کینسر کی تشخیص میں انقلاب

کینسر کی تشخیص میں انقلاب

اسپیشل فیچر

تحریر : وقاص ریاض


آج کے دور میں جب جینیاتی تحقیق اور جدید تصویری تجزیات میں اہم ترقی ہو چکی ہے بریسٹ کینسر کی تشخیص میں تاخیر مریضوں کے لیے خوفناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) اور Massachusetts General Hospital(MGH) کے محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک جدید ماڈل تیار کیا ہے جو میموگرافی کی تصاویر کی بنیاد پر پانچ سال تک قبل از وقت بریسٹ کینسر کے خطرے کے بارے بتا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف مرض کی جلد تشخیص کو ممکن بناتی ہے بلکہ علاج کے انتخاب اور سکریننگ کے شیڈول کو بھی انفرادی سطح پر ترتیب دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
روایتی طور پر مریضوں کی تشخیص عمر کی بنیاد پر کی جاتی تھی۔ امریکی کینسر سوسائٹی 45 سال کی عمر کے بعد ہر سال سکریننگ تجویز کرتی ہے جبکہ U.S. Preventive Services Task Forceہر دو سال بعد سکریننگ کا مشورہ دیتی ہے۔ لیکن ڈاکٹر رجینا برزیلے (Regina Barzilay) جو خود بھی بریسٹ کینسر سے متاثر ہوچکی ہیں، کا کہنا ہے کہ AI کی مدد سے ہر فرد کے لیے مخصوص حکمت عملی وضع کی جاسکے گی۔
ماڈل کا ڈیزائن اور ڈیٹا سیٹ
اس ماڈل کو 60 ہزارمریضوں کے ممالوگرافی ڈیٹا سے تربیت دی گئی ہے جن میں بعدازاں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس میں میموگرافی کی 90 ہزارتصاویر شامل کی گئی ہیں تاکہ ماڈل بہت باریک علامات کو بھی شناخت کرسکے، وہ علامات جو انسانی نظر سے پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔ ماڈل نے تصاویر میں ایسے پوشیدہ پیٹرنز کو پہچانا ہے جو مستقبل میں ممکنہ طور پر کینسر کے لامتناہی مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
امید کی کرن اور عملی برتری
اس ماڈل نے کینسر کے خطرے کے تجزیے میں غیر معمولی نتائج دکھائے۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں، اس نے کینسر کے 31 فیصد مریضوں کو سب سے زیادہ خطرے والے زمرے میں رکھا جبکہ روایتی ماڈل صرف 18فیصد کو ہی اس زمرے میں ڈالتا ہے۔ یہ نتائج واضح ثبوت ہیں کہ AI پر مبنی سسٹمز روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور درست پیشگوئی فراہم کرسکتے ہیں۔ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پرانے ماڈلز زیادہ تر سفید فام آبادی کے لیے مرتب کیے گئے تھے جس کی وجہ سے دیگر نسلی گروپوں میں تشخیص کم درست ہوتی تھی مگر یہ نیا ماڈل نہ صرف سفید فام بلکہ سیاہ فام خواتین کے لیے بھی یکساں طور پر مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اس طرح یہ پیش رفت خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ سیاہ فام خواتین میں بریسٹ کینسر سے اموات کا تناسب تقریباً 42 فیصدزیادہ ہے۔ہارورڈ میڈیکل سکول کی ڈاکٹر کونسٹنس لیہمان(Connie Lehman) نے اس ماڈل کو طبی شعبے میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے کسی بھی ماڈل نے فرد کی بنیاد پر اس طرح کی درست تشخیص فراہم نہیں کی، لیکن اب یہ ممکن ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبل ازیں طبی برادری میں خطرے کی بنیاد پر سکریننگ کی حکمت عملی کے لیے کافی درست آلات موجود نہیں تھے۔ ہمارا یہ ماڈل اس سمت میں پھر سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
عملی اطلاق: کسٹمائزڈ سکریننگ
اب تک سکریننگ انتظام کے لحاظ سے عمر واحد پیمانہ رہا لیکن AI کے استعمال سے مریض کی انفرادی خصوصیات کے مطابق علاج ممکن ہوا ہے۔ مثال کے طور پر کم خطرہ والی خواتین دو سال میں ایک ممالوگرام کروایں گی۔ زیادہ خطرے والی خواتین کو سالانہ ممالوگرام کے ساتھ ایم آر آئی (MRI) ٹیسٹ بھی کروایا جائے گا۔ یہ حکمت عملی خطرات کے مطابق وسائل کو مؤثر انداز میں تقسیم کرنے میں مدد دے گی۔
مزید امکانات اور چیلنجز:
پروفیسر برزیلے اور ان کے ساتھی محقق صرف بریسٹ کینسر تک محدود نہیں ہیں ان کا ارادہ ہے کہ وہ اسی قسم کے ماڈلز کے ذریعے دل کی بیماریوں اور پیڈریاٹرک کینسر جیسے پیچیدہ امراض کی پیشگوئی میں بھی انقلاب لائیں۔اگرچہ یہ AI ماڈل کئی حوالوں سے نئے معیارات متعین کر رہا ہے مگر اس کے نفاذ کے لیے چند اہم چیلنجز بھی موجود ہیں مثال کے طور پر:
ریگولیٹری منظوری: اسے روایتی تشخیصی آلات کی طرح طبی سیاق و سباق میں نافذ کرنے کے لیے اجازت نامے درکار ہوں گے۔
پیشہ ورانہ تربیت: ڈاکٹرز اور ٹیکنیشنز کو AI کی سکریننگ پروسیس میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈیٹا کا تحفظ اور رازداری: مریضوں کے
حساس طبی ڈیٹا کو محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
سرمائے کی فراہمی: جدیدّ ٹیکنالوجیز اور آلات کی بڑھتی ہوئی لاگت کے پیشِ نظر مناسب بجٹ درکار ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ماڈل کی مزید جانچ اور کلینیکل ٹرائل کامیابی سے گزر گئے تو یہ جدید طبی تشخیص میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا اورتیزتر اور مؤثر علاج کے ذریعے یہ مریضوں کی زندگیوں میں نمایاں فرق لا سکتا ہے۔
حوالہ جات:
آرٹیکل کے تمام اہم نکات MIT News کے مطالعے ''Using AI to predict breast cancer and personalize care‘‘ سے لیے گئے ہیں۔

