ناصر الدین محمود:درویش صفت بادشاہ

ناصر الدین محمود:درویش صفت بادشاہ

اسپیشل فیچر

تحریر : اسد بخاری


آج سے تقریباً سات سو پچھتر سال قبل دہلی میں غلام خاندان کا ایک شخص تھا جسے 1246ء میں ناصر الدین محمود کے نام سے امراء نے تخت پر بٹھایا جو کہ دراصل شمس الدین التتمش کا پوتا تھا۔ جب التتمش کا بیٹا شہزادہ ناصر الدین لکھنائونی میں منگولوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوا تو اس کی موت کے بعد اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا، جو اس کا سب سے چھوٹا لڑکا تھا، التتمش نے اپنے مرحوم بیٹے سلطان ناصر الدین کی محبت میں اپنے نوزائیدہ پوتے کا نام بھی وہی رکھا۔
خاندانی اسباب کی بنا پر التتمش نے یہی چاہا کہ بچے کو اس کا پوتا نہیں بلکہ اس کا بیٹا شمار کیا جائے۔ وہ ایک درویش صفت بادشاہ تھا۔ اس کی خوبی یہ تھی کہ اپنے عہد حکومت میں کبھی سرکاری خزانے کو ہاتھ نہیں لگایا اور قرآن شریف لکھ کر روزی کماتا تھا، اس کی پوری زندگی اولیا اور صالحین کا نمونہ تھی۔ زیادہ تر وقت عبادت اور تلاوت کلام پاک میں صرف کرتا۔ جس وقت دربار لگتا اس وقت وہ شاہی لباس زیب تن کرتا تھا اور دربار برخاست ہونے کے بعد اپنا سادہ لباس پہنتا۔ وہ خاص طور سے اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ اس کے لکھے ہوئے قرآن کے نسخے معمولی قیمت پر فروخت ہوں اور کسی کو یہ پتا نہ چلے کہ وہ بادشاہ کے لکھے ہوئے ہیں۔
ایک روایت کے مطابق ایک بار اس کی ملکہ کھانا پکا رہی تھی۔ توے سے روٹی اتارتے وقت اس کا ہاتھ جل گیا۔ تکلیف کی وجہ سے وہ سلطان کے پاس حاضر ہوئی بادشاہ اس وقت قرآن کی کتابت کر رہا تھا۔ ملکہ کو تکلیف میں دیکھ کر پوچھا: ''کیا بات ہے ملکہ! ہاتھ میں کیا ہوا‘‘؟
بادشاہ نے کتابت چھوڑ دی اور دوا لے کر ملکہ کے جلے ہوئے ہاتھ پر لگا دی۔
''جہاں پناہ! گھر میں کوئی نہیں ہے۔ دوسرے کام بھی کرنے ہیں۔ اب کھانا کون پکائے گا؟‘‘ ملکہ نے سوال کیا؟تم فکر نہ کرو، جب تک تمہارا ہاتھ ٹھیک نہیں ہوتا تمہارا ہاتھ میں بٹائوں گا‘‘۔
''اپنے آپ پر یہ ظلم نہ کیجئے۔ میری مانیے۔ کچھ عرصے کیلئے ایک خادمہ رکھ لیجئے۔ جب میرا ہاتھ ٹھیک ہو جائے گا تو پھر سارا کام میں خود ہی کر لیا کروں گی‘‘۔
''تم جان بوجھ کر انجان بنتی ہو۔ میں اتنی آمدنی کا مالک نہیں ہوں کہ خادمہ رکھ سکوں‘‘ حکومت کے کام سے ہی فرحت کم ملتی ہے۔ چھ ماہ میں مشکل سے ایک کلام پاک کی کتابت کر پاتا ہوں۔ اس ہدیے سے مشکل سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ اب ایسے میں خادمہ کیلئے گنجائش کہاں سے نکالوں‘‘؟
''آپ یہ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ بادشاہ وقت ہیں۔ شاہی خزانہ آپ کے قبضے میں ہے۔ اگر آپ اپنی واجب ضرورت کیلئے کچھ رقم لے لیں تو اس میں کیا حرج ہے؟‘‘۔
''بیگم: شاہی خزانہ رعایا کی امانت ہے۔ اسے خرچ کرنے کا حق مجھے نہیں یہ تو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کیلئے ہے، میں تو صرف ان کا امین ہوں‘‘۔
سلطان کا جواب سن کر ملکہ خاموش ہو گئی۔
کوئی افسانہ نہیں بلکہ ہندوستان کے ایک نیک دل بادشاہ ناصر الدین محمود کی زندگی کی وہ حقیقت ہے، جس کا بیس سالہ دور حکومت تاریخ ہند میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے شاہی میں فقیری کی مثال پیش کی۔ اس نے دوسرے بادشاہوں کی طرح اپنے منصب سے ناجائز فائدہ کبھی نہیں اٹھایا۔ وہ تقویٰ،پرہیزگاری، خوش اخلاقی اور سادگی کا پیکر تھا۔ ایک روایت مشہور ہے کہ ایک بار کوئی امیر اس سے ملنے آیا۔ بادشاہ نے اسے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک کتاب دکھائی۔ امیر نے اس میں کچھ غلطیاں نکالیں اور درست کرنے کی التجا کی۔ بادشاہ نے اس کے مشورے پر ان الفاظ کے گرد حلقے بنا دیئے، لیکن جب امیر چلا گیا تو بادشاہ نے وہ حلقے مٹا دیے۔ درباریوں میں سے کسی نے حلقوں کے مٹانے کا سبب پوچھا توبادشاہ نے جواب دیا: ''دراصل یہ غلطیاں نہ تھیں، میرے دوست کو خود غلط فہمی ہوئی۔ چونکہ ایک خیر خواہ کا دل دکھانا مجھے پسند نہ تھا اس لئے ان کے کہنے پر میں نے الفاظ کے گرد حلقے بنا دیئے تھے۔ اب انہیں مٹا دیا‘‘
اس دور کے سلطان کے خوش اخلاقی کا یہ حال تھا کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ نبی کریم ﷺ کا احترام اس قدر کرتا تھا کہ بلا وضو آپﷺ کا نام لینا بھی بے ادبی سمجھتا تھا۔ ایک بار اپنے درباری کو جس کا نام محمد تاج الدین تھا، صرف تاج الدین کہہ کر پکارا۔ درباری نے سمجھا کہ لگتا ہے سلطان مجھ سے خفا ہیں۔ اس لئے خوف سے کئی دن دربار میں حاضر نہ ہوا۔ سلطان کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو اسے یقین دلایا کہ میں تم سے بالکل خفا نہیں ہوں۔ اس دن تمہارا پورا نام نہ لینے کی وجہ یہ تھی میں باوضو نہ تھا اور بغیر طہارت کامل کے لفظ''محمد‘‘ میں اپنی زبان سے ادا نہیں کر سکتا تھا۔
التتمش کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں اور دوسرے دعوے داروں میں تخت و تاج کیلئے کافی کشمکش رہی۔ ناصر الدین محمود طبیعت کا نیک تھا۔ حکومت کی ذمہ داریوں کا پورا احساس رکھتا تھا۔ چنانچہ ان ہنگاموں سے بالکل الگ تھا۔ اس کے باوجود خود غرضوں کے بے جا انتقام کا شکار بنا اور قید کر دیا گیا۔قیدو بند کا زمانہ بھی اس نے صبرو استقلال سے گزارا۔
اس معذوری میں بھی اپنی معاش کیلئے اس نے کسی کا احسان لینا گوارا نہ کیا اور نہ اپنا وقت ہی ضائع ہونے دیا۔ اس تنہائی اور یکسوئی سے فائدہ اٹھا کر اس نے اپنی علمی لیاقت بڑھائی اور خوش نویسی سیکھ لی۔ اس کے بعد کتابیں لکھ کر گزر اوقات کرنے لگا۔ رعایا ایسے پرہیز گار اور خدا ترس بادشاہ سے خوش ہوئی۔ اللہ نے بھی اس کے تقویٰ کی لاج رکھی، اس پر اپنا فضل کیا اور حکومت کے فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لئے۔ بلبن جیسا مدبر اور فرض شناس وزیر عطا فرمایا۔
1266ء میں ہندوستان کا یہ درویش صفت، متقی،عبادت گزار اور سادہ لوح فرماں روا اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کو مروانے میں غیاث الدین بلبن کا ہی ہاتھ تھا۔ اس کا مزار دہلی میں یہی پال پور کے پاس سلطان غازی کے نام سے مشہور ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
طلعت حسین بھی جدا ہوئے!

