آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


یورپی یونین کیلئے نوبیل امن انعام
12اکتوبر 2012ء میں یورپی یونین کو براعظم یورپ میں امن، مفاہمت، جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ کیلئے نوبیل امن انعام سے نوازا گیا۔ نوبیل کمیٹی نے قرار دیا کہ یورپی یونین نے کئی دہائیوں تک یورپ میں امن اور استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ مفادات کو فروغ دے کر ماضی کی دشمنیوں کو کم کرنے میں بھی یونین نے نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ انعام یورپی اتحاد کی امن کیلئے کوششوں کا اعتراف تھا۔
جہاز کا ایئر کنڈیشننگ سسٹم
12 اکتوبر 1933ء کو امریکی انجینئروں نے ایئرلائنز کیلئے ایئر کنڈیشننگ سسٹم متعارف کرایا۔اس نظام کا مقصد فضائی سفر کو زیادہ آرام دہ اور محفوظ بنانا تھا، کیونکہ اس زمانے میں ہوائی جہازوں کے اندر درجہ حرارت کنٹرول کرنا نہایت مشکل ہوتا تھا۔ ایئر کنڈیشننگ سسٹم کی بدولت مسافروں کو پہلی بار ایک مستقل اور معتدل درجہ حرارت والا ماحول فراہم کیا گیا۔
مصر اور سعودیہ معاہدہ
12اکتوبر 1945ء کا دن مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب مصر اور سعودی عرب کے درمیان دوستی اور باہمی تعاون کا معاہدہ طے پایا۔یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد اس دور میں ہوا جب عالمی سیاست میں نئے اتحاد بن رہے تھے ۔اس معاہدے کا مقصد دونوں عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا تھا، تاکہ عرب دنیا میں اتحاد و اتفاق کو فروغ دیا جا سکے۔
ہیرا کلیون زلزلہ
12اکتوبر1856ء کو ہیرا کلیون کا تباہ کن زلزلہ آیا۔جس کی شدت 7.7 سے 8.3 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکے کئی ممالک میں محسوس کئے گئے جن میں اٹلی اور شمالی افریقہ بھی شامل ہے۔یونانی جزیرہ کریٹ شدید متاثر ہوا اور ہیراکلیون شہر سے 500سے زائد لاشیں نکالی گئیں۔شدید جھٹکوں کی وجہ سے مالٹا میں ٹاور گر کر تباہ ہو گیاجو1638ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔
کولمبس ڈے
12اکتوبرکو امریکہ کے بیشتر حصوں میں ''کولمبس ڈے ‘‘منایا جاتا ہے اور اس دن وہاں عام تعطیل ہوتی ہے۔یہ دن سرکاری طور پر12اکتوبر1492ء کو کرسٹو فر کولمبس کی امریکہ آمد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ کرسٹوفر کولمبس جینوویس میں پیدا ہونے والا ایکسپلورر تھا۔ کولمبس کا ہسپانوی بحری جہاز سانتا ماریا، نینا اور لا پنٹا پر نئی دنیا کا پہلا سفر تقریباً تین ماہ کا تھا۔
پیروٹرک حادثہ
پیرو میں ایک کارگو ٹرک جس میں 14بچے سمیت51افراد سوار تھے ،200میٹر اونچی چٹان سے گر گیااور اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔یہ حادثہ 12 اکتوبر 2013ء کو پیش آیا اور اسے پیرو کی تاریخ میں مہلک ترین حادثوں میں شما ر کیا جاتا ہے۔ٹرک جسے عارضی بس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران ڈرائیور کا اس پر کنٹرول نہیں رہا اور ٹرک بے قابو ہوتے ہوئے چٹان سے دریا میں جا گرا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
217 سال بعد نپولین کا راز فاش

