یادرفتگاں: طلعت حسین
اسپیشل فیچر
اداکاری و صدا کاری طلعت حسین کی پہچان تھی اور وہ ریڈیو، فلم، ٹی وی اور سٹیج کے بلاشبہ ایک منجھے ہوئے اداکار تھے۔ وہ اپنی اداکاری کی بدولت پوری دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کی شہرت کے ڈنکے نہ صرف پاکستان میں بلکہ انگلینڈ، امریکہ اور ناروے میں بھی بجتے تھے۔ درجنوں بین الاقومی پراجیکٹس میں کام کیا اور انہیں کئی بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
طلعت حسین 18ستمبر 1940ء کو بھارتی شہر دہلی کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا پورا نام طلعت حسین وارثی تھا۔ ان کی والدہ شائستہ بیگم ریڈیو پاکستان کی مقبول انائونسر تھیں جبکہ ان کے والد الطاف حسین وارثی انڈین سول سروس میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔
ان کی فیملی 1947ء میں ہجرت کر کے کراچی پہنچی۔ پاکستان آنے کے بعد والد کی بیماری کے باعث ان کی فیملی کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے، ان کی والدہ نے ریڈیو پر ملازمت اختیار کر لی۔ طلعت حسین نے اسلامیہ کالج سے گریجویشن کیا۔ گھر کے نامساعد حالات کی وجہ سے ان کی ماسٹر کرنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ طلعت حسین کو مطالعہ سے بہت شغف تھا، بقول ان کے وہ بچپن میں سوچا کرتے تھے کہ بڑے ہو کر پروفیسر بنیں گے مگر معاشی وجوہات کی بنا پر ایسا ہو نہیں سکا مگر ان کا مطالعہ کا شوق ضعیف العمری تک برقرار رہا۔
طلعت حسین نے اپنے فن کے سفر کا آغاز ریڈیو سے کیا، جب پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تو وہ ٹیلی ویژن کی جانب آ گئے۔ ان کا پہلا ڈرامہ '' ارجمند‘‘ تھاجو 1967ء میںآن ایئر ہوا۔ ٹیلی ویژن پر وہ اداکاری کے علاوہ بحیثیت نیوز کاسٹر اور انائونسر بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ 1972ء میں وہ انگلینڈ چلے گئے اور ''لندن اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ‘‘سے وابستگی اختیار کر لی۔ ان کا پہلا برطانوی کھیل جمی پیرے اور ڈیوڈ کرافٹ کا تھا۔ جس میں انہوں نے ایک کلب مالک کا کردار ادا کیا۔ وہ بی بی سی ریڈیو کے ڈرامہ ''کرائون کوٹ‘‘ میں بھی کام کرچکے ہیں۔
طلعت حسین متعدد غیر ملکی فلموں، ٹی وی ڈراموں، لانگ پلیز میں کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے2006ء میں ''چینل 4 ٹیلی ویژن‘‘ کی سیریل ''ٹریفک‘‘ کی چند اقساط میں بھی کام کیا۔ ناروے کی فلم ''امپورٹ ایکسپورٹ‘‘میں کام کیا جس پر انہیں بہترین معاون اداکار کے ''ایمنڈا ایوارڈز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس فلم میں انہوں نے اللہ دتہ نامی شخص کا ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ بھارتی ہدایتکار ساون کمار کی فلم ''سوتن کی بیٹی‘‘ میں بحیثیت وکیل، طلعت حسین کی پرفارمنس اپنے عروج پر دکھائی دی۔ اس فلم میں انہوں نے بھارتی اداکارہ ریکھا اور جیتندر کے سامنے جم کر اداکاری کی۔
انہوں نے 15 سے 20پاکستانی فلموں میں بھی لاجواب اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ 1970ء میں وہ فلم'' انسان اور آدمی‘‘ میں اداکار محمد علی اور زیبا کے بیٹے کے کردار میں پسند کئے گئے۔ فلم ''گمنام‘‘ میں ڈاکٹر کا کردار کو خوبصورتی سے ادا کرنے پر بیسٹ ایکٹر کا نگار ایوارڈ ملا۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ‘‘ (NAPA) میں فن اداکاری کے حوالے سے نئی نسل کی راہنمائی بھی کرتے رہے۔ طلعت حسین ایک ڈرامہ نگار بھی تھے اور انہوں نے متعدد ڈرامے لکھے۔
1998ء میں انہوں نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ پر بننے والی فلم ''جناح‘‘ میں ایک مہاجر کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ ہالی وڈ کے اداکار سر کرسٹوفر لی، بھارتی اداکار ششی کپور بھی تھے۔
فلم ''لاج‘‘ میں ایک قبائلی سردار کا کردار ادا کیا، اس فلم کی شوٹنگ کے دوران قبائلیوں نے حملہ کر دیا ان کی بے دریغ فائرنگ سے پوری ٹیم بال بال بچی۔ اس کی فلم بندی جاری تھی کہ طلعت حسین جنگ کا منظر فلم بند کراتے ہوئے پہاڑی سے گر گئے اور ان کی ٹانگ تین جگہ سے ٹوٹ گئی۔ طلعت حسین نے 1972ء میں کراچی یونیورسٹی کی پروفیسر رخشندہ سے شادی کی ، ان کے تین بچے (2بیٹے اور بیٹی ) ہیں۔ پھیپھڑوں کے مرض کے باعث گزشتہ برس ان کا 84برس کی عمر میںانتقال ہوا تھا۔
اعزازات
٭...حکومت نے 1982ء میں ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور 2021ء میں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا ۔
٭...2006ء میں ناروے میں انہوں نے بہترین معاون اداکار کا ''ایمنڈا ایوارڈ‘‘ وصول پایا، اس ایوارڈ کو ناروے میں آسکر کا درجہ حاصل ہے اور یہ ایوارڈ ہر سال ''نارویجن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘‘ کے موقع پر دیا جاتا ہے۔
٭...1986 میں فلم ''مس بینکاک‘‘ میں بہترین معاون اداکار کا ''نگار ایوارڈ‘‘ ملا۔
مشہور ڈرامے
آنسو،ارجمند، دیس پردیس، ہوائیں،
انسان اور آدمی،عید کا جوڑا،کشکول، تھوڑی خوشی تھوڑا غم، گھوڑا گھاس کھاتا ہے، پرچھائیاں،
طارق بن زیاد، ٹائپسٹ،
ٹریفک(چینل 4انگلینڈ)
مشہور فلمیں
٭چراغ جلتا رہا، ٭ گمنام، ٭قربانی
٭...انسان اور آدمی ٭...لاج
٭...جناح (بین الاقوامی فلم)،
٭... سوتن کی بیٹی(بھارتی)،
٭... امپورٹ ایکسپورٹ(نارویجن)