5دسمبر: رضاکاروں کا عالمی دن

5دسمبر: رضاکاروں کا عالمی دن

اسپیشل فیچر

تحریر : ہارون احمد


رضاکارمعاشرے کا ایسا فرد جو کسی لالچ یا مالی مفاد کے بغیر دوسرے لوگوں کی مدد کرتا ہے/ کرتی ہے۔ ایک لمحہ کیلئے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ موجودہ خود غرض، مفاد پرست، اقرباء پروری، رشوت ستانی، نااہلی، کام چوری اور بھی بے تحاشہ معاشرتی برائیوں کی موجودگی میں ایسا کوئی بھی شخص جو رضاکار کی تعریف پر پورا اترے تو اسے بلند و بالا مقام ملنا چاہیے لیکن کیا ایسا ہے؟
اگر ہم پاکستانی معاشرے کا بہ نظر غائر جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں نظر آئے گی کہ ہم من حیث القوم اوپر بیان کی گئی برائیوں کے گڑھے میں غرق ہونے کے قریب قریب ہیں۔کیا ہمیں اس گڑھے سے نکلنے کیلئے کچھ کرنا چاہئے تو ہمیں اپنی دینی اساس کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اس سلسلے میں، میں ہجرت مدینہ کے موقع پر کئے گئے رضا کاری اور بھائی چارے کے مظاہرے کا ذکر ضرور کروںگا۔ جب مہاجرین کا قافلہ ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی قیادت میں مکہ سے مدینہ پہنچا تومہاجرین کے حالات سب کے سامنے تھے۔ ہمارے رسول ﷺ اس وقت صرف اور صرف انصار مدینہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے مسلمان مہاجر بھائیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور پھر زمانے نے بھی دیکھا اور انسانی آنکھ سے بھی یہ چیز پوشیدہ نہیں رہی کہ انصار مدینہ نے رضاکاری اور بھائی چارے کی ایسی مثال قائم کی جو تا قیامت دوبارہ نہیں ہو سکتی۔ انصار مدینہ نے اپنی ملکیت میں موجود ہر چیز میں مہاجر بھائی کو حصہ دار بنایا، یہاں تک کہ جس انصار مدینہ کی دو بیویاں تھیں (عرب میں ایک سے زائد شادیوں کا رواج عام تھا)ا س نے اپنی زیادہ خوبصورت بیوی کو طلاق دی تا کہ مہاجر بھائی اس کے ساتھ نکاح ثانی کر سکے(یہاں اس مثال کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اگرانصار مدینہ نے اس حد تک مہاجرین کے ساتھ نباہ کیا تو باقی مالی او ر دنیاوی چیزوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے)۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رضاکاری اور دوسروں کی بے لو ث مدد بھی مومن کی گمشدہ میراث ہے۔اگر ہماری قوم میں یہ جذبہ مکمل طور پر بیدار ہوجائے تو ہمارے 95فیصدمعاشرتی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
اب ہم آجاتے ہیں 5 دسمبر کے دن کی طرف۔ یہ دن ہر سال رضاکاروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس کی منظوری اقوام متحدہ نے 1985ء میں دی تھی۔اسے عالمی منظر نامہ پر اس وقت جانا اور مانا گیا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 52ویں اجلاس منعقدہ 20 نومبر 1997ء میں ایک قرارداد اس حوالے سے منظور کی گئی جس میں 2001ء کو رضاکاروں کا سال بھی قرار دیا گیا۔ اس کے بعد سے ہر سال یہ دن 5دسمبر کو ''رضاکاروں کے عالمی دن‘‘ (International Volunteer Day) کے طور پر منایا جاتا ہے ۔
آج کل کے تیز رفتار دور میں جب سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے چند سر پھرے ایسے ہوتے ہیں جو بے لوث کسی کی مدد کرنا اپنا فرض اوّلین سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی پوری دنیا کی طرح اس عالمی دن کو منایا جاتا ہے اور مٹھی بھر افراد حتی المقدور کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ رضاکاری کا جذبہ معاشرے میں پروان چڑھ سکے۔ حیران کن حد تک یہ بات دیکھی گئی ہے کہ یہ جذبہ 10سے 14سال کی عمر کے بچوں میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ ''بوائز سکائوٹس‘‘، ''گرلز گائید‘‘ ناموں سے کچھ ادارے پاکستان میں رضاکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں لیکن (مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سمت میں ہماری سوسائٹی کا رجحان بہت کم ہوتا جا رہا ہے۔ شائد پچھلے کچھ سالوں سے ملکی اور بین الاقوامی حالات نے بھی معاشرے کو کافی حد تک خود غرض بنا دیاہے۔
پاکستان میں ''پاکستان گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن‘‘ اس سلسلے میںکام کررہی ہے۔ دو سال قبل بیگم ثمینہ عارف علوی (بیگم صدرپاکستان) نے چیف گائیڈ پاکستان کا حلف اٹھایا تھا ۔ اگر ہمارے لیڈران اور ان کے اہل خانہ ایکٹیو رول ادا کریں تو کوئی ایسی بات نہیں کہ پاکستان میں بھی رضاکارانہ خدمت کا جذبہ پروان چڑھ سکتا ہے۔ معاشرے میں اس چیز کوپروموٹ کرنے کیلئے اداروں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔
ایک تحقیق کے مطابق پوری دنیا میں 70 فیصد رضاکارانہ کاموں کا کریڈٹ کسی ادارے کو نہیں لیکن معاشرے کے افراد کو انفرادی طور پر جاتا ہے کیونکہ لوگ ایسے کاموں کی شہرت بھی پسند نہیں کرتے۔
اقوام متحدہ کی ایک اور تحقیق کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ اور یورپ میں جو افراد رضاکارانہ کاموں میں زیادہ شرکت کرتے ہیں ان کی آمدنی میں دوسرے لوگوں کی نسبت 5فیصدزیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اس سلسلے میں یہاں ایک اسلامی بات کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ''رزق کی کشادگی بچت میں نہیں بلکہ سخاوت میں ہے‘‘۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ان پچاس ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جن کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ رضاکار موجود ہیں۔اللہ پاک ہمارے نوجوانوں اور رضا کاروں کو ہمت اور حوصلہ عطا کرے تاکہ وہ اسی طرح پاکستان کی خدمت کرتے رہیں۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
یادرفتگاں:ناصر کاظمی : ہر عہد کا شاعر