MIT اور MGH کا AI پر مبنی ماڈل بریسٹ کینسر کی تشخیص کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ خصوصی طور پ مندرجہ ذیل خوبیوں کا حامل کرتا ہے:پانچ سال پہلے بیماری کے خطرہ کا پتہ لگا سکتا ہے۔ شخصی بنیاد پر سکریننگ کی حکمت عملی ترتیب دیتا ہے۔نسل کی بنیاد پر کسی طرح کی تفریق نہیں کرتا۔دیگر امراض کے لیے بھی قابلِ توسیع ہے۔یہ پیش رفت نہ صرف علاج و تشخیص میں انقلاب کے امکانات رکھتی ہے بلکہ ایک نئے دور کی امید بھی جگاتی ہے جس میں AI کی مدد سے ہر مریض کو اس کا مخصوص علاج میسر ہوگا اورLate stage تشخیص کا گراف تقریباً صفر پر آجائے گا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

اہرامِ مصر کے نیچے کیا!

سائنس نے ایک اور راز سے پردہ اٹھا دیااہرامِ مصر صدیوں سے انسانی عقل و فہم کو حیران کرتے چلے آ رہے ہیں، مگر حالیہ سائنسی انکشاف نے اس حیرت کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق عظیم اہرام کے نیچے تقریباً چار ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک خفیہ اور وسیع میگا اسٹرکچر کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس نے ماہرین آثارِ قدیمہ اور سائنس دانوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قدیم مصری تہذیب کی سائنسی اور تعمیراتی صلاحیتیں ہمارے اندازوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ یہ دریافت نہ صرف اہرام کے مقصد اور ساخت سے متعلق پرانے نظریات کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے اور پراسرار باب کے دروازے بھی کھول رہی ہے۔جوئے روگن(Joe Rogan) کے پوڈ کاسٹ میں شریک مہمان نے ایسے متنازع اسکینز پر گفتگو کی جن میں عظیم اہرام مصر کے نیچے ایک وسیع و عریض زیر زمین ڈھانچے کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے، جو قدیم تاریخ سے متعلق تصورات کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہ اسکین اطالوی سائنس دان فلیپو بیونڈی( Filippo Biondi ) اور خفری پروجیکٹ ٹیم نے سنتھیٹک اپرچر ریڈار (synthetic aperture radar)کی مدد سے کیے، جو ایک جدید سیٹلائٹ امیجنگ ٹیکنالوجی ہے اور زمین کے اندرونی خدو خال کو ریڈیو لہروں کے ذریعے نقشہ بند کرتی ہے۔اٹلی اور امریکہ کی مختلف سیٹلائٹس سے حاصل کردہ 200 سے زائد اسکینز میں یکساں نتائج سامنے آئے، جن سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 65فٹ قطر کے بڑے ستون موجود ہیں جو پیچ دار شکل میں لپٹے ہوئے ہیں اور تقریباً 4ہزار فٹ گہرائی تک جاتے ہیں۔ بیونڈی کے مطابق یہ ستون تینوں اہرام اور اسفنکس (Sphinx) کے نیچے موجود 260 فٹ لمبے اور چوڑے مکعب کمروں پر ختم ہوتے ہیں، جنہیں انہوں نے ''انتہائی بڑے چیمبرز‘‘ قرار دیا۔اسکینز میں تقریباً 2ہزار فٹ گہرائی تک جانے والی شافٹس (عمودی راستے) بھی دکھائے گئے جو 10 فٹ اونچے افقی راستوں سے جڑتے ہیں۔ اس بنیاد پر بیونڈی کا خیال ہے کہ اہرام شاید مقبرے نہیں بلکہ قدیم زمانے کے توانائی گھر (پاور پلانٹس) یا ایسی کمپن پیدا کرنے والی مشینیں ہو سکتی ہیں جو روحانی یا جسم سے باہر تجربات کیلئے استعمال ہوتی ہوں۔جو ئے روگن نے بھی ان انکشافات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقبرے نہیں ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا درست ہوا تو اہرام صرف ''برفانی پہاڑ کی نوک‘‘ ثابت ہوں گے۔