نمک پر مبنی بیٹریاں
اسپیشل فیچر
کیا انقلاب برپا کر سکتی ہیں؟
دنیا توانائی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ماحول دوست ذرائع، الیکٹرک گاڑیاں (EVs) اور قابلِ تجدید توانائی مستقبل کی بنیاد بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ توانائی کو محفوظ اور کم لاگت میں کیسے ذخیرہ کیا جائے۔ گزشتہ چند برسوں میں لیتھیم آئن بیٹریاں اس میدان میں سب سے کامیاب ٹیکنالوجی ثابت ہوئی ہیں لیکن اب سائنسدانوں اور صنعتکاروں کی توجہ ایک نئی ایجاد یعنی سوڈیم آئن (نمک پر مبنی) بیٹریوں کی طرف مبذول ہو رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی اپنی موجودہ رفتار سے ترقی کرتی رہی تو آنے والے برسوں میں یہ الیکٹرک گاڑیوں اور بجلی کے ذخیرے کے نظام میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔
سوڈیم آئن بیٹری کیا ہے ، کیسے کام کرتی ہے؟
سوڈیم آئن بیٹری میں توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے لیتھیم کے بجائے سوڈیم آئن استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوڈیم ایک ایسا عنصر ہے جو زمین پر بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے اور عام نمک سمیت مختلف قدرتی ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ان بیٹریوں کا بنیادی اصول لیتھیم آئن بیٹریوں سے ملتا جلتا ہے۔ چارج ہونے کے دوران سوڈیم آئن ایک الیکٹروڈ سے دوسرے الیکٹروڈ کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور ڈسچارج کے وقت یہی عمل الٹی سمت میں ہوتا ہے جس سے برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ دونوں ٹیکنالوجیز کا بنیادی طریقہ کار ایک جیسا ہے لیکن سوڈیم کی فراوانی اور کم قیمت اسے معاشی اعتبار سے زیادہ پرکشش بناتی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کیلئے فوائد
سوڈیم آئن بیٹریوں کا سب سے بڑا فائدہ ان کی نسبتاً کم قیمت ہے۔ چونکہ سوڈیم دنیا کے تقریباً ہر خطے میں دستیاب ہے اس لیے اس کی فراہمی میں قلت کا خطرہ کم ہے۔ اس کے برعکس لیتھیم کے ذخائر چند ممالک تک محدود ہیں جس کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ایک اور اہم خوبی ان کی بہتر حفاظتی خصوصیات ہیں۔ سوڈیم آئن بیٹریوں میں آگ لگنے یا زیادہ گرم ہونے کا خطرہ کئی روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں کم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بجلی کے بڑے سٹوریج نظام کے لیے موزوں تصور کیا جا رہا ہے جہاں ہزاروں بیٹریاں ایک ہی جگہ نصب ہوتی ہیں۔قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً شمسی اور وِنڈ بجلی موسم کے مطابق پیدا ہوتی ہے۔ جب پیداوار زیادہ ہو تو اضافی بجلی کو محفوظ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت استعمال کی جا سکے۔ کم قیمت اور بہتر استحکام کی وجہ سے سوڈیم آئن بیٹریاں اس مقصد کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن ابھی کچھ اہم چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کی کثافت (Energy Density) ہے۔ سوڈیم آئن بیٹریاں فی کلوگرام لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں کم توانائی ذخیرہ کرتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک ہی وزن میں ان سے کم فاصلہ طے کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ فی الحال لمبے فاصلے طے کرنے والی مہنگی الیکٹرک کاروں میں لیتھیم آئن بیٹریاں زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم شہری استعمال، چھوٹی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، بسوں اور تجارتی گاڑیوں کے لیے سوڈیم آئن بیٹریاں مؤثر اور کم خرچ متبادل بن سکتی ہیں۔اس کے علاوہ نئی ٹیکنالوجی ہونے کی وجہ سے اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار، معیار اور طویل مدتی کارکردگی پر ابھی تحقیقات جاری ہے۔ جیسے جیسے پیداوار بڑھے گی توقع ہے کہ ان کی کارکردگی اور قیمت میں مزید بہتری آئے گی۔
عالمی امکانات اور مستقبل
دنیا کی کئی بڑی بیٹری ساز کمپنیاں سوڈیم آئن بیٹریوں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ چین، یورپ اور دیگر ممالک میں متعدد کارخانے قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ کئی گاڑیاں بنانے والی کئی کمپنیاں بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنی مستقبل کی مصنوعات میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ دس برسوں میں سوڈیم آئن بیٹریاں خاص طور پر گرڈ سٹوریج، شمسی توانائی کے منصوبوں، کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں اور عوامی ٹرانسپورٹ میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف بجلی کے ذخیرے کی لاگت کم ہوگی بلکہ صاف توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔پاکستان جیسے ممالک جہاں شمسی توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کم قیمت اور محفوظ بیٹریاں دستیاب ہو جائیں تو گھروں، صنعتوں اور دیہی علاقوں میں سولر انرجی کو زیادہ مؤثر انداز میں ذخیرہ کیا جا سکے گا جس سے بجلی کے بحران میں کمی آ سکتی ہے۔اگرچہ سوڈیم آئن بیٹریاں ابھی اپنی ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ان کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ اگرچہ یہ فوری طور پر لیتھیم آئن بیٹریوں کی مکمل جگہ نہیں لے سکتیں تاہم کم قیمت، بہتر دستیابی، زیادہ تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ان کی افادیت انہیں مستقبل کی اہم ترین بیٹری ٹیکنالوجیز میں شامل کرتی ہے۔ آنے والے برسوں میں ممکن ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو جہاں الیکٹرک گاڑیوں، گھریلو توانائی کے نظام اور بجلی کے بڑے ذخیرے میں نمک پر مبنی بیٹریاں مرکزی کردار ادا کر رہی ہوں۔