یادرفتگاں:ناصر کاظمی : ہر عہد کا شاعر

ناصر کاظمی اردو زبان کے ایک اہم شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں عشق، محبت، درد، رنج اور انسانیت کے جذبات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ وہ اپنی غزلوں کیلئے مشہور ہیں، لیکن ان کی نظمیں بھی بہت خوبصورت اور معنی خیز ہیں۔ناصر کاظمی ایک ہفت پہلو شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں عام طور پر غزل کا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ وہ صرف غزل کے ہی شاعر نہیں بلکہ دیگر اصناف سخن پر بھی انہیں دسترس حاصل تھی۔ ان کی غزلیں ان کے عصر کا آئینہ ہیں، تقسیم اور ہجرت کا نوحہ ہیں اور معصوم و مقدس عشقیہ جذبات و خیالات کی ترجمان بھی ہیں۔ ان کی نظمیں جہاں ایک طرف ان کی فن کاری اور زبان دانی کی دلیل ہیں وہیں ان کے ایک سچے محب وطن ہونے کا ثبوت بھی ہیں۔ ناصر کاظمی کا منظوم ڈرامہ ''سر کی چھایا‘‘ اس میدان میں ان کے ہنر کا لوہا منوانے کیلئے کافی ہے۔ ان کی نعتیں، سلام اور رباعیات ان کے مذہبی عقائد کے ترجمان ہیں اور ان کی فکری بلند پروازی کا بین ثبوت بھی، ناصر نے نثر نگاری میں بھی کمال کر دیا ہے۔ ان کی ترجمہ نگاری انگریزی اور اردو زبان پر ان کی دسترس کو ظاہر کرتی ہے۔ ناصر کاظمی کی کلیات کا مطالعہ کریں اور ان کی تمام تر ادبی خدمات کا جائزہ لیں تو وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی حق تلفی کی گئی ہے۔ انہوں نے جس نازک دور میں غزل کے سر پر دست شفقت رکھا وہ انتہائی نازک دور تھا۔ انہوں نے ناصرف غزل کا دفاع کیا بلکہ اس کی آبیاری بھی کی اور نوک پلک بھی سنواری۔ ناصر نے غزل کو کچھ اس انداز سے پیش کیا کہ وہ لوگوں کو اپنے دلوں کی آواز معلوم ہوئی۔ ناصر کاظمی کی نظمیں ان کی حب الوطنی کی مرہون منت ہیں۔ ہندوپاک کی 17روزہ جنگ کے دوران انہوں نے اپنے وطن کے تئیں اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرنے کیلئے اور اپنے ملک کے محافظوں کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے روز ایک ترانہ کہا۔ ترانوں کے علاوہ ان کی دیگر نظموں میں بھی حب الوطنی کا عنصر غالب ہے۔ ناصر بھلے ہی کامیاب نظم نگار نہ کہلائے جا سکتے ہوں لیکن ان کی نظموں کا نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ان کا منظوم ڈرامہ ''سر کی چھایا‘‘ ان کے ایک کامیاب ڈرامہ نگار ہونے کی دلیل ہے۔چوں کہ تقسیم اور ہجرت ناصر کے ادب کا مرکزی خیال ہیں اس لئے ان کے منظوم ڈرامے میں بھی ان عناصر کا کارفرمائی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔ ناصر نے بارگاہ نبی آخری الزماںﷺ میں نعتیں بھی کہی ہیںاور حضرت حسینؓ اور ان کے اہل خانہ نیز جملہ اصحاب کی خدمت میں سلام بھی پیش کیا ہے۔ نعت وسلام کے معاملے میں بڑا محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ ناصر کاظمی کی نثر انتہائی عمدہ ہے۔ وہ جتنے بڑے شاعر ہیں اتنے بڑے نثر نگار بھی ہیں۔ان کی نثر یوں تو خالص ادبی نوعیت کی ہے لیکن تقسیم اور ہجرت کے اثرات یہاں بھی نمایاں ہیں۔ پاکستان کو درپیش مسائل پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ وہ اپنے ملک کے داخلی، سیاسی اور خارجی مسائل پر توجہ دیتے ہیں۔انہوں نے ناصرف اپنے ملک کے مسائل کو اپنی نثر کا موضوع بنایا ہے بلکہ ان مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے۔ ان کی نثر میں کہیں خاکہ نگاری کا رنگ ہے، کہیں انشائیہ نگاری کا، کہیں منظر نگاری کا تو کہیں سفر نامے کا۔ ان کی نثر کے مطالعے کے بعد کوئی بھی ان کے ایک باکمال نثر نگار ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔ ناصر کاظمی کی ترجمہ نگاری بھی قابل توجہ ہے۔ ان کے ترجموں سے واضح ہو جاتا ہے کہ وہ اردوکے علاوہ انگریزی زبان پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ ناصر کاظمی کا اصل نام سید ناصر رضا کاظمی تھا۔وہ 8دسمبر1925ء کو انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے انبالہ اور شملہ میں ابتدائی تعلیم مکمل کی، پھر اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔1945ء میں وہ واپس انبالہ چلے گئے، تاہم کچھ عرصہ بعد پھر پاکستان چلے آئے۔ ناصرکاظمی صاحب طرز شاعر ہونے کے ساتھ ایک اعلیٰ پائے کے مدیر بھی تھے۔ انہوں نے ''اوراق نو‘‘ میں ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا اور پھر''ہمایوں‘‘ کے ایڈیٹر ان چیف ہو گئے۔ بعد ازاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ ناصر کاظمی نے 1940ء میں شعر کہنے شروع کیے۔ آغاز میں وہ اختر شیرانی سے متاثر تھے اور ان کے اُسلوب میں رومانی نظمیں لکھنا شروع کیں۔ اس کے بعد وہ غزل کی طرف آئے، جو بعد میں ان کا اصل میدان ٹھہری۔ انہوں نے کئی شعری مجموعے تخلیق کئے، جن میں ''برگ نے، دیوان، پہلی بارش، نشاط خواب، کے علاوہ''سُر کی چھایا‘‘ (منظوم ڈراما کتھا)، ''خشک چشمے کے کنارے‘‘(نثر، مضامین، ریڈیو فیچرز، اداریے) اور ''ناصر کاظمی کی ڈائری‘‘ شامل ہیں۔ ان کی شاعری کا اہم ترین وصف سادہ اور سلیس زبان کا استعمال ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں درد، اُداسی اور مایوسی کے ساتھ خوشی، جذباتی محبت اور پھر کمال کی رجائیت بھی ملتی ہے۔آخر میں قارئین کیلئے ان کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔ دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہوخوشی کا چاند شام ہی سے جھلملا کے رہ گیاسر پر خیالِ یار کی چادر ہی لے چلیںغم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھیاور بال بنائوں کس کیلئےوہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا اب باہر جائوں کس کیلئےکوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمرترے وصال کی امید اشک بن کے بہہ گئی کس طرح سے کٹے گا کڑی دھوپ کا سفروقت اچھا بھی آئے گا ناصرنئے کپڑے بدل کر جائوں کہاں دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی دل تو میرا اُداس ہے ناصر اس حقیقت سے کیا کوئی انکار کر سکتا ہے کہ انسان کا دل ویران ہو، تو اسے ہر طرف ویرانی ہی نظر آتی ہے۔ ہر شاعر کے پاس زندگی کے مختلف رنگ ہوتے ہیں، جنہیں وہ وقفے وقفے سے اشعار کی شکل میں ڈھالتا رہتا ہے۔ 2 مارچ 1972ء کو ہمارا یہ شاعر عالم جاوداں کو سدھار گیا اور اپنے لاتعداد مداحین کو بھی اداس کرگیا۔ 