بیونڈی نے ان زیر زمین ڈھانچوں کی عمر 18ہزار سے 20ہزار سال بتائی اور انہیں زیپ ٹیپی (Zep Tepi) یعنی اس اساطیری ''پہلے زمانے‘‘ سے جوڑا جب دیوتاؤں کی حکومت تھی اور تہذیب کا آغاز ہوا۔ انہوں نے قدیم سمندری پانی کے سیلاب سے پیدا ہونے والے نمکیاتی آثار کو بھی ایک عظیم طوفان کی علامت قرار دیا، جو اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ اہرام کے نیچے ایک نہایت قدیم اور ترقی یافتہ تہذیب کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔یہ کمپلیکس تین اہراموں خوفو، خفرع اور منقرع پر مشتمل ہے، جو تقریباً 4,500 سال قبل شمالی مصر میں دریائے نیل کے مغربی کنارے ایک چٹانی سطح مرتفع پر تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم خفرع اہرام پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچے اس سے کہیں زیادہ قدیم ہیں اور ان کے نیچے ایک ایسا زیر زمین جہان چھپا ہوا ہے جسے کسی گمشدہ تہذیب نے تعمیر کیا تھا۔ اس تنازع کی بنیادی وجہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی ساکھ ہے۔ بیونڈی کے مطابق انہوں نے یہ ٹیکنالوجی اطالوی فوج کیلئے خفیہ منصوبوں کے دوران تیار کی اور بعدازاں اسے موصل ڈیم اور اٹلی کی گرانڈ ساسو لیبارٹری جیسے حساس مقامات پر بھی آزمایا گیا۔یہ ٹیکنالوجی پیٹنٹ شدہ، ہم مرتبہ جانچ شدہ اور نہایت درستگی کیلئے تیار کی گئی ہے، لیکن جب اس کا اطلاق ان اہرام پر کیا گیا تو شدید ردعمل سامنے آیا۔ معروف ماہر آثارقدیمہ ڈاکٹر زاہی حواس نے ان اسکینز کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے۔بیونڈی نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ اور ان کے ساتھی آرمانڈو میئی خود بھی نتائج پر یقین نہیں کر پا رہے تھے اور انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک ڈیٹا روک کر رکھا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ یہ پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔بیونڈی کے مطابق: میری رائے یہ تھی کہ یہ حقیقی نہیں۔ میں سمجھ رہا تھا کہ شاید یہ شور یا ہماری پروسیسنگ کے طریقہ کار کی وجہ سے بننے والے آرٹی فیکٹس ہیں۔ بالآخر مختلف سیٹلائٹ نظاموں اور معیارات سے تصدیق ہوئی، جن میں اٹلی کے گرانڈ ساسو پارٹیکل کولائیڈر کی درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔ بیونڈی کا کہنا ہے کہ مختلف ڈیٹا سیٹس میں یکسانیت ہی وہ عنصر تھا جس نے انہیں یقین دلایا کہ یہ نتائج حقیقی ہیں۔ابتدا میں ٹیم نے صرف اٹلی کے سیٹلائٹس کے ڈیٹا پر انحصار کیا، لیکن بعد ازاں نتائج کی تصدیق کیلئے انہوں نے امریکی کمپنی ''کپیلا سپیس‘‘ (Capella Space) کے سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے بھی تجزیہ کیا، تاکہ مختلف ذرائع سے یکساں شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ بیونڈی نے کہاکہ جب ہمیں امریکی سیٹلائٹس استعمال کرتے ہوئے بھی وہی نتائج ملے اور دیگر سیٹلائٹس سے بھی ہمیشہ ایک جیسے نتائج سامنے آئے، تو ہم نے انہیں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔مجموعی طور پر 200 سے زائد اسکینز میں ایک جیسے ساختی نمونے سامنے آئے۔جوئے روگن نے نشاندہی کی کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی دیگر مقامات پر درست ثابت ہو چکی ہے، جن میں اٹلی کی زیر زمین گران ساسو لیبارٹری کی نہایت درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

