ناپید ہوتے جانور!
اسپیشل فیچر
حضرت انسان کا اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا دعویٰ تو بجا، لیکن اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے اس کی کچھ ذمہ داریاں بھی تو ہیں۔ بدقسمتی سے اس اشرف المخلوقات نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اس روئے زمین کی باقی تمام مخلوقات پر ہر طرح کی حکمرانی کا اسے پورا پورا حق حاصل ہے۔ خواہ وہ زمینی مخلوق ہو یا آبی چرند پرند۔ اسے شکار کرنا، ذبح کرنا، ان سے بلا توقف مشقت لینا اس کے حقوق کا حصہ ہیں۔
بہت سارے لوگوں کیلئے شاید یہ انکشاف نیا ہو، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہوس زر اور ہوس شکم پروری نے حضرت انسان کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ بیشتر جانوروں کو انتہائی بے دردی سے ذبح یا ہلاک کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان مظالم کے خلاف دنیا بھر میں جانوروں کی فلاحی تنظیمیں وقتاً فوقتاً آوازیں تو بلند کرتی رہتی ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ آوازیں نقش برآب ثابت ہوتی آ رہی ہیں۔
آج سے کچھ عرصہ پہلے جانوروں کی فلاحی عالمی تنظیم کی رپورٹ کچھ ان الفاظ پر مشتمل تھی ''صدیوں سے جاری جانوروں کی کھالوں کی تجارت کے تناظر میں یہ ایک المیہ چلا رہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر روز لاکھوں کروڑوں جانوروں کو ا ذیت ناک طریقے سے ہلاک کیا جاتا ہے، جن کا مقصد محض بعض جانوروں کی قیمتی کھالوں کا حصول ہوتا ہے۔ درحقیقت ایک خاص طبقہ فکر کی یہ سوچ ہے کہ وہ ایک ایسا ٹکڑا پہن کر نہ صرف خوبصورت بلکہ دوسروں سے منفرد بھی لگ رہے ہیں جو مکمل طور پر مردہ جانور کا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نایاب جانوروں کے ایسے فارم ہاؤسز بھی ہیں جہاں معصوم جانوروں کو پنجروں میں قید کر کے پالا جاتا ہے اور پھر اذیت ناک طریقے سے ان کی کھال اتاری جاتی ہے۔
دنیا بھر قیمتی اور نایاب جانوروں کی کھالوں کا کاروبار ایک منافع بخش صنعت کا روپ دھار چکا ہے۔ جس کے تانے بانے پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے بھی ملتے ہیں۔ پاکستان، چین، بھارت اور بنگلہ دیش جانوروں کی قیمتی کھالوں کے حوالے سے خطے کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتے ہیں جبکہ پاکستان ان ممالک میں سب سے زیادہ نمایاں اس لئے بھی ہے کہ یہاں غیرقانونی شکار اور اس کاروبار سے منسلک زیر زمیں ایک بہت بڑا نیٹ ورک سرگرم عمل ہے۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان سے برآمد ( قانونی سے زیادہ غیر قانونی) ہونے والی کھالوں میں تیندوے، بھیڑیے، جنگلی بلی، لال لومڑی، ہرن، کچھوے اور اژدھے کی کھالیں شامل ہیں۔ جہاں تک ان کی سمگلنگ کا تعلق ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہاں کا کمزور قانونی نظام ہے جس سے باآسانی بچا جا سکتا ہے۔بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے بڑے شہروں لاہور، کراچی، پشاور اور راولپنڈی میں اس کاروبار کے بڑے بڑے مراکز سرگرم عمل ہیں جہاں کسی بھی نایاب اور قیمتی جانور کی کھال اور مختلف جسمانی اعضاء باآسانی آرڈر پر بک کرائے جا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین 1972ء سے نافذ ہیں جن کے تحت تیندوے، برفانی تیندوے، بھیڑیے، لومڑی، ہرن، ریچھ ،کالا ریچھ اور بلیک پانڈ وغیرہ کو پکڑنے، شکار کرنے، کاروبار اور ان کی فروخت پر پابندی عائد ہے۔