217 سال بعد نپولین کا راز فاش

مصنوعی ذہانت نے صدیوں پرانے پراسرار خط کا معمہ حل کر دیاتاریخ کے اوراق میں بعض راز ایسے ہیں جو صدیاں گزرنے کے باوجود انسان کیلئے معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک پراسرار راز کا تعلق فرانس کے مشہور شہنشاہ نپولین بوناپارٹ سے ہے، جس نے 1809ء میں ایک ایسا خط تحریر کیا جس کا متن طویل عرصے تک ماہرین کیلئے ناقابلِ فہم رہا۔ اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے 217 سال پرانے اس خط کے پوشیدہ الفاظ پڑھنے اور اس کے پیغام کو سمجھنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ نپولین بوناپارٹ کا تحریر کردہ یہ خط 1809ء میں نپولین کے سوتیلے بیٹے یوجین نے فرانسیسی جنرل آگست دی مارمون کو بھیجا تھا۔ یوجین اس وقت اٹلی کے نائب بادشاہ کے منصب پر فائز تھا۔خط کی پہلی سطر فرانسیسی زبان میں لکھی گئی ہے، تاہم اس کے بعد آنے والی 24 سطروں میں دو ہندسوں کے اعداد، بکھرے ہوئے حروف اور خود ساختہ علامتیں استعمال کی گئی ہیں۔اگرچہ یہ خط اصل میں ایک ایسی کلید (Key) کے ساتھ بھیجا گیا ہوگا جس کی مدد سے اس کے رموز کو سمجھا جا سکتا تھا، لیکن وہ کلید طویل عرصہ قبل گم ہو چکی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ خط کا متن ایک معمہ بنا رہا۔ اب سائبر سکیورٹی کمپنی '' SentinelO ne‘‘ کے انجینئر کارٹر چرچ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس خفیہ کوڈ کو توڑ لیا ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جی پی ٹی آسٹرا کی مدد سے نپولین کے ایک جنرل کے نام لکھے گئے ایسے ناقابلِ حل خفیہ کوڈ کو توڑ دیا، جو 217 سال سے پڑھا نہیں جا سکا تھا۔ اس کامیابی کی خاص بات دراصل کوڈ توڑنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ Astra نے صرف ایک تصویر اور دیے گئے مقصد کی بنیاد پر مکمل ملٹی ماڈل عمل چھ گھنٹے میں مکمل کر لیا۔16 مارچ 1809ء کو نپولین نے پیرس سے اپنے سوتیلے بیٹے یوجین کے نام خط لکھا اور اس سے کہا کہ وہ ایک خط آگست دی مارمون کو پہنچائے۔ مارمون نپولین کے دوست تھے اور ان کی فوجیں بحیرہ ایڈریاٹک کے دوسری جانب ڈالمیشیا میں تعینات تھیں۔چونکہ مارمون کی فوج اور فرانس کی دیگر تمام افواج کے درمیان آسٹریا کا علاقہ حائل تھا، اس لیے جنگ چھڑنے کی صورت میں وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کر سکتے تھے۔خط کی پہلی سطر فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی، جس کا مفہوم تھا: ''جنرل مارمون، آپ کو رواں ماہ کی 8، 14 اور 20 تاریخ کو میرے بھیجے گئے خطوط موصول ہو چکے ہوں گے‘‘۔تاہم خط کا باقی حصہ خفیہ کوڈ میں تحریر تھا، اس لیے اس کا مفہوم طویل عرصے تک واضح نہ ہو سکا۔اس کوڈ کو توڑنے کیلئے مسٹر چرچ نے ''جی پی ٹی 6 آسٹرا‘‘ سے مدد لی، جو اوپن اے آئی کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے۔چھ گھنٹے کی مسلسل کارروائی کے دوران اے آئی ماڈل خط کے پیغام کو ڈی کوڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔چرچ نے ایک بلاگ پوسٹ میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ Astra نے تصویر کو قطاروں میں تقسیم کیا، علامات کو پڑھا، پھر یہ تعین کیا کہ ہاتھ سے بنائے گئے 175 مختلف نشانات میں سے کون سے دراصل ایک ہی علامت کو دوبارہ لکھنے کی صورتیں ہیں، اور اس کے بعد ہی خفیہ کوڈ توڑنے کا عمل شروع کیا۔ ڈی کوڈ کیے گئے خط میں اس وقت موجود فرانس اور اس کے اتحادیوں کی دیگر تمام فوجوں کے مقامات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور مارمون کو ان کی الگ تھلگ پوزیشن سے ''مرعوب نہ ہونے‘‘ کی تاکید کی گئی ہے۔