یکم فروری:ورلڈ حجاب ڈے

شناخت،وقار اور آزادی کا عالمی پیغامہر سال یکم فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ حجاب ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک مذہبی علامت کے تعارف یا فروغ تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے حقِ انتخاب، مذہبی آزادی، باوقار شناخت اور سماجی ہم آہنگی کا عالمی پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس دن کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ حجاب کسی جبر کا نام نہیں بلکہ لاکھوں خواتین کے لیے ایک شعوری انتخاب، ذاتی شناخت اور روحانی سکون کی علامت ہے۔ورلڈ حجاب ڈے کا آغاز 2013ء میں نیویارک کی ایک مسلمان خاتون نظمہ خان نے کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن اور نوجوانی میں حجاب پہننے کی وجہ سے امتیازی سلوک اور تعصب کا سامنا کیا تھا۔ اسی تجربے نے انہیں اس دن کے اجراپر آمادہ کیا تاکہ غیر مسلم خواتین بھی ایک دن کے لیے حجاب پہن کر اس احساس کو سمجھ سکیں کہ حجاب پہننے والی خواتین کن سماجی رویوں کا سامنا کرتی ہیں۔ آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں منایا جاتا ہے اور لاکھوں خواتین اس مہم میں شریک ہوتی ہیں۔اسلامی تناظر میں حجاب کا تصور صرف لباس تک محدود نہیں۔ یہ حیا، وقار، خود داری اور اخلاقی حدود کی علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور باوقار طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ حجاب دراصل عورت کی شخصیت کو اس کی ظاہری نمائش کے بجائے اس کے علم، کردار اور صلاحیتوں کے ذریعے پہچان دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ ایک ایسا پردہ ہے جو عورت کو معاشرے میں تحفظ، اعتماد اور خود اعتمادی فراہم کرتا ہے۔بدقسمتی سے جدید دنیا میں حجاب کو اکثر غلط فہمیوں اور منفی تصورات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ بعض مغربی معاشروں میں اسے خواتین کی آزادی کے منافی قرار دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آزادی کا اصل مفہوم انتخاب کا حق ہے اور اگر ایک عورت اپنی مرضی سے حجاب اختیار کرتی ہے تو یہ اس کی آزادی کا اظہار ہے، نہ کہ اس کی نفی۔ ورلڈ حجاب ڈے انہی غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مکالمے کے دروازے کھولنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔یہ دن مسلم خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں حجاب پہننے والی خواتین کو نفرت انگیز رویوں، ملازمت میں رکاوٹوں اور تعلیمی اداروں میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ورلڈ حجاب ڈے ان مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی کو بھی کمتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔پاکستان جیسے اسلامی معاشرے میں بھی حجاب پر بحث مختلف زاویوں سے کی جاتی ہے۔ کچھ خواتین حجاب کو اپنی شناخت کا لازمی حصہ سمجھتی ہیں جبکہ کچھ اسے ذاتی معاملہ قرار دیتی ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ برداشت، احترام اور مکالمہ ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر اس دن کی مناسبت سے سیمینارز، مباحثے اور آگاہی مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔ غیر مسلم خواتین کا ایک دن کے لیے حجاب پہننا محض ایک علامتی عمل نہیں بلکہ یہ باہمی سمجھ بوجھ اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب لوگ خود کسی تجربے سے گزرتے ہیں تو تعصب کی دیواریں خود بخود گرنے لگتی ہیں۔ ورلڈ حجاب ڈے ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کی خوبصورتی تنوع میں ہے۔ لباس، عقیدہ یا ثقافت کی بنیاد پر کسی کو جانچنا ناانصافی ہے۔ حجاب پہننے یا نہ پہننے کا فیصلہ ہر عورت کا ذاتی حق ہے، اور اسی حق کے احترام میں ہی حقیقی آزادی مضمر ہے۔ یکم فروری کا دن ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کو سمجھیں، قبول کریں اور ایک زیادہ باوقار اور پرامن عالمی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ظہور احمد عہد سازاداکار(2009-1934)