سلگتی آگ کی جھیل نیرا گونگو متحرک آتش فشائوں کا سب سے بڑا گڑھا

سلگتی آگ کی جھیل نیرا گونگو متحرک آتش فشائوں کا سب سے بڑا گڑھا

ہم نے اور آپ نے آج تک پانی کی جھیلوں بارے تو بہت کچھ سن رکھا ہو گا اور دیکھ بھی رکھا ہو گا لیکن بہت ممکن ہے کہ آپ نے آج تک کسی ''آگ کی جھیل‘‘ بارے نہ سنا ہو۔ کہتے ہیں کہ ایک مغربی ملک کے آتش فشانی علوم کے ماہر بینوئیٹ سیمٹز جب اس جھیل کو دیکھنے آئے تو دیکھتے ہی بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا کہ ایسے لگ رہا ہے جیسے شیطان کی ہانڈی میں سوپ ابل رہا ہو‘‘۔ وسطی افریقی ملک جمہوریہ کانگو کے علاقے گوما میں گزشتہ 22 سالوں سے ''کوہ نیرا گونگو‘‘ نامی یہ آتش فشاں مسلسل پھوٹ رہا تھا۔نیرا گونگو پہلی دفعہ نہیں پھوٹا، 1977ء میں یہ پہلی مرتبہ رات کو اس وقت پھوٹ پڑا تھا جب حسب معمول لوگ اپنے کاروبار زندگی کے امور نمٹا کر خواب استراحت کی حالت میں تھے۔آدھی رات کے وقت 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے لاوے کے ایک طوفان نے قریب کی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سرکاری ذرائع نے اگلی صبح 60 ہلاکتوں کا اعلان کیا جبکہ غیر جانبدار ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی تھی۔اس کے بعد 2002ء میں ایک بار پھر اسی مقام پر گوما شہر کے قریب آتش فشاں پھوٹ نکلا جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنگینی سے نمودار ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا لاوا شہر بھر میں پھیل گیا جس سے آن کی آن میں 150 سے 200 افراد لقمہ اجل بن گئے اور15 فیصد شہر تباہ ہو گیا جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کے سب سے زیادہ متحرک آتش فشانوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ یہ ایک سلگتی جھیل کی شکل اختیار کر گیا۔ آتش فشانی علوم کے ماہرین متفقہ طور پر نیرا گونگو میں دہکتی آگ کے اس گڑھے کو دنیا کے متحرک آتش فشائوں کا سب سے بڑا گڑھا قرار دیتے ہیں۔آگ کے اس غیر معمولی دہکتے گڑھے کی چوڑائی 260 میٹر جبکہ اس کی گہرائی 700 میٹر تک بتائی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس گڑھے میں تقریباً 60 لاکھ کیوبک میٹر ابلتا ہوا لاوا موجود رہتا ہے۔ نیرا گونگو کی آتش فشانی چٹان کی بلندی3450 میٹر بلند ہے۔ ماہرین نے کچھ عرصہ پہلے انکشاف کیا تھا کہ اس آتش فشانی چٹان اور اس سے ملحقہ چٹانوں کا درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔اس آتش فشاں کا لاوا جب پھٹتا ہے تو اس آتش فشاں کی گہرائی کے مرکز سے قدرتی طور پر گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ لاوا ٹھنڈا ہو کر دوبارہ گرم ہونے لگتا ہے۔چنانچہ ماہرین کہتے ہیں لاوے کے اس بار بار گرم اور سرد ہونے کے عمل کے نتیجے میں بعض اوقات یہ گییس دھماکے کی شکل میں لاوے کو فضا میں چالیس فٹ تک بلند کر دیتی ہیں۔جو بذات خود ہر لمحہ سروں پر منڈلانے والا ایک خطرہ سمجھا جارہا ہے۔یہ دہکتا آتش فشاں گوما شہر سے صرف 18 کلومیٹر کی دوری پر اُبل رہا ہے جبکہ دوسری طرف یہ روانڈا کی سرحد کے بھی کافی قریب ہے۔