اکثر طالب علموں کا شکوہ اونگھ اور نیند پڑھنے نہیں دیتی !

اکثر طالب علموں کا شکوہ اونگھ اور نیند پڑھنے نہیں دیتی !

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ


''جب بھی میں کتاب کھولتا ہوں فوراً سستی چھا جاتی ہے۔ ذرا سی دیر میں سارا بدن تھکا تھکا سا محسوس ہوتا ہے اور فوراً اونگھ آنے لگتی ہے۔ یوں کتاب کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے‘‘۔ اکثر طالب علم اس بات کی شکایت کرتے ہیں اور ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس اس کے مداوے کیلئے حاضر ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں!
علاج اس کا بھی کچھ اے
چارہ گراں ہے کہ نہیں......
وجوہات
موقع بے موقع اونگھ اور نیند کا آنا اس وقت ہوتا ہے جب آدمی کو ایسا کام کرنے پر مجبور کر دیا جائے جس میں نہ کوئی دلچسپی ہو اور نہ لگائو اور ذہنی و جسمانی طور پر وہ اس سے رتی بھر مطمئن نہ ہو۔
اس کے علاوہ موقع بے موقع ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے پینے، ورزش کی کمی یا بعض بیماریوں مثلاً ذیابیطس وغیرہ میں بھی بندہ ہر وقت بہت سستی محسوس کرتا ہے اور سویا سویا رہتا ہے۔ نوجوانوں میں ایسا اس وقت ہوتا ہے جب انہیں ان کی پسند کا کام نہ ملے۔ انہیں ایسے مضامین پڑھنے پر مجبور کر دیا جائے جن میں ان کی ذرا دلچسپی نہ ہو۔ اس کے علاوہ وہ طالب علم جو باقاعدگی سے اپنا کام نہیں کرتے اور امتحان کے دنوں میں افراتفری میں پڑھائی شروع کرتے ہیں، ان میں اس کی خاصی شکایت ہوتی ہے کیونکہ جب پلاننگ کے بغیر اور بے قاعدگی سے کوئی کام شروع کیا جائے تو ذہن جسم کا ساتھ نہیں دیتا اس لیے وہ کام شروع کرتے وقت بندہ سست اور پژمردہ ہو تا ہے اور کام یا پڑھائی شروع کرتے ہی نیند آ جاتی ہے۔
علاج اور بچائو
جو طالب علم زیادہ اونگھ اور پڑھائی کے دوران نیند آنے کے مسئلہ کا شکار رہتے ہیں انہیں چاہیے کہ مندرجہ ذیل باتوں پہ عمل کریں۔ اس سے اس طرح کے مسائل پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
(1)۔ذہن اور جسم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جسم کو صحت مند رکھنے کیلئے تازہ ہوا، مناسب آرام، باقاعدہ ورزش وغیرہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ جسم صحت مند ہوگا تو ذہن بھی اس کے ساتھ ساتھ چلے گا اور آپ جو کام کریں گے آپ کا ذہن آپ کا پورا ساتھ دے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے مندرجہ بالا امور کا خیال رکھا جائے۔ ان میں کوئی چیز کم ہے تو اس کمی کو پورا کر نے کی کوشش کریں۔
(2)۔روزانہ اور وقت پر کام کرنے سے بہت سی پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔ جو اپنا کام باقاعدگی سے کرتے ہیں وہ بہت کم پریشانیوں اور ناکامیوں کا شکار ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ باقاعدگی کو زندگی کا شعار بنائیں۔ جو کام آج کرنا ہے اسے آج ہی کریں۔ اس سے آپ ہمیشہ کامیاب ہوں گے اور کامیابیاں آپ کا مقدر بنیں گی اور کبھی بھی پڑھائی کرتے وقت اونگھ یا نیند آپ کو تنگ نہیں کرے گی۔
(3)۔بعض نوجوانوں میں خواہ مخواہ کا ''سٹڈی فوبیا‘‘ ہوتا ہے جسے پڑھائی سے ڈر کہتے ہیں۔ جب کبھی ایسا مسئلہ در پیش ہو، صدق دل سے اللہ سے مدد مانگیں اور ذہن خالی کر کے اپنی پڑھائی میں لگ جائیں۔ انشاء اللہ کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوگا۔
(4)۔ایک سنہری اصول یہ ہے کہ جب کبھی بھی آپ بہت زیادہ پریشانی اور ذہنی دبائو کا شکار ہوں تو اس دوران ذہن پر مزید بوجھ نہ ڈالیں بلکہ اپنے آپ کو بالکل فارغ چھوڑ دیں۔ کچھ دیر کیلئے آرام کریں، باہر گھومیں پھریں۔ چائے کا ایک کپ نوش کریں اور اس کے بعد جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ کر Relax کریں اور اب ذہن کو فریش کر کے کام کی طرف لگیں۔
(5)۔بعض طالب علم زیادہ تر جاگنے کیلئے بعض دوائوں کا بھی استعمال کرتے ہیں، جن کا الٹا اثر ہوتا ہے۔ اصل میں تمام دوائیں کیمیکل اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں اور جب یہ جسم میں داخل ہوتی ہیں تو جسم پر کوئی نہ کوئی مضر اثر ضرور چھوڑتی ہیں اس لیے ان سے پرہیز بہت ضروری ہے۔
(6)۔اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض طالب علم امتحان کے دنوں میں کھاتے پیتے بہت ہیں اور فکر و پریشانی کی صورت میں زیادہ کھا یا پی کر سکون اور فرار ڈھونڈتے ہیں اور یوں ہر وقت سسترہتے ہیں اور اونگھتے رہتے ہیں۔
(7)۔امتحان کے دنوں میں بالخصوص اور عام دنوں میں بالعموم اپنی خوراک کو صحیح رکھیں۔ زیادہ چٹ پٹے اور مصالحہ دار کھانوں سے پرہیز کریں۔ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیں۔ اس سے آپ تندرست اور توانا اور فریش رہیں گے اور اونگھ یا نیند کبھی تنگ نہیں کرے گی۔
٭...٭...٭

