مچھلی دل ودماغ کی غذا!
اسپیشل فیچر
موسم سرما کھائی جانے والی غذائوں میں مچھلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ لوگ مچھلی کی مختلف اقسام کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں۔پاکستان میں مچھلی زیادہ تر فرائی کر کے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی کا سالن بھی مرغوب غذا ہے۔ آج ہم پاکستان میں پائی جانے والی مختلف اقسام کی مچھلیوں کے بارے میں ذکر رہے ہیں۔
ہمالیا مہاشیر: پاکستان کے تمام پہاڑی علاقوں میں ماسوائے مغربی بلوچستان 500 سے 800 میٹر کی بلندی تک پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نیپال ، بنگلہ دیش اور برما میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس کو پاکستان کی قومی مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا زیاہ سے زیادہ وزن55 کلو گرام ریکار کیا گیا ہے۔ قدرتی پانیوں میں اس کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ جس کیلئے محکمہ نے اٹک کے مقام پر اس کی افزائش کا بندوبست کیا ہے۔ جہاں سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مچھلیاں پیدا کر کے قدرتی پانیوں میں چھوڑی جاتی ہیں۔
رہو مچھلی :پاکستان، ہندوستان، آسام اور برما کے تازہ پانیوں میں پائی جانے والی ایک مشہور سبزی خور مچھلی ہے۔ اسے ڈمبرا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کیلئے موزوں درجہ حرارت 18-36 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ یہ غذائی اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ تالابوں میں اگر اس کو قدرتی اور سپلیمنٹری خوراک مہیا کی جائے تو ایک سال میں ایک کلو سے زیادہ وزنی ہو جاتی ہے۔
موری:پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش ، آسام اور برما کے تازہ پانیوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ مرگل ، مراکھا ،مراکھی اور نیتی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ قدرتی پانیوں کے علاوہ تالابوں میں اچھی افزائش کرتی ہے۔ اسے بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اس کے گوشت کا ریشہ نرم اور انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔پانی کی تہہ میں موجود گلی سڑی نباتات اور آبی پودے اس کی خواک ہیں۔ یہ مچھلی 1 سال میں ایک کلو گرام سے لے کر ڈیڑھ کلوگرام تک وزن کرتی ہے۔
تھیلا مچھلی: پانی کی سطح پر تیرنے والے آبی نباتات اور خورد بینی جانور اس کی اہم خوراک ہیں۔ پاکستان کے علاوہ یہ ہندوستان، بنگلہ دیش اور برما میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسے تھیلا اور کھلا بھی کہتے ہیں۔ یہ تالابوں میں بھی پائی جاتی ہے۔
سلور کارپ:چین کے دریائوں کی علاقائی مچھلی ہے۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ 4 فروری 1984ء کو 5000 کی تعداد میں بچہ مچھلی نیپال سے درآمد کی گئی۔ جس کو فش ہیچری میں پرورش کے بعد 1988ء سے مصنوعی افزائش نسل کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں بچہ مچھلی حاصل کی جارہی ہے۔ فارموں میں اس کی کامیاب افزائش جاری ہے۔ میٹھے پانی کی یہ مچھلی معمولی نمکین پانی میں بھی رہ سکتی ہے۔
گراس کارپ :میٹھے پانی کی مچھلی ہے۔ آبی پودے و دیگر نباتات اپنے وزن سے بھی زیادہ یومیہ کھا سکتی ہے۔ اسے آبی نباتات کے تدارک کیلئے دنیا بھر میں اہمیت حاصل ہے۔ اس مچھلی کا آبائی وطن مشرقی چین ہے۔ یہ دنیا کے تقریباً56 ممالک میں روشناس ہوچکی ہے۔ مچھلی کا سر لمبوترا اور چوڑا ہوتا ہے۔آنکھوں کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے۔ یہ مچھلی تالابوں میں خوب افزائش کرتی ہے۔
بگ ہیڈ کارپ: سر بڑاہونے کی وجہ سے اس مچھلی کوبگ ہیڈ کا نام دیا گیا۔ اس کا آبائی وطن چین ہے۔ یہ دنیا کے 30سے زیادہ ممالک میں پائی جاتی ہے۔ یہ بنیادی طورپر تازہ پانی کی ایک سبزی خور مچھلی ہے۔ اس کی آنکھیں بڑی اور سلیٹی رنگ کی ہوتی ہیں۔ آنکھوں کا بیرونی حلقہ سنہری ہوتا ہے۔چین میں اس کے سرکا سوپ بڑے شوق سے پیا جاتا ہے۔ اس کے گوشت کی نسبت اس کا سر زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے۔
گلفام مچھلی :بنیادی طورپر وسطی ایشیاء کے سرد علاقوں کی مچھلی ہے۔ متغیر ماحول میں بآسانی ہم آہنگ ہونے اور نامساعد عوامل کو برداشت کرنے کی صلاحیت کے باعث مشہور ہے۔ اس مچھلی کو بند پانیوں میں بھی افزائش کی بنا پر ماہی پروری میں اہم مقام حاصل ہے۔ پاکستان میں اس مچھلی کو جون 1984ء میں محکمہ ماہی پروری نے تھائی لینڈ سے برآمد کیا تھا۔ اس کیلئے موزوں درجہ حرارت 18 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔
تلاپیہ مچھلی:گرمی پانی کی یہ مچھلی مشرقی افریقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ وہیں سے آہستہ آہستہ دنیا کے بیشر ممالک میں پھیلی۔ 20 درجے سینٹی گریڈ سے اوپر والے پانیوں میں خوب بڑھتی ہے۔ بہت سخت جان ہے۔ میٹھے اور نمکین یا کھارے پانی میں یکساںطور با آسانی رہ سکتی ہے۔ یہ مچھلی ہر طرح کے چھوٹے آبی جانور اور پودے کھاتی ہے۔ آج کل تالابوں میں اس کی یک جنسی کاشت کی جاتی ہے۔ جس میں صرف نر مچھلی کو پالا جاتا ہے کیونکہ نر مچھلی زیادہ بہتر وزن کرتی ہے ۔
رین بو ٹرائوٹ:اس مچھلی کو اپنی مختلف خصوصیات کے پیش نظر دیگر ٹرائوٹ مچھلیوں پر برتری حاصل ہے۔ پاکستان میں اس مچھلی کو درآمد کر کے سوات اور کاغان کے علاقوں میں لایا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں مری کے مقام پر ٹرائوٹ مچھلی کی افزائش کی جارہی ہے۔ رین بو ٹرائوٹ مچھلی برفانی علاقوں کے صاف شفاف اور ٹھنڈے پانیوں کی دریائی مچھلی ہے۔
سول مچھلی:اس مچھلی کو عام وطورپر سول ، کوبرا فش یا دیو ہیکل سانپ مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مچھلی پاکستان، افغانستان، بھارت ، نیپال ، بنگلہ دیش ، برما ، تھائی لینڈ اور چین کے گرم اور گرم مرطوب علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس مچھلی کا رنگ سبزی مائل بھورا ہوتا ہے۔ اس کی قدرتی خوراک دوسرے آبی جاندار ہیں۔ یہ نہایت قیمتی اور لذیذ مچھلی ہے جو مارکیٹ میں ایک ہزار روپے کلو تک فروخت ہوتی ہے۔
سنگھاڑی مچھلی:اس مچھلی کو مختلف علاقوں میں سنگھاڑہ اور شنگھاڑی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ افغانستان ، پاکستان ، بھارت، نیپال ، بنگلہ دیش اور برما کے گرم پانیوں میں پائی جاتی ہے۔ اس مچھلی کا سر لمبوترا منہ چوڑا اور چپتا ہوتا ہے۔ منہ کے اطراف دوبڑی مونچھیں ہوتی ہیں۔ اس کا رنگ سر کی اطراف بھورا مائل سلیٹی ہوتا ہے۔ چھوٹی مچھلیاں ، جھینگے اور گھونگے رغبت سے کھاتی ہے۔ انتہائی کم کانٹوں کی وجہ سے بہت پسند کی جاتی ہے۔