کچھ عرصہ پہلے ''نیشنل جیوگرافک‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک مقامی باشندہ بتا رہا تھا ''اگرچہ پچھلے کئی عشروں سے ہم اس خوفناک صورتحال کو متواتر دیکھتے آ رہے ہیں، اس کے عادی بھی ہو گئے ہیں تاہم، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ یہ وہ ننگی تلوار ہے جو مسلسل ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے۔اس لئے اس شہر کے لوگ خوفزدہ تو ہیں لیکن وہ اپنے معمولات زندگی کو آخر کب تک ترک کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ایک اور شہری کہہ رہا تھا اگر ہم نتائج کی پرواہ کریں گے تو ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے اس لئے اب ہم نے حالات کے ساتھ سمجھوتا کرنا سیکھ لیا ہے۔ ہاں ایک اچھی بات یہ ہے کہ یہاں تحقیق دان آتے ہیں، میڈیا کے لوگ آتے ہیں، کوہ پیما اور سیاح بھی اب تو کثرت سے آتے ہیں جس سے نہ صرف ہمارے روزگار کے ذرائع بڑھتے ہیں بلکہ ہمیں اس علاقے کے تحفظ بارے آگاہی بھی ہوتی رہتی ہے۔سیاحوں کو لاوے کی جھیل تک پہنچنے کیلئے کانگو کی سرحد کے اس پار روانڈ سے ہوکر آنا پڑتا ہے۔ یہ ایک پر خطر مہم جوئی ہے کیونکہ صرف آٹھ کلومیٹر کے اس فاصلے میں ڈیڑھ کلومیٹر کی مشکل ترین عمودی چڑھائی بھی ہے جسے عبور کرنے میں کم و بیش چھ سے سات گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کوہ پیماؤں کو آسانی سے اس مہم جوئی کی اجازت ایک تو اس کے خطرناک راستے کی وجہ سے نہیں دیتی دوسرا اس خطے میں سالوں سے جاری علاقائی تنازع کے باعث بھی یہ ایک پرخطر اور متنازع علاقہ تصور ہوتا ہے۔مقامی انتظامیہ لوگوں کو گروہوں کی شکل میں اور مسلح رینجرز کی نگرانی میں مہم جوئی کی اجازت کو ترجیح دیتی ہے۔ جھیل سے جڑی مقامی توہماتآتش فشاں سے جڑی توہمات تو یہ ظاہر کرتی ہیں یہ علاقہ کئی صدیوں سے آتش فشانوں کی زد میں رہتا ہو گا۔ یہاں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ جب پہاڑوں سے لاوا پھوٹتا ہے تو گویا یہ بری روحوں کی ناراضگی کی علامت ہے، چنانچہ یہاں کے لوگ فوراً عبادت کرنے لگتے ہیں۔ ایسی روایات بھی ہیں کہ زمانہ قدیم میں ایسے موقعوں پر یہاں کے لوگ کنواری دوشیزاؤں کو آتش فشاں میں جھونک دیا کرتے تھے تاکہ ان کے مصائب ختم ہوں۔آج بھی یہاں کے کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ دراصل یہ جہنم کی روحوں کا ٹھکانہ ہے۔کچھ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ ایک دوسری دنیا کی طرف جانے کا راستہ ہے جہاں گناہ گاروں کی روحوں کو جلایا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ اس جھیل کو دوزخ کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔ اس کے برعکس سرحد کے اس پار روانڈا میں موجود ایک دوسری پہاڑی ''کاریسمبی‘‘ جو ایک غیر متحرک آتش فشاں ہے اور سارا سال برف سے ڈھکی رہتی ہے، یہ نیک روحوں کا ٹھکانہ تصور کی جاتی ہے۔ یہاں کے اکثر لوگ اپنے گناہ معاف کرانے کیلئے اس پہاڑی پر عبادات بھی کرتے ہیں۔ایک اور روایت کے مطابق یہاں کے لوگ آتش فشاں کا لاوا پھوٹنے پر اپنے گھروں کے اندر قید ہو کر مسلسل کچھ دن عبادات کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ یہ مصیبت جلد ختم ہونے کی منت مانتے بھی نظر آتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