جہاں تک ان کھالوں کے استعمال کا تعلق ہے اس کی سب سے زیادہ کھپت انسانی پیراہن اور روزانہ استعمال کی دیگر اشیاء میں ہوتی ہے۔ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے اہلکار ایک غیر ملکی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتا رہے تھے کہ ، ان کھالوں سے بنائے گئی جیکٹس، جوتے اور پرس بین الاقوامی مارکیٹ میں کروڑوں پاکستانی روپوں میں جبکہ پاکستان میں یہ مصنوعات لاکھوں روپوں میں بکتی ہیں۔ یہی اہلکار یہ بھی بتا رہے تھے کہ کچھ عرصہ پہلے محکمے نے جنگلی بلی کی کھال سے تیار کی ہوئی ایک ایسی جیکٹ پکڑی تھی جو چار سے پانچ بلیوں کی کھالوں کو ملا کر بنائی گئی تھی جس کی قیمت پانچ لاکھ روپوں تک تھی۔ لومڑی، ہرن، بھیڑیے کی کھال سے تیار جیکٹس مقامی مارکیٹ میں پچاس ہزار روپے سے لے کر پانچ لاکھ تک فروخت ہوتی ہیں۔ اسی طرح اژدھے اور نیولے کی کھال سے تیار شدہ جوتے پچاس ہزار سے لے کر چار لاکھ روپے تک فروخت ہوتے ہیں جبکہ اسی کھال سے تیار شدہ پرس چالیس ہزار روپے سے لے کر تین لاکھ روپے تک فروخت ہوتے ہیں۔
ذکر جانوروں کی کھالوں اور اون کا چھڑا ہے تو ''وکیونا‘‘ نسل کے جانوروں، لاما، الپاکا، گواناکو اور ویکگنا کا حوالہ بے محل نہ ہو گا جن کی اون اس وقت دنیا کی مہنگی ترین اون مانی جاتی ہے۔ پستہ قد اونٹوں سے مشابہت کے باعث عرف عام میں انہیں پستہ قد اونٹ بھی کہا جاتا ہے۔ جن کی اون سے بنے ملبوسات امریکہ کی مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی میں لاکھوں اور کروڑوں روپوں میں بکتے ہیں۔
آج سے کچھ عرصہ قبل بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں وکیونا کی اون سے تیار کردہ ایک جیکٹ کی اوسط قیمت 18ہزار595 ڈالر (52 لاکھ روپے)، ایک کمبل کی قیمت 12ہزار ڈالر (33 لاکھ روپے) جبکہ ایک سکارف کی قیمت 3195 ڈالر (9لاکھ روپے) بنتی ہے۔ ایک طرف تو جانوروں کی قیمتی کھالوں اوران کے جسمانی اعضا کی ناقابل یقین پرکشش قیمتوں نے بین الاقوامی منڈی کو ایک لحاظ سے غیر مستحکم کر ڈالا ہے لیکن اصل المیہ جنگلی حیات کی بیشتر نسلوں کا معدوم یا معدومیت کے قریب پہنچ جانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 1970ء کے بعد سے دنیا میں جنگلی حیات میں 58 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسا ہی ایک بیان کچھ عرصہ پہلے جنگلی حیات کا تحفظ کرنے والی ایک عالمی تنظیم ''ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر‘‘ (ڈبلیو ڈبلیو ایف ) نے بھی جاری کیا تھا جس میں واضح الفاظ میں بتایا گیا تھا کہ '' انسانی سرگرمیوں کے باعث اس کرہ ارض پر ہر سال لگ بھگ10 ہزار جنگلی حیات کی انواع معدومیت کا شکار ہو جاتی ہیں‘‘۔
ماضی قریب میں معدوم ہوتی جنگلی حیات
