یادرفتگاں:اے حمید:باکمال موسیقار

یادرفتگاں:اے حمید:باکمال موسیقار

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


30 سالہ فلمی کریئر میں 70 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دینے اور تقریباً 450 گیت کمپوز کرنے والے اے حمید پاکستانی فلمی موسیقی کا ایک بہت بڑا نام تھے۔ وہ کمال کے موسیقار تھے کہ ان کے بہت کم گیت ایسے ہیں جو مقبول نہ ہوئے ہوں، ان کے سپرہٹ گیتوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود اردو فلموں کے سکہ بند موسیقار تھے اور پورے فلمی کریئر میں صرف 8 پنجابی فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔
اے حمید 1933ء میں امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ پورا نام شیخ عبدالحمید تھا۔ انہوں نے پاکستان میں اپنا فلمی کریئر 1957ء میں فلم ''انجام‘‘ سے شروع کیا۔ 1960ء میں انہوں نے فلم ''رات کے راہی‘‘ کیلئے شاندار موسیقی مرتب کی۔ اس فلم میں زبیدہ خانم کا گایا ہوا ایک گیت ''کیا ہوا دل پہ ستم، تم نہ سمجھو گے بلم‘‘، انتہائی مقبول ہوا۔ اس گیت کو فیاض ہاشمی جیسے بے بدل گیت نگار نے لکھا تھا۔ ''رات کے راہی‘‘ کی کامیابی میں بلاشبہ اے حمید کی موسیقی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
1960ء میں ان کی مشہور زمانہ فلم ''سہیلی‘‘ نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ ایس ایم یوسف کی اس فلم نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ اس فلم میں اے حمید کا فن اوج کمال کو پہنچ گیا۔ یہ گیت تو بہت زیادہ مقبول ہوا ''کہیں دو دل جو مل جاتے‘‘ پھر 1962ء میں ''اولاد‘‘ کے گیتوں نے بھی ان کے فنی قدو قامت میں اضافہ کیا۔ اس کے بعد ان کی یکے بعد دیگرے ریلیز ہونے والی فلموں کے نغمات مقبولیت کی آخری حدوں کو چھونے لگے۔ آشیانہ (1964ء)، توبہ (1965ء) اور بہن بھائی (1968ء) کے نغمات بھی زبان زد عام ہوئے۔ ''توبہ‘‘ میں منیر حسین اور ان کے ساتھیوں کی آواز میں گائی ہوئی یہ قوالی آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے ''نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ہم کہاں جاتے‘‘۔
اس کے بعد 1971ء میں ریاض شاہد کی فلم ''یہ امن‘‘ نمائش کیلئے پیش ہوئی۔ اس فلم کے بارے میں کہا جاتا تھاکہ اس کا خاصا حصہ سنسر کی نذر ہو گیا تھا۔ یہ یحییٰ خان کا دور تھا۔ ریاض شاہد کو اپنی فلم کے سنسر ہونے کا بے پناہ دکھ تھا۔ ان کی فلم ''امن‘‘ کا نام بھی بدل کر ''یہ امن‘‘ رکھ دیا گیا۔ ریاض شاہد کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ دکھ ریاض شاہد کو موت کی وادی میں لے گیا۔''یہ امن‘‘ اس کے باوجود سپرہٹ ثابت ہوئی۔ حیرت کی بات ہے کہ 1969ء میں ریاض شاہد نے اپنی شاہکار فلم ''زرقا‘‘ کی موسیقی کیلئے رشید عطرے کو منتخب کیا تھا لیکن ''یہ امن‘‘ کی موسیقی کیلئے انہوں نے اے حمید کو ترجیح دی۔ یہ فلم کشمیر کی جنگِ آزادی پر بنائی گئی تھی۔ اے حمید نے اس فلم کے گیتوں کو لازوال دھنیں عطا کیں۔ مہدی حسن اور نورجہاں کا یہ گیت تو آج بھی لاثانی گیت کہلایا جاتا ہے ''ظلم رہے اور امن بھی ہو‘ کیا ممکن ہے تم ہی کہو‘‘۔
1972ء میں شریف نیئر کی فلم ''دوستی‘‘ نے باکس آفس پر دھوم مچا دی۔ اس فلم کے گیت قتیل شفائی، کلیم عثمانی اور تنویر نقوی کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ اس فلم کے یہ گیت آج بھی اپنی شہرت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ''یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہ زادیاں‘‘ اور ''چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے‘‘۔ اے حمید نے اس فلم کا جو سنگیت دیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
1974ء میں انہوں نے فلم ''سماج‘‘ کیلئے شاندار موسیقی دی۔ اس فلم کے یہ گیت شاہکار قرار پائے ''چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں‘‘ اور ''یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا‘‘۔ 1976ء میں حسن طارق کی فلم ''ثریا بھوپالی‘‘ کی بے مثال موسیقی بھی اے حمید کی تھی۔ اس میں ناہید اختر کے گائے ہوئے گیت آج بھی دل کے تاروں کو چھو لیتے ہیں۔
1977ء میں انہوں نے فلم ''بھروسہ‘‘ کی موسیقی ترتیب دی اور اس فلم کے نغمات بھی اپنی مثال آپ تھے۔ 1976ء میں انہوں نے پنجابی فلم ''سوہنی مہینوال‘‘ کیلئے دلکش موسیقی مرتب کی۔ سیف الدین سیف کے لکھے ہوئے پنجابی نغمات کو اے حمید نے اپنی سحر انگیز موسیقی کا جو لباس پہنایا وہ آج بھی فلمی موسیقی کی تاریخ کا زریں باب ہے۔ اے حمید پیانو بجانے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ اے حمید نے پونا فلم انسٹی ٹیوٹ میں موسیقی کے شعبے میں داخلہ لیا جہاں نامور موسیقار سی رام چندر اور استاد محمد علی نے انہیں تربیت دی تھی۔ اے حمید کی خوش قسمتی یہ تھی کہ انہیں فیاض ہاشمی، قتیل شفائی، سیف الدین سیف اور حبیب جالب جسے نغمہ نگار ملے۔ ان کی یادگار فلموں میں ''رات کے راہی، اولاد، سہیلی، پیغام، یہ امن، دوستی، سوہنی مہینوال، شریک حیات، ثریا بھوپالی، آواز، انگارے، بھروسہ، توبہ، بہن بھائی‘‘ اور دوسری کئی فلمیں شامل ہیں۔
اے حمید کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے پاکستانی فلموں کی سب سے مقبول فلمی قوالی ''نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا ، ہم کہاں جاتے‘‘کمپوز کی تھی۔ اس سے قبل ہدایتکار ایس ایم یوسف کی اردو فلم ''اولاد‘‘ میں بھی اسی ٹیم کی گائی ہوئی قوالی ''حق ، لا الہ لا اللہ ، فرما دیا کملی والے ؐ نے‘‘بڑی مقبول ہوئی تھی۔اس کے علاوہ ہدایتکار اقبال یوسف کی اردو فلم ''عیدمبارک‘‘ کی محفل میلاد کو بھلا کون بھلا سکتا ہے۔ اے حمید کی بیشتر فلموں میں ایسے روحانی گیت ، قوالیاں وغیرہ عام ہوتی تھیں۔20 مئی 1991ء کو اے حمید کا راولپنڈی میں انتقال ہو گیا۔

