2050 کی دنیا سائنس فکشن سے حقیقت تک
اسپیشل فیچر
رواں صدی کے پہلے پچیس برس میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جس تیزی سے بدلا ہے اس کی مثال ماضی میں مشکل سے ملتی ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر انٹرنیٹ ڈائل اَپ کنکشن کے ذریعے استعمال ہوتا تھا، موبائل فون محض کال اور میسج تک محدود تھے اور مصنوعی ذہانت ایک تصوراتی اور خیالی چیز سمجھی جاتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور نینو ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2050ء تک دنیا یکسر مختلف ہو گی۔
انسان اور مشین کا ملاپ
2050ء کی دنیا میں انسان اور مشین کے درمیان فرق خاصا دھندلا ہو سکتا ہے۔ نینو ٹیکنالوجی جو انتہائی باریک سطح پر انجینئرنگ کا نام ہے، پہلے ہی ہماری جیب میں موجود سمارٹ فون کے اندر کام کر رہی ہے۔ مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی انسانی جسم کے اندر استعمال ہونے لگے گی۔ ماہرین کے مطابق نینو امپلانٹس کے ذریعے نہ صرف انسانی صحت کی مسلسل نگرانی ممکن ہو گی بلکہ ادویات کو براہ راست متاثرہ عضو تک پہنچایا جا سکے گا۔سائبرنیٹکس کے ماہرین کا خیال ہے کہ دماغ میں لگائے جانے والے الیکٹرانک امپلانٹس دماغی بیماریوں جیسے شیزوفرینیا کے علاج میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مستقبل میں صرف دواؤں پر انحصار کم ہو سکتا ہے اور براہِ راست دماغی تحریک (Deep Brain Stimulation) ایک متبادل علاج بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے تجربات بھی ممکن ہوں گے جن میں انسان اپنے دماغ کے ذریعے دور مشینوں یا روبوٹس کو کنٹرول کر سکے گا۔
ڈیجیٹل ٹوئنز
2050ء کی ایک حیران کن پیش رفت ڈیجیٹل ٹوئن( Twins) کا تصور ہے۔ اس سے مراد کسی انسان کا ڈیجیٹل یا ورچوئل نمونہ ہے جو رئیل ٹائم ڈیٹا سے مسلسل اَپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ہر انسان کے کئی ڈیجیٹل ٹوئنز ہوں گے، جن پر مختلف ادویات، غذائی منصوبے یا طرزِ زندگی آزما کر یہ دیکھا جا سکے گا کہ ان کا اصل جسم پر کیا اثر پڑے گا۔ اس طرح علاج سے پہلے اثرات کا اندازہ ممکن ہو سکے گا۔
مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ
مصنوعی ذہانت آنے والے وقت میں انسانی معاشرے کا مرکزی ستون بن سکتی ہے۔ تاہم AI کی اگلی بڑی جست کوانٹم کمپیوٹنگ کے ذریعے متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے بیس برسوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ عملی طور پر مفید شکل اختیار کر سکتی ہے جس سے ادویات کی تیاری، موسمیاتی ماڈلز اور سائنسی تحقیق میں انقلاب آ جائے گا۔
تعلیم کا نیا تصور
2050 ء میں تعلیم کا نظام موجودہ نصابی ڈھانچے سے یکسر مختلف ہو گا۔ ماہرین کے مطابق کتابوں کی جگہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اساتذہ لیں گے جو ہر طالب علم کی ذہنی صلاحیت، حیاتیاتی ساخت اور سیکھنے کے انداز کے مطابق مواد فراہم کریں گے۔ تعلیم ورچوئل اور حقیقی دنیا کے امتزاج سے حاصل کی جائے گی جہاں طلبہ محض پڑھیں گے نہیں بلکہ عملی طور پر تجربات کا حصہ بنیں گے۔ اس طرح تعلیم زیادہ ذاتی، لچکدار اور مؤثر ہو گی۔
خودکار گاڑیاں
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ خودکار یا ڈرائیور لیس گاڑیاں عام ہو جائیں گی جس سے ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔ یہ گاڑیاں آپس میں رابطے کے ذریعے نہایت کم فاصلے پر تیز رفتاری سے سفر کر سکیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص شاہراہوں پر 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی محفوظ ہو سکتی ہے، کیونکہ انسانی غلطی کا عنصر ختم ہو جائے گا۔
خلا میں صنعت اور چاند پر آبادی
2050ء تک خلائی دوڑ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چاند پر قابلِ رہائش بیس قائم ہو جائے گی جبکہ کچھ صنعتیں مکمل طور پر خلا میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر ادویات سازی میں مائیکرو گریوٹی ماحول فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بننے والے کرسٹل زمین کے مقابلے میں زیادہ معیاری ہوتے ہیں۔
سائنس فکشن سے حقیقت تک
ماضی کی کئی سائنس فکشن فلمیں جیسے Minority Report مستقبل کی ٹیکنالوجی کی جھلک دکھا چکی ہیں۔ آج ان میں دکھائے گئے کئی تصورات حقیقت بنتے نظر آ رہے ہیں جیسا کہ اشاروں سے چلنے والی سکرینیں اور پیشگی ڈیٹا پر مبنی فیصلے۔ اگرچہ کچھ ماہرین مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سائنس نے انسانیت کو بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