سوئس نہرتنازع حل ہوا 1882ء میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کر کے نہر سوئس کو اپنے کنٹرل میں لے لیا تھا۔یہ عمل یورپی ممالک کیلئے بہت پریشان کن تھا جس کی وجہ سے یورپی ایوانوں میں بے چینی بڑھی اور صورتحال دن بدن خراب ہوتی چلی گئی۔ اس صورتحال کو قابو کرنے کیلئے 2مارچ 1988ء کو استنبول میں ایک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں یورپی ممالک نے شرکت کی۔اس کانفرس کے اختتام پر یہ فیصلہ ہوا کہ تمام ممالک اس نہر کو بلا معاوضہ ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال کریں گے۔نیلسن منڈیلاکی فتح02مارچ 1990ء کا دن افریقہ کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس روز افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے افریقن نیشنل کانگریس کے صدر کا انتخاب جیتا تھااور وہ 1999ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔1994ء میں نیلسن منڈیلا کو افریقی عوام نے اپنا صدر منتخب کیا۔ انہیں دنیا کے عظیم لیڈروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نیلسن منڈیلا نے ساری زندگی، نسل پرستی، غربت، ظلم اور عدم مساواتی نظام کے خلاف اعلان جنگ کئے رکھا۔ انہوںنے افریقہ کے اس طبقے کے حقوق کی لڑائی لڑی جو کئی صدیوں سے ظلم و بربریت کا شکار تھا۔ بلوچ ثقافت کا عالمی دن آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں بلوچ ثقافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ کسی بھی قوم یا معاشرے میں موجود رسم و رواج اور اقدار کو ثقافت کہا جاتا ہے۔ بلوچوں میں بہادری اور شجاعت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے اور ان کے رسم و رواج میں عرب کی رسومات بھی شامل ہیں۔ بلوچ ثقافت میں ان کے مخصوس لباس کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔گھیرے والی شلوار، پگڑی اور چووٹ بلوچی ثقافت میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔بلوچی رقص بھی ان کی ثقافت کا اہم حصہ ہے کسی بھی خوشی کے موقع پر اس رقص کے بغیر تقریب کو ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بلوچی ثقافتی دن پر تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں نوجوان بلوچ گیتوں کی دھنوں پر رقص بھی کرتے ہیں۔فلم ''کنگ کانگ‘‘ کی نمائش1933ء میں آج کے روز مشہورزمانہ فکشن فلم ''کنگ کانگ‘‘ نیویارک کے سنیما گھروں کی زینت بنی ۔کنگ کانگ کی منفرد کہانی نے ہر عمر سے تعلق رکھنے والے شخص کو متاثر کیا اور شائقین کی بہت بڑی تعداد نے اس فلم کو دیکھا۔ اس فلم کی مقبولیت آج بھی قائم ہے اور اس کی شہرت کو دیکھتے ہوئے اب تک اس فلم کے کئی حصے بن چکے ہیں۔منفرد عشقیہ کہانی پر مبنی یہ فلم زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں میں مقبول ہے۔  

