روزانہ 30 منٹ کی واک:صحت مند زندگی کی جانب بڑا قدم
اسپیشل فیچر
نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی اکثر لوگ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کا عزم کرتے ہیں۔ کوئی جم جوائن کرتا ہے کوئی سخت ورزش کے منصوبے بناتا ہے مگر چند ہی ہفتوں بعد یہ جوش اکثر ماند پڑ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے ہمیشہ مہنگے جم، مشکل ورزشوں یا سخت روٹین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اگر روزانہ صرف تیس منٹ کی واک کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیا جائے تو متعدد جسمانی اور ذہنی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) سے وابستہ جنرل فزیشن ڈاکٹر عامر خان کے مطابق واک ایک ایسی جسمانی سرگرمی ہے جو نہ صرف آسان ہے بلکہ ہر عمر کے افراد کے لیے مفید بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ورزش کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ صحت کے لیے سرگرم رہنا ہمیشہ شدید جسمانی مشقت کا نام نہیں۔
دل کی صحت کیلئے ناگزیر
دل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ 79 لاکھ افراد دل کی مختلف بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ایسے میں روزانہ کی واک ایک سادہ مگر مؤثر حفاظتی تدبیر ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق روزانہ 30 منٹ یا اس سے زیادہ ،تیز قدموں سے چلنا دل کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے، بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے اور کولیسٹرول کی سطح کو بہتر کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے واک کرتے ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ واک خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔
جوڑوں اور ہڈیوں کی مضبوطی
اکثر لوگ بڑھتی عمر کے ساتھ جوڑوں کے درد، اکڑاؤ اور حرکت میں دشواری کی شکایت کرتے ہیں جس کی بڑی وجہ جسمانی سرگرمی کی کمی ہے۔ واک جوڑوں کو متحرک رکھتی ہے اور ان میں لچک برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ماہرین کے مطابق چلنے کے دوران جوڑوں کے گرد موجود عضلات مضبوط ہوتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور کارٹلیج کو غذائیت ملتی ہے جس سے اوسٹیو آرتھرائٹس اور اوسٹیو پوروسس جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ حالیہ مطالعات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ گھٹنوں کے درد میں مبتلا افراد کے لیے واک درد میں کمی اور حرکت میں آسانی کا سبب بن سکتی ہے۔
کینسر کے خطرات میں کمی
حالیہ سائنسی تحقیقات نے واک کے ایک اور اہم فائدے کی نشاندہی کی ہے، وہ یہ کہ بعض اقسام کے کینسر کے خطرے میں کمی۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ واک کرنے سے آنتوں، چھاتی اور گردوں کے کینسر کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ سات ہزار قدم چلتے ہیں ان میں کینسر کا خطرہ 11 فیصد کم ہو جاتا ہے جبکہ نو ہزار قدم چلنے والوں میں یہ کمی 16 فیصد تک دیکھی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس فائدے کے لیے دس ہزار قدم کی شرط بھی نہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ کی گئی واک بھی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
مدافعتی نظام کی بہتری
مدافعتی نظام انسانی جسم کا قدرتی دفاعی حصار ہے جو ہمیں بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ واک نہ صرف جسمانی صحت بلکہ مدافعتی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ ماہرین کے مطابق واک ذہنی دباؤ میں کمی، بہتر نیند اور خون کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے جس کے نتیجے میں جسم میں سوزش کم ہوتی ہے اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔خصوصاً اگر واک کسی پارک یا سبزہ زار میں کی جائے تو اس کے فوائد دوگنا ہو جاتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قدرتی ماحول میں چہل قدمی کرنے سے دماغی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، توجہ میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔
ذہنی صحت اور خوشگوار زندگی
جدید دور میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق واک ذہنی صحت کے لیے قدرتی علاج کی حیثیت رکھتی ہے۔ چہل قدمی کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو خوشی اور سکون کا احساس پیدا کرتے ہیں۔باقاعدہ واک کرنے والے افراد میں تناؤ کم، موڈ بہتر اور خود اعتمادی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین روزانہ کم از کم تیس منٹ واک کو ذہنی سکون کے لیے بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو واک ایک ایسی سادہ عادت ہے جو دل، جوڑوں، مدافعتی نظام اور ذہنی صحت سمیت پورے جسم پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کے لیے نہ کسی خاص ساز و سامان کی ضرورت ہے اور نہ ہی زیادہ وقت یا پیسے کی۔ بس روزانہ چند منٹ نکال کر باقاعدگی سے چلنے کی عادت اپنا لی جائے تو صحت مند اور متوازن زندگی کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ماہرینِ صحت کا مشورہ ہے کہ روزانہ کم از کم آدھے گھنٹے کی واک کو معمول بنایا جائے کیونکہ یہ چھوٹا سا قدم مستقبل میں بڑی بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