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اٹلانٹا سیاہ فاموں کا صاف ترین شہر

اٹلانٹا سیاہ فاموں کا صاف ترین شہر

دنیا میں جہاں کہیں شہری حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد کا ذکر چھڑے گا تو وہاں مارٹن لوتھرکنگ کا ذکر ضرور آئے گا اور جب مارٹن لوتھرکنگ کا ذکر آئے گا تو وہاں اٹلانٹا شہر کا ذکر ضرور آئے گا۔ امریکہ میں شہری حقوق کی بحالی کیلئے تحریک کا آغاز اٹلانٹا کی گلیوں اور بازاروں سے ہوا اور اس تحریک کے ہر اوّل دستے کا روح رواں ایک سیاہ فام سٹوڈنٹ لیڈر مارٹن لوتھر کنگ تھا۔ مارٹن لوتھر کنگ کی جائے پیدائش اٹلانٹا ہے۔ جہاں سے مارٹن لوتھر کنگ نے امریکہ میں بسنے والے سیاہ فاموں کے حقوق منوانے کیلئے ایک بہت بڑی تحریک کا آغاز کیا۔ اس تحریک کے جیالوں نے وہ مقاصد حاصل کر لیے جس کی خاطر انہوں نے قربانیاں دیں جن میں تحریک کے سالار اعلیٰ مارٹن لوتھر کنگ کی جان کی قربانی بھی شامل ہے۔اٹلانٹا امریکی ریاست جارجیا کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ یہ واحد شہر ہے جو امریکہ میں دریائے مس سس پسی کے مشرق میں واقع سب سے بلند شہر ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 1010فٹ ہے۔ا س کا رقبہ 133مربع میل ہے۔ امریکہ کے ٹاپ ٹین شہروں میں اٹلانٹا کا نواں نمبر ہے۔ اس کے علاوہ اٹلانٹا امریکہ کا صاف ستھرا شہر ہے، حالانکہ راقم نے دیکھا کہ نیویارک شہر کے اکثر علاقے جہاں پر سیاہ فام کی اکثریت آباد ہے۔ گندے ترین علاقے شمار کئے جاتے ہیں، اس کے باوجود اٹلانٹا میں جہاں ایک کثیر تعداد سیاہ فام کی آباد ہے، اسے صاف ترین شہر کہا جاتا ہے۔اٹلانٹا کا شہر سیاہ فام آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اٹلانٹا کی سوا چار لاکھ کی آبادی میں 54فیصدسیاہ فام لوگ رہ رہے ہیں جبکہ سفید فام 38فیصد، ہسپانوی5فیصد اور ایشیائی 3فیصد ہیں۔ اٹلانٹا امریکہ کا ایک کلچرل فنی اور اقتصادی لحاظ سے بہت بڑا مرکز ہے۔ تعلیم کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ایک اہم شہر بھی ہے۔ معاشی لحاظ سے اٹلانٹا امریکی شہروں کی رینکنگ میں چھٹے اور دنیا کے شہروں کی رینکنگ میں پندرھویں نمبر پر ہے۔ اس شہر کی ترقی کا اندازہ اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ 1892ء میں اس شہر میں فلک بوس عمارتیں تعمیر ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ 1966ء کے سمر اولمپکس کی میزبانی کا موقع بھی اٹلانٹا کو مل چکا ہے۔اٹلانٹا کیسے آباد ہوا؟انیسویں صدی کے وسط میں جب امریکہ کے جنوب مشرق اور مغربی علاقہ میں ریلوے کا جال بچھایا جانے لگا تو اس وقت کسی ایسے مقام کی ضرورت محسوس ہوئی جو چاروں اطراف کے شہروں کو آپس میں ملانے کا کام دے۔ تب ماہرین کی نظر انتخاب اٹلانٹا کی موجودہ جگہ پر پڑی۔ پھر اس جگہ کو ریل کے ایک جنکشن کے طور پر بسایا گیا اور اس شہر میں امریکہ کی قومی ریلوے کے علاوہ روڈ ٹرانسپورٹ کی کمپنی گرے ہائونڈ کے بہت بڑے اسٹیشن قائم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بلکہ دنیا کی ٹاپ کلاس ایئر لائن ڈیلٹا ایئر لائن کا ہیڈ کوارٹر بھی اٹلانٹا ہی میں ہے۔ اس وقت اٹلانٹا شہر کا امریکہ کے دوسرے اہم شہروں سے درمیانی فاصلہ کچھ اس طرح ہے۔