چند دلچسپ حقائق
٭... پہلی فلم کی طرح موسیقار اے حمید کی آخری فلم ''ڈسکو دیوانے‘‘ کے ہدایتکار بھی جعفربخاری ہی تھے۔
٭...اے حمید نے ہدایتکار ایس ایم یوسف کی بیشتر فلموں کی موسیقی ترتیب دی تھی۔
٭...ایک سو سے زائد گیت نغمہ نگار فیاض ہاشمی سے لکھوائے۔
٭...زیادہ تر گیت میڈم نورجہاں ، مالا بیگم، مہدی حسن اور منیر حسین سے گوائے۔
٭...گلوکار اے نیئر کو دریافت کیا اور اردو فلم ''بہشت ‘‘(1974ء) میں روبینہ بدر کے ساتھ پہلا دوگانا ''یونہی دن کٹ جائیں ، یونہی شام ڈھل جائے‘‘گوایا تھا۔
٭...پاپ سنگر نازیہ حسن کو پہلی بار ہدایتکار حسن طارق کی اردو فلم ''سنگدل‘‘ (1982ء) میں گوایا تھا۔

مقبول عام گیت
٭کیا ہوا دل پہ ستم ، تم نہ سمجھو گے بلم(رات کے راہی)
٭ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے(سہیلی)
٭مکھڑے پہ سہرا ڈالے ، آجا او آنے والے (سہیلی)
٭کہیں دو دل جو مل جاتے، بگڑتا کیا زمانے کا (سہیلی)
٭نام لے لے کے تیرا ہم تو جئیں جائیں گے (فلم اولاد)
٭نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا، ہم کہاں جاتے(توبہ)
٭چٹھی جرا سیاں جی کے نام لکھ دے(دوستی)
٭یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہ زادیاں (دوستی)
٭کس نام سے پکاروں، کیا نام ہے تمہارا(غرناطہ)
٭ظلم رہے اور امن بھی ہو ، کیا ممکن ہے(یہ امن)
٭اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں(انگارے)

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عید کی چھٹیوں میں سیاحت کا روڈ میپ