طلعت حسین بھی جدا ہوئے!

طلعت حسین ہمارے ملک کا وہ اثاثہ تھے جو اپنی اداکاری کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کی شہرت کے ڈنکے نہ صرف پاکستان میں بلکہ انگلینڈ، امریکہ اور ناروے میں بھی بجتے تھے۔ درجنوںبین الاقومی پراجیکٹس میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں کئی بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ اداکاری و صدا کاری ان کی پہچان تھی اور وہ ریڈیو، فلم، ٹی وی اور سٹیج کے بلا شبہ ایک منجھے ہوئے اداکار تھے اور ایک تربیت یافتہ اداکار کی حیثیت سے دنیا بھر میں شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے تھیٹر، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلم میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ ضیاء محی الدین کے بعد دوسرے فنکار تھے جنہوں نے یورپی فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔طلعت حسین 18ستمبر 1940ء کو بھارتی شہر دہلی کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا پورا نام طلعت حسین وارثی تھا۔ ان کی والدہ شائستہ بیگم ریڈیو پاکستان کی مقبول انائونسر کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتی تھیں جبکہ ان کے والد الطاف حسین وارثی انڈین سول سروس میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ان کی فیملی 1947ء میں ہجرت کر کے بحری جہاز کے ذریعے کراچی پہنچی۔ پاکستان آنے کے بعد ان کی فیملی کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے، والد کی بیماری کے باعث ان کی والدہ نے ریڈیو پر ملازمت اختیار کر لی۔ طلعت حسین نے گورنمنٹ بوائز سکینڈری سکول جیل روڈ سے میٹرک کیا اور پھر اسلامیہ کالج سے گریجویشن کیا۔ گھر کے نامساعد حالات کی وجہ سے ان کی ماسٹر کرنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ طلعت حسین کو مطالعہ سے بہت شغف تھا، بقول ان کے وہ بچپن میں سوچا کرتے تھے کہ بڑے ہو کر پروفیسر بنیں گے مگر معاشی وجوہات کی بنا پر ایسا ہو نہیں سکا مگر ان کا مطالعہ کا شوق ضعیف العمری تک برقرار رہا۔طلعت حسین نے اپنے فن کے سفر کا آغاز ریڈیو سے کیا، جب پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تو وہ ٹیلی ویژن کی جانب آ گئے۔ ان کا پہلا ڈرامہ '' ارجمند‘‘ تھاجو 1967ء میںآن ایئر ہوا۔ ٹیلی ویژن پر وہ اداکاری کے علاوہ بحیثیت نیوز کاسٹر اور انائونسر بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1972ء میں وہ انگلینڈ چلے گئے اور ''لندن اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ‘‘سے وابستگی اختیار کر لی۔ ان کا پہلا برطانوی کھیل جمی پیرے اور ڈیوڈ کرافٹ کا تھا۔ جس میں انہوں نے ایک کلب مالک کا کردار ادا کیا۔ وہ بی بی سی ریڈیو کے ڈرامہ ''کرائون کوٹ‘‘ میں بھی کام کرچکے ہیں۔ طلعت حسین متعدد غیر ملکی فلموں، ٹی وی ڈراموں، لانگ پلیز میں کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے2006ء میں ''چینل 4 ٹیلی ویژن‘‘ کی سیریل ''ٹریفک‘‘ کی چند اقساط میں بھی کام کیا ۔ ناروے کی فلم ''امپورٹ ایکسپورٹ‘‘میں کام کیا جس پر انہیں بہترین معاون اداکار کے ''ایمنڈا ایوارڈز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس فلم میں انہوں نے اللہ دتہ نامی شخص کا ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ بھارتی ہدایتکار ساون کمار کی فلم ''سوتن کی بیٹی‘‘ میں بحیثیت وکیل، طلعت حسین کی پرفارمنس اپنے عروج پر دکھائی دی۔ اس فلم میں انہوں نے بھارتی اداکارہ ریکھا اور جیتندر کے سامنے جم کر اداکاری کی۔انہوں نے 15 سے 20پاکستانی فلموں میں بھی لاجواب اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ 1970ء میں وہ فلم'' انسان اور آدمی‘‘ میں اداکار محمد علی اور زیبا کے بیٹے کے کردار میں پسند کئے گئے۔ فلم ''گمنام‘‘ میں ڈاکٹر کا کردار کو خوبصورتی سے ادا کرنے پر بیسٹ ایکٹر کا نگار ایوارڈ ملا۔طلعت حسین کراچی میں منعقدہ ثقافتی اور ادبی تقاریب میں برصغیر کے نامور ادباء اور شعراء کا کلام اپنی خوبصورت آواز میں پیش کرکے داد و تحسین وصول کرتے رہے ہیں۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ‘‘(NAPA) میں فن اداکاری کے حوالے سے نئی نسل کی راہنمائی بھی کرتے رہے۔ طلعت حسین ایک ڈرامہ نگار بھی تھے اور انہوں نے متعدد ڈرامے لکھے۔طلعت حسین نے اپنی زندگی میں بے شمار نشیب و فراز دیکھے۔ وہ اپنی مالی حالت بہتر کرنے کیلئے کراچی کے لیرک سینما میں کچھ عرصہ تک گیٹ کیپر رہے۔ لندن میں انہوں نے کئی سال قیام کیا اور اس دوران ایک ہوٹل میں ویٹر اور برتن دھونے والے کی نوکری بھی کی۔1998ء میں انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ پر بننے والی فلم ''جناح‘‘ میں ایک مہاجر کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ ہالی وڈ کے اداکار سر کرسٹوفر لی، بھارتی اداکار ششی کپور بھی تھے۔فلم ''لاج‘‘ میں ایک قبائلی سردار کا کردار ادا کیا، اس فلم کی شوٹنگ کے دوران قبائلیوں نے حملہ کر دیا ان کی بے دریغ فائرنگ سے پوری ٹیم بال بال بچی۔ اس کی فلم بندی جاری تھی کہ طلعت حسین جنگ کا منظر فلم بند کراتے ہوئے پہاڑی سے گر گئے اور ان کی ٹانگ تین جگہ سے ٹوٹ گئی۔ طلعت حسین نے 1972ء میں کراچی یونیورسٹی کی پروفیسر رخشندہ سے شادی کی ، ان کے تین بچے (2بیٹے اور بیٹی ) ہیں۔اعزازات٭...حکومت پاکستان کی طرف سے 1982ء میں ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور 2021ء میں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ ٭...2006 میں ناروے میں انہوں نے بہترین معاون اداکار کا ''ایمنڈا ایوارڈ‘‘ وصول پایا، اس ایوارڈ کو ناروے میں آسکر کا درجہ حاصل ہے اور یہ ایوارڈ ہر سال ''نارویجن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘‘ کے موقع پر دیا جاتا ہے۔٭...1986 میں فلم ''مس بینکاک‘‘ میں بہترین معاون اداکار کا ''نگار ایوارڈ‘‘ملا۔مشہور ڈرامےآنسو،ارجمند، دیس پردیس، ہوائیں، انسان اور آدمی،عید کا جوڑا،کشکول، تھوڑی خوشی تھوڑا غم، گھوڑا گھاس کھاتا ہے، پرچھائیاں، طارق بن زیاد، ٹائپسٹ، ٹریفک(چینل 4انگلینڈ)مشہور فلمیں٭چراغ جلتا رہا، ٭ گمنام، ٭قربانی٭...انسان اور آدمی ٭...لاج٭...جناح (بین الاقوامی فلم)،٭... سوتن کی بیٹی(بھارتی)،٭... امپورٹ ایکسپورٹ(نارویجن)'' پاکستانی مجھے ٹپ دیتے ہوئے شرماتے تھے‘‘یہ ان دنوں کی بات ہے جب معروف اداکار طلعت حسین اداکاری کی اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن میں تھے۔ انھیں بی بی سی میں تو کام ملنا شروع ہو گیا تھا لیکن تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کام سے گزر بسر ممکن نہیں تھی۔ ''یہ ہیں ہمارے طلعت حسین‘‘ کے نام سے لکھی گئی ڈاکٹر ہما میر کی کتاب میں شامل چند اقتباسات کے مطابق یہی وجہ تھی کہ طلعت حسین نے ویٹر کی جزوقتی ملازمت کا فیصلہ کیا۔ طلعت اداکار کے طور پر پہچان بنا چکے تھے اِس لیے یہ فیصلہ مشکل تھا، لیکن اس میں مشکل کیا تھی؟ کتاب میں ہما سے بات کرتے ہوئے طلعت حسین نے بتایا تھا کہ 'مشکل اس وقت ہوتی تھی جب کوئی پاکستانی فیملی ہوٹل میں کھانا کھانے آتی۔ مجھے دیکھتے ہی پہچان لیتی۔ مجھے آرڈر دیتے ہوئے انھیں جھجک ہوتی۔ میں ان سے کہتا کہ وہ بے چین نہ ہوں اور اطمینان سے اپنا آرڈر لکھوا دیں۔ اس کے بعد صورتِ حال اُس وقت اور پیچیدہ ہو جاتی جب انھیں بل کے ساتھ ٹپ دینا ہوتی۔ پاکستانی مجھے ٹپ دیتے ہوئے شرماتے تھے۔ 

