آفات نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا
اسپیشل فیچر
سیلاب،جنگلاتی آگ اور طوفانوں سے 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ 2025ء میں گرمی کی شدید لہریں، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور طاقتور طوفانوں نے نہ صرف انسانی جانوں اور قدرتی وسائل کو متاثر کیا بلکہ اقتصادی نقصان کے نئے ریکارڈ بھی قائم کئے۔ حالیہ تحقیق کے مطابق ان قدرتی آفات نے عالمی معیشت کو 120 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صرف ایک اعداد و شمار نہیں، بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کی شدت اور اس کے فوری اور طویل مدتی اثرات کی عکاسی بھی ہے۔ گرمی کی لہریں لوگوں کی صحت اور پیداوری صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں، جنگلاتی آگ وسیع رقبے کی تباہی کا سبب بنتی ہے، اور خشک سالی زراعت اور پانی کی فراہمی کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ طوفان اور دیگر شدید موسمی مظاہر انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقوں کو تباہ کر دیتے ہیں، جس سے انسانی زندگی اور معیشت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
ایک تحقیق نے ماحولیاتی تبدیلی کی حقیقی قیمت بے نقاب کر دی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں گرمی کی لہریں، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور طوفان بڑے پیمانے پر تباہی مچا رہے ہیں۔ صرف 2025ء میں10 ماحولیاتی آفات نے دنیا کو 120 ارب ڈالر (88.78 ارب پاؤنڈ) سے زیادہ کا نقصان پہنچایا۔ہر ایک واقعہ انسانی عمل سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے تباہ کن ثابت ہوا۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف بیمہ شدہ نقصانات کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ ماحولیاتی اثرات سے متاثرہ آفات کی حقیقی قیمت اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
2025ء میں نقصان کا سب سے زیادہ بوجھ امریکہ نے برداشت کیا، جب جنوری میں ''پیلیسیڈز اور ایٹن کی جنگلاتی آگ‘‘ لاس اینجلس میں پھیلی۔ یہ تباہ کن آگ اکیلے 60 ارب ڈالرسے زیادہ کا نقصان کر گئی اور 40 افراد کی جان لے لی۔اس کے بعد جنوب مشرقی ایشیا میں سائیکلونز آئے، جن سے 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور تھائی لینڈ، انڈونیشیا، سری لنکا، ویتنام اور ملیشیا میں 1,750 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔تحقیق کرنے والوں نے 10 کم مہنگی لیکن اتنی ہی حیران کن ماحولیاتی آفات کو بھی اجاگر کیا، جن میں اس موسم گرما میں برطانیہ میں لگی تباہ کن جنگلاتی آگ کے مختلف واقعات شامل ہیں۔
سائنسدانوں نے بہت سے شواہد اکٹھے کیے ہیں جو یہ واضح اور ناقابل تردید تعلق ظاہر کرتے ہیں کہ گرم ہوتا ہوا ماحول زیادہ شدید ماحولیاتی آفات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔یہ بات درست نہیں کہ انسانی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلی انتہا پسندی والے موسمی واقعات پیدا کرتی ہے، بلکہ یہ ان کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے اور جب یہ واقعات رونما ہوتے ہیں تو ان کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ماہر ماحولیات ڈاکٹر ڈیوائیڈ فارانڈا(Dr Davide Faranda)کہتے ہیں کہ اس رپورٹ میں دستاویزی واقعات، آفات یا قدرتی مظاہرے نہیں ہیں۔ یہ گرم ماحول اور گرم سمندروں کا متوقع نتیجہ ہیں، جو دہائیوں سے فوسل فیول کے اخراج کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں محققین نے سب سے بڑی آفات کی مجموعی لاگت کا تخمینہ لگایا ہے جو بدلتے ہوئے ماحول کی وجہ سے شدید ہوئی ہیں۔ اگرچہ امیر ممالک میں جہاں جائیداد کی قیمتیں زیادہ ہیں، شدید موسمی حالات کی وجہ سے لاگت زیادہ ہوتی ہے، لیکن سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک غریب ہیں۔
2025 میں سب سے مہنگی چھ ماحولیاتی آفات میں سے چار ایشیا میں آئیں، جن سے مجموعی نقصان 48 ارب ڈالر ہوا ۔اس میں جون اور اگست میں چین میں آنے والے تباہ کن سیلاب شامل ہیں، جن سے 30 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور 11.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ 2025ء کے دوران، چین کے ایسے علاقوں میں تباہ کن سیلاب آئے جہاں پہلے اس قسم کا موسم نہیں دیکھا گیا تھا، کیونکہ غیر معمولی زیادہ بارش مہینوں کی خشک سالی کے بعد ہوئی۔