آج تم یاد بے حساب آئے!ظہور احمد عہد سازاداکار(2009-1934)

٭...ظہور احمد 18 ستمبر 1934ء کو ناگ پور بھارت میں پیدا ہوئے ۔٭...تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تھیٹر سے اپنے فنکارانہ کریئر کا آغاز کیا۔٭... ان کے مقبول سٹیج ڈراموں میں '' نظام سقّہ‘‘ اور'' تعلیم بالغاں‘‘ سرفہرست ہیں۔ ٭...ظہور احمد نے کچھ فلموں میں بھی کام کیا۔ ان میں سب سے مشہور فلم ''ارمان‘‘ تھی جس میں انہوں نے وحید مراد کے والد کا کردار ادا کیا۔٭...انہوں نے فلم '' ہیرا اور پتھر، ارمان، بادل اور بجلی، شہر اور سائے، مسافر، دل والے،ٹاورز آف سائلنس اور پیسہ بولتا ہے‘‘میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ٭...جب لاہور فلم نگری میں تبدیل ہوا تو ظہور احمد نے کراچی میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور وہ ٹی وی ڈراموں میں کام کرتے رہے۔ ٭... نظام سقہ اور نورالدین زنگی کے کردار اتنی عمدگی سے نبھائے کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔٭... ڈرامہ سیریز ''آخری چٹان‘‘ اور ''چنگیز خان‘‘ میں بھی اعلیٰ درجے کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٭...وہ مکمل طور پر ایک پروفیشنل اداکار تھے۔ ولن کے کردار بڑی عمدگی سے نبھائے۔٭...انہوں نے ملک کے استحکام اور مسئلہ کشمیر پر ڈرامے تحریر کیے۔ ان میں سے ایک ڈرامے ''لہو سے کر کے وضو‘‘ نے ہمایوں سعید کو سٹار بنا دیا۔٭... ظہور احمد کی خوبی یہ تھی کہ فلموں میں کام کرنے کے باوجود انہوں نے ٹی وی کو نہیں چھوڑا۔ ٭...یکم فروری 2009ء کو ان کااسلام آباد میں انتقال ہوااور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ مقبول ٹی وی ڈرامےشریف آدمیمولا پہلواندیواریںخدا کی بستیپردیسچنگیز خاننور الدین زنگیآہنآخری چٹان