چرچ کے مطابق، خود اس خفیہ کوڈ کو توڑنا دراصل زیادہ مشکل نہیں تھا۔ انسانوں کو یہ کام مکمل کرنے میں مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا، جبکہ اے آئی نے صرف چھ گھنٹوں میں یہ کام مکمل کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ ''خفیہ کوڈ خود زیادہ مشکل نہیں ہے اور اگر خفیہ تحریروں کے ماہرین کو مناسب وقت اور توانائی میسر ہوتی تو وہ اسے آسانی سے حل کر سکتے تھے۔ لیکن خط کو نقل کرنے، علامات کو ترتیب دینے اور درج کرنے، ترجمہ کرنے اور پھر کوڈ توڑنے کا پورا عمل پیچیدہ اور مختلف شعبوں کے علم کا متقاضی ہے۔ہر شعبے میں ایسے بہت سے مخصوص اور حل طلب مسائل موجود ہیں جن پر ماہرین کے پاس کام کرنے کیلئے مناسب وقت اور وسائل نہیں ہوتے۔اس معاملے سے حاصل ہونے والا اہم سبق یہ ہے کہ ایسے حل طلب مسائل کی فہرست کو مختصر کرنے والے افراد مستقبل میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہوں گے جو متعلقہ شعبے کے ماہر نہ ہونے کے باوجود محض تجسس کی وجہ سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔نپولین کا ڈی کوڈ کیا گیا پیغامان خطوط میں وہ احکامات اور ہدایات شامل تھیں جو جلالت مآب نے مجھے آپ تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ میں آج ہی آپ کو فرانسیسی اور اتحادی افواج کی تعیناتی سے آگاہ کرنے کیلئے بے تاب ہوں۔ ڈیوک آف ڈانزگ 40 ہزار فوجیوں کے ساتھ میونخ اور پاساؤ پر قابض ہے۔ شہزادہ پونیاتووسکی 30 ہزار پولش فوجیوں کے ساتھ دریائے وسٹولا کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے اور کراکوف کو خطرہ لاحق ہے۔ شہزادہ پونتے کورفو سیکسونی کی فوج کی کمان کر رہا ہے، جو ڈریسڈن کے سامنے خیمہ زن ہے، جبکہ ڈیوک آف آؤرشٹیڈ 80 ہزار فرانسیسی فوجیوں کے ساتھ بائروئتھ میں موجود ہے۔ ڈیوک آف ریولی 60 ہزار فوجیوں کی کمان کر رہا ہے جو اولم اور ڈوناوورتھ میں تعینات ہیں۔ جنرل اوڈینو 40 ہزار فوجیوں پر مشتمل اشرافیائی دستے کے ساتھ آگسبرگ اور دریائے لیک کے اطراف موجود ہے۔روسی آسٹریا کے خلاف پیش قدمی کر رہے ہیں اور آج فریولی کی فوج کی تعداد 80 ہزار ہے۔ اس میں ڈالمیشیا کے فوجی دستے بھی شامل کرلیں، جبکہ عقب میں ہر جگہ منظم کیے جانے والے اضافی دستوں کو شمار نہ کریں، تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آسٹریا پر بیک وقت ہر جانب سے حملہ ہونے والا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی تباہی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب آپ کو پیش قدمی کا حکم ملے تو چند فوجیوں یا جمع ہونے والے ہجوم کو دیکھ کر خود کو مرعوب نہ ہونے دیں۔ میں اب بھی آپ کی خبروں کا بے صبری سے منتظر ہوں۔ آسٹریائی فوجیں بدستور لائباش، کلاگنفرٹ، ولاخ اور سالزبرگ میں موجود ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لنز کے راستے ٹائرول کو خطرے میں ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاہم ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ روسیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے گالیشیا میں فوجیں بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کی یہ تعیناتیاں ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ کا باقاعدہ اعلان ہونے سے پہلے ہی ان کی جنگی حکمت عملی متاثر ہو چکی ہے۔ تاہم ابھی کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ ملیشیا کو فعال خدمت کیلئے طلب کر لیا گیا ہے اور اگرچہ عوام میں جوش پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں، تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان بھرتیوں سے فوج کو خاطر خواہ کمک حاصل ہوگی۔