رومال سے ٹشو پیپر تک کا سفر

رومال سے ٹشو پیپر تک کا سفر

پرانے دور میں چلے جائیں تو پنجاب کی ثقافت میں صافہ کے نام سے ایک کپڑے کا بڑا سا ٹکڑالباس کا ایک لازم جزو تھا۔ جسے مرد حضرات کندھے پر رکھتے تھے، جسے گرمی کی شدت سے بچنے یا سردیوں کے موسم میں اس کپڑے سے سر اور منہ کو ڈھانپا جاتا تھا۔ باوقت ضرورت اس کپڑے کو پھلوں اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کرنے کے بعد اس میں باندھ کر کندھے پر رکھ لیا جاتاتھا۔ یہ پرانے وقتوں کی بات ہے کیونکہ اگر آج کے دور کے بچوں سے پوچھا جائے تو وہ رومال اور صافہ جیسی چیزوں کے ناموں سے بھی واقف نہ ہوں گے۔ ماضی قریب کے دور میں جب کوئی نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنتا تو ایک رومال ضرور جیب میں رکھتا کیونکہ اس کے بغیر تیاری ادھوری سمجھی جاتی تھی۔ شادیوں میں یہ عام دیکھنے کو ملتا تھا کہ دولہا میاں بن سنور کر جب بارات لے کر دولہن والوں کے گھر پہنچتے توان کے ہاتھ میں ایک رومال ضرور ہوتا۔ دولہا میاں اس رومال کو اپنے منہ پر رکھ کرشرمانے کی بھر پور کوشش کرتے۔ یہ ہماری ثقافت کا روایتی حصہ سمجھا جاتا تھا۔اگر دولہا میاں رومال رکھنا بھول جاتے تو ان کے ساتھ بارات میں شریک دوست احباب ان کو خاص طورپر یاد دلاتے کہ تمہار ا رومال کدھر ہے۔ اس بات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انسانی زندگی کے یہ خوشگوار لمحات رومال کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے تھے۔ اس دور میں کپڑے کا یہ ٹکڑا جسے رومال کہا جاتا ہے بچپن سے ہی زندگی کا حصہ ہوتا تھا۔ بچپن میں اس رومال کو بچے کی ستر پوشی کیلئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ جسے لنگوٹ کا نام دیا جاتاتھا اور جب تک بچہ چلنا شروع نہیںکردیتا تھا اس وقت تک لنگوٹ لازم و ملزوم سمجھا جاتاتھا۔ ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں جس تیزی سے تبدیلی لائی اسی تیزی سے ضروریات زندگی کی اشیاء کے بھی نت نئے معیار بنتے گئے۔اسی طرح صافہ اور رومال کی جگہ ٹشو پیپر اور لنگوٹ کی جگہ پیمپرز نے لے لی اور لنگوٹئے یار اب ''انڈر ویئر فرینڈ‘‘ کہلائے جانے لگے۔ٹشو پیپر ہماری روز مرہ زندگی میں کئی وجوہات کی بنا پر بہت اہمیت رکھتا ہے بالکل اسی طرح جیسے پہلے صافہ اور رومال کو اہمیت حاصل تھی۔ اسی طرح ٹشو پیپر حفظان صحت کے معمولات میں ایک ناگزیر چیز ہے۔ باتھ روم میں صفائی برقرار رکھنے کیلئے چہرے کو صاف کرنے سے لے کر کچن اور کھانے کی ٹیبل تک ٹشو پیپر کا استعمال انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ٹشو پیپر ایک ہلکا پھلکا ، نرم اور ڈسپوز ایبل کاغذی پروڈکٹ ہے جو بنیادی طورپر ذاتی حفظان صحت اور صفائی کے مقاصد کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ری سائیکل شدہ کاغذ کے گودے یا لکڑی کے ریشوں اور پانی کے امتزاج سے تیار کیا جاتا ہے۔ جسے پتلی ، نازک چادروں کی تہوں سے تیارکیا جاتا ہے۔ٹشو پیپر بلاشبہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جس کا استعمال انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ ذاتی استعمال سے لے کر گھریلو صفائی، دستکاری اور پیکیجنگ تک، ٹشو پیپر ایک ورسٹائل ٹول کے طور پر کام کرتا ہے۔ٹشو پیپر کے ذریعے بہت سے کام آسان ہوجاتے ہیں اور یہ ہمیں بہت سی جگہوں پر سہولت فراہم کرتا ہے۔ ٹشو پیپر صفائی ستھرا اور دھول صاف کرنے کیلئے بہترین ہے۔ٹشو پیپر پانی کوجذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اسی وجہ سے چہرے پر پسینہ ہو ، ٹیبل یا کتاب پرپانی چائے یا دیگر مائع چیز گرجائے تو فوراً ٹشو پیپر کی ہی واحد حل سمجھا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر کپڑوں پر بھی کوئی داغ لگ جائے ، سالن گر جائے اور کچھ اورپھر بھی ٹشو پیپر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ٹشو پیپر نرم نازک جلد کی طرح نرم ہوتا ہے اور جلد کی دیکھ بھال اور خوبصورتی کیلئے بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ میک اپ کو ہٹانے سے لے کر چہرے کے ٹونر یا لوشن لگانے تک، ٹشو پیپر جلن پیدا کیے بغیر نرم ٹچ فراہم کرتا ہے۔ چہرے کے ٹشو جلد پر ہموار اور نرم ہوتے ہیں۔ یہ عام طور پر ناک صاف کرنے، آنسو صاف کرنے یا چہرے کی عمومی صفائی کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔روزمرہ کے استعمال کیلئے ٹشو پیپر مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے اسی لئے ٹشو پیپر کو مختلف ڈیزائن اور سٹائل میں تیار کیا جاتا ہے۔ ٹوائلٹ ٹشو، جسے ٹوائلٹ پیپر یا باتھ ٹشو بھی کہا جاتا ہے، خاص طور پر باتھ روم میں استعمال کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ٹوائلٹ ٹشو مختلف موٹائی اور ساخت میںتیار کیا جاتا ہے۔ کچن ٹشو جسے پیپر تولیہ بھی کہا جاتا ہے، یہ پانی جذب کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور پائیدار ہوتا ہے۔ یہ سطح کو صاف کرنے، ہاتھ خشک کرنے یا کچن کی شلفوں کو صاف کرنے کیلئے بہترین ہے۔ باورچی خانے کے ٹشو رولز اکثر آسانی سے پھاڑنے کیلئے پرفوریشن کے ساتھ آتے ہیں، جس سے شیٹ کے سائز کو حسب ضرورت بنایا جا سکتا ہے۔گفٹ ریپنگ ٹشو پیپر تحائف میں خوبصورتی اور نفاست کا اضافہ کرتا ہے۔ یہ ہلکا پھلکا، پتلا ہے اور اکثر مختلف رنگوں اور نمونوں میں آتا ہے۔ گفٹ ریپنگ ٹشو تحائف کی پیشکش کو بڑھاتا ہے، نازک اشیاء کی حفاظت کرتا ہے اور آرائشی مزاج کا اضافہ کرتا ہے۔ صنعتی ٹشو پیپر دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور زیادہ ہیوی ڈیوٹی ہے۔ یہ صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے فوڈ سروس، آٹوموٹو، صحت کی دیکھ بھال، اور دیگر خدمات کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ صنعتی ٹشو پیپر کو سخت صفائی کے کاموں۔ سطحوں کو صاف کرنے، اور مائعات کو موثر طریقے سے جذب کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