جنوب میں ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کا فاصلہ 661میل ،واشنگٹن ڈی سی کا 636میل،نیویارک کا 869 میل، لاس اینجلس کا 2237میل، ریاست ٹیکساس کے شہرہیوسٹن کا 800میل ہے۔ملک کی اہم شاہرائیں ''آئی 20‘‘، ' 'آئی 75‘‘ اور ''آئی 85‘‘ اٹلانٹا سے ہو کر گزرتی ہیں۔ ان شاہرائوں کا رابطہ ملک کے ہر کونے تک ہے۔ 1906ء میں اٹلانٹا میں جو سب سے پہلے 17 منزلہ فلک بوس عمارت تعمیر ہوئی وہ کوکا کولا کمپنی کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ امریکہ کے مالیاتی اداروں اور اہم بنکوں کے بڑے بڑے دفاتر بھی اٹلانٹا میں موجود ہیں جو نہ صرف اٹلانٹا بلکہ امریکہ کی معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب 1837ء میں اٹلانٹا کا ریلوے ٹرمینل کے طور پر انتخاب عمل میں آیا تو اس کو ایک طرح کے ریلوے ٹائون کے طور پر ترقی دی جانے لگی اس کے ارد گرد ریلوے ٹائون کا نام اس وقت جارجیا کے گورنر کی بیٹی مارتھا لمپکن (Martha Lumpkin) کے نام پر ''مارتھاولے‘‘ (Martha Ville)رکھا گیا۔ لیکن 1847ء میں ''مارتھاولے‘‘ کا نام بدل کر موجودہ نام اٹلانٹا رکھ دیا گیا۔ شاید مارتھا ولے کا نام شہریوں کے دل میں پذیرائی حاصل نہ کر پایا اور اس وقت جارجیا کا گورنر بھی بدل چکا ہو گا۔ اس لئے شہر کی انتظامیہ نے بحر اٹلانٹک کی مناسبت سے نیا نام اٹلانٹا تجویز کیا ہو۔ اٹلانٹا کو 1847ء میں شہر کا درجہ دیا گیا اور 1868ء میں اسے ریاست جارجیا کا دارالخلافہ بنا دیا گیا۔اٹلانٹا شہر کے نمایاں پہلوملک کی سیاہ فام آبادی والا تیسرا بڑا شہر ہے،اٹلانٹا میں54فیصدسیاہ فام مقیم ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے اٹلانٹا امریکہ کا چھٹا اور دنیا کا پندرھواں بڑا شہر ہے۔ عالمی سطح پر شہرت پانے والا مشروب،کوکا کولا سب سے پہلے اٹلانٹا ہی میں متعارف کروایا گیا۔1996ء کے عالمی اولمپک مقابلوں کا میزبان بھی اٹلانٹا کا شہر ہی تھا۔ممتاز ٹیلی ویژن چینل''سی این این‘‘اور موسم کے حوالے سے مشہور Weater Channel کی نشریات کی ابتدا بھی اٹلانٹا سے ہوئیں۔ امریکہ کے جنوب مشرق کا سب سے بڑا ہوٹل Marriott Marquisبھی اٹلانٹا ہی میں ہے۔ اس ہوٹل کے 1674 کمرے ہیں۔ اٹلانٹا میں درخت اتنے زیادہ ہیں کہ فضا سے سوائے فلک بوس عمارتوں کے سبزہ کی وجہ سے شہر ڈھکا ہوا رہتا ہے۔ اس لئے اٹلانٹا کو ''گرینسٹ سٹی ان یو ایس اے ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ ٹورازم کے حوالہ سے اٹلانٹا امریکہ کا ساتواں بڑا شہر ہے۔ اٹلانٹا کا ورلڈ کانگریس سینٹر دنیا کا دوسرا بڑا کنونشن سینٹر ہے۔ سپورٹس کی چار بڑی ٹیمیں بیس بال، فٹ بال، باسکٹ بال اور ہاکی کا مرکزی شہر اٹلانٹا ہی ہے۔آب و ہوااٹلانٹا کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہاں کا درجہ حرارت 31سینٹی گریڈ سے 38سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے اور سردیوں میں 3/4سینٹی گریڈ سے کم از کم منفی7سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔ برف بھی دو تین انچ تک پڑ جاتی ہے۔ بارش کی سالانہ اوسط 50انچ ہے۔ اٹلانٹا میں مارچ1993ء میں ایک زبردست طوفان آیا وہ طوفان اتنا شدید تھا کہ اسے '' ''The Storm of the centuary‘‘کہا جاتا ہے۔

