کچے کا علاقہ کیا ہے؟
اسپیشل فیچر
جب دریائے سندھ مون سون کی بارشوں کے دوران پوری طرح سے پھیلتا ہے تو پانی دریا کے دائیں اور بائیں طرف پھیل کر حفاظتی بندوں تک پہنچ جاتا ہے۔ برطانوی دور حکومت میں جب نہری نظام بنایا گیا تھا تو حفاظتی بندوں کے اندرونی علاقے کو کچا اور بیرونی علاقے کو پکا قرار دیا گیا ہے۔کچے کے علاقے میں شر، تیغانی، جاگیرانی، جتوئی سمیت مختلف بلوچ اور چاچڑ، مہر، میرانی و سندرانی سمیت دیگر سندھی قبائل آباد ہیں جو یہاں کی زرخیز زمین پر کاشتکاری کرتے اور مال مویشی پالتے ہیں۔کچے کے علاقے کی زمین محکمہ جنگلات اور محکمہ ریوینیو کی ملکیت ہے جو کسی کو باضابطہ طور پر آلاٹ نہیں کی گئی ہے۔
کشمور میں تقریباً 64 کلومیٹر، سکھر میں 40 کلومیٹر، گھوٹکی میں 78 کلومیٹر اور شکارپور میں 38 کلومیٹر کے قریب حفاظتی بند موجود ہے۔ کچے میں زمین کی حد بندیوں اور مال مویشیوں کی چوری پر برادریوں میں جھگڑے معمول کی بات ہے جو بعض اوقات سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر ایک برادری کی لڑکی نے دوسری برداری کے کسی شخص سے پسند کی شادی کی یا اظہار کیا تو بھی قبائلی تنازع شروع ہو جاتا ہے جس کی ماضی میں کئی مثالیں موجود ہیں۔کچے میں رہنے والی ہر برادری کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے۔کچے میں روزمرہ کے کاموں کیلئے زیر زمین پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ جب دریا کا پانی اتر جاتا ہے تو کاشت زیر زمین پانی سے کی جاتی ہے جو ٹیوب ویلز کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں بجلی نہیں ہے، ٹیوب ویلوں کو چلانے اور گھروں کو روشن کرنے کیلئے سولر پینلز کی مدد سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔
یہاں بسے ڈاکو بڑے قبائل کے لوگوں کو تنگ نہیں کرتے جبکہ چھوٹی اور غریب آبادیوں سے بھتہ لیا جاتا ہے۔سندھ اور پنجاب کی سرحد کے درمیان واقع کچے کا علاقہ، جہاں ڈاکو راج آج سے نہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔ شمالی سندھ کے اضلاع کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی اور شکارپور میں ڈاکوؤں کے زیر اثر کچے کے علاقے تمام تر حشر سامانیاں سمیٹے ہوئے ہیں۔
یہاں ڈاکو ہیں، اسلحہ ہے، جرم کی داستان ہے، اغوا کار ہیں، مغوی ہیں، پولیس کے کمانڈو ہیں، پولیس افسران ہیں۔ سندھ کو پنجاب اور بلوچستان سے جوڑتے سرحدی راستوں، قومی شاہراہوں اور ذیلی سڑکوں کو یہ کچے کے ڈاکو اپنا دائرہ کار سمجھتے ہیں۔ٹیکنالوجی اور نئی سڑکوں کا جب تک جال نہ تھا تب تک کچے کے ڈاکو ان ہی راستوں پہ گھات لگا کر نیم شب کے مسافروں کو لوٹا کرتے تھے۔ خال خال یہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتے تھے۔پھر نیٹ ورک بڑھا تو انہوں نے سائیڈ بزنس کے طور پہ ملک بھر کے چھوٹے بڑے جرائم پیشہ افراد کو اپنے یہاں پناہ دینے اور پناہ کے عوض پیسے لینے کا بھی کام کیا۔
ہنی ٹریپ کرکے لوگوں کو جھانسہ دے کر اغوا کرنا اور رقم لوٹنے کا کاروبار بھی یہاں سے شروع ہوا ، ہنی ٹریپ ایک نیا ٹرینڈ ہے۔ حالیہ سالوں میں کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا برائے تاوان کیلئے ایک انوکھا طریقہ اپنایا ہے، جسے 'ہنی ٹریپ کڈنیپنگ‘ کے نام سے جانا جانا ہے۔ یہ طریقہ دنیا بھر میں کسی کو اغوا کرنے کیلئے اپنایا جاتا ہے۔ اس طریقے میں مرد ڈاکو کسی کو بھی فون کال کر کے خاتون کی آواز میں بات کرنے کے بعد دوستی کرتے ہیں، بعد میں انہیں ملاقات کیلئے کسی مخصوص جگہ بلا کر اغوا کر لیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سندھی زبان کے ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایک ڈاکو کو خاتون کی صاف آواز میں بات کرتے دیکھا گیا۔ خاتون کی آواز کی کشش پر کراچی، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے بھی لوگ آکر ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا ہو چکے ہیں۔ سکھر پولیس کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران شمالی سندھ کے مختلف اضلاع میں تین سو سے زائد لوگ خاتون کی آواز سن کر اغوا ہوئے۔ ان میں 50 سے زائد لوگوں کو پولیس نے بازیاب کرایا اور کئی افراد کو 'خاتون‘ سے ملنے سے پہلے ہی بچا لیا گیا۔ سستی گاڑیاں بیچنے کے نام پہ دھوکہ دہی کی وارداتوں میں کچے کے ڈاکوؤں کا نام آیا۔
پاکستان میں کلاشنکوف پہلے سندھ کے ڈاکوؤں نے استعمال کی اور بعد میں پولیس کے پاس پہنچی اور کلاشنکوف ملنے کے بعد ڈاکو طاقتور بن گئے اور جرم کرنے میں آسانی ہوگئی، جبکہ پولیس اور دیگر فورسز سے لڑنے کیلئے ڈاکوؤں نے راکٹ لانچر اور دیگر بھاری ہتھیار بھی خرید لیے تھے۔ سندھ کے ڈاکو جدید ہتھیار افغان پناہ گزینوں سے خریدتے تھے، یا پھر سمگلروں، یا بلوچستان لیویز فورس (قبائلی پولیس) یا سندھ پولیس کے کرپٹ افسران سے خریدتے تھے جو انہیں سرکاری اسلحہ بیچتے تھے، کیونکہ ڈاکو ہتھیاروں کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ ادا کرتے ہیں۔