المسعودی:عظیم مسلم مورخ

المسعودی:عظیم مسلم مورخ

ابوالحسن علی ابن الحسین ابن علی المسعودی ایک مورخ کی حیثیت سے جانا پہچانا نام ہے، لیکن اس کے حالات زندگی کے بارے میں بہت کم تاریخی مواد دستیاب ہے۔ اس کے متعلق اس کی اپنی تصانیف اور دوسرے مصنفین کی تحریروں سے جو خال خال معلومات ملتی ہیں، ان کے مطابق وہ بغداد میں پیدا ہوا اور مصر کے شہر الفسطاء ( قاہرہ قدیم) میں وفات پائی۔ تاریخ وفات کے بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم مستند ترین روایت یہ ہے کہ اس نے 956ء یا 957ء میں ستمبر یا اکتوبر کے مہینے میں انتقال ہوا۔المسعودی نے نو عمری میں ہی سیاحت کا آغاز کیا۔ وہ بغداد سے تقریباً915ء میں روانہ ہوا اور اپنی بقیہ زندگی سیرو سیاحت میں گزار دی۔941ء تک وہ خراسان، سجستان (جنوبی افغانستان)، کرمان، فارس، قومیں، جرجان، طبرستان، جبال(میڈیا)، خوزستان، عراق اور جزیرہ میسوپوٹیمیا کا نصف شمال کی سیاحت کر چکا تھا۔941ء اور 956ء کے درمیان عرصے میں اس نے شام، یمن، حضر موت، شمر اور مصر کا سفر کیا۔ اس نے سندھ ہند اور مشرقی افریقہ کا سفر بھی کیا اور بحیرہ خزر، بحیرہ احمر، بحیرہ روم اور بحیرہ عرب کے پانیوں کی سیر بھی کی۔ تاہم اس کی دستیاب تصانیف سے اس کے ہند، چین اور جاوا کی سیاحت کے دعوئوں کی تصدیق نہیں ہوتی۔ بعض محققین کا یہ خیال بھی درست معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے سری لنکا، مڈغا سکریا تبت کی سیاحت کی۔ المسعودی نے عمر کا آخری حصہ مصر میں بسر کیا۔ اس کی مہمات کے دو بڑے محرکات سامنے آتے ہیں۔ ایک تووہ دنیا کے ''عجائب‘‘ دیکھنا چاہتا تھا، دوسرے اس کا عقیدہ تھا کہ حقیقی علم صرف ذاتی تجربے اور مشاہدے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔المسعودی کی دستیاب تصانیف اور دوسرے ذرائع سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے کم و بیش 37کتب تحریر کیں۔ اس نے تاریخ اور جغرافیے سے لے کر فقہ، مذہبیات، تسبیات اور فن نظامت و حکمرانی تک کو اپنا موضوع بنایا۔ ان میں سے اب صرف دو تصانیف دستیاب ہیں '' مروج الذہب و معاون الجواہر‘‘ نومبر، دسمبر947ء میں مکمل ہوئی اور 956ء میں اس پر نظرثانی کی گئی۔ دوسری تصنیف''التنبیہ والا شراف‘‘ ہے جو المسعودی کی وفات سے ایک برس قبل سمیل کو پہنچی۔ المسعودی کا سب سے بڑا کارنامہ '' کتاب اخبار الزمان و من آبادہ لحدثان‘‘ ہے۔ اس کتاب میں دنیا کی تاریخ اور جغرافیے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کتاب 30 جلدوں میں تحریر کی گئی تھی جن میں سے صرف پہلی جلد بچ سکی ہے جو آسٹریا کے شہر ویانا میں محفوظ ہے۔المسعودی کا ایک مورخ کی حیثیت سے قرون وسطیٰ کی عرب تاریخ نگاری میں بڑا اہم حصہ ہے۔ اس کا خیال تھا کہ کسی قوم کی تاریخ کی حقیقی اور معروضی عکاسی کیلئے مورخ کو اس ملک میں دستیاب بنیادی ذرائع سے اکتساب کرنا چاہئے اور اسے ثانوی ذرائع پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان سے حقائق مسخ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس نے قدیم ایران کی تاریخ رقم کرتے وقت اس اصول کی پیروی کی۔ دنیا کی تاریخ قلمبند کرتے وقت اس نے نہ صرف متعدد عربی تاریخی کتب سے استفادہ کیا بلکہ اس میں مختلف ممالک اور بادشاہتوں میں اپنے سفر کے ذریعے حاصل ہونے والا مواد بھی شامل کیا۔ طلوع سلام سے لے کر اپنے دور تک کی اسلامی تاریخ پر روایتی انداز میں بحث کرنے کے ساتھ ساتھ المسعودی نے اسلام سے قبل کی اہم قوموں اور نسلوں کی تواریخ کا جائزہ بھی لیا اور اس نے باز نطینی سلطنت، یورپی اقوام، ہندوستان اور چین کی معاصر تاریخ کا بھی حتیٰ الوسع احاطہ کرنے کی کوشش کی۔ تاریخ کے ضمن میں اس کا زاویہ نگاہ سائنسی اور معروضی ہے۔المسعودی کسی خطے کی تاریخ کے ادراک کیلئے اس خطے کے جغرافیے سے واقفیت کو ایک لازمہ خیال کرتا تھا۔اگرچہ المسعودی کو ایک فلسفی کی حیثیت سے شہرت حاصل نہیں ہو سکی لیکن اس کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے یونانی فلسفے سے بہت دلچسپی تھی،۔ تاہم وہ یونانیوں کے اس تصور مادیت کو مسترد کرتا ہے جو دنیا کو ابدی قرار دیتا ہے۔ المسعودی اپنی تحریروں میں سیدھا سادہ اسلوب اختیار کرتا ہے لیکن گاہے بگاہے عرب شاعری کے استعمال نے اس کی تحریر میں ادبی چاشنی پیدا کردی ہے۔  اس بات کو سامنے رکھ کر اس نے تاریخ عالم بیان کرنے سے قبل جغرافیے کا بالتفصیل جائزہ لیا۔ وہ اس نظریے کی بڑی شدو مد سے حمایت کرتا ہے کہ کسی خاص علاقے کے جغرافیائی حالات اس علاقے کے جانوروں اور پودوں کے کردار، مزاج، ساخت اور رنگ و روپ کا تعین کرتے ہیں۔ وہ عربی ترجموں کی وساطت سے یونان، ایران اور ہندوستان کے جغرافیائی حالات اور نظریات و تصورات سے واقفیت حاصل کر چکا تھا۔ اس کے علاوہ اس دور کے جغرافیے کے عربی لٹریچر سے بھی متعارف تھا۔ المسعودی کا تنقیدی ذہن ''نظریات پرستوں‘‘ کے تصورات کو چیلنج کئے بغیر نہ رہ سکا اور اس نے اپنے دور کے عرب جغرافیہ دانوں کی پیدا کردہ الجھنوں کی جا بجا تصحیح کی۔ مثال کے طور پر وہ جنوبی نصف کرے میں کسی جگہ واقع''خطہ نامعلوم‘‘ (Terra incognitia))بطلیموسی تصور کا پوری طرح قائل نہیں تھا جس کے مطابق بحر ہند کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ سوائے مشرق کے تمام اطراف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اور مشرق میں یہ ایک آبی گزر گاہ کے ذریعے بحر الکاہل سے ملا ہوا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ اسے بحر ہند( البحرالحبشی) میں جہاز رانی کرنے والے ملاحوں نے بتایا کہ اس سمندر کی جنوبی طرف کوئی کنارا نہیں۔ 