ہر فن مولا لیونارڈوڈاونسی

ہر فن مولا لیونارڈوڈاونسی

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہیں ''ہر فن مولا‘‘ کہا جا سکے تاہم انسانیت کی معراج یہ ہے کہ ہم زندگی کی ہر راہ میں توازن حاصل کر لیں۔ اگر کسی انسان کا ذہن ایسا ہو کہ وہ سائنس کے علاوہ آرٹ کا ذوق بھی رکھتا ہو۔ اس میں تخلیق کا مادہ بھی موجود ہو، جس کا جسم توانا اور خوبصورت ہو اور جس کی طبیعت میں رفعت کوٹ کوٹ کر بھری ہو تو ایسے آدمی کو آپ کیا کہیں گے، یہی کہ اس نے انسانیت کی معراج حاصل کر لی لیونارڈوڈا ونسی اسی قسم کا انسان تھا۔ وہ دنیا بھر میں متعدد صلاحیتوں کیلئے مشہور ہے اور اس کی زندگی یقیناً قابل رشک تھی۔آیئے آپ کو ماضی کے دھندلکوں میں لے چلیں۔ فلورنس کے شہر میں شام پڑ چکی ہے۔ لوگ سستا رہے ہیں۔ ماہر فن کار، سنگ تراش، سائنس دان، فلسفی۔ سب کے سب جمع ہیں لیکن کوئی بول نہیں رہا ہے۔ وہ سب خاموش ہیں۔ وہ ایک نوجوان کی باتیں سن رہے ہیں جس کے سنہری بالوں اور کھلتے ہوئے رنگ نے اس کے حسین چہرے کو اور بھی خوبصورت بنا دیا ہے۔اس نوجوان کا نام لیونارڈوڈا ونسی ہے اور وہ سارے فلورنس میں اپنے خدادادحسن اور ذاتی وجاہت کے علاوہ اپنی ذہانت کیلئے بھی مشہور ہے۔ وہ موسیقی کا ماہر ہے، شاعر ہے، باکمال پینٹر ہے، سنگ تراش ہے اور سائنسدان بھی۔ اسے انجینئرنگ سے بھی لگائو تھا اور سائنس کے میدان میں اس نے گیلیلو، نیوٹن، بیکن، ہاروے، واٹ اور فلٹن کیلئے نئی راہیں قائم کیں۔ وہ ہر فن میں کمال رکھتا تھا۔دنیا میں ایسا باذوق آدمی پھر پیدا نہ ہوا۔یہ شخص 1552ء میں اٹلی کے ایک خوبصورت گائوں''ونسی‘‘ میں پیدا ہوا۔ اسی وجہ سے اس کے خاندان کے ساتھ ونسی کا اضافہ ہوا۔ اس کا باپ ایک وکیل تھا لیونارڈو نے بچپن ہی میں اپنی طبیعت کے جوہر دکھانے شروع کر دیئے تھے۔ اسے تھیٹک میں کمال حاصل تھا۔ وہ بعض ساز بڑی اچھی طرح بجاتا تھا لیکن اسے ڈرائنگ، مجسمہ سازی کا زیادہ شوق تھا۔1470ء میں وہ فلورنس کے ایک مشہور آرسٹ کا شاگرد ہو گیا اور جلد ہی اس نے پینٹنگ میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ اس کا استاد دنگ رہ گیا۔لیونارڈو کو علم و ہنر سے بے پناہ عشق تھا۔ اس کی پیاس کسی صورت نہیں بجھتی تھی۔ اس نے اس قدیم دور میں روشنی کا تفصیلی مطالعہ کیا اور آنکھ کی اندرونی بناوٹ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس نے لہروں کے بنیادی اصول سیکھے اور ان کا اطلاق روشنی کے علاوہ آواز پربھی کیا۔ پینٹنگ اور سنگتراشی کے شوق نے اس پر علم کے کئی اور دروازے کھول دیئے۔ اس نے انسانوں اور جانوروں کے جسم کی اندرونی ساخت کا معائنہ کیا اور اعصابی حرکات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے فزیالوجی اور علم نباتات کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ اس تحقیق میں اس نے اپنی عمر کے چالیس سال گزارے۔1482ء میں لیونارڈو میلان گیا۔ اس زمانے میں وہاں سفورزا کی حکومت تھی۔ یہ فرمانروا لیونارڈو کے فن کا اس قدر دلدادہ ہوا کہ آئندہ سترہ سال اس عظیم انسان نے اسی کے دربار میں گزار دیئے۔ اس نے ملٹری سائنس اور طریق جنگ تک میں اصلاح کی۔1845ء میں میلان میں پلیگ نے بڑی تباہی مچائی۔ بادشاہ کو ایک نیا شہر بسانے کا خیال آیا جس میں صفائی ستھرائی کا خاص لحاظ رکھا جائے۔لیونارڈو نے اس شہر کا نقشہ اور نمونہ تیار کیا۔ اس کے علاوہ وہ اقلیدس، ہیئت ریاضیات اور کئی دوسرے علوم کے مطالعے میں بھی مصروف رہا۔1494ء میں اس نے آبپاشی اور پانی کی بہم رسانی کا ایک حیرت انگیز نظام تیار کیا۔ اس کے علاوہ اس نے طوفانوں اور برق پر بھی تحقیقات کیں۔ میلان کے دوران قیام میں لیونارڈو نے پینٹنگ کے ایسے شاہکار تیار کئے جو اپنی نفاست اور کمال کی بنا پر آج تک مشہور ہیں اور دنیا کی مشہور آرٹ گیلریوں میں محفوظ ہیں۔1499ء میں لیونارڈو وینس گیا۔ اس نے ریاضیات کا مزید مطالعہ کیا۔1500ء میں اسے جغرافیہ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اب وہ اپنے وطن فلورنس آ چکا تھا۔اس نے مدو جزر کا مشاہدہ کیا اور اٹلی کے اتنے اچھے نقشے تیار کئے کہ وہ آج تک قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ہمیں یہاں اس باکمال شخص کے آرٹ پر تفصیل سے کچھ نہیں کہنا ہے۔ ہم اس کے سائنسی کمالات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس کے مرنے پر اس کی چھوڑی ہوئی تحریریں شائع کردی جاتیں تو سائنسدانوں کو ان میں اتنا مواد مل جاتا کہ بعد میں صدیوں تک انہیں وہ محنت نہ کرنی پڑتی جو انہوں نے کی۔ انیسویں صدی میں کسی نے ضرورت محسوس نہ کی کہ لیونارڈو کی چھوڑی ہوئی چیزوں پر ایک نظر ڈال لیتا۔ بعد میں لوگوں کو یہ علم ہوا کہ اس باکمال شخص نے علم و سائنس کا کوئی گوشہ اپنی تحقیقات سے خالی نہیں چھوڑا تھا۔بیکن سے ایک صدی پہلے لیونارڈو نے تجرباتی سائنس کے وہ اصول بنائے تھے جو بیکن بھی وضع نہ کر سکا۔ لیونارڈوڈاونسی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے سب سے پہلے ہوائی جہاز کے متعلق پیش گوئی کی اور اگر اس وقت تک اس کا انجن ایجاد ہو گیا ہوتا تو ہوائی جہاز کے موجد ہونے کا شرف لیونارڈو ہی کو حاصل ہوتا۔اس کے علاوہ لیونارڈو نے بھاپ کی قوت کی طرف اشارہ کیا، بھاپ سے جلنے والی توپ کا خاکہ تیار کیا اور جہازوں کیلئے چپوئوں کے نمونے بنائے۔ اس کی بنائی ہوئی بعض مشینیں ابھی تک استعمال کی جا رہی ہیں۔ اس نے پانی کی قوت کا اندازہ لگایا، تصویر کشی کا تصور پیش کیا اور ایک طرح کا کیمرہ بھی بنایا، اسے پانی کی کیمیاوی بناوٹ کا اندازہ تھا، وہ یہ جانتا تھا کہ روشنی اور آواز لہروں کی شکل میں چلتی ہیں، اس نے پھولوں اور کچھ نباتات پر بھی تحقیقات کیں، سائنس دان ہونے کے علاوہ وہ ایک عظیم فلسفی بھی تھا۔ مئی 1519ء میں اس یکتائے روزگار انسان کا انتقال ہوا جو بیک وقت سائنسدان بھی تھا، فلسفی بھی ، فنکار بھی، سنگتراش بھی، معمار بھی، انجینئر بھی اور اچھا انسان بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام میرٹھ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ہندوستان کی ریاست اتر پردیش میں میرٹھ کے قریب 22 مئی 1987ء کو پولیس نے 50 مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری کے 19 اہلکاروں نے شہر کے ہاشم پورہ محلہ سے 42 مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر شہر کے مضافات میں لے جا کر گولیاں ماریں اور ان کی لاشیں قریبی آبپاشی نہر میں پھینک دیں۔ چند روز بعد لاشیں نہر میں تیرتی ہوئی ملیں اور قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بالآخر، 19 اہلکاروں پریہ فعل انجام دینے کا الزام عائد کیا گیا۔کراچی :فضائی حادثات2020ء میں آج کے روز لاہور سے کراچی جانے والی پی آئی اے کی پرواز 3803 کو ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی دوسری کوشش کے دوران حادثہ پیش آیا اور جہاز ایک تین منزلہ گھر کی پانی کی ٹینکی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں عملے کے اراکین سمیت 97 افراد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوئے تھے۔22 مئی 2010ء کو جنوبی بھارت میں ایک مسافر طیارہ اترنے کے دوران تباہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں 158 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔جرمن اٹلی معاہدہجرمنی اور اٹلی کے درمیاں سٹیل کا معاہد ہ ہوا جسے عام طور پر دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اتحاد کے معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اٹلی اور جرمنی کے درمیان ایک فوجی اور سیاسی اتحاد بھی تھا۔جس پر 22 مئی 1939 کو اٹلی کے وزرائے خارجہ گیلیازو سیانو اور جرمنی کے یوآخم وون ربینٹرپ نے دستخط کیے تھے۔چلی اور چین میںبدترین زلزلے22 مئی 1960ء کو چلی میں اس کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ آیا۔ جس کی ریکٹر سکیل پر شدت 9.5 ریکارڈ کی گئی تھی۔ مجموعی طور پر اس آفت میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے چھ ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے جبکہ اس میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ 5.8 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔1927ء میں آج کے دن چین کے علاقے نین شین میں بھی شدید ترین زلزلے نے بے پناہ تباہی مچائی، 8.3 کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے دو لاکھ افراد اس زلزلہ کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ 