آج کا دن

آج کا دن

سائنٹیفک کیلکولیٹر کی ایجاد1972ء میں یکم فروری کو پہلا سائنٹیفک ہینڈ کیلکولیٹر متعارف کرایا گیا۔ اس سے پہلے بھی دنیا میں سائنٹیفک کیلکولیٹر موجود تھے لیکن ہاتھ یا جیب میں رکھنے والا کیلکولیٹر موجود نہیں تھا، جسے کہیں بھی اپنے ساتھ لے جایا جا سکے۔ ہینڈ کیلکولیٹر کے متعارف ہونے سے ریاضی کے شعبہ میں انقلاب دیکھنے میں آیا۔آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کی پہلی جلد کی اشاعت1884ء میں دنیا کی سب سے مستند لغات میں شمار ہونے والی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری کی پہلی جلد شائع ہوئی۔ یہ عظیم منصوبہ برسوں کی محنت، تحقیق اور ماہرین لسانیات کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ اس لغت کا مقصد انگریزی زبان کے ہر لفظ کی درست تعریف، تلفظ، تاریخ اور استعمال کی مثالیں فراہم کرنا تھا۔ اس اشاعت نے زبان و ادب کی دنیا میں ایک نیا معیار قائم کیا۔ ملکہ الزبتھ کا دورہ پاکستانیکم فروری1961ء کوملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 16 روزہ دورے پر اپنے شوہر کے ساتھ کراچی پہنچیں۔ملکہ برطانیہ کے دورہ پاکستان کے موقع پر ان کا بھر پور استقبال کیا گیا۔ملکہ الزبتھ نے سوات کا دورہ بھی کیا ، اُن دنوںسوات میں شدیدسردی تھی پھر بھی ہزاروں لوگ سڑک کے دونوں طرف ملکہ کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے کھڑے تھے۔ملکہ برطانیہ نے کھلی چھت والی گاڑی میں سوات کی سیر کی اور اس دوران ہاتھ ہلا کر عوام کے نعروں کا جواب دیتی رہیں۔ برطانیہ نے سوویت یونین کو تسلیم کیا 1924ء میں آج کے روز برطانیہ نے سوویت یونین کو باقائدہ تسلیم کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران سوویت یونین ، برطانیہ اور امریکہ کا اتحادی تھا، اس کے باوجود برطانیہ اور امریکہ کے ساتھ سوویت یونین کے تعلقات دوستانہ نہیں رہ سکے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ چلتی رہی۔ جس میں برطانیہ نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ روس ، امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات آج بھی مثالی نہیں ہیں جبکہ سوویت یونین کو ختم کر دیا گیا ہے۔ آیت اللہ خمینی کی واپسییکم فروری 1979 ء کو ایران کے اسلامی انقلاب کے لیڈر آیت اللہ خمینی جلا وطنی ختم ہونے پر فرانس سے ایران واپس آئے۔ خمینی کو 1964ء میں اپنے نظریات کی بنا پر جلا وطنی کاٹنا پڑی تھی، اس دوران انہوں نے کچھ عرصہ ترکی میں بھی گزارا۔سولہ سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے سے بہشت زہرا کے قبرستان تک لاکھوں ایرانیوں نے ان کا استقبال کیا،جن کی تعداد 1کروڑ بتائی جاتی ہے۔ پہلوی خاندان کا تختہ الٹنے کے بعد جمہوریت کے قیام اور انقلاب ایران کے سلسلے میں خمینی نے ایرانی عوام کی نمائندگی کی۔