عید کی چھٹیوں میں سیاحت کا روڈ میپ

عید کے تین دن ایک اضافی چھٹی کے ساتھ آپ کو میسر ہیں ؟ مختصر فراغت شائد آپ کو سیاحت کیلئے اُکسائے اور بچے گھر سے دور جانے پر بضد ہوں تو اپنی تفریحی منصوبہ بندی کو اس طرح ترتیب دیں کہ کم وقت اور معقول خرچ میں زیادہ سے زیادہ سیاحتی و تفریحی افادہ حاصل ہو سکے۔ آپ کم درجہ حرارت اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو پاکستان کا شمال آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ وقت کم ہے تو ایک یا دو دن نتھیا گلی کے بھیگے ہوئے موسم میں گزارے جا سکتے ہیں۔ دور دارز کے شہروں سے بذریعہ جہاز اسلام آباد آئیں اور دو گھنٹے کی مسافت کے بعد مری یا نتھیا گلی کے موسم سے لطف لیں۔ یہ قریب ترین ہل اسٹیشن کم وقت رکھنے والے سیاحوں کیلئے کافی ہیں۔ یہ دونوں علاقے مہنگی تفریحی اور لوگوں کے ہجوم کے سبب شائد آپ کا شوق سیاحت نگل جائیں۔اگر آپ کے پاس چار روز ہیں تو مری اور نتھیا گلی کے بجٹ میں آپ مظفر آباد ، شاردہ ، کیرن ، اڑنگ کیل ، تاؤ بٹ اور رتی گلی کی جھیل تک جا سکتے ہیں۔ دریائے نیلم کے کنارے متعدد آبشاروں کی روانی آپ کو ناقابل فراموش منظر دینے کیلئے منتظر ہے۔ وادیٔ نیلم میں رہائش سستی اور تفریحی افادہ بہت زیادہ ہے۔ نئی تعمیر شدہ سڑکیں محتاط ڈرائیونگ کا تقاضا کرتی ہیں۔ دریائے نیلم کے قریب جانے سے گریز کرنا ہی محفوظ سفر کی ضمانت ہے۔ تین سے چار روز وادیٔ کالام ، مالم جبہ اور سوات ویلی کے موسم بھی دلفریب ہیں۔ مینگورہ شہر تک پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ وادی بھی مختصر سیاحت کیلئے موزوں ہے۔اگر چار یا پانچ دن آپ فطرت سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں تو ایم ون سے ہزارہ ایکسپریس وے کی طرف مڑ جائیں، یہ خوبصورت موٹروے آپ کو شاطے موڑ پر چھوڑنا پڑے گا۔ چند کلومیٹر بعد بالا کوٹ میں دریائے کنہار آپ کا استقبال کرے گا۔ بالا کوٹ پاکستان کے شمال کا دروازہ بھی کہلاتا ہے۔ آپ کیوائی آبشار سے شوگران کی پیالہ نما وادی میں جا کر، دھند میں گم بھی ہو سکتے ہیں۔ شوگران سے سری پائے بھی دور نہیں ، اور سری پائے منی دیوسائی کہلاتا ہے۔ وادیٔ کاغان میں ناران اب مری کے بعد ملک کا دوسرا مصروف ہل اسٹیشن بن چکا ہے، یہاں مہنگائی بھی مری کے برابر ہے، اس لئے کم بجٹ والے سیاح بٹہ کنڈی یا شہر سے دور کسی ہوٹل میں رہائش اختیار کریں ، شور و غل ، آلودگی اور غلاظت سے محفوظ رہیں گے۔ وادیٔ کاغان میں آپ جھیل سیف الملوک کی طرف مت جائیں، وہاں کی گندگی آپ کو مایوس کر دے گی۔ لالہ زار ، دودی پت اور لو لو سر جھیل آپ کی تسکین کیلئے کافی ہیں۔ کبھی جھیل سیف الملوک پاکستان کی قدرتی اور زندہ جھیل تھی مگر پھر اسے سوداگروں کے ہاتھوں نیلام کر دیا گیا۔ آپ اسلام آباد سے بذریعہ ہوائی جہاز گلگت یا سکردو پہنچ سکتے ہیں تو پھر یہی پاکستان کا شمال ہے۔ آپ نانگا پربت اور کے ٹو کے فضائی مناظر دیکھ لیں گے ، پاکستان کا برفیلا وجود بھی آپ کی نگاہوں کے نیچے جہاز کی کھڑکی سے جھانکتا ہو گا مگر براستہ سٹرک بابو سر ٹاپ کی غلام گردشیں اور جھرنے کون دیکھے گا۔ ہر قدم پر ایک نیا منظر تو صرف براستہ سٹرک ہی اپنا آپ سیاحوں پر کھولتا ہے۔ آپ گلگت جا رہے ہیں تو خدارا قراقرم ہائی وے پر گاڑی دوڑانے کو سیاحت نہ سمجھ لینا۔ ضلع نگر میں راکا پوشی کے سفید معبد تک ضرور جانا، بیس کیمپ تک رنگ ہی رنگ بکھرے ہیں۔ قدرتی کرکٹ سٹیڈیم بھی ایک عجوبہ ہے۔ نگر کا اوشو تھنگ ہوٹل روایتی کھانوں کا واحد مرکز ہے۔ خنجراب تک جانے والے شمشال کو جانتے ہی نہیں کہ اطراف میں کیسی کیسی شاندار وادیاں پڑی ہیں اور سیاح حضرات عطا آباد جھیل میں کشتی رانی کر کے واپس لوٹ آئے ہیں۔ گلگت کی دوسری طرف چترال روڈ پر غذر اور پھنڈر کا جنت کدہ ہے۔ جہاں خلطی جھیل ہے ، پھنڈر جھیل ہے ، دریائے غذر اور گوپس ویلی ہے۔ آپ سکردو میں ہیں تو صرف کچورا جھیلوں تک محدود نہ رہیں۔ شگر روڈ کی طرف نکلیں اور ٹھنڈا صحرا بھی دیکھیں، اندھی جھیل اور دریائے برالدو کے گدلے پانی بھی دیکھیں۔خپلو تک خوبانیاں کھائیں ، دریائے شیوق کی طغیانی پر اپنی یادداشتیں رقم کریں۔ دنیا کی چھت دیوسائی پر پھولوں کی قالین پر قدم دھریں اور جھیل شیوسر کے کنارے بیٹھ کر کافی پئیں ، جہاں جھیل کے پانی میں نانگا پربت کا عکس ناچتا ہے۔اگر آپ مہم جو ہیں تو پھر جھیل کرومبر تک لازمی جائیں۔ یہ جھیل درہ درکوٹ کے اس پار چترال اور گلگت کی سرحد پر واقع ہے۔ شمال کے آخری گاؤں اسکولے سے ہوتے ہوئے کنکورڈیا اور پھر کے ٹو ٹریک پر بیس کیمپ تک جائیں۔ مگر آپ تو صرف عید کی تعطیلات کے دوران سیر و تفریح کیلئے گھر سے نکلے تھے اور میں آپ کو کہاں لے چلا ، مگر میں خود بھی تو ایسے ہی ناران تک آیا تھا اور اب استور سے آگے منی مرگ اور ڈومیل تک جا پہنچا ہوں۔ دو دن پہلے نانگا پربت کے سامنے فیری میڈو کے ایک ہٹ میں میرا قیام تھا۔ میں بھی بارہ سال پہلے ایک عید کی چار چھٹیاں گزارنے ناران تک ہی آیا تھا اور پھر پہاڑ خود اپنے دروازے کھولتے گئے۔

ناظمہ پانی پتی:برصغیر کی معروف فلمی شخصیت

ناظمہ پانی پتی:برصغیر کی معروف فلمی شخصیت

آپ نے شاید وہ گیت نہ سنا ہو جو 1948ء میں ریلیز ہونے والی فلم''مجبور‘‘میں شامل تھا۔اس گیت کے بول تھے ''دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا،تیرے پیار نے‘‘۔ اس گیت کی موسیقی موسیقار اعظم ماسٹر غلام حیدر نے ترتیب دی تھی ۔ یہ گیت نغمہ نگار اور کہانی نویس ناظم پانی پتی نے لکھا تھا۔ ماسٹر غلام حیدر نے اس گیت کی طرز بمبئی کے ریلوے سٹیشن پر ایک بینچ پر بیٹھ کر ماچس کی ڈبیا کی تھاپ پر بنائی تھی۔ ماسٹر غلام حیدر بمبئی کی فلم انڈسٹری پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ موسیقی میں نئے نئے تجربے کرنے کے بہت شائق تھے اور نئی آوازوں کے متلاشی رہتے تھے۔ ان دنوں ہدایت کار نذیر اجمری بمبئے ٹاکیز کیلئے اردو فلم ''مجبور‘‘بنا رہے تھے۔جس کی موسیقی ماسٹر غلام حیدر مرتب کر رہے تھے۔اس فلمی ادارے کے میوزک روم میں ماسٹر صاحب کے ساتھ نذیر اجمری اور یونٹ سے تعلق رکھنے والے دیگر لوگ بھی بیٹھے تھے۔ ماسٹر صاحب کے سامنے ہارمونیم پڑا تھا۔سامنے کرسی پر ایک دھان پان سی لڑکی بیٹھی تھی، کچھ سہمی اور کچھ خاموش سی۔بائیں طرف وہ ابھرتا ہوا نغمہ نگار براجمان تھا جو ناظم پانی پتی کے نام سے شہرت حاصل کر رہا تھا۔ماسٹر غلام حیدر نے مسکرا کر ناظم کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ لڑکی آپ ہی کے گیت سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کرے گی اور چند روز میں سارے گلوکاروں پر چھا جائے گی ۔ اس کا نام لتا ہے،لتا منگیشکر۔ نذیر اجمری نے ''مجبور‘‘کی ایک سچویشن ناظم پانی پتی کو سمجھائی۔ انہوں نے اس سچویشن پر ایک دو مکھڑے کہے جن میں سے یہ مکھڑا پسند کر لیا گیا ''دل میرا توڑا مجھے کہیں کا نہ چھوڑا، تیرے پیار نے‘‘۔ جب گیت کی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو سب لوگ جھوم رہے تھے۔ لتا منگیشکر نے ناظم صاحب کی طرف دیکھ کر کہا ''آپ کا مجھ پر بڑا احسان ہے ، آپ نے میرے چانس کیلئے ایسا گیت لکھا جس کی مدد سے میں اپنی آواز سوز اور درد کو سروں میں ڈھال سکی ہوں‘‘۔اس گیت نے جہاں لتا کو شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا وہاں ناظم پانی پتی کو بھی صف اوّل کے گیت نگار میں شامل کر دیا ۔ اس دور کے ایک بہت بڑے اداکار اور فلمساز سہراب مود نے اپنی اگلی فلم ''شیش محل‘‘کیلئے ناظم صاحب کو تمام گیت لکھنے کیلئے بک کر لیا۔جس گیت نے ناظم صاحب کو فلم بینوں سے بھرپور انداز میں متعارف کرایا وہ محمد رفیع کا گایا ہوا تھا، اس کے بول تھے:جگ والا میلہ یار تھوڑی دیر داہنسدیا ں رات لنگے پتا نیئں سویر دا یہ گیت پنجابی فلم ''لچھی‘‘کیلئے لکھا گیا تھا۔ جس سے ناظم صاحب کو اتنی مقبولیت ملی کہ فلمی دنیا میں اس کا طوطی بولنے لگا۔ناظم پانی پتی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز لاہور سے کیا ۔ ان کے بڑے بھائی نامور فلمساز و ہدایت کار ولی صاحب گرامو فون کمپنیوں کے لئے گیت لکھا کرتے تھے ۔ ناظم صاحب نے بھی گیت لکھنے شروع کر دئیے۔ان کمپنیوں میں ہنر ماسٹر وائس ، اومیگا، کولمبیا اور جینو فون تھے۔ ان کمپنیوں کے موسیقار ماسٹر غلام حیدر ، ماسٹر جھنڈے خاں ، بھائی لال محمد ، ماسٹر عنایت حسین اور جی اے چشتی تھے۔ گیت نگاروں میں ولی صاحب ، عزیز کاشمری اور ناظم پانی پتی نمایاں شامل تھے۔لاہور میں بننے والی پنجابی فلم ''یملا جٹ‘‘بنی جو بے حد مقبول ہوئی۔ اس کے بعد لاہور ہی میں خزانچی ، منگتی، خاندان، دلا بھٹی، زمیدار، پونجی، چوہدری اور داسی جیسی فلمیں بنیں۔ ان فلموں نے ہندوستان میں مسلمان فنکاروں کی دھوم مچا دی ۔ ناظم پانی پتی بطور گیت نگار ، سکرین پلے رائٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ان تمام فلموں سے منسلک رہے ۔نامور صحا فی سعید ملک نے ناظم پانی پتی کا ان کی زندگی میں ایک طویل انٹرویو لیا جو انگریزی روزنامے میں پانچ قسطوں میں چھپا تھا۔ اس میں ناظم صاحب نے بعض بڑی دلچسپ باتیں بیان کی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں بمبئی علاقے باندرہ میں رہتا تھا۔ گھر کے قریب ایک پارک تھا۔ وہاں میں کبھی کبھار اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرنے چلا جاتا تھا۔ وہاں بدر الدین نام کا ایک نوجوان مجھ سے بڑی عقیدت اور ادب کے ساتھ پیش آتا تھا ، مجھے سگریٹ لا کر دیتا ، کبھی کبھی سر کی مالش بھی کیا کرتا تھا ۔ بدر الدین اس زمانے کے مشہور اداکاروں کی کامیاب نقل اتارا کرتا تھا ۔ ایک روز اس نے مجھ سے فلم میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، میں اسے ایک مقامی سٹوڈیو میں لے گیا جہاں جیل سے قیدیوں کا جیل سے فرار کا منظر فلمایا جا رہا تھا ۔ یہ فلم ''بازی‘‘تھی ۔ڈائریکٹر نے میری سفارش پر بدر الدین کو ایک شرابی کا رول دے دیا ۔ اس نے یہ رول اس خوبی سے ادا کیا کہ سب حیران رہ گئے ۔ اس دن سے وہ فلمی دنیا میں جانی واکر کے نام سے مشہور ہو گیا ۔ فلم میں اس کے ہاتھ میں جانی واکر شراب کی بوتل تھی ۔ شاید اسی مناسبت سے اور اس واقعہ سے اس نے اپنا یہ نام جانی واکر رکھ لیا۔نامور ڈانسر ہیلن کو بھی ناظم صاحب نے اپنے بھائی کی فلموں سے متعارف کرایا۔ بمبئی میں نام کمانے کے بعد 1952ء میں وہ اپنے بڑے بھائی ولی صاحب کے ساتھ لاہور آگئے اور ان کی تیار کردہ فلموں ''گڈی گڈا‘‘،''سوہنی کمیارن‘‘ اور ''مٹی دیاں مورتاں‘‘ سے منسلک ہو گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر فلموں کیلئے بھی گیت لکھنے شروع کئے ۔ بالخصوص ان کی لکھی فلم ''لخت جگر‘‘کی لوری''چندا کی نگری سے آجا ری نندیا‘‘ پاکستان کی مقبول ترین لوریوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے شباب کیرا نوی کی فلم ''آئینہ‘‘ اور ''انسانیت‘‘کیلئے بھی گیت لکھے ۔ ایس ایم یوسف کی فلم''سہیلی‘‘اور رضا میر کی فلم ''بیٹی‘‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور کہانی نویس تھے۔پاکستان میں ٹیلی ویژن کے آنے پر موسیقی کے ابتدائی ہفتہ وار پروگرام ''جھنکار‘‘کیلئے انہوں نے متعدد گیت لکھے۔1966ء میں ریڈیو پاکستان سے جب کمرشل پروگرام اور اشتہارات شروع ہوئے تو ناظم صاحب اشتہاری کمپنیوں سے بطور سکرپٹ اور کاپی رائٹر منسلک ہو گئے ۔ یہاں بھی انہوں نے بہت نام کمایا اور یادگار سلوگن لکھے جن میں ''ہم تو جانے سیدھی بات، صابن ہو تو سات سو سات‘‘ اور''اٹھ میرے بیلیا پاڈان تیرے کول اے‘‘ شامل ہیں ۔ناظم پانی پتی کے قریبی دوستوں میں موسیقار خیام، نصیر انور، گلوکار سلیم رضا، اداکار ساقی، بھارتی فلمساز و ہدایتکار راجند بھاٹیہ، گلوکار جی ایم درانی ، سید شوکت حسین رضوی ، آغا جی اے گل ، رضا میر اور سعاد ت حسن منٹو شامل تھے ۔ یاد رہے کہ منٹو کو ان کی وفات پر ناظم صاحب نے ہی آخری غسل دیا اور کفنانے کا فریضہ ادا کیا۔ناظم پانی پتی نے زندگی کے آخری سال خاموشی اور گمنامی میں گزارے ۔ عمرہ ادا کیا اور واپسی پر یہ شعر موزوں کیا:پڑا رہ مدینے کی گلیوں میں ناظم تو جنت میں جا کر بھلا کیا کرے گا اپنی وفات (18 جون 1998 ء، لاہور) سے چند روز قبل ناظم پانی پتی نے میری ذاتی ڈائری پر اپنے ہاتھ سے یہ بند لکھا جو ان کی زندگی کی آخری تحریر اور تخلیق ثابت ہوئی :چراغ کا تیل ختم ہو چکا ہے زندگی کا کھیل ختم ہو چکا ہے سانس ہو رہے ہیں آزاد عرصہ جیل ختم ہو چکا ہے