یادرفتگاں: ورسٹائل فنکار:نفیس شخصیت ابراہیم نفیس

یادرفتگاں: ورسٹائل فنکار:نفیس شخصیت ابراہیم نفیس

معروف صدا کار اور اداکار ابراہیم نفیس 21 مئی 2012ء کو انتقال کرگئے تھے اور آج ان کی برسی منائی جارہی ہے۔ ابراہیم نفیس کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے دور میں ہر مقبول میڈیم میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ انھوں نے ریڈیو، ٹیلی ویژن، فلم، تھیٹر اور سٹیج پر کئی کردار نبھائے اور شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ابراہیم نفیس کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف ہر میڈیم کی ضرورت تھے بلکہ بطور انسان بھی ان کی ضرورت و اہمیت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔ آگرہ میں پیدا ہونے والے ابراہیم نفیس نے جون پور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو یہاں 1955ء میں انہوں نے ریڈیو پاکستان حیدر آباد سے انائونسر کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انہیں ریڈیو پاکستان کے پہلے انائونسر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ابراہیم نفیس نے برطانیہ سے اداکاری کی تربیت حاصل کی تھی۔ ان کی آواز منفرد، چہرے کے تاثرات اور کردار نگاری کے دوران اتار چڑھاؤ اور مکالمے کی ادائیگی کا انداز بہت خوب صورت تھا۔ ریڈیو کے بعد انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا اور حیدرآباد سے کراچی چلے گئے۔ ہیرو کا کردار ادا کرنے کے علاوہ وہ سائیڈ ہیرو کی حیثیت سے بھی جلوہ گر ہوئے اور پھر ویلن اور کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے بھی خود کو منوایا۔ انہوں نے فلموں،ٹی وی ڈراموں اور سٹیج ڈراموں میں مختلف نوعیت کے سیکڑوں کردار ادا کیے۔''ایک حقیقت سو افسانے‘‘ اور ''افشاں‘‘ ان کی بہترین ٹی وی سیریل تھے۔ سٹیج ڈراموں میں ان کا سب سے یادگار ڈرامہ ''بکرا قسطوں پر‘‘ تھا، جس میں انہوں نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے میں ان کے ساتھ عمر شریف بھی تھے۔ انہوں نے 300سٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ابراہیم نفیس کو ایک مکمل تھیٹر آرٹسٹ اور براڈ کاسٹر تسلیم کیا جاتا ہے۔فلمی صنعت میں نام بنانے کے بعد جب و ہ دوبارہ ریڈیو کی طرف آئے تو اس دفعہ انائونسر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ڈرامہ آرٹسٹ کے روپ میں انہوں نے اپنی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت ریڈیو کراچی میں ایس ایم سلیم جیسے اداکار بھی کام کر رہے تھے جنہیں ریڈیو کا دلیپ کمار کہا جاتا تھا۔ ابراہیم نفیس کے ایس ایم سلیم کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ انہوں نے ریڈیو میں اس وقت کے صف اوّل کے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جتنا ریڈیو سے سیکھا اورکہیں سے نہیں سیکھا۔ ڈرامہ آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کرنا اگرچہ ان کیلئے اطمینان بخش تھا لیکن فلم میں کام کرنے کی کشش برقرار تھی۔ یہ کشش بڑھتی گئی اس زمانے میں قانون یہ تھا کہ اگر کسی آرٹسٹ کو ریڈیو پر کام کرنا ہے تو پھر وہ کسی اور میڈیم پر کام نہیں کر سکتا تھا۔ فلموں میں کام کرنے کے جنون میں ابراہیم نفیس نے ریڈیو چھوڑ دیا۔ ''عشق حبیب‘‘ ان کی ابتدائی فلموں میں سے تھی۔ بعد میں انہوں نے بے شمار فلموں میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے، وحید مراد کی ذاتی فلموں ''ہیرا اورپتھر‘‘ اور ''احسان‘‘ میں انہوں نے اہم کردار ادا کیے۔ اس کے بعد انہوں نے ''جب جب پھول کھلے‘‘، ''عندلیب‘‘، ''آگ ہی آگ‘‘ اور ''بدلتے موسم‘‘ میں شاندار اداکاری کی۔ ان کی ایک اور مشہور فلم ''ان داتا‘‘ تھی۔ اس کے ہدایت کار اقبال یوسف تھے جنہوں نے انہیں اس فلم میں ایک بالکل مختلف کردار دیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ محمد علی، سدھیر، سلطان راہی اور لہری جیسے اداکار بھی تھے۔ ان سب کی موجودگی میں انہوں نے اپنی انفرادیت کو ثابت کیا۔ اسی طرح ''جب جب پھول کھلے‘‘ میں وہ ویلن کے روپ میں جلوہ گر ہوئے اور ان کی اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ ''بدلتے موسم‘‘ میں ایک ظالم سیٹھ کے کردار میں بھی ان کی اداکاری بہت متاثر کن تھی۔ اس فلم میں ان کے ساتھ شبنم اور ندیم نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ فلمی صنعت کے زوال پذیر ہونے کے بعد ابراہیم نفیس کراچی ٹی وی اور تھیٹر سے دوبارہ وابستہ ہو گئے ان کے مداحوں کا ایک وسیع حلقہ تھا جو ان کی فطری اداکاری سے بہت متاثر تھا۔ابراہیم نفیس نے پاکستانی فلمی صنعت کی صف اوّل کی ہیروئنوں کے ساتھ کام کیا جن میں زیبا، صبیحہ خانم اور نیئر سلطانہ بھی شامل تھیں لیکن جس ہیروئن نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تھیں نیلو۔ ان کی رائے میں نیلو جیسا کوئی نہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ نیلو کے ساتھ کام کر کے انہوں نے بہت اطمینان محسوس کیا۔ وہ ایک بہترین اداکارہ تھیں اور ورسٹائل بھی۔ یہ بات البتہ انہوں نے ضرور کی کہ ہو سکتا ہے نیئر سلطانہ اور صبیحہ خانم کو اتنے مختلف کردار ادا کرنے کیلئے نہیں ملے جتنے نیلو کو ملے۔ فلموں سے علیحدگی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس وقت پنجابی زبان میں سب سے زیادہ فلمیں بن رہی تھیں جبکہ ابراہیم نفیس پنجابی نہیں بول سکتے تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں پنجابی زبان سے بہرہ ہوں اگر مجھ میں یہ کمزوری نہ ہوتی تو میں پنجابی فلموں میں ضرورکام کرتا کیونکہ میرے لئے کسی بھی ہدایتکار کے پاس کرداروں کی کمی نہیں تھی۔ابراہیم نفیس نے آٹھ سال تک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں کام کیا اور وہاں انہوں نے آرٹ، تھیٹر اور ثقافت کی ترقی کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ ان کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے خواجہ معین الدین سکول آف پرفارمنگ آرٹس قائم کیا تاکہ نوجوانوں کو اداکاری کی تربیت دی جائے۔ انہیں اس بات کا دکھ تھا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ تو ہے لیکن اس کا درست استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ ذاتی زندگی میں وہ بہت شفیق اور اپنے نام کی طرح نفیس انسان تھے۔21مئی 2012کو جب ان کا انتقال ہوا تو شوبز سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ فلم اور ٹی وی کے سینئر اداکاروں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ ایک نفیس انسان اور نفیس اداکار اس جہان سے رخصت ہو گیا۔ وہ فنکار جنہوں نے اداکاری کو نفاست سے آشنا کیا، ان میں ابراہیم نفیس کا نام سرفہرست ہے۔ شوبز سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکاروں کو ان جیسے ورسٹائل اداکار سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی اداکاری کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ اداکار اور انسان کی حیثیت سے انہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