زیر زمین شہر کی دریافت

زیر زمین شہر کی دریافت

زمانہ آدم سے لے کرانسان نے ترقی کی بہت سے منازل طے کرتے ہوئے طویل اور کٹھن سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ پتھروں کے زمانے سے اپنی حفاظت کیلئے نت نئے طریقے اپنائے۔ شروع میں پہاڑوں پر قدرتی غاروں کو اپنا مسکن بنایا، پھر گزرتے وقت کے ساتھ قبیلوں کی صورت میں آبادیاں آباد کیںاور رہنے کیلئے چاردیواری اور چھتوں کا استعمال شروع کیا۔ جنگلوں اور غاروں سے نکل کر شہروںکو آباد کیا ۔موجودہ دور میں انسان نے قدیم دور کے بارے میں انسانوں کے رہن سہن اور تہذیبوں کے بارے میں دریافت کرناشروع کیا تووادی سندھ طاس جیسی سب سے قدیم اور منظم آبادیوں کو دریافت کیا گیا۔ جس سے پرانے لوگوں کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی گئیں اور انسانوں کے ترقی کی جانب سفر کو جانچنے میں مدد ملی۔ اسی طرح ترکی کے علاقوں میں بھی زمانہ قدیم کے آثار موجود ہیں جہاں پر ایک سو مربع میل کے علاقے میں 200 کے قریب زیر زمین دیہات دریافت کئے گئے ہیں ۔زمانہ قدیم میںموجودہ ترکی کے صوبہ نیو سیچہرکے علاقے کیپا ڈوشیاں پر ہٹی ، فارسی ، سکندر اعظم ، روم ، بازنطینی سلطنت، سلطنت عثمانیہ اور ترکوں نے حکومت کی۔ 1963ء میں صوبہ نیوسیچہر میں ایک شخص نے اپنے گھر کی تزئین و آرائش کا کام شروع کیا اس نے اپنے تہہ خانے میں ایک دیوار گرا دی۔ دیوار کی دوسری جانب اسے ایک پراسرار کمرہ ملا۔ اس نے کھدائی جاری رکھی اور ایک سرنگ دیکھی مزید کھدائی کرنے سے معلوم ہوا کہ زیر زمین ایک شہر موجود ہے۔ انجینئرنگ کے اس شاہکار کے 8 درجے تھے ۔ ان منزلوں پر رہنے والے باشندوں کو تہہ خانوں، ذخیرہ کرنے کی جگہوں، چیپلوں، ایک اسکول، ایک اسٹڈی روم اور دیگر ڈھانچے بھی ملے۔تمام منزلیں سرنگوں کے ایک وسیع نیٹ ورک سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زیر زمین شہر ایک پناہ گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ آپ باہر سے تعمیر نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی گہرائی تقریباً 279 فٹ ہے۔ یہ کمپلیکس اتنا بڑا تھا کہ تقریباً 20 ہزار لوگوں کے علاوہ ان کے مویشیوں اور خوراک کی فراہمی کو پناہ دی جا سکتی تھی۔ اس زیر زمین شہر میں تازہ ہوا کیلئے بھی بہترین انتظام کیا گیا تھا۔زیر زمین رہنے والے لوگ ہوا کیلئے بنائے گئے وینٹیلیشن کو کنویں سے پانی نکالنے کے بھی استعمال کرتے تھے یہ کنواں سطح زمین پر رہنے والے دیہاتیوں اور زیر زمین شہر میں چھپے لوگوں کو بھی پانی فراہم کرتا تھازیر زمین شہر کو تحفظ کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ سرنگوں کو اندر سے بڑے گول رولنگ پتھر کے دروازوں بنائے گئے تھے۔ گزرگاہیں انتہائی تنگ تھیں تاکہ حملہ آوروں کو اندر داخل ہونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔2014ء میں ترکی کی ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن (ٹوکیو) کی طرف سے کئے گئے شہری تبدیلی کے منصوبے کے دوران سیکڑوں عمارتوں کو مسمار کردیا گیایہ عمارتیں نیواشائر قلعے اور اس کے آپس پاس واقع تھیں۔ جب نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے زمین میں کھدائی شروع کی گئی تو ایک بڑے زیر زمین شہر کو دریافت کیاگیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شہر آج سے 5 ہزار سال پرانا ہے،بتایا جاتا ہے کہ یہ دنیامیں آج تک ہونے والے آثار قدیمہ کی سب سے بڑی تلاش سمجھی جا رہی ہے۔ اس زیر زمین شہر کے 600 کے قریب داخلی راستے ہیں اور سرنگوں کے ذریعے شہر کو آپس میں ملایا گیا ہے۔ اس زیر زمین شہر میں مویشیوں کے اصطبل، کنویں ، پانی کے ٹینک ، کھانا پکانا کیلئے کچن ، بڑے ہال کمرے ، باتھ روم اور مقبرے بھی موجود ہیں۔زیر زمین شہر کی تعمیر میں ہوا اور روشنی کیلئے بھی خاص انتظام کیا گیا تھا۔ ماہرین کے خیال کے مطابق اس زیر زمین شہر میں 20 ہزار سے زائد افراد کے رہنے کے انتظامات کئے گئے تھے۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برسوں کے دوران، 9 قدیم شہر ایک دوسرے کے اوپر بنائے گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع تھا، اس لیے یہ ایک خوشحال تجارتی اور ثقافتی مرکز بن گیا۔ اس اسٹریٹجک پوزیشن نے ٹرائے کو پوری تاریخ میں پرکشش بنا دیا۔ ٹروجن تنازعہ کے بعد، شہر کو 1100 - 700 قبل مسیح کے درمیان چھوڑ دیا گیا تھا، پھر یونانی آباد کاروں نے اس علاقے کو دوبارہ دریافت کیا، اور سکندر اعظم نے وہاں حکومت کی۔ رومیوں نے پھر شہر پر حملہ کر دیا۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس جگہ پر خطے میں کسی بھی کھدائی شدہ مایا بستیوں سے زیادہ تعمیرات دریافت کی گئی ہے۔ 1000ء کے بعد وہاں کی مایا تہذیب کو زوال کا سامنا کرنا پڑا۔شہر کی باقیات میں آرکیٹیکچرل کمپلیکس اور مجسمہ سازی کی یادگاریں، دفاعی نظام، کانیں، پانی کے انتظام کی خصوصیات، بڑے پیمانے پر مندر کے اہرام اور محلات شامل ہیں۔  

