دنیا کی پہلی یونیورسٹی
اسپیشل فیچر
ایک اندازے کے مطابق اس وقت تک دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کی کل تعداد30ہزار کے آس پاس ہے ۔ قدرتی طور پر ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی کونسی ہوگی ، کہاں ہو گی اور اس کا سنگ بنیاد کب رکھا گیا ہو گا ؟۔
عام لوگوں کا خیال ہے کہ 700قبل مسیح میں قائم ہونے والی ، دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی کا اعزاز ''ٹیکسلا یونیورسٹی‘‘ کے پاس ہے جبکہ ایک طبقۂ فکر کے مطابق 427عیسوی میں برصغیر ہی میں قائم ہونے والی ''نالندہ یونیورسٹی‘‘ دنیا کی پہلی باقاعدہ یونیورسٹی تھی ۔بے شک یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیاں تھیں، لیکن ٹیکسلا یونیورسٹی کو ساسانیوں نے 470 عیسوی میں اور نالندہ یونیورسٹی 1193 عیسوی ہی میں ترک حکمران بختیار خلجی کے ہاتھوں تباہ کر دی گئی تھی۔
تیونس کی الزیتونہ یونیورسٹی کا قیام 737 عیسوی میں عمل میں لایا گیا تھا مگر یہ بھی 1534 عیسوی تک ہی برقرار رہ سکی اور پھر سپین کے حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ کردی گئی۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا گمان ہے کہ مصر کی الازہر یونیورسٹی جس کی بنیاد 970 عیسوی میں رکھی گئی تھی دنیا کی پہلی یونیورسٹی ہے، لیکن ایسا بھی نہیں ہے۔
یونیسکو کے ( 2018)ریکارڈ کے مطابق گزشتہ 1160 سالوں کے دوران مراکش کی القرویین یونیورسٹی میں درس و تدریس کا عمل کبھی ایک دن کیلئے بھی نہیں رکا۔ اسی بنیاد پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے جامعہ القرویین کو دنیا کی پہلی فعال سب سے قدیم یونیورسٹی کا اعزاز دیا ہوا ہے۔
القرویین قدیم ترین اور
پہلی یونیورسٹی کیوں ہے؟
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں تیونس کی الزیتونہ یونیورسٹی 1534 عیسوی میں مسلسل 797 سال تدریسی عمل مکمل کرنے کے بعد تباہ کردی گئی۔ برصغیر کی نالندہ یونیورسٹی 1193 عیسوی میں 766 تدریسی سال مکمل کرکے حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ کر دی گئی جبکہ ٹیکسلا یونیورسٹی بھی 470 عیسوی تک 877 سال تدریسی عمل مکمل کرنے کے بعد کھنڈرات میں بدل دی گئی۔ لیکن ان کے برعکس مصر کی الازہر یونیورسٹی 1052 سالوں سے، اٹلی کی بولوگنا یونیورسٹی 936 سالوں سے ، آکسفورڈ یونیورسٹی 928 سالوں سے جبکہ مراکش کی القرویین یونیورسٹی مسلسل 1165 سالوں سے تدریسی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یونیسکو کی وسیع تر تحقیق اور اس یونیورسٹی کی مسلسل فعالیت کے باعث گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے القرویین یونیورسٹی کو دنیا کی پہلی یونیورسٹی کا درجہ دے رکھا ہے۔
القرویین یونیورسٹی:تاریخی پس منظر
''حکمت (علم ) مومن کا کھویا ہوا میراث ہے‘‘۔یہ ہمارے دین کا درس ہے ہمارے لئے جبکہ اغیار کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں علم پھیلانے میں مغرب کا ہاتھ ہے اور یہ اصرار کہ اسلام نے عورت کو حتیٰ المقدور علم سے دور رکھا۔ یہ وہ الزام ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
دنیائے اسلام کو یہ سعادت حاصل ہے کہ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے والی ایک مسلم خاتون اُم البنین تھیں۔ علم و دانش کی دلدادہ یہ نیک سیرت خاتون جن کا اصل نام فاطمہ بنت محمد الفہری القریشی تھا ، مراکش کے شہر قرویین میں 800 ہجری میں ایک دولت مند تاجر عبداللہ الفہری کے ہاں پیدا ہوئیں۔ الفہری کو قدرت نے جہاں انگنت نعمتوں سے نواز رکھا تھا، وہیں قدرت نے اسے دو خدا ترس ، نیک سیرت اور علم دوست بیٹیوں فاطمہ الفہری اور مریم الفہری سے بھی نواز رکھا تھا۔ اگرچہ الفہری اولاد نرینہ کی دولت سے محروم تھے لیکن قدرت نے ان بیٹیوں سے وہ کام لیا جو بڑے بڑے مرد بھی شاید نہ کر سکتے۔