دیوارچین

دیوارچین

انسانی معاشرے کی تاریخ زمانہ قبل از تاریخ سے ہی خانہ بدوش حملہ آوروں اور متمدن انسانی آبادیوں کے درمیان آویزشوں اور چپقلشوں کی کہانی ہے۔ قدیم انسانی معاشرے کے ان ابتدائی چپقلشوں کا نشان آج دنیا کے کسی ملک میں بھی اتنا واضح نہیں ہے جتنا چین میں۔ خود چین کی عظیم دیوار چین انسانی معاشرے کی انہیں قدیم آویزشوں کی علامت ہے۔ یہ عظیم عجوبہ روزگار دیوار جو مہذب انسانی آبادیوں کو وحشی پن اور تاتاری خانہ بدوشوں کی یورشوں سے بچانے کیلئے تیسری صدی قبل از مسیح میں تعمیر کی گئی تھی شمالی چین کے پہاڑوں پر سے بل کھاتی ہوئی وسطیٰ ایشیا کے دور دراز علاقوں تک چلی گئی ہے۔ چین میں وحشی خانہ بدوش قبائل سے متمدن انسانی آبادیوں کی حفاظت کیلئے ایسی حفاظتی دیواروں کی تعمیر کی ابتدا چوتھی صدی قبل از مسیح میں ہوئی تھی۔ بعض مورخین کے نزدیک حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے کا آغاز چین کے شہروں کے گرد حفاظتی فصیلیں تعمیر کرنے کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ تیسری صدی قبل مسیح میں چین کے عظیم ہین (Han) شہنشاہ شی ہوانگتی(Shih Huangti) نے مختلف ریاستوں میں بنے ہوئے اس ملک کو اتحاد کی رسی میں پرو کر ایک مملکت میں بدل دیا۔ 221قبل مسیح میں اسے سارے چین کا شہنشاہ تسلیم کر لیا گیا۔ اپنی مملکت کی شمالی سرحد کو وحشی اور تاتاری خانہ بدوشوں کے متواتر حملوں سے بچانے کیلئے اس نے 215 ق م میں ایک طویل دیوار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اس کام کیلئے شہنشاہ نے اپنی مملکت کے ہر تیسرے شہری کو جبری طور پر اس دیوار کی تعمیر پر لگا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ تین لاکھ سے زائد انسانوں نے مسلسل دس سال تک اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔ اس دیوار کے متعلق حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر پر اٹھنے والے خرچ میں شہنشاہ کے خزانے کا تمام تر روپیہ صرف ہو گیا اگرچہ یہ دیوار صرف مٹی اور پتھروں اور جبری مشقت سے تعمیر کی گئی تھی اور اس دیوار کے صرف کچھ مشرقی حصے ہی اینٹوں سے تعمیر کئے گئے تھے۔ شہنشاہ شی ہوانگتی اس دیوار کی تعمیر اور اتحاد چین کے علاوہ تانبے کا ایک نیا سکہ جاری کرنے، ریشم کو رواج دینے اوزان اور پیمانوں کو ایک معیار پر لانے، ایک بڑی نہر اور کئی بڑی بڑی شاہراہیں تعمیر کرنے کیلئے بھی مشہور ہے۔ اس کے عہد میں 213ق م میں وہ فرمان جاری کیا گیا جسے کتابوں کی آتش زنی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس فرمان کے ذریعے شہنشاہ نے زراعت، طب اور کہا نت کے علاوہ تمام علوم کے متعلق کتابیں تلف کر دینے کا حکم دیا تھا۔ہین خاندان کے بعد چین پر تھوڑی تھوڑی مدت کیلئے کئی اورحکمران خاندان بر سراقتدار آئے مگر یہ سب اپنے دیگر داخلی امور میں اتنے الجھے رہے کہ ان خاندان کے کسی حکمران نے بھی اس عظیم حفاظتی دیوار کی تعمیر و مرمت پر توجہ نہ دی اور صدیاں گزر گئیں۔1234ء میں چن خاندان (Chin Dynasty)کو چنگیز خان نے اقتدار سے محروم کرکے چین میں منگول خاندان کی بنیاد رکھی۔ چنگیز خان کی تاتاری افواج عظیم دیوار چین ہی کوروند کر شمالی سرحد سے چین میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ چودہ سوسال میں پہلا واقعہ تھا جب صحرائے گوبی سے آنے والے خانہ بدوشوں نے اتنے وسیع پیمانے پر متمدن انسانی آبادیوں پر اپنا اقتدار قائم کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شمالی سرحد کی حفاظتی دیوار کی شکست وریخت بھی تھی۔1368ء میں منگ خاندان نے تاتاریوں کو چین سے نکال دیا اور شمالی سرحد کو پھر سے مضبوط بنایا۔1420ء میں اسی خاندان کے شہنشاہ ینگ لو (Yunglo)نے عظیم دیوار چین کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا۔اس نو تعمیر شدہ دیوار کی بلندی 22فٹ سے 26فٹ (6.7سے8میٹر) رہ جاتی ہے۔ دیوار زیادہ تر پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے اور اس کے درمیانی خلا کو مٹی اور اینٹ روڑے سے پر کیا گیا ہے، جس پر پھر اینٹوں کا فرش بچھایا گیا ہے دیوار کی شمالی طرف کنگرہ دار مورچے رکھے گئے ہیں اور تقریباً ہر 590فٹ یا 180میٹر کے بعد نگہبانی کیلئے ایک چوکور مینار تعمیرکیا گیا ہے، جس میں وقفوں کے بعد محرابی طاقچے رکھے گئے ہیں۔ ان ہی میناروں کی چھتوں پر مشاہدے کیلئے بالا خانے بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔ اہم دروں خاص طور پر پیکنگ کے شمال میں کاروانوں کی گزر گاہوں کے قریب دیوار کی دو گنا یاسہ گنا شاخیں تعمیر کی گئی ہیں جن سے یہ مقامات وحشیوں کے حملوں سے محفوظ ہو گئے تھے۔اپنی تمام پیچیدگیوں کے ساتھ یہ دیوار تقریباً 2486میل یا 4ہزارکلو میٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر میں تقریباً4کروڑ72لاکھ 77ہزار956کیوبک فٹ (4لاکھ 46ہزار 250 کیوبک میٹر) مٹی اور تقریباً ایک کروڑ 57لاکھ 59ہزار 318کیوبک فٹ پتھر اور اینٹیں صرف ہوئی ہیں۔ تاریخ عالم میں انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی یہ سب سے بڑی دیوار اور سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے۔ زمین کا یہ واحد انسانی تعمیر شدہ شاہکار ہے جسے چاند اور مریخ جیسے دور دراز کے سیاروں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔بنیادی طور پر دیوار چین فوجی (دفاعی) مقاصد کیلئے تعمیر کیا گیا ایک شاہکار ہے مگر اس کی تعمیر کے کئی اوربھی مقاصد ہیں جیسے پہاڑی علاقوں میں رسل ورسائل کا یہ بڑا ذریعہ ہے بہ صورت دیگر ان پہاڑی علاقوں میں رسل و رسائل ایک مشکل کام ہے۔ ایک شاہراہ کے طور پر اس دیوار کی کشادگی اتنی ہے کہ اس پر سے پانچ یا چھ گھڑ سوار ایک ساتھ گزر سکتے ہیں۔فوجی انجینئرنگ کے اس عظیم شاہکار میں دیگر تعمیرات عالم میں پائے جانے والے جمالیاتی پہلو یا جمالیاتی آراستگی کا بہت کم خیال رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود یہ اپنے خوبصورت زمینی منظر میں بڑی بھلی لگتی ہے بلکہ ایک طرح سے ایک عظیم جمالیاتی شاہکار نظر آتی ہے۔ چینیوں کے اس خیال کی ایک زندہ مثال بھی ہے کہ انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی ہر عمارت اس خطے کے قدرتی اصولوں کی تابع ہوتی ہے جس پر وہ تعمیر کی گئی ہو۔ شاید اسی اصول کے تابع ہونے کی وجہ سے پہاڑی چوٹیوں پر بل کھاتی ہوئی یہ عظیم دیوار چین کے روایتی اژدھے کا روپ دھار لیتی ہے۔ 