آرتھرائٹس: خاموش تکلیف، بڑا مسئلہ

آرتھرائٹس: خاموش تکلیف، بڑا مسئلہ

''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘ ہر سال 12 اکتوبر کو جوڑوں کے درد کیخلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہےجوڑوں کا درد، اکڑاؤ اور سوجن اکثر بڑھتی عمر کی معمولی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کر دی جاتی ہے، حالانکہ آرتھرائٹس ایسی بیماریوں کا مجموعہ ہے جو انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ ہر سال 12اکتوبر کو عالمی یومِ آرتھرائٹس منانے کا مقصد اس مرض اور دیگر ریمیٹک و عضلاتی بیماریوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق آرتھرائٹس صرف بزرگوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف عمروں کے افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 12اکتوبر کو آرتھرائٹس یا جوڑوں کے درد کے خلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں اس مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور صحت کے اداروں کو اس بیماری کے تدارک کیلئے اقدامات پر آمادہ کرنا ہے۔ اس سال یہ دن ''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں لاکھوں افراد جوڑوں کے درد کے مسائل سے دوچار ہیں، جوڑوں کے درد کے بارے میں عالمی مہم 1996ء میں ''آرتھرائٹس اینڈ ریو میٹزل انٹرنیشنل‘‘ تنظیم کی جانب سے شروع کی گئی تھی، اس کے بعد سے ہر سال ورلڈ آرتھرائٹس ڈے منایا جاتا ہے۔آرتھرائٹس محض ایک عارضی تکلیف نہیں بلکہ ایک ایسا موذی مرض ہے جو وقت کے ساتھ جوڑوں کو متاثر کر کے انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری سے متاثر ہیں اور ان میں اکثریت خواتین اور عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آگاہی کی کمی، بروقت تشخیص کا فقدان اور علاج کے مہنگے اخراجات اس مرض کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے آرتھرائٹس کا عالمی دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جوڑوں کی بیماری کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ ابتدائی توجہ اور بروقت علاج ہی صحت مند زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔آرتھرائٹس دراصل کوئی ایک مخصوص بیماری نہیں بلکہ 200 سے زائد اقسام کے عوارض کا مجموعہ ہے جو جسم کے جوڑوں، ہڈیوں، عضلات اور بافتوں کو متاثر کرتے ہیں۔سب سے عام اقسام میں ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ (Osteoarthritis) اور ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ (Rheumatoid Arthritis) شامل ہیں۔ ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ عموماً بڑھتی عمر، زیادہ وزن یا جسمانی دباؤ کے باعث ہوتی ہے، جبکہ ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ ایک خودکار مدافعتی بیماری (Autoimmune Disorder) ہے جس میں جسم کا دفاعی نظام خود اپنے جوڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 35کروڑ افراد آرتھرائٹس کے کسی نہ کسی درجے میں مبتلا ہیں۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، ہر چوتھا بالغ شخص کسی نہ کسی مرحلے پر جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہوتا ہے، جبکہ خواتین میں یہ مرض مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ پایا جاتا ہے۔خاص طور پر 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں رمیٹائیڈ آرتھرائٹس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کی تشخیص میں تاخیر، مناسب علاج کی کمی اور معاشرتی عدم آگاہی کی وجہ سے مریض اکثر دیر سے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچتا ہے۔پاکستان میں بھی آرتھرائٹس کا مرض عام ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ملک کی بالغ آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ کسی نہ کسی درجے میں جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہے۔خاص طور پر خواتین، گھریلو خواتین، مزدور طبقہ، اور بزرگ افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔پاکستان میں زیادہ تر لوگ ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لوگ اسے عام جسمانی درد یا تھکن سمجھ کر وقتی درد کش ادویات پر اکتفا کرتے ہیں، جس سے مرض مزید بڑھ جاتا ہے۔گرم و مرطوب موسم، غذائی کمی اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی بھی اس بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر جوڑوں میں مسلسل درد، سوجن یا سختی محسوس ہو تو فوراً ماہر امراضِ جوڑ سے رجوع کرنا چاہیے۔ تشخیص کیلئے عام طور پر خون کے ٹیسٹ، ایکس رے، یا ایم آر آئی کی مدد لی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرتھرائٹس کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن ابتدائی تشخیص، محتاط طرزِ زندگی، اور درست علاج سے مریض ایک فعال اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔آرتھرائٹس کے عالمی دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ''درد کو تقدیر نہیں سمجھنا چاہیے ،علاج، آگاہی اور امید سے بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے‘‘۔ اس دن مختلف ممالک میں آگاہی واکس، سیمینار، اور مفت طبی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو بیماری کی وجوہات، علامات اور علاج کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی تقریب کے طور پر نہیں بلکہ ایک عزمِ نو کے طور پر منائیں۔ آرتھرائٹس کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شعور، ہمدردی اور عمل ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔

چار سُو بازار

چار سُو بازار

تاشقند کی تہذیب و ثقافت کا آئینہوسطی ایشیا کی سرزمین صدیوں پرانی تہذیب، شاندار فن تعمیر، روایتی دست کاری اور رنگا رنگ ثقافتی ورثے کے حوالے سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس خطے کے قدیم بازار نہ صرف تجارت کے مراکز رہے ہیں بلکہ انہوں نے مختلف تہذیبوں، معاشرتی روایات اور انسانی میل جول کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں واقع چار سُو بازار بھی اسی تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ایک نمایاں علامت ہے، جہاں مشرقی معاشرت کی روایتی دلکشی، مقامی ذائقوں کی خوشبو اور صدیوں پرانی تجارتی روایات آج بھی زندہ دکھائی دیتی ہیں۔چار سُو بازار تاشقند کے قدیم اور معروف تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شہر کی مرکزی شاہراہ کے قریب، تاریخی مدرسہ ککلداش اور معروف ہوٹل چار سُو کے آس پاس واقع ہے۔ اپنی تاریخی اہمیت اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث یہ بازار مقامی باشندوں کے علاوہ سیاحوں کی بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ بازار کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا وسیع گنبد ہے، جس کی ساخت اور آرائش مشرقی فن تعمیر کی مہارت کا پتا دیتی ہے۔ گنبد کے اوپری حصے پر ہلکے فیروزی رنگ کی ٹائلوں سے بنائے گئے خوبصورت نقش و نگار عمارت کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ان بیل بوٹوں اور دلکش آرائشی نمونوں میں کاریگروں کی باریک بینی اور جمالیاتی ذوق نمایاں نظر آتا ہے۔بازار کی عمارت میں کشادگی، ترتیب اور روایتی تعمیراتی انداز کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اس کا گنبد خریداروں اور سیاحوں کو دور سے اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، جبکہ اندر داخل ہونے پر دکانوں کی ترتیب، اشیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کی چہل پہل ایک زندہ مشرقی بازار کا منظر پیش کرتی ہے۔چار سْو بازار کی اصل رونق اس کی دکانوں میں سجی اشیا ہیں۔ یہاں تازہ سبزیاں، پھل، گوشت، دودھ، دہی، پنیر اور روزمرہ استعمال کی دیگر غذائی مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔ مقامی کھانوں میں استعمال ہونے والے گرم مصالحوں کی خوشبو بازار کے ماحول کو مزید دلکش بنا دیتی ہے۔ تازہ تیار ہونے والے گرم نان، خالص شہد اور مختلف روایتی غذائی اشیا خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔بازار کے بالائی حصوں میں خشک میوہ جات کی دکانیں خصوصی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ کشمش، خشک خوبانیاں، بادام، اخروٹ اور پستہ مختلف ڈھیروں کی صورت میں سجے ہوتے ہیں۔ ان کی رنگا رنگی اور ترتیب دیکھنے والوں کو رک کر خریداری کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہاں آنے والے سیاح مقامی ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عزیزوں کیلئے روایتی تحائف بھی خرید سکتے ہیں۔چار سُو بازار محض پھلوں، سبزیوں اور غذائی اشیا کی خریداری تک محدود نہیں، بلکہ یہاں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق مصنوعات بھی دستیاب ہیں۔ بازار کے اندر اور اطراف میں بڑی تعداد میں دکانیں موجود ہیں، جہاں فرنیچر، ملبوسات، قالین، بچوں کے جھولے اور دیگر گھریلو اشیا فروخت ہوتی ہیں۔ شادی بیاہ کے روایتی ملبوسات، بالخصوص دلہا اور دلہن کے عروسی لباس، بھی خریداروں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔اگر کوئی سیاح مشرقی بازاروں کی حقیقی روح، مقامی لوگوں کے رہن سہن، روایتی ذائقوں اور ثقافتی ورثے کو ایک ہی جگہ دیکھنا چاہتا ہو تو چار سُو بازار اس کیلئے ایک دل چسپ مقام ہے۔ یہ بازار ماضی کی تجارتی روایات اور جدید شہری زندگی کے درمیان ایک خوبصورت رابطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چار سُو بازار تاشقند کی سیر کا محض ایک پڑاؤ نہیں، بلکہ ازبکستان کی تہذیب، ثقافت اور روزمرہ زندگی کو سمجھنے کا ایک منفرد تجربہ بھی ہے۔

طنز و مزاح:جنون لطیفہ

طنز و مزاح:جنون لطیفہ

اگرآپ کو کوئی کھانا بے حدمرغوب ہے جوچھڑائے نہیں چھوٹتا توتازہ واردان بساط خانساماں اس مشکل کوفوراً آسان کردیں گے۔ اشیائے خوردنی اