آج تم یاد بے حساب آئے!مسعود رانا سُروں میں ڈھلی خوبصورت آواز (1995-1938ء)
اسپیشل فیچر
٭... 9 جون 1938ء کو سندھ کے شہر میرپور خاص میں پیدا ہوئے، پورا نام مسعود احمد رانا تھا۔
٭...1955ء میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے گانا شروع کیا۔
٭...60ء کے عشرے میں میوزک بینڈ بنایا، جس میں اداکار ندیم اور اخلاق احمد بھی شامل تھے۔
٭...1962ء میں فلم ''انقلاب‘‘ سے فلمی گیت گانے کی خواہش پوری ہوئی۔
٭...ہلکے پھلکے رومانوی گیت ہوں، المیہ دھنیں ہوں، شوخ یا پھر لمبی تانیں وہ ہر قسم کے گیت گانے میں مہارت رکھتے تھے۔
٭...پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں جنہوں نے اردو اور پنجابی فلموں اور گیتوں کی سینچریاں بلکہ ڈبل سینچریاں بنائیں۔
٭... فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے، جنھوں نے 600 سے زائد فلموں کیلئے نغمہ سرائی کی۔
٭... پہلی فلم ''انقلاب‘‘ سے لے کر اپنی آخری فلم ''سناٹا‘‘ تک فلمی صنعت کی ضرورت بنے رہے۔
٭...34سالہ کریئر میں ایک بھی سال ایسا نہیں گزرا جب ان کی کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔
٭...ان کی بے مثل آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے انھیں ''پاکستانی رفیع‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔
٭...منفرد لہجے کے حامل اس گلوکار نے مشکل طرز کے گانے بھی ریکارڈ کرائے جو سننے والوں کو آج بھی اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔
٭...ان کے گیتوں سے سجی فلموں میں ''آئینہ، دھڑکن، مجاہد، نائلہ، کون کسی کا، بھیّا، سنگ دل، پاک دامن، احساس، دامن اور چنگاری، میرا ماہی، مرزا جٹ، دھی رانی،دل میرا دھڑکن تیری، خواب اور زندگی،چراغ کہاں روشنی کہاں، ہمراہی، بدنام‘‘ نمایاں ہیں۔
٭... تین موسیقاروں کے ساتھ سو، سو سے زائد گیت بھی گائے، جن میں بابا جی اے چشتی، ایم اشرف اور وجاہت عطرے شامل تھے۔
٭...دنیائے موسیقی کا یہ روشن ستارہ 4 اکتوبر1995ء کو غروب ہو گیا۔
حمد،نعت ، قوالی
٭...مشکل میں سب نے تجھ کو پکارا، پروردگارا
٭...وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے
٭...کرم کی اک نظر ہم پر خدارا، یا رسول اللہﷺ
٭...مدینے والے کو میرا سلام کہہ دینا
٭...مولا تیرا کرم ہے ، ہمیں مصطفیﷺ ملے
٭...داتا ،میرے، جھولی بھر دے، میں سوالی تیرے در کا
ملی نغمے
٭...ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ
٭...سوہنی دھرتی، اللہ رکھے، قدم قدم آباد تجھے
٭...ساتھیو، مجاہدو، جاگ اْٹھا ہے سارا وطن
٭...اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں
٭...اے وطن، اسلام کی امید گاہ آخری، تجھ پر سلام
مقبول گیت
٭...تمہی ہو محبوب میرے،میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں
٭...ٹانگے والا خیر منگدا
٭...عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لکان لئی، سجناں نے بوہے اگے چک تان لئی
٭...تیری یاد آگئی، غم خوشی میں ڈھل گئے
٭...برا مان کر کہاں چل دیئے،
٭...حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتا ہے
٭...دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری
٭...میرے محبوب تجھے پیار نبھانا ہوگا
٭...اک سانولی سی لڑکی میرے دل کو بھا گئی
٭...نہ جا میرے دلربا، سن لے دل کی صدا