ٹینس بال بنائے زندگی آسان

ٹینس بال بنائے زندگی آسان

آپ نے آج تک ٹینس کی گیند صرف کھیل ہی کیلئے استعمال کی ہوگی، مگر حقیقت میں یہ گیند آپ کے روز مرہ کے کئی کام آسان کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹینس کی گیند کار پارکنگ میں آپ کی مدد کرسکتی ہے اور آپ کو میٹھی نیند سُلانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ ذیل میں ٹینس کی گیند کے چندحیرت انگیز فوائد کا ذکر کیا جارہا ہے۔ ان سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگی آسان بنائیں۔پائوں درد کا علاج اگر آپ کے پائوں میں درد ہے تو ٹینس کی گیند زمین پر رکھیں۔ اپنے جوتے اتاریں اور پائوں کو گیند پر رکھ کراسے گھمانا شروع کردیں۔ اس عمل سے آپ کے پائوں کو سکون ملے گا اور درد میں کمی واقع ہوگی۔کمر درد کا علاجاگر آپ کی کمر میں درد ہے تو ایک ٹیوب نما موزے میں چند ٹینس کی گیندیں ڈالیں اور اس کامنہ باندھ دیں۔ اب اسی موزے کو تولیے کی طرح کمر کے گرد اس طرح حرکت دیں، جس طرح آپ نہانے کے بعد کمر خشک کرتے ہیں۔درد میں افاقہ ہو گا۔ ٹول بکسآپ ٹینس کی گیند کو ٹول بکس کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ سب سے پہلے گیند پر چیرا لگائیں۔ پھر اس شگاف کو چوڑا کرنے کیلئے گیند کو دبائیں اوراس میں کچھ کیلیں ڈالیں۔ پھر گیند کو دبانا ترک کردیں، تاکہ گیند کا منہ بند ہوجائے۔ اب آپ اسے کہیں بھی ایک ٹول باکس کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی، گیند کو دبایا اور کیل نکال لی۔موزے رفو کرنااکثر افراد سلائی میں مشکلات کی وجہ سے اپنے موزے کی ایڑی اور پنجے میں سوراخ ہونے کے بعد انہیں پھینکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے موزے کی سلائی کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس میں ٹینس کی گیند ڈالیں اور اسے ایڑھی اور پنجے کے پاس رکھیں۔ یوں موزے کی مطلوبہ سطح کشادہ ہوجائے گی اور آپ آسانی سے رفو بناسکیں گے۔سائیکل سٹینڈٹینس کی گیند بائی سائیکل کو متوازن رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ساحل، چکنی مٹی یا گھاس میں اپنی سائیکل کھڑی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آپ کو خطرہ ہے کہ سائیکل کا اسٹینڈ ز زمین میں دھنس سکتا ہے تو ایسی صورت سے بچائو کے لیے اگر آپ ٹینس کی گیند میں شگاف کر کے اسے سائیکل کے اسٹینڈ میں لگادیں تو سائیکل زمین میں نہیں دھنسے گی اور متوازن رہے گی۔ بوتل کا ڈھکن کھولنابعض اوقات بوتل کا ڈھکن گھماکر اسے ٹھیک طرح کھولنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسے عمل کو آسان بنانے کیلئے ٹینس کی گیند کو دو حصّوں میں تقسیم کیجیے۔ پھر ایک حصّے کو بوتل کے ڈھکن پر رکھ کر گھمایے۔ یوں آپ بغیر کسی مشکل کے بوتل کا ڈھکن کھول سکتے ہیں۔نرم لکڑی میں کیل ٹھونکنا اگر آپ کسی نرم لکڑی میں کیل ٹھونکنا چاہتے ہیں اور آپ کو ہتھوڑی کی ضرب سے لکڑی ٹوٹنے کا خدشہ ہے تو ٹینس کی گیند میں چیرا لگا کر اسے ہتھوڑی کے آگے لگالیں اور کیل پر ضرب لگائیں۔ یوں، آپ کا کام آسان ہوجائے گا۔ کار پارک کرنا گیراج میں کار پارک کرنا بھی ایک فن ہے۔ اکثر کار کے دیوار سے ٹکرانے یا غلط جگہ پارک کرنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کا ایک آسان حل یہ ہے کہ آپ جس جگہ کار کھڑی کرتے ہیں، وہاں چھت سے دھاگا باندھ کر گیند لٹکادیں۔ اب جب بھی آپ مقررہ جگہ پر کار لے کر آئیں گے، تو گیند اس سے ٹکرائے گی تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ آپ نے کار درست جگہ پارک کی ہے۔خراٹوں سے نجات عموماً کمر کے بل سوتے ہوئے انسان زیادہ خراٹے لیتا ہے۔ خراٹوں سے بچنے کیلئے ایسے افراد ٹینس کی گیند سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سوتے ہوئے اگر ایسے افرادکے پاجامے کی عقبی جیب میں ٹینس کی گیند رکھ دیں تو یہ گیند انہیں کمر کے بل سونے نہیں دے گی اور وہ کروٹ کے بل سونے پر مجبور ہوں گے۔ یوں آپ ان کے خراٹوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔ ٭...٭...٭  

آج کا دن

آج کا دن

گجرات قتل عام 28 فروری 2002ء کو گجرات فسادات کے دوران''نرودا پاٹیا قتل عام‘‘ احمد آباد، ہندوستان میں نرودا میں ہوا ۔5 ہزار انتہاپسند ہندوؤں نے 97 مسلمانوں کو قتل کیا۔ یہ قتل عام وشواہندو پریشد کے ایک ونگ بجرنگ دل نے کیا،گجرات میں بر سراقتدار بھارتی جنتا پارٹی بھی اس قتل عام میں شریک تھی۔اسی دن گلبرگ سوسائٹی میں بھی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، بشمول کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کے 35 افراد کو زندہ جلا دیا گیاجبکہ مجموعی طور پر 69 مسلمانوںکو شہید کیا گیا۔پہلی خلیجی جنگ کا خاتمہ1991ء میں آج کے روز پہلی خلیجی جنگ کا اختتام ہوا۔ خلیجی جنگ ایک مسلح مہم تھی جسے 35 ممالک کے فوجی اتحاد نے کویت پر عراقی حملے کے جواب میں چلایا تھا۔ یہ جنگ دو مراحل پر مشتمل تھی، پہلا مرحلہ ''آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ‘‘ اگست 1990ء سے جنوری 1991ء تک جاری رہا۔ دوسرے مرحلہ ''آپریشن ڈیزرٹ سٹارم‘‘ کا آغاز 17 جنوری 1991ء کو عراق کے خلاف فضائی بمباری کی مہم سے ہوا اور 28 فروری 1991ء کو کویت کی آزادی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔خلائی جہاز حادثہ28فروری1966ء کو امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کاجہاز ''ٹی38‘‘سینٹ لوئس،میسوری کے لیمبرٹ فیلڈ میں گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثے میں دو خلا باز ایلیوٹ سی اور چارلس باسیٹ ہلاک ہو گئے۔ خلائی جہاز میکڈونل ائیر کرافٹ کی عمارت سے ٹکراگیا جہاں ''جیمنی9‘‘خلائی جہاز کو تیار کیا جارہا تھا۔ ناسا کے ایک پینل نے حادثے کی تحقیقات کیں ۔موسم کی خرابی اور پائلٹ کی غلطی کو حادثے کی وجہ قرار دیاگیا۔مصر کا برطانیہ سے آزادی کا اعلان28فروری1922ء کو مصر نے آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا ،جس کے بعد برطانیہ نے مصر کو ایک خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔4 صدیوں تک عثمانی حاکمیت کے زیر اثر مصر 1882ء میں برطانوی سامراج کے ماتحت آگیا۔40 سالہ اس دور تسلط کے بعد بالاخر 28 فروری 1922ء کو برطانیہ نے اسے آزاد کرنے کا اعلان تو کردیا مگر اس کے بعد بھی اس کے نو آبادیاتی اثرات 1952ء کے انقلاب تک جاری رہے۔اسی سال مصر کا شاہی نظام ختم ہوا اور اس کی جگہ جمہوریت نے لے لی۔''228ہینڈ ان ریلی‘‘228 ہینڈ ان ہینڈ ریلی 28 فروری 2004ء کو تائیوان ''انسانی زنجیر ‘‘کی شکل میں ایک مظاہرہ تھا۔ تقریباً 20 افراد نے 500 کلومیٹر (310 میل) لمبی انسانی زنجیر بنائی، جو تائیوان کے شہر کیلونگ کے بندرگاہ سے لے کر ایلوانبی، پنگٹ کے جنوبی سرے تک تھی۔ اس مظاہرے کا مقصد امن کا مطالبہ تھا۔یہ مظاہرہ بالٹک وے سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ اس سے قبل 20 لاکھ افراد پر مشتمل انسانی زنجیر کا مظاہرہ بالٹک ریاستوں میں 1989 میں کیا گیا تھا۔