یادرفتگاں: قاضی واجد چھوٹی سکرین کا بڑا اداکار
اسپیشل فیچر
انہوں نے خود کو مثبت اور سنجیدہ کرداروں تک محدود
نہیں کیا، منفی اور مزاحیہ کردار بھی عمدگی سے نبھائے
شائد ہی کوئی ہو گاجو اداکار قاضی واجد کے چہرے سے شناسانہ ہو۔ نو عمر،جوان اور بزرگ تمام عمروں کے افراد ان سے کم یا زیادہ واقف ضرور ہیں۔ وہ اس پرانی نسل کی حسین یادوں کا حصہ ہیں جس نے پاکستانی ڈرامے کی شہرت کا عروج دیکھا۔ وہ وقت جب ایک چینل اور محلے کے چند گھروں میں بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا اور ڈرامے کی شروعات کے ساتھ گھروں کے اندر اور باہر سناٹا چھا جایا کرتا تھا۔
قاضی واجد ایک شاندار فنکار ہی نہیں تھے بلکہ تہذیب، شائستگی، احترام، عاجزی اور نرم دلی بھی ان کے تشخص کی پہچان تھی۔ وہ ہر کسی سے ایسے ملتے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، قلم اور تھیڑ سے ان کا یارانہ بہت پرانا تھا۔
قاضی واجد 1930ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔قاضی واجد کا اصل نام قاضی عبدالواجد انصاری تھا،ابتدائی تعلیم لاہور سے ہی مکمل کی۔ بعدازاں کراچی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے 10 برس کی عمر میں اپنے فنی کریئر کا آغاز کیا اور پہلی مرتبہ بچوں کے پروگرام ''نونہال‘‘ میں صدانگاری کے جوہر دکھائے۔ دوسرا پروگرام ''قاضی جی کا قاعدہ‘‘ کیا۔ جب انہوں نے رتن کمار کی بچوں کی فلم ''بیداری‘‘ کی تو ٹائٹل کیلئے ان کے طویل نام کو مختصر کیا گیا اور اس طرح وہ قاضی واجد کے نام سے پہچانے جانے لگے۔
قاضی واجد کو 1967ء میں ٹی وی سے وابستہ ہوئے اور اس کے بعد سکرین سے ان کا رشتہ تاحیات قائم رہا۔ یہیں سے ان کے کریئر کو صحیح معنوں میں عروج ملا۔ ان کا ٹی وی کیلئے پہلا ڈرامہ پروڈیوسر عشرت انصاری کا'' ایک ہی راستہ ‘‘تھا، جس میں انہوں نے منفی کردار نبھایا۔ 1969ء میں نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل ''خدا کی بستی‘‘ نے قاضی واجد کو کامیابی اور شہرت کی نئی بلندیوں تک پہنچایا اور ''راجا‘‘ کے کردار نے انہیں ایک نئی پہچان دی۔
ٹیلی ویژن پر قاضی واجد کے نبھائے گئے کرداروں میں بہت تنوع تھا اور ان کا شمار کرنا خاصا مشکل ہے۔ بعض ڈراموں میں ان کے کرداروں نے بے مثال شہرت پائی اور انہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان ڈراموں میں ''دھوپ کنارے، تنہائیاں، حوا کی بیٹی، خدا کی بستی، کرن کہانی، آنگن ٹیڑھا، تعلیم بالغاں، پل دو پل اور انار کلی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے خود کو مثبت اور سنجیدہ کرداروں تک محدود نہیں کیا، بلکہ منفی کردار بھی ادا کئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قاضی واجد نے اپنے پورے فنی کرریئر میں کبھی ہیرو کا کردار ادا نہیں کیا، وہ ہمیشہ اپنے لیے معاون کردار کو ترجیح دیتے تھے اور انہی کرداروں کو اپنی جاندار اداکاری کے ذریعے امر کردیتے تھے۔
نجی ٹی وی چینلز کی آمد کے بعد ان کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا تھا جنہوں نے نئے ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کی اور ساتھ ہی فن کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے کریئر میں جو بھی کام کیا اس سے انصاف کرتے دکھائی دیے۔ وہ مثبت کرداروں میں بھی اسی طرح ڈوب کر اداکاری کرتے جس طرح منفی میں۔ ان کے منفی کرداروں میں حقیقت کا گمان ہوتا۔
حکومت پاکستان کی جانب سے 1988ء میں قاضی واجد کو ''صدارتی تمغہ برائے حسن‘‘ کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔ ان کی صاحبزادی فضیلہ قیصر بھی اداکاری کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ قاضی واجد ادبی محفلوں میں بھی شرکت کیا کرتے تھے کیونکہ انہیں اُردو ادب سے خاصا لگائو تھا۔ وہ الفاظ اور جملوں کو بہت خوبی سے ادا کرتے تھے۔ قاضی واجد ذیابیطس اور بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے خود کو چاک و چوبند رکھا ہوا تھا اور ہشاش بشاش دکھائی دیتے تھے۔
قاضی واجد کے ساتھی اداکاروں کا کہنا ہے کہ وہ عکس بندی کے دوران ہمیشہ نرمی سے پیش آتے اور ہر کردار کو تیزی سے سمجھ لیا کرتے تھے۔ قاضی واجد اپنے کام سمیت دوستوں اور احباب کے ساتھ بڑے مخلص تھے اور کہتے تھے کہ میرے کامیاب ڈراموں کی بنیاد 'میں‘ پر نہیں بلکہ 'ہم‘ پر ہے۔
ایک مرتبہ ان سے ایک ساتھی نے پوچھا کہ آپ تو ٹیلی ویژن کے خوش شکل آدمی ہیں تو پھر خواتین آپ کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتیں جس پر انہوں نے بے باکی سے جواب دیا کہ اس میں ایک تو خواتین کا قصور ہے اور دوسرا میں نے کبھی ایسا کوئی کردار نہیں کیا، جس سے وہ متوجہ ہوجائیں۔
اگر ان کی محنت کا احاطہ کیا جائے تو یہ آدھی صدی سے زیادہ کی ریاضت بنتی ہے۔فروری 2018ء کی 11 تاریخ کو قاضی واجد ہم سے بچھڑ گئے، ان کی وفات سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک عہد اختتام پذیر ہوگیا لیکن ان کی بے مثال شخصیت، جاندار اداکاری اور خدادادصلاحیتیں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ وہ ایک شاندار انسان اور ایک بے مثال فنکار تھے، ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جن کا خلاء کبھی پر نہیں ہوسکتا۔
مقبول ڈرامے
''دھوپ کنارے‘‘، '' تنہائیاں‘‘، '' حوا کی بیٹی‘‘
'' خدا کی بستی‘‘، '' کرن کہانی‘‘، ''آنگن ٹیڑھا‘‘
''تعلیم بالغاں‘‘، ''پل دو پل‘‘ ، 'انار کلی‘‘