کیلاویا آتش فشاں قدرت کا قہر یا سائنسی معجزہ؟

کیلاویا آتش فشاں قدرت کا قہر یا سائنسی معجزہ؟

دنیا میں قدرتی مظاہر کی ایک طویل فہرست ہے جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے، مگر آتش فشاں ان میں سب سے زیادہ خوفناک اور پُرہیبت سمجھے جاتے ہیں۔ زمین کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی آگ جب اچانک لاوے، راکھ اور دھوئیں کی صورت میں باہر آتی ہے تو یہ منظر نہ صرف ہولناک ہوتا ہے بلکہ انسان کو قدرت کی بے پناہ قوت کا بھی احساس دلاتا ہے۔ ہوائی جزیرے پر واقع کیلاویا آتش فشاں (Kilauea Volcano) دنیا کے سب سے زیادہ متحرک اور مشہور آتش فشائوں میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں کیلاویا ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک سو فٹ سے بھی زائد بلند لاوا اگلنے کے منظر نے دنیا کو ایک بار پھر حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ آتش فشاں بارہا لاوا اگل چکا ہے اور اپنے اردگرد کے علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔کیلاویا آتش فشاں امریکی ریاست ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے اور یہ دنیا کے فعال ترین آتش فشاں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق کیلاویا گزشتہ کئی صدیوں سے وقفے وقفے سے پھٹتا آ رہا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر لاوا کا بہاؤ نسبتاً آہستہ رفتار سے ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ اردگرد کی بستیوں، سڑکوں، جنگلات اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق کیلاویا کی باقاعدہ آتش فشانی سرگرمی کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا، جب 1823ء میں اس کے بڑے پیمانے پر پھٹنے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد سے یہ آتش فشاں متعدد بار متحرک ہو چکا ہے۔ 2018ء میں کیلاویا کے شدید دھماکوں اور لاوے کے بہاؤ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ سیکڑوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔ یہ واقعہ کیلاویا کی تاریخ کا سب سے تباہ کن دور تصور کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلاویا دراصل ایک شیلڈ وولکینو (Shield Volcano) ہے، یعنی ایسا آتش فشاں جس کی شکل شیلڈ کی مانند ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں دھماکہ خیز آتش فشانی سرگرمی کے بجائے زیادہ تر لاوا آہستہ آہستہ بہتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات دباؤ میں اضافے کے باعث دھماکے بھی ہو سکتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔کیلاویا کی سرگرمیوں کا سائنسی مطالعہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور دیگر تحقیقی ادارے مسلسل کر رہے ہیں۔ جدید آلات کے ذریعے زمین کے اندر ہونے والی حرکات، گیسوں کے اخراج اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کسی بڑے دھماکے کی پیشگی اطلاع دی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق آتش فشاں کی پیش گوئی مکمل طور پر ممکن تو نہیں، تاہم مسلسل نگرانی سے خطرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔کیلاویا آتش فشاں سائنسی تحقیق کیلئے ایک اہم تجربہ گاہ بھی ہے۔ زمین کی ساخت، میگما کے بہاؤ اور آتش فشانی عمل کو سمجھنے میں کیلاویا نے سائنسدانوں کو قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے محققین ہوائی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس آتش فشاں کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کیلاویا آتش فشاں سیاحت کے لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ حکام کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق آتش فشانی سرگرمی جہاں ایک طرف تباہی لاتی ہے، وہیں دوسری طرف زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ لاوا کے ٹھنڈا ہونے کے بعد بننے والی مٹی معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے، جو زراعت کیلئے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی کی زمین دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں شمار ہوتی ہے۔کیلاویا کی تازہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان جدید ٹیکنالوجی کے باوجود قدرت کے سامنے بے بس ہے۔ جب بھی یہ متحرک ہوتا ہے حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے اور مسلسل آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیلاویا آتش فشاں صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ زمین کے اندرونی نظام کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سیارہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ کیلاویا کی ہر نئی سرگرمی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں چھپی طاقت آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور کسی بھی وقت اپنا اظہار کر سکتی ہے۔