ڈوڈو: بطخ سے ملتا جلتا ،''نکوبار کبوتر‘‘ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس پرندے کا آبائی گھر ماریشس کے ویران جزیرے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ جزیرے آباد ہوئے تو اڑنے کی صلاحیت سے محروم یہ پرندہ شکاریوں کے آسان نشانے کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے معدوم ہو گیا۔ آخری بار اس پرندے کو اٹھارویں صدی کے آخری عشروں میں ماریشس میں ہی دیکھا گیا تھا۔
کواگا : اس عجیب و غریب اور منفرد جانور کا اگلا دھڑ زیبرے کی طرح دھاری دار جبکہ پچھلا حصہ گھوڑے کی مانند سادہ بھورے رنگ کا ہوتا تھا۔ اس کا آبائی وطن جنوبی افریقہ تھا۔اس کی حیران کن وضع قطع کے سبب اس کا اس قدر شکار کیا گیا کہ بالآخر یہ ناپید ہو گیا۔ایک آخری مادہ کواگا کی ایمسٹرڈیم کے چڑیا گھر میں 12 اگست 1883ء کو ہلاکت کے ساتھ ہی یہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دنیا بھر میں معدوم ہو گیا۔
ریڈ کولوبس :گھانا اور آئیوری کوسٹ کی سرحد کا باسی یہ جانور بندر کی کسی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔درمیانے سائز کا سرخ لمبے بالوں والا یہ بندر یوں منفرد تھا کہ انگوٹھوں سے محروم تھا۔ بڑے گروہوں کی صورت میں یہ جانور اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کیلئے درختوں کی بلندی پر رہنا پسند کرتے تھے۔رفتہ رفتہ جنگلات آبادیوں میں تبدیل ہوتے گئے اس کے گروہ بھی سکڑتے گئے اور یہ شکاریوں کی پہنچ تلے آتے آتے معدومیت کا شکار ہو گئے۔2000ء کے بعد یہ معصوم جانور مکمل طور پرناپید ہو گیا۔
دریائی گھوڑا :کسی زمانے میں خطہ کریبین کا یہ منفرد جانور وسطی امریکہ، کے مشرقی کنارے جنوبی امریکہ کے شمالی ساحلوں اور خلیج میکسیکو میں کثرت سے پایا جاتا تھا۔اپنی مخصوص جسمانی ساخت کے سبب اس کا جسم ایک خاص قسم کی چربی سے بھر پور ہوا کرتا تھا جس کے سبب یہ ہر لمحہ مخصوص شکاریوں کے نشانے پر رہنے کے باعث رفتہ رفتہ ناپید ہوگیا۔ آخری مرتبہ اس نسل کے جانور کو 1952ء میں جمیکا اور نکارا گوا کے درمیان ایک ساحل پر دیکھا گیا تھا۔
آئرش ہرن :عام ہرن سے مشابہ لیکن اس سے دو میٹر بلند اس ہرن کے شواہد آئرلینڈ میں اب سے لگ بھگ سات ہزار سال قبل سے ملے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس کی نسل کا خاتمہ۔ممکنہ طور پر کثرت شکار اور تیزی سے بدلتے موسم کے باعث تھا۔
معدومیت کا شکار ہوتے جانور: ویکیٹا ایک سمندری آبی مخلوق ہے جو تیزی سے معدومیت کے دوراہے پہنچ چکی ہے۔ عام لوگوں کو شاید اس کا احساس نہ ہوتا لیکن اگست 2023ء میںبین الاقوامی وہیلنگ کمیشن کی اس وارننگ کے بعد اس نسل کوبالآخر معدومیت کے خطرے سے دوچار آبی مخلوق قرار دے دیا گیا ہے اس کی وجہ اس کا کثرت سے شکار اور آبی آلودگی کو قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح شمالی اور مشرقی بحرالکاہل میں پایا جانے والا سمندری اودبلاو جو کھارے پانیوں میں رہنے والا منفرد جانور ہے اپنی بیش قیمت اون کے باعث تیزی سے معدومیت کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ آمور تیندوا، سیاہ گینڈا، بیلوگا وہیل اور جانوروں کی کچھ دیگر اقسام بھی معدوم ہوتے جانوروں کی عالمی فہرست میں شامل ہیں۔