آج کا دن

آج کا دن

روسی خلائی جہاز ''ووستوک 6‘‘ کی لانچنگ16 جون 1963ء کو روسی خلائی جہاز ''ووستوک 6‘‘ کو لانچ کیا گیا۔ اس خلائی سفر پر روانہ ہونے والی روسی خلانورد ویلنتینا تراش کوووا کو پہلی خاتون خلا نورد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس سے قبل خلائی جہاز ''ووستوک 5‘‘ تکنیکی مسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گیا تھا جبکہ ''ووستوک 6‘‘ کی لانچنگ بغیر کسی دقت کے آگے بڑھی۔ مشن کے دوران خلائی پرواز کے دوران خواتین کے جسم کے ردعمل پر تحقیق کی گئی۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کیلئے نوبیل انعام1964ء میں آج کے دن امریکی سیاہ فاموں کے حقوق کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ کو نوبیل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر ایک امریکی پادری، حقوق انسانی کے علمبردار اور افریقی امریکی شہری حقوق کی مہم کے اہم رہنما تھے۔وہ نوبیل انعام حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ 1968ء میں اپنے قتل سے پہلے انہوں نے غربت کے خاتمے اور جنگ ویتنام کی مخالفت کیلئے کوششیں کی اور دونوں کے حوالے سے مذہبی نقطہ نظر سامنے لائے۔ 4 اپریل 1968ء کو انہیں قتل کر دیا گیا۔بھوٹان پہلا ''نوسموکنگ ملک بنابھوٹان آج کے روز تمباکو پر مکمل پابندی لگانے والا پہلا ملک بنا۔''تمباکو کنٹرول ایکٹ ‘‘کو بھوٹان کی پارلیمنٹ نے 6 جون 2010ء کو اپنے ملک میں نافذ کیا اور 16 جون سے اس پرعملدرآمد شروع ہوا۔ اس ایکٹ میں یہ بھی لازمی قرار دیا گیا کہ بھوٹان کی حکومت تمباکو کے خاتمے میں سہولت اور علاج فراہم کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔بھوٹان میں آئینی بادشاہت ہے، جس میں ایک بادشاہ ریاست کا سربراہ اور وزیر اعظم حکومت کے سربراہ کے طور پر ہوتا ہے۔

ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ان گرمیوں سے کہ دو کہیں دورجاپڑیں