تیموریوں کے محلات

تیموریوں کے محلات

بابر اور ہمایوں کو ہندوستان میں اتنا چین اور سکون نہ ملا کہ وہ اپنے رہنے کیلئے اکبر اور شاہ جہاں کی طرح بڑی بڑی عمارتیں بناتے، دہلی میں ہمایوں نے اُس قلعہ میں بودو باش اختیار کی جواب پرانا قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔دین پناہیہ قلعہ راجہ آنند پال نے بنوایا، معلوم نہیں ہمایوں نے اس کو کس حال میں پایا تھا لیکن اس کواز سر نو بنا کر اس کا نام دین پناہ رکھا، جواب بھی موجود ہے، اس کے تین دروازے اور کئی کھڑکیاں ہیں، اس کی فصیل بڑی چوڑی ہے، دیواریں چونے اور سنگ خارا کی ہیں۔ ہمایوں کے زمانہ کے سکونتی مکان تو ختم ہو چکے ہیں، البتہ اس زمانہ کے ایک مدرسہ کی عمارت باقی ہے، جس کو اکبر کی مرضعہ ماہم بیگم نے بنوایا تھا۔ اسی کے ساتھ ایک مسجد بھی ہے، ان دونوں عمارتوں کے علاوہ ہمایوں کی بنائی ہوئی ایک خوبصورت مسجد بھی ہے، اس میں پانچ در ہیں، پوری مسجد سنگ خارا کی ہے لیکن روکار میں سنگ سرخ اور سنگ مرمر بہت ہی خوبصورتی سے لگائے گئے ہیں، محرابوں اور گوشوں میں قرآنی آیتیں خط نسخ اور خط کوفی میں لکھی ہوئی ہیں۔ صحن میں ایک مثمن حوض تھا، مسجد کی چھت پر جانے کا راستہ عجیب طریقہ سے بنایا گیا ہے، دیواروں میں جا بجا نشیمن بنے ہوئے ہیں، بیچ میں ایک گنبد تھا، اس کے دونوں طرف چھتریاں تھیں جواب نہیں ہیں۔ سر سید احمد خاں نے آثار الصنادید میں ایک مسجد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا لدائو اس خوبصورتی سے بنایا گیا ہے کہ آنکھ اٹھانے کو جی نہیں چاہتا۔ہمایوں پر شیر شاہ غالب آیا تو اس نے ایک قلعہ میں ایک بہت بلند مینارہ بنایا جو شیر منڈل کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سنگ سرخ کا بنا ہوا ہے، اس کے بیچ میں ایک کمرہ ہے اور چاروں طرف بہت پتلی غلام گردش ہے، سب سے اوپر ایک برجی ہے۔ یہ سیر گاہ تھی لیکن ہمایوں کو دوبارہ سلطنت ملی تو اس نے اس کو اپنا کتب خانہ اور رصد گاہ بنایا، ایک روز نیچے اتر رہا تھا کہ پھسل کر اس کے زینہ سے گر گیا جس سے اس کی وفات ہو گئی۔عمارت طلسم ہمایوں دہلی میں تو کوئی علاحدہ محل نہ بنا سکا لیکن آگرہ میں رہنے کیلئے ایک عجیب و غریب عمارت بنائی تھی اور اس کا نام عمارت طلسم رکھا تھا۔ یہ دریائے جمنا کے کنارے بنائی گئی تھی، جس سے اندر پانی آتا تھا، اس میں تین متصل کمرے تھے، پہلا کمرہ بہت بڑا اور مثمن تھا اور اسی میں ایک مثمن حوض بھی بنایا گیا تھا، حوض کے بیچ میں اندرونی راستے نکالے گئے تھے جو اور دوسرے کمروں کی طرف جاتے تھے، ان راستوں کے سرے پر ایک مثمن قبہ بنا ہوا تھا جس پر پتھر کا ایک بڑا ٹکڑا رکھا تھا۔ راستوں کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ حوض سے ان میں پانی نہیں آتا تھا، بیچ والے کمرہ کی شکل بھی مثمن تھی، اس میں کھڑکیاں بھی تھیں اور اس کے بیچ میں حوض تھا اور اس کے چاروں طرف دہلیز تھی، دو دہلیزوں کے دروازے پہلے اور تیسرے کمرے کی طرف تھے اور ان دونوں کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ ایک کھولا جاتا تو دوسرا بند ہو جاتا، ان تینوں کمروں کے ارد گرد اور حجرے بنے ہوئے تھے، جو ہمیشہ آراستہ پیراستہ رہتے۔ پہلے کمرہ میں ہمایوں کا مرصع تخت رہتا، اس کے اوپر اور نیچے زردوزی کی چادریں(اوسقہ) بچھی رہتی تھی ، جن میں موتی کے ڈیڑھ ڈیڑھ گز کی جھالریں ہوتیں، موتی کی ہر لڑی میں دو گول آئینے لگے رہتے، اس طرح موتی کی تیس چالیس لڑیاں ہوتیں۔ اسی سے متصل حجرے میں مرصع چھپر کھٹ، پان دان، صراحی، پانی پینے کے طلائی اور نقرئی ظروف اور دوسرے برتن رکھے رہتے، ان تین کمروں کے اوپر تین بالاخانے کے کمرے تھے، ایک خانہ دولت کہلاتا، وہاں تلوار خنجر جمدھر، کھپوہ، ترکش وغیرہ رکھے رہتے، جن پر زردوزی کے خلاف چڑھے ہوتے، دوسرا کمرہ خانہ سعادت کہلاتا، یہاں جانماز، کتابیں، قلم دان، جزو دان، اچھی تصویریں اور خطاطی کے اچھے نمونے رکھے رہتے، تیسرے کمرے کا نام خانہ مراد تھا، یہاں ایک مرصع چھپر کھٹ، صندلی ظروف، تو شک، نہا لچے اور دستر خوان وغیرہ ہوتے، جو سب کے سب زریفت سے بنائے جاتے، یہاں طرح طرح کے میوے اور مشروبات بھی ہوتے۔محل رواں ہمایوں نے ایک ''محل رواں‘‘ بھی بنایا تھا، اس کی تین منزلیں تھیں اور سب کی سب لکڑیوں کی تھیں ان کے ٹکڑے اس طرح جوڑے گئے تھے کہ دیکھنے سے کہیں جوڑنہیں معلوم ہوتا تھا لیکن سب علاحدہ ہو جاتے تھے، یہ محل ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتا اور جہاں ضرورت ہوتی وہاں کھڑا کر دیا جاتا۔کشتیوں کا محل ہمایوں نے دریائے جمنا میں کشتیوں کا بھی ایک محل بنایا تھا، پہلے چار کشتیاں بنائی گئیں اور ان میں سے ہر ایک کشتی میں چار طاق بنائے گئے، ان کشتیوں کو اس طرح جوڑ دیا جاتا کہ چار طاق ایک دوسرے کے محاذی رہتے، ان چار کشتیوں میں دو کشتیوں کے درمیان مثمن حوض بھی تھا، یہ کشتیاں جمنا میں چلتیں تو ایک معلوم ہوتیں، ہمایوں اکثر اپنے امرا اور بیگمات کے ساتھ ان کشتیوں میں فیروز آباد اور دہلی سے آگرہ گیا۔ اس محل کے ساتھ اور دوسری کشتیوں پر دکانیں ہوتیں، جہاں سے لوگ ضرورت کی چیزیں خریدتے رہتے، ان کشتیوں کے علاوہ اور کشتیوں پر شاہی باغ بانوں نے باغ بھی لگا رکھا تھا، اس طرح محل کے ساتھ باغ بھی دریا میں چلتا پھرتا نظر آتا۔آگرہ کا قلعہ اکبر نے آگرہ کا قلعہ جمنا کے مغربی ساحل پر اپنے پانچویں سال جلوس(یعنی 968ء میں بنوانا شروع کیا اور پھر ایک مدت تک اس میں ترمیم اور اضافہ ہوتا رہا، پہلے یہاں راجپوتوں کا ایک پرانا قلعہ تھا جو بادل گڑھ کے نام سے مشہور تھا، اسی کو مسمار کرکے اکبر نے اپنے ذوق کا ایک قلعہ بنانا شروع کیا، پہلے یہ اینٹوں سے بنایا گیا لیکن پھر اس میں سنگ سرخ لگایا گیا، اس کی بنیاد بہت ہی گہری کھودی گئی۔ اس میں تین چار ہزار کاری گر اور مزدور روزانہ کام کرتے تھے، اس کے سرخ پتھر آپس میں اس طرح جوڑے جاتے تھے کہ دو پتھروں کے درمیان باریک سے باریک ہال بھی نہیں جا سکتا تھا، قاسم خاں میر بروبحر کی نگرانی میں تیار ہوا۔ جہانگیر نے اپنی تزک میں لکھا ہے کہ اس کی تعمیر میں 35لاکھ روپے خرچ ہوئے اس کی تعمیر میں بڑی جدت پیدا کی گئی ہے، دونوں مثمن مینارے ایک محراب سے ملتے ہیں۔ اس کی پشت کا حصہ کھلا ہوا ہے لیکن اوپر چھتہ ہے، جس میں جا بجا برجیاں، کوشک اور کنگورے ہیں۔ ان کی تعمیر زینت و آرائش اپنی مثال آپ ہے، سنگ سرخ کے ساتھ سنگ مر مر کا حسن خواب کھلا ہے۔ اس میں دوہری دیواریں تھیں، بیرونی دیوار زمین سے 40فٹ اوپر ہے اور اندرونی دیوار بیرونی دیوار سے 30فٹ اور بلند ہے، وہ خندقیں بھی تھیں، بیرونی خندق تو اب نہیں ہے لیکن اندرونی خندق اب بھی دکھائی دیتی ہے، یہ تیس فٹ چوڑی ہے، اس خندق کے پاس ایک پل ہے جس کو عبورکرنے کے بعد دہلی دروازہ آتا ہے جو دیکھنے میں بہت ہی شاندار اور مستحکم معلوم ہوتا ہے اس کی دیوار دس فٹ چوڑی ہے اور اس کے دو طرف سنگ سرخ کے ہشت پہل بڑے بڑے دو مینارے ہیں جن میں جا بجا سنگ مر مر لگے ہوئے ہیں۔ 

زمین پر طویل اور مختصر ترین دن ایک ہی روز آتا ہے

زمین پر طویل اور مختصر ترین دن ایک ہی روز آتا ہے

خط استوا زمین کے وسط سے گزرنے والی وہ فرضی لکیر ہے۔ جس کے اوپر کا علاقہ شمالی نصف کرہ کہلاتا ہے اور نچلا علاقہ جنوبی نصف کرہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب 21 جون کو شمالی نصف کرے میں سال کا سب سے طویل دن ہوتا ہے، تو جنوبی نصف کرے میں یہ سال کا سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے، یعنی پاکستان کے رہنے والوں نے 25 دسمبر کے مقابلے میں 4گھنٹے اور 29 منٹ زیادہ طویل دن گزارا، جس میں سورج 4 بج کر 56 منٹ پر نکلا اور 7 بج کر 13 منٹ پر غروب ہوا۔ اس کے مقابلے میں سال کا سب سے چھوٹا دن 22 دسمبر ہوتا ہے جبکہ 21 مارچ اور 22 ستمبر میں دن اور رات بالکل برابر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے جنوبی نصف کرے میں مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں سردی ہوتی ہے، جیسا کہ ابھی آسٹریلیا میں ہے جبکہ جب شمالی نصف کرے میں دنیا کا بیشتر آباد حصہ سردی میں ٹھٹھر رہا ہوتا ہے، تو دسمبر میں آسٹریلیا والے ساحلوں پر دھوپ سینک رہے ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا میں 21 جون 2016ء کو صرف 9 گھنٹہ، 53 منٹ اور 53 سیکنڈ ہی روشنی رہی اور سورج 4 بج کر 54 منٹ پر ہی ڈوب گیا۔

آج کا دن

آج کا دن

بنگلہ دیش میں طوفان27مئی1963ء کو بنگلہ دیش (اس وقت کے مشرقی پاکستان) میں شدید طوفان آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک صورت اختیار کر لی۔ اس طوفان نے بہت بڑے علاقے میں تباہی مچائی جس کے نتیجے میں22ہزار افراد ہلاک جبکہ10لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔ اسے اس خطے میں آنے والے بدترین آفتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لاکھوں افراد کے بے گھرہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ یوگیا کارتازلزلہ27مئی 2006ء کو یوگیا کارتا زلزلہ جسے بنٹول زلزلہ بھی کہا جاتا ہے 6.4شدت کا خوفناک زلزلہ تھا۔ اس زلزلے میں5 ہزار 700افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق زلزلے کے دوران تقریباً3.1ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ عوامی انفراسٹرکچرکے ساتھ، ہاؤسنگ اور نجی کاروبار کو زیادہ نقصان پہنچا ۔ریاستہائے متحدہ کے نیشنل جیو فزیکل ڈیٹا سینٹر نے اس واقعے سے ہونے والے کل نقصان کو انتہائی درجہ کا قرار دیا۔اس زلزلے کو انڈونیشیا کی تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔''سوشیما جنگ‘‘ کا آغاز27 مئی1905ء کو ''سوشیما جنگ‘‘ کا آغاز ہوا جو کہ عالمی تاریخ کی ایک جدید ترین جنگ تھی جو کہ جاپان اور روس کے درمیان لڑی گئی۔جنگ کے بڑے محاذ جنوبی منچوریا میں لیاؤڈونگ جزیرہ نما اور مکڈین اور کوریا ، جاپان کے اردگرد سمندر اور بحیرہ اصفر تھے۔روس کو جاپان سے متعدد شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن زار نکولس دوم کو یقین تھا کہ روس جیت لے گا، اس لئے اس نے جنگ کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن جاپانی فوج کی مکمل فتح نے عالمی مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا۔نتائج نے مشرقی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا۔ یہ کسی یورپی ملک پر ایشین طاقت کی جدید دور میں پہلی بڑی فوجی فتح تھی۔لی پراڈس کا قتل عام لی پیراڈس کا قتل عام دوسری عالمی جنگ کا ایک سنگین جنگی جرم تھا جس کا ارتکاب14ویں کمپنی کی ایس ایس ڈویژن کے ارکان نے کیا تھا۔ یہ 27 مئی 1940ء کو فرانس کی جنگ کے دوران ایک ایسے وقت میں ہوا جب برطانوی مہم جوئی فورس (BEF) کے دستے ڈنکرک کی لڑائی کے دوران پاس ڈی کیلیس کے علاقے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔دوسری بٹالین، رائل نورفولک رجمنٹ کے سپاہی اپنی یونٹ سے الگ ہو چکے تھے۔ انہوں نے لی پیراڈس گاؤں میں ایس ایس فورسز کے حملے کے خلاف ایک فارم ہاؤس پر قبضہ کرلیا تاکہ اپنا دفاع کر سکیں۔ گولہ بارود ختم ہونے کے بعد، محافظوں نے جرمن فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ جرمن انہیں سڑک کے پار ایک دیوار تک لے گئے جہاں انہیں مشین گنوں سے قتل کر دیا گیا۔