الفہری خاندان نویں صدی کے اوائل میں تیونس کے شہر قرویین سے فاس ہجرت کر آیا ۔فاطمہ نے فاس ہی میں شادی کی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ فاطمہ اور ان کی بہن مریم کو وراثت میں باپ کی طرف سے بے انتہا دولت ورثے میں ملی۔ان دونوں بہنوں نے ورثے میں ملی دولت کو مساجد اور تعلیم کی ترویج اور ترقی میں خرچ کرنے کا ارادہ کرکے سب سے پہلے فاطمہ الفہری نے اپنے باپ کے ایصال ثواب کی نیت سے اپنے آبائی شہر کے نام کی مناسبت سے '' جامع مسجد القرویین‘‘ تعمیر کرائی جبکہ دوسری بہن مریم نے اپنی دولت سے اندلسین نامی ایک پر شکوہ اور عالی شان مسجد تعمیر کرائی جو اپنے دور کی سب سے بڑی مسجد تھی جہاں بیک وقت 22 ہزار سے 25ہزار افراد نماز ادا کر سکتے تھے۔
فاطمہ الفہری نے 859 عیسوی میں اس مسجد میں قائم مدرسے کو '' جامعہ القرویین‘‘ (القرویین یونیورسٹی )میں بدل دیا۔ رفتہ رفتہ دنیا بھر سے علم و دانش کے پیاسے یہاں جوق درجوق کھچے چلے آئے۔ آج یہ دنیا کی ایک نامور یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ اس یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جہاں یہ دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی ہے، وہیں اسے یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی کی خالق ایک علم دوست مسلم خاتون فاطمہ الفہری ہے جس نے سب سے پہلے ''ڈگری‘‘ کے تصور کو رواج دیا۔ اس یونیورسٹی میں ریاضی، منطق ، ادویات ، فلکیات ، کیمیا، تاریخ ، جغرافیہ ، قرآن اور فقہ سمیت متعدد علوم میں اعلیٰ درجے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
یہ یونیورسٹی 18 سال کی مدت میں مکمل ہوئی جو اوّل تا آخر فاطمہ نے اپنی نگرانی میں مکمل کرائی۔ اس یونیورسٹی کا اس سے بڑھ کر بھلا اور کیا اعزاز ہو گا کہ دنیائے علم و حکمت کے نامور دانشور ، ابن خلدون ، ابن میمون ، ابن رشد ، احمد اللہ الغماری ، محمد تقی الدین الہلالی ، محمد الوزان الفاسی ، عبدالکریم الخطابی ، محمد الادریسی ،ابن العربی ، امام البنانی، لسان الدین الخطیب وغیرہ بھی اسی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔القیرویین یونیورسٹی صرف ام مسلمہ ہی کی یونیورسٹی نہیں تھی بلکہ یہاں بلا تفریق مذہب اور رنگ و نسل ہر مکتبہ فکر کو علم کی پیاس بجھانے کی اجازت تھی۔یہی وجہ ہے، اسے بحیرہ روم کی سب سے بڑی درس گاہ کہا جاتا ہے۔اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ یورپ کو صفر اور باقی عربی اعداد وشمار سے متعارف کرانے والے پاپائے روم پوپ سلوسٹر ثانی بھی اسی درس گاہ کے فارغ التحصیل ہیں۔
اس یونیورسٹی کی دلچسپ اور منفرد بات یہ تھی کہ یونیورسٹی کی کلاسیں حلقے کی صورت میں لگتی تھیں ، ٹیچر درمیان میں بیٹھتے اور طالب علم دائرے کہ شکل میں اردگرد بیٹھتے تھے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی تھی اگرچہ اس یونیورسٹی کی بنیاد ایک خاتون نے رکھی تھی لیکن سماجی اور روائتی بندھنوں کے سبب انہیں یہاں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ تھی۔
فاطمہ کی وفات کے بعد اگرچہ مراکش میں بہت ساری سلطنتوں کا تسلسل جاری رہا ، اچھی بات یہ ہے کہ ہر دور میں اس یونیورسٹی کی توسیع اور ترویج پر کام جاری رہا۔ 1349 عیسوی میں سلطان ابو عنان فارس نے اس یونیورسٹی میں ایک لائبریری کی بنیاد رکھی۔یہ دنیا کی قدیم ترین لائبریری تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ اس کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ موطا امام مالک کا جانوروں کی کھال سے لکھا گیا نسخہ اور ابن خلدون کی کتاب ''العبار‘‘ کا نسخہ اصلی حالت میں اب بھی اس لائبریری میں موجود ہیں۔