ابھی ہم ٹھنڈ گُزیدہ لوگ جاڑوں کی زم حریریوں اور ان کے آفٹر شاکس سے بمشکل سنبھل پائے تھے کہ گرمی کے عذاب نے آن لیا ۔سردی میں بھی تنگ رہے ،اب گرمی سے بھی نالاں ہیں ۔ یوں ہم کوئی بھی موسم سہنے کے لائق ہی نہیں رہے ۔جب جنوری میں سردی سے پالا پڑتا ہے تو ہر مرد وزن ،پیرو جواں یخ یخاہٹ،دندناہٹ اور کپکپاہٹ میں مبتلا رہتا ہے۔ شاعروں اور عاشقوں کے واسطے سردیاں نعمت جبکہ عمر رسیدہ جوڑوں اور عوام کیلئے زحمت بن جاتی ہیں۔سب نے ٹھنڈ کو اتنا برا بھلا کہا،اتنی بد دعائیں دیں کہ مئی میں وہ ہم کو بے رحم گرمی کے سپرد کرکے نو دو گیارہ ہوئی ۔گرمی سے تو عشاق اور شعراء بھی تنگ ہوتے ہیں ۔گرمی دانے اور موسلا دھار پسینے عاشق و معشوق دونوں کو نا قابل دید بنا دیتے ہیں اور کسی سے لَو لگ جانے کے باوجود لُو لگنے کے خوف سے صحرانوردی ناممکن ٹھہرتی ہے۔ اندر کی آتش ِعشق پر جون کی دھوپ نارِ جہنم کا استعارہ نہیں تو کیا ؟یخ بستہ فروری میں جو بات پینتالیس،چھیالیس اور سینتالیس تک پہنچی تھی اب مئی جون میں اڑتالیس سے بھی آگے دِکھ رہی ہے ۔پورا زمستاں بغیر نہائے گزارنے والے آج ٹیوب ویلوں، کھالوں اور جوہڑوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ۔سردیوں میں مقوی ٹوٹکے آزمانے والے احباب اب راتوں کو آلو بخار ا، املی اور کاسنی بھگو کر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ گرم انڈوں کے دلدادہ آج قلفی،تربوزاور گنے کا رس ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔البتہ اشرف المشروبات( چائے) ایسی ہے کافرہے جو اس دوزخ نما ماحول میں بھی منہ سے لگی نہ چھوٹے۔ بہت سے جوان دستِ حسرت ملتے ہیں کہ ان کے اجداد بٹوارے کے وقت روس کی ٹرین میں کیوں نہ بیٹھے۔ارے ان پاکستانی سردیوں سے مرے پڑوں کو بتلائو کہ روس میں ٹمپریچرمنفی چالیس تک گر جاتا ہے۔کچھ دانشوروں کی رائے ہے کہ مئی جون اورجولائی کو کیلنڈر سے نکالنے پر گرمی میں افاقہ ہو سکتا ہے ۔چند مردو زن کو شکوہ ہے کہ کپڑے دھوئیں تو فوراَ سوکھ جاتے ہیں اور پہن لیں تو اسی وقت گیلے ہو جاتے ہیں۔ سردی، خصوصاً دسمبر کی مدح میں شاعروں نے بہت کچھ لکھا مگر گرمیوں سے فقط گلہ ہی کیا ۔لگتا ہے میر تقی میر نے یہ شعر مئی جون میں ہی لکھا تھا ، گور کس دل جلے کی ہے یہ فلکشعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے البتہ حسرت موہانی کو دوپہر کی کڑکتی دھوپ میں محبوب کا ننگے پائوں چھت پر آنا مرتے دم تک یاد رہا ۔گرمیوں میں شاعروں کو محبوبائوں کے ساتھ ساتھ کالی گھٹائوںکا انتظار بھی رہتا ہے، جیسے!تپتے ہوئے صحرا سے جو بن برسے گزر جائیں ایسی بھی نہ مغرور ہوں ساون کی گھٹائیںگویا سردی وگرمی ہمیں راس نہیں،برسات سے ہمارے مکانوں کی دیواروں کا گرنا لوگوں کے رستوں پر منتج ہوتا ہے ۔خزاں ویسے کم نصیب موسم ہے ۔باقی رہا موسم بہار ،جو ہماری کج ادائی اور نازک ومتلون مزاجی کے موجب مکھی مچھر اور پولن الرجی کی آماجگاہ ہے، لہٰذاہماراکسی حال اور کسی موسم میں خوش نہ رہنا ہمارا بنیادی حق اور قومی مزاج بنتا جا رہا ہے۔ موسموں کی سختی پہلے بھی ایسے ہی ہوا کرتی تھی۔ ہمارے بچپن میں راتوں کو گرم لُوچلا کرتی اور سردیوں میں میدانی کھالوں میں پانی جم جایا کرتا تھا، مگر اس وقت وسائل کی کمی کے باعث ہمارا لائف سٹائل پُر تعیش نہ تھا۔ہر چیز قابلِ برداشت تھی ۔میعار زندگی بہت بہتر ہونے اور سائنسی ایجادات و سہولیات کی بھرمار نے ہمیں کاہل اور کم ہمت بنا دیا ہے (شایداسی لیے مولوی سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں)۔ اوپر سے درختوں اور فصلوں کی جگہ رہائشی سکیموں کا رجحان دیس کو صحرا بنانے کے مترادف ہے۔ آم کے ہزاروں باغات کا '' قتلِ آم ‘‘ قومی المیہ ہے۔ فطرت سے دور بھاگنے کا خطرناک کھیل جاری ہے۔یاد رکھو فطرت بہترین دوست ہے مگر بد ترین دشمن بھی بن سکتی ہے ۔طرز حیات بہتر ہوگا تو کارخانوں، ٹریفک وغیرہ کے اثرات بھی بھگتنا ہوں گے۔ صفائی نصف ایمان والی بات تو ویسے ہی قصہ پارینہ ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خوشحالی کے باوجود ہم تکلیف دہ زندگی گزار نے پر ہیں ۔پرانے دور میں سہولیات کم تھیں تو مدافعت بھی بہتر تھی۔ اب معاملات حیات میں اعتدال،ٖ فضول خرچی کی روک تھام اور ڈھیر ساری شجر کاری ہمارے مسائل کا دیر پا حل ہیں۔ آٹھ بڑے درخت نہ صرف آکسیجن کی بڑی فیکٹری ہیں بلکہ ایک ائیر کنڈیشنر کے برابر ماحول کو ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں ۔ ایسی قانون سازی لازم ہے کہ ملک میں ہر گھر اپنے سامنے دو درخت لگاکر پروان چڑھائے ورنہ جرمانہ عائد ہو ۔اگر ہم اپنی کاہلی اور مجرمانہ غفلت کی روش نہ بدلی اور صرف بے کار وبے کیف ترقی و خوشحالی میں مست رہے تو واقعی ہم کسی موسم میں خوش رہنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔پھر بہادر شاہ ظفر جیسا بادشاہ اور شاعر کبھی'' ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں‘‘ لکھا کرے گا تو کبھی یوں رقم طراز ہوگا ! ان گرمیوں سے کہہ دو کہیں دور جا پڑیں اتنی سکت کہاں ہے طبعِ ریگزار میں 