صحت مند زندگی کا راز

صحت مند زندگی کا راز

6 عادات جو زندگی بدل دیںتیز رفتار اور مصروف طرزِ زندگی نے انسان کو سہولتوں کی بہتات تو عطا کر دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ صحت جیسے قیمتی اثاثے کو شدید خطرات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ آج ہر شخص مہنگی ادویات، سپلیمنٹس اور جدید علاج کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کیلئے ہمیشہ بھاری اخراجات ضروری نہیں ہوتے۔ حالیہ تحقیق اور ویلنَس ماہرین کی آراء کے مطابق روزمرہ زندگی کی چند سادہ اور مفت سرگرمیاں ایسی ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ ذہنی سکون بھی عطاکرتی ہیں۔ یہی چھ بنیادی عادات اگر معمول کا حصہ بنا لی جائیں تو انسان خود کو زیادہ توانا، چست اور صحت مند محسوس کر سکتا ہے۔جنوری کا مہینہ عموماً فیشن ایبل ڈائٹس، مہنگے سپا ٹرپس اور بری عادات ترک کرنے کے عزم کیلئے مشہور ہے۔ بہت سے لوگ اس مہینے کا آغاز اس نیت سے کرتے ہیں کہ وہ خود کو زیادہ صحت مند بنائیں گے۔ کوئی دوڑ لگانا شروع کرتا ہے، کوئی ویٹ لفٹنگ، تو کوئی نئے سال میں سونا باتھ کو معمول بنا لیتا ہے۔ لیکن جیسے ہی فروری قریب آتا ہے، ان میں سے بہت سی عادتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق چھ روزمرہ سرگرمیاں ایسی ہیں جو بغیر جیب پر بوجھ ڈالے آپ کی صحت کو تیزی سے بہتر بنا سکتی ہیں۔ وٹامن ڈی حاصل کریںصبح کے وقت نہانے، ناشتہ کرنے، کپڑے پہننے اور وقت پر کام کیلئے نکلنے کی جلدی میں ہم میں سے اکثر صحت مند صبح کے معمول کے ایک نہایت اہم حصے دھوپ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر صبح صرف پانچ منٹ چہرے پر دھوپ پڑنے سے نیند بہتر ہو سکتی ہے اور ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں کمی آ سکتی ہے۔امریکی محققین نے دریافت کیا کہ وہ لوگ جو صبح 8 بجے سے دوپہر 12بجے کے درمیان کچھ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں وہ رات کو جلدی سو جاتے ہیں اور ان کی نیند میں خلل بھی کم ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں جو دھوپ جیسی نعمت کا فائدہ نہیں اٹھاتے۔یہ صرف جسمانی گھڑی کیلئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے، جو ہمارا جسم دھوپ کی مدد سے بناتا ہے۔ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جو مضبوط ہڈیوں کیلئے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے بچوں میں رکٹس اور بڑی عمر میں ہڈیاں کمزور یا بھربھری ہو سکتی ہیں۔کھانے کے بعد چہل قدمی کریںغذا کھانے کے بعد چلنا شاید وہ آخری چیز ہو جو آپ کرنا چاہیں لیکن ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی بھی صحت پر بہت مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں ظاہر ہوا کہ کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کم ہوتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی آتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے 60 سے 90 منٹ بعد چلنا سب سے زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس وقت بلڈ شوگر کی سطح عموماً بلند ہوتی ہے۔لوگوں کو 15 منٹ کی چہل قدمی کا ہدف رکھنا چاہیے لیکن تحقیق کے مصنفین کے مطابق دو سے پانچ منٹ کی مختصر چہل قدمی بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح دن بھر مختصر حرکات بھی کیلوریز جلانے اور میٹابولزم بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔منہ سے سانس لینے سے گریز کریںمنہ کے ذریعے سانس لینا طویل عرصے سے نیند میں خلل ڈالنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عادت موٹاپا، ڈیمنشیا، گنٹھیا (arthritis) اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ منہ کے ذریعے سانس لینے سے منہ خشک ہو جاتا ہے جس سے نقصان دہ بیکٹیریا پھیلنے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ گھاس کو پیروں سے چھوئیںماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ننگے پیروں کھڑے ہونا جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ گھاس، ریت یا مٹی پر ننگے پیروں وقت گزارنا، جسے اکثر گراؤنڈنگ (grounding) کہا جاتا ہے، اعصابی نظام کو پرسکون کرنے، تناؤ کم کرنے اور نیند بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔کھانے کے دوران فون رکھ دیںکھانے کے دوران فون دیکھنے کی عادت وزن بڑھنے سے منسلک پائی گئی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ مرد اور خواتین نے جب کھاتے وقت فون دیکھا، تو انہوں نے تقریباً 15 فیصد زیادہ کیلوریز کھائیں اور زیادہ چکنائی والا کھانا بھی تناول کیا۔ ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر کے کھانے کے دوران فون استعمال کرتے تھے، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں شام تک زیادہ تھکے ہوئے محسوس کرتے تھے جو چہل قدمی کرتے یا کتاب پڑھتے تھے۔ ماہرین کے مطابق آہستہ کھائیں اور سکرینز کے بغیر کھانا کھائیں تو ''ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ‘‘ اعصابی نظام فعال ہوتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر اور بھوک منظم ہوتی ہے۔سونے کے وقت کو بحال کریںنیند صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ نیند کی کمی کئی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، جن میں بلند فشار خون، دل کی بیماریاں، ڈیمنشیا اور ڈپریشن شامل ہیں۔ بالغ افراد کو عموماً رات میں تقریباً سات سے نو گھنٹے سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ہر شخص کیلئے مختلف ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ زیادہ تر وقت نیند کی کمی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد بالغ افراد ہر رات مطلوبہ نیند حاصل نہیں کرتے۔ تقریباً 75 لاکھ افراد ہر رات پانچ گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔ خراب نیند کی عادات کو درست کرنے کیلئے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیڈ ٹائم روٹین دوبارہ قائم کریں۔ معیاری نیند مدافعتی نظام، موڈ، اور مجموعی صحت بہتر بنانے کا سب سے تیز طریقہ ہے اور اس پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