہ کوئین میری بھی 1867ء میں کنسنگٹن پیلس ہی میں پیدا ہوئی۔کنسنگٹن پیلس کا بکنگھم پیلس سے دو میل کا فاصلہ ہے۔ امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما اور اس کی بیگم مچل اوباما پرنس ولیم کی دعوت پر کنسنگٹن پیلس آ چکے ہیں۔کوئنز وے اور ہائی سٹریٹ کنسنگٹن، کنسنگٹن پیلس کے قریب ہی ٹیوب سٹیشن ہیں۔ 

فرانسیسی جنرل الارڈ

فرانسیسی جنرل الارڈ

اس مشینی دور میں نفسانفسی کا یہ عالم ہے کہ ہم اپنے ارد گرد سے اس قدر غافل اور بے حس ہو چکے ہیں کہ ہم میں سے بہتوں کو یہ بھی علم نہیں کہ ان کے پڑوس میں کون رہتا ہے۔ شاید دیہی علاقوں کی صورتحال قدرے مختلف ہو لیکن بڑے شہروں کی صورتحال ایسی ہی ہے۔ دراصل ہم سب من حیث القوم بے حس ہوتے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے آپ کو اس کٹہرے میں کھڑا کرتا ہوں۔ یہ 1998ء کا ذکر ہے، میں بحیثیت بنک منیجر لاہور کی لیک روڈ برانچ جو پرانی انارکلی میں واقع ہے میں تعینات تھا۔ ایک روز فراغت پاکر میں ایک میگزین کا مطالعہ کر رہا تھا۔ چونکہ ''ہسٹری آف کلچر‘‘ میرا پسندیدہ مضمون رہا ہے اس لئے تاریخی عمارات بارے مطالعہ ہمیشہ میری ترجیجات میں نمایاں ہوتا تھا۔ میں نہا یت انہماک سے ایک آرٹیکل کا مطالعہ کررہا تھا جو لاہور میں واقع ایک تاریخی عمارت بارے تھا اور بنیادی طور پر ایک فرانسیسی جنرل اور اس کی بیٹی کا مقبرہ تھا۔پس منظر اس مقبرے کا یہ تھا کہ فرانسیسی فوج کے ایک جنرل الارڈ جو نپولین کے ایک بااعتماد ساتھی تھے اور جن کی اپنی فوج کیلئے بہت ساری خدمات بھی تھیں۔ انگلینڈ سے شکست کے بعد جنرل الارڈ پنجاب میں رنجیت سنگھ کی فوج میں خدمات دیتے رہے تھے اور پھر یہیں لاہور میں دفن ہوئے۔ ان کی ایک لاڈلی بیٹی میری شارلے جس کا جوانی میں انتقال ہو گیا تھا اور یہ لاہور کے ایک قدیم ترین علاقے کڑی باغ جسے ونتورا باغ بھی کہا جاتا تھا کے دامن میں دفن تھی۔ کسی زمانے میں یہ مقبرہ 6 ایکڑ زمین پر محیط ہوا کرتا تھا بلکہ قیام پاکستان تک بھی یہ مقبرہ وسیع وعریض رقبے پر ہی پھیلا ہوا کرتا تھا۔ جنرل الارڈ نے وصیت کر رکھی تھی کہ انہیں ان کے انتقال کے بعد اپنی لاڈلی بیٹی کے پہلو میں ہی دفن کیا جائے۔1839ء میں جب جنرل الارڈ کا انتقال ہوا تو انہیں وصیت کے مطابق ان کی بیٹی کے پہلو میں لاہور کی لیک روڈ پر واقع مقبرے میں ہی دفن کیا گیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ مقبرہ عدم توجہی اور حادثات زمانہ کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے اب شاید بمشکل ایک یا دو کنال تک محدود ہو گیا ہے۔ فرانسیسی فوج کیلئے جنرل الارڈ کی خدمات کے تناظر میں2008ء میں فرانسیسی سفارت خانے نے جنرل الارڈ اور ان کی بیٹی کے اس مقبرے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ کچھ عرصہ تک فرانسیسی سفارت خانے سے کوئی نہ کوئی اہلکار یہاں باقاعدگی سے آکر پھول چڑھاتے رہے ہیں۔یہاں تک پڑھنے کے بعد میں ایک دم سے رک گیا اور بار بار اس آخری لائن کو پڑھتا رہا کہ کہیں مجھے پڑھنے میں کوئی غلطی تو نہیں ہو رہی کیونکہ میں اس لمحہ بھی لیک روڈ پر ہی موجود تھا اور یوں بھی صبح دفتر آتے میں پوری لیک روڈ عبور کر کے آیا کرتا تھا۔ اس محدود سی شاہراہ پر میں نے ایسا کوئی مقبرہ آج تک دیکھنا تو درکنار اس بارے کبھی سنا تک نہ تھا۔اس مقبرے بارے مجھے تجسس ہوا ۔