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

جھیل سرال تک مشکل کے بعد حیرت

کئی دن برف مزید رکاوٹ بنی رہتی تو ہم وہ تمام جھیلیں اور چراگاہیں دیلھ لیتے جنہیں چھوڑ کر ہم کبھی خلطی جھیل تک چلے جاتے ہیں اور کبھی پھنڈر لیک ہماری منزل ہوتی ہے۔ ناران میں طویل قیام ہمیں جھیل سرال تک لئے جاتا ہے کیونکہ اس سے آگے ہمیں بابوسر کی برف جانے نہیں دیتی۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کی حدود پر واقع جھیل سرال اپنے قریب آنے والے سیاحوں کو کئی بار مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ پہلی مشکل تو یہ ہے کہ جھیل سرال تک کیسے پہنچا جائے۔ براستہ ناران یا پھر مظفر آباد سے شاردہ، یہ دوسری مشکل ہے۔ تیسرا امتحان وہاں تک ہائیکنگ کرنا ہے۔ خوبصورت منزل تک پہنچنا جتنا مسرور کرتا ہے اس سے زیادہ لطف تو راستے کی دشواریوں سے ملتا ہے۔ حسن فطرت تک جاتے جاتے جو مراحل طے ہوتے ہیں وہ بھی کم د لکش نہیں ہوتے۔ اسلام آباد سے گلگت جانے والے ہوائی مسافر جانتے ہیں کہ جہازی کپتان جن جھیلوں کا تعارف کرواتا ہے ان میں ایک جھیل سرال بھی ہے جو دن کی روشنی میں نگینے کی طرح گزرتے جاتے مناظر میں سے کچھ لمحے آنکھ میں ٹھہرتی ہے اور پھر اوجھل ہو جاتی ہے۔ یہ جھیل دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی نیلگوں جھیلوں کے درمیان پہاڑی دیواروں کے بیچ یوں رکھی ہوئی ہے جیسے انگوٹھی میں نگینہ جڑا ہو۔ جھیل سیف الملوک ، آنسو جھیل ، دودی پت لیک اور رتی گلی کے پہلو میں موجود جھیل سرال اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ ناران سے بابو سر جانے والے سیاح جلکھڈ سے بذریعہ جیپ سرگن تک جا سکتے ہیں۔ سرگن سے نوری ٹاپ ٹریک پر جیپ چھوڑ کر پیدل چلتے ہوئے تین سے چار گھنٹے کی ہائیکنگ کے بعد تیرہ ہزار آٹھ سو فٹ بلند جھیل سرال آپ کے سامنے ہو گی۔جھیل کے ساتھ پہاڑی حصار تیرہ ہزار چھ سو فٹ سے بھی زیادہ بلند ہیں۔ سرال جھیل اور رتی گلی جھیل کے درمیان صرف نوری ٹاپ کا جیپ ٹریک اور پانچ گھنٹے کی پیدل مسافت ہے۔ جھیل سرال سے نانگا پربت کا بیس کیمپ بھی دور نہیں۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے گاؤں شاردہ سے تیتس کلومیٹر جبکہ وادی کاغان کی بستی جل کھڈ سے سترہ کلومیٹر دور یہ جھیل وادی کشمیر کی جھیل تسلیم کی جاتی ہے ، جس کے پاس جو چراگاہیں ہیں وہ ہر وقت گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کا رزق بنتی ہیں۔ قدرتی حسن سے بھرپور یہ جھیل برف لہجوں کے ساتھ اپنے کناروں پر اترنے والے کو خوش آمدید کہتی ہے۔ جون کے آخری ہفتے سے لے کر اگست کے آخری عشرے تک یہ جھیل اپنا نقاب ہٹاتی ہے۔ جھیل کے اطراف میں پھول ایسے کہ انہیں کم انسانی آنکھ نے دیکھا ہو گا اور رنگ اتنے کہ شمار سے باہر۔ جھیل کا بدن دور سے گول مٹول نظر آتا ہے اور قریب سے بے ترتیب بکھر چکا حسن۔ بیشمار جھیلوں کے لمس سے ذرا مختلف احساس اس جھیل کا ہے ، وہ اس لئے کہ یہاں بہت کم لوگ پہنچتے ہیں اور جو پہنچتے ہیں ان کے پاس پھیلانے کیلئے گند بہت کم ہوتا ہے۔ جس جس قدرتی شاہکار کی رسائی عام ہوئی لوگوں نے اس وادی کو دھندلا دیا۔ جھیل سیف الملوک جیسی پاکیزہ لیک کو آلودہ کرنے والے اگر گاڑیاں اور جیپیں لے کر سرال جھیل پہنچ جائیں تو جھیل کے پہلو میں آباد بے شمار رنگوں والے پھولوں کو مسل ڈالیں اور زعفرانی گھاس کچلی جائے۔ پاکستان میں گندگی اور آلودگی سے محفوظ وہی چراگاہیں اور جھیلیں رہ گئی ہیں جہاں تک راستہ آسان نہیں ہے ، ورنہ لوگوں نے تو فیری میڈوز کو بھی ریلوئے سٹیشن کی انتظار گاہ میں بدل ڈالا ہے۔ سرال لیک اب تک اس لئے قدرتی حسن سے مالا مال ہے کہ یہاں تک پہنچنا مشکل اور بدن توڑ کام ہے۔      

سیچوان کاتاریخی خزانہ

سیچوان کاتاریخی خزانہ

چین میں 3ہزار قبل دریائے مین جن کے کنارے سان ژن ژوئی تہذیب آباد تھی۔مشہور ہے کہ اس تہذیب کی نسل نے بھاری خزانہ کہیں چھپا رکھا تھا۔ اس خزانے کا معمولی سا حصہ چین کے صوبے سیچوان (Sichuan) میں بھی دریافت ہوا ہے۔وہاں قیمتی پتھروں ، ہاتھی کے دانتوں سے بنے ہوئے خوبصورت نمونوں اور کانسی کی اشیاء سے بھرے ہوئے ''صندوق‘‘ملے ہیں۔خزانے کے پہلے حصے کی دریافت 1939ء میں اور پھر 1986ء میں ہوئی تھی۔ ان کے نزدیک یہ نمونے اہم نہیں، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کس نسل نے، کس تہذیب کے لوگوں نے کب بنائے؟ماہرین آثار قدیمہ کواس بارے میںصحیح طور پر کچھ بھی معلوم نہیں۔وہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید ان کا تعلق دریائے من چن پر آباد ترقی یافتہ من چن قوم سے ہو سکتا ہے، دریا کے کنارے ہی انہوں نے ترقی کی پھر اچانک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ وہ کیوں غائب ہوئے ، کوئی نہیں جانتا۔ ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دان اس تہذیب کے خاتمے کی وجوہات کو روایتی جنگوں یا خشک سالی میں تلاش کرتے رہتے ہیں مگر دریا کے قریب آباد قوم قحط کا شکار کیسے ہوئی؟ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ قوم جنگجو قبیلوں پر مشتمل تھی اور علاقائی جنگوں کا شکار ہو کرمر مٹ گئی ۔ چند برس قبل ماہرین نے زلزلے کو بھی اس قوم کی تباہی کی وجہ قرار دیا ہے۔ زلزلوں کے خوفناک جھٹکوں نے دریائے من چن کو لینڈ سلائیڈ سے بھر دیا، یوں یہ قوم یا قبائل پانی کی تلاش میں نقل مکانی کر گئے۔