آج کا دن

آج کا دن

کولمبیا میں غلامی کا خاتمہ 21مئی1851ء میں کولمبیا میں غلامی کا خاتمہ کیا گیا۔کولمبیا میں غلامی کا آغاز 16ویں صدی کے آغاز سے ہوا اور اس کا حتمی خاتمہ 1851ء میں کیا گیا۔ اس عمل میں افریقی اور مقامی نژاد لوگوں کی سمگلنگ شامل تھی جو پہلے ہسپانوی نوآبادیاتی باشندوں کے ذریعہ اور بعد میں جمہوریہ نیو گراناڈا کے تجارتی اشرافیہ کے ذریعہ کی جاتی تھی ۔میکسیکو اور فرانس کے درمیان معاہدہ21مئی 1911ء کو فرانسیسی انقلابی لیڈر اور میکسیکو کے صدر ڈیاز کے درمیان ایک امن معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے نے فرانس اور میکسیکو کی حمایت کرنے والی افواج کے درمیان لڑائی کا خاتمہ کیا ۔معاہدے میں یہ طے پایاتھا کہ ڈیاز کے ساتھ ساتھ اس کے نائب صدر رامون کورل کو مئی کے آخر تک سبکدوش کر دیا جائے گا اور اس کے بعد صدارتی انتخابات کروائے جائیں گے۔الجیریا میں زلزلہ21مئی 2003ء کو شمالی الجیریا میں ایک خوفناک زلزلہ آیا۔اس زلزلے کی شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی۔یہ الجزائر میں20 سالوں میں آنے والے زلزلوں میں سب سے زیادہ شدت والا زلزلہ تھا۔ اس سے قبل 1980ء میں بھی ایک تباہ کن زلزلہ آیا تھا جس کی شدت7.1تھی اور اس کے نتیجے میں 2ہزار 633 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ 2003ء کا زلزلہ اس کے بعد سب سے زیادہ خوفناک سمجھا جاتا ہے۔فیفا کا قیام21مئی 1904ء کوفٹ بال کی عالمی تنظیم ''فیفا‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کا مقصد بیلجیم، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، سپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کی قومی ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی مقابلے کی نگرانی کرنا تھا۔اس کا مرکزی دفتر زیورخ، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے۔211ممالک کے پاس فیفا کی رکنیت موجود ہے۔روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اس کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔ اٹلانٹا میں آتشزدگی21مئی 1917ء کو دوپہر کے وقت اٹلانٹا، جارجیا کے اولڈ وارڈ میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس آگ کو بڑھانے میں گرم موسم اور ہوائوں نے ایندھن کا کردار ادا کیا۔یہ آگ تقریباً10گھنٹے تک جلتی رہی جس نے 300ایکٹر رقبے پر مشتمل 1900 مختلف املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس آگ کی وجہ سے تقریباً10ہزار افراد بے گھر ہوئے۔اس حادثے کے نتیجے میں نقصانات کا تخمینہ 50 لاکھ ڈالر لگایا گیا۔