بے زبان مخلوق کے حقوق کا عالمی دن
اسپیشل فیچر
دنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے
دنیا بھر میں ہر سال 4 اکتوبر کو جانوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانوں میں جانوروں کے حقوق، ان کے تحفظ، فلاح و بہبود اور قدرتی ماحول میں ان کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ جانور قدرتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور زمین پر زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان صدیوں سے مختلف جانوروں سے خوراک، لباس، زراعت، نقل و حمل اور دیگر ضروریات کیلئے فائدہ اٹھاتا آیا ہے، اس لیے ان کے ساتھ حسن سلوک اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا انسانی معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سال یہ دن ''ان کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھئے‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔
جانوروں کا عالمی دن پہلی مرتبہ 1925ء میں جرمنی کے شہر برلن میں منایا گیا تھا۔ بعدازاں یہ دن دنیا کے مختلف ممالک میں جانوروں کی فلاح و بہبود کیلئے شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ 4اکتوبر کا انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ مسیحی روایت میں جانوروں اور قدرتی ماحول کے سرپرست سمجھے جانے والے سینٹ فرانسس آف اسیسی سے منسوب دن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس دن کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور آج مختلف ممالک میں جانوروں کے تحفظ، جنگلی حیات اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
جانوروں کی دنیا انسانوں سے کہیں زیادہ وسیع اور متنوع ہے۔ جنگلات، پہاڑوں، صحراؤں، دریاؤں اور سمندروں میں لاکھوں اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ہر نوع قدرتی ماحول میں ایک مخصوص کردار ادا کرتی ہے۔ شہد کی مکھیاں اور تتلیاں پودوں کی بارآوری میں مدد دیتی ہیں، پرندے بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں جبکہ بہت سے جانور قدرتی خوراکی سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔ کسی ایک نوع کی تعداد میں غیر معمولی کمی بھی پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
بدقسمتی سے انسانی سرگرمیوں کے باعث دنیا کے متعدد جانوروں کو بقا کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، قدرتی مسکن کی تباہی، غیر قانونی شکار، آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت نے کئی انواع کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بعض جانوروں کی نسلیں معدوم ہو چکی ہیں جبکہ کئی دیگر معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں بہت سے جانوروں کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔
شہری علاقوں میں بھی جانوروں کے ساتھ رویہ معاشرے کی اخلاقی تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ پالتو جانوروں کو مناسب خوراک، صاف پانی، محفوظ رہائش اور علاج کی سہولت فراہم کرنا ان کے مالک کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آوارہ کتوں اور بلیوں کے ساتھ تشدد کے بجائے انسانی اور سائنسی طریقوں سے ان کی تعداد کو منظم کیا جانا چاہیے۔ زخمی یا بیمار جانور کو تکلیف پہنچانے کے بجائے متعلقہ اداروں یا ماہرین حیوانات سے مدد حاصل کرنا زیادہ ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں مخلوقات خدا کے ساتھ رحم، شفقت اور ذمہ داری کا درس ملتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن میں جانوروں کے ساتھ رحم کرنے کو اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے جانوروں کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔
جانوروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف انسانوں کیلئے نہیں۔ قدرت نے تمام جانداروں کیلئے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے جس میں ہر مخلوق کا اپنا مقام اور کردار ہے۔ جانوروں کے قدرتی مسکن کا تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام، جنگلی حیات کے قوانین پر عمل درآمد اور عوام میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر انسان ترقی کے ساتھ رحم، ذمہ داری اور ماحول دوستی کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو نہ صرف جانور محفوظ رہیں گے بلکہ ہماری اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک متوازن اور صحت مند دنیا برقرار رہ سکے گی۔