جس کیلئے میں نے سب سے پہلے اپنے بنک کے ایک پرانے سکیورٹی گارڈ سے ذکر کیا تو اس نے لاعلمی کااظہار کیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور سٹاف ممبر سے استفسار کیا جس کے بارے میرا قیاس تھا کہ یہ اس برانچ کا سب سے پرانا ملازم ہے لیکن اس نے بھی کہا کہ کم از کم اس روڈ پر ایسی کوئی عمارت اس کے علم میں نہیں ہے۔ اب میرے تجسس میں اضافہ ہوتا چلا گیا چنانچہ میں وقتاً فوقتاً اپنی برانچ کے ہر آنے والے اس کھاتے دار سے اس بارے استفسار کرتا رہا جو میرے خیال میں یہاں کے قدیم رہائشی ہیں لیکن ہر ایک کا جواب ایک جیسا ہوتا کہ یہاں ایسا کوئی مقبرہ نہیں ہے۔اگلے روز میرے ایک سٹاف ممبر جس سے میں اس بارے استفسار کر چکا تھا آکر مجھے کہنے لگا ،سر ! ہماری برانچ سے تھوڑے ہی فاصلے پر سڑک کے دوسرے کنارے ایک حکیم صاحب کا مطب ہے۔ حکیم سواتی کے نام کی شہرت رکھنے والے یہ حکیم اس پورے علاقے کے سب سے قدیم رہائشی ہیں چنانچہ عین ممکن ہے کہ وہ متعلقہ مقبرے بارے آپ کی رہنمائی کر سکیں۔ شام کو گھر جانے سے پہلے میں حکیم صاحب کے مطب جا پہنچا۔ حکیم صاحب سر جھکائے کچھ پڑھنے میں مصروف تھے اس لئے میرے سلام کا جواب اشارے سے دینے کے بعد اپنے ساتھ پڑے سٹول کی طرف اشارہ کر کے مجھے بیٹھنے کو کہا اور بنا دیکھے میری نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے مطالعہ میں مصروف رہے۔ اب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے حکیم صاحب کو مخاطب کر کے جب اپنا مدعا بیان کیا تو انہوں میرے بازو کو جھٹک کر یوں چھوڑا جیسے انسان بجلی کی ننگی تار کو پکڑ کر جھٹک دیتا ہے۔اور ایک عدد لیکچر جھاڑتے ہوئے بولے ، میاں! کیا عجب آدمی ہو ، یہاں آجکل زندوں کو کوئی نہیں پوچھتا اور تم مردوں کو تلاش کرتے پھر رہے ہو۔ ابھی شاید کچھ اور لیکچر سننے کو ملتا کہ دو مریض خواتین اندر داخل ہوئیں لہٰذا حکیم صاحب بات مختصر کرتے ہوئے بولے،اس سڑک کی دوسری جانب حبیب بینک کی برانچ دیکھی ہے؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا جی دیکھی ہوئی ہے۔ کہنے لگے اسی بنک کی عمارت کے ساتھ ایک تنگ سی گلی اندر جا رہی ہے۔ جہاں اس بنک کی عمارت ختم ہوتی ہے، اس کے بالکل سامنے گلی کی دوسری جانب اس مقبرے کی عمارت شروع ہوتی ہے۔میں شکریہ ادا کر کے باہر نکلا چند قدم کی دوری پر ہی ہمارا بنک تھا، بنک کے آخری کونے پر واش روم تھے اور واش روم کی کھڑکی اسی گلی میں کھلتی تھی جہاں سے اس مقبرے کو باآسانی دیکھا جا سکتا تھا۔ چونکہ اس کھڑکی کو کبھی کھولنے کی نوبت ہی نہ آئی تھی اس لئے آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل۔میں چند لمحوں میں اس ویران سے مزار کے سامنے کھڑا تھا۔بلاشبہ یہ ایک پرشکوہ عمارت ہی بنائی گئی جس پر جا بجا فرانسیسی اور انگریزی زبان میں اس جنرل کی اپنی قوم بارے فتوحات اور اختصار سے اس کے حالات زندگی لکھے گئے تھے، لیکن مرور زمانہ اپنے دور میں وسیع و عریض باغ میں پھیلے اس باغ کو اب صرف چند گز کی قبروں تک ہی محدود کر دیا گیا تھا۔ جو ہم سب کیلئے اپنے اندر ایک سبق لئے ہوئے تو تھا ہی لیکن میں اندر ہی اندر اپنی کم علمی اور بے خبری بارے سوچ رہا تھا کہ اس نفسا نفسی کے دور میں اب بھلا ہم میں اور ان مردوں میں فرق رہ ہی کیا گیا ہے ؟ یہاں پہنچ کر میرا تجسس تو ختم ہو چکا تھا لیکن یہ تجسس اب تاسف اور ندامت میں بدل چکا تھا۔