2025ء میں کیریبین کو بھی ''صدی کے خطرناک طوفان‘‘ کا سامنا کرنا پڑا، جب '' ملیسا ‘‘ نامی طوفان نے جمیکا، کیوبا اور بہاماس میں تباہی مچائی، جس سے کم از کم 8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔چونکہ سمندری طوفان گرم سمندری پانیوں سے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسز ان طوفانوں کو زیادہ کثرت اور زیادہ طاقتور بنانے میں براہِ راست کردار ادا کرتی ہیں۔تحقیق کے مطابق، ایک سرد دنیا میں جہاں ماحولیاتی تبدیلیاں نہیں ہوتیں '' ملیسا‘‘ جیسا سمندری طوفان 8ہزار سال میں ایک بار آتا ہے۔ لیکن آج کے ماحول میں، جہاں درجہ حرارت 1.3°C بڑھ چکا ہے، یہ چار گنا زیادہ ممکن ہو گیا ہے اور اب ایسے طوفان کی توقع ہر 1,700 سال میں ایک بار کی جا سکتی ہے۔
پروفیسر جوآنا ہیگ(Joanna Haigh) جو کہ امپیریل کالج لندن کی فضائی طبیعیات کی ماہر ہیں کہتی ہیں:یہ آفات قدرتی نہیں ہیں ، یہ مسلسل فوسل فیول کے استعمال اور سیاسی تاخیر کا لازمی نتیجہ ہیں۔دنیا اس بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہی ہے۔ نقصانات اربوں ڈالر میں ہیں،جس کا زیادہ بوجھ ان ملکوں پر پڑتا ہے جن کے پاس بحالی کیلئے کم وسائل ہیں۔
سب سے زیادہ تباہ کن 10 واقعات کے علاوہ رپورٹ میں 10 ایسے شدید موسمی واقعات کا بھی تجزیہ کیاگیا جن کا مالی نقصان نسبتاً کم تھا، مگر وہ اتنے ہی تشویش ناک تھے۔ان میں سرفہرست وہ وسیع پیمانے پر لگنے والی جنگلاتی آگ ہیں جنہوں نے اس سال کے اواخر گرما میں برطانیہ کے بڑے حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں فائر بریگیڈ کے عملے نے ریکارڈ تعداد میں جنگلاتی آگ کے واقعات پر قابو پایا اور ستمبر کے اوائل تک ایک ہزار سے زائد الگ الگ آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے تھے۔ابتدائی اندازوں کے مطابق 184 مربع میل سے زائد جنگلات، پہاڑی چراگاہیں اور قدرتی میدان جل کر راکھ ہو گئے، جو اب تک ایک سال میں جلنے والا سب سے بڑا رقبہ ہے۔
جون میں کیربرج (Carrbridge)اور ڈیوا مور(Dava Moor) میں لگنے والی آگ نے 42.5 مربع میل زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور یہ برطانیہ کی تاریخ کی پہلی باقاعدہ ریکارڈ شدہ ''میگا فائر‘‘ بن گئی۔ماحولیاتی اور جنگلاتی آگ کے ماہرین کے مطابق ان آگوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ براہِ راست ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔غیر معمولی طور پر زیادہ بارش والا موسمِ سرما اور اس کے بعد ریکارڈ کی گرم ترین اور خشک ترین بہار نے بڑی مقدار میں مردہ اور خشک نباتاتی مواد پیدا کیا، جس نے آگ کو بھڑکنے میں ایندھن کا کام دیا۔اسی طرح رپورٹ میں آئیبیریا (اسپین اور پرتگال) میں لگنے والی جنگلاتی آگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو ریکارڈ توڑ شدید درجہ حرارت کے باعث بھڑک اٹھیں۔شدید گرمی کی لہروں کے کئی ہفتوں تک جاری رہنے، جن کے دوران درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، اور اس کے ساتھ کم نمی نے آگ بھڑکنے کیلئے انتہائی خطرناک حالات پیدا کر دیے۔ آگ کے واقعات نے اسپین میں 1,480 مربع میل اور پرتگال میں ایک ہزار مربع میل رقبہ جلا ڈالا، جو ملک کے کل رقبے کا تقریباً تین فیصد بنتا ہے۔ابتدائی اندازوں کے مطابق ان آگ کے واقعات کے نتیجے میں 810 ملین ڈالرکا براہِ راست معاشی نقصان ہوا۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی نے اس واقعے کے رونما ہونے کے امکانات کو تقریباً 40 گنا بڑھا دیا اور آگ لگنے کے حالات کی شدت میں لگ بھگ 30 فیصد اضافہ کیا۔
رپورٹ میں جاپان میں شدید موسمی حالات کے ایک سال کا بھی تجزیہ کیا گیا، جہاں ملک کو یکے بعد دیگرے برفانی طوفانوں اور شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔سال کے آغاز میں غیر معمولی طور پر شدید برفانی طوفانوں اور تیز ہواؤں کے باعث 12 افراد ہلاک ہوئے اور متعدد گھر تباہ ہو گئے، جس کے بعد تاریخ کی سب سے زیادہ گرم گرمیوں کا موسم آیا، جس میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 2.36 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلی عالمی موسمی نظام کو متاثر کر رہی ہے، یہ کیفیت آئندہ مزید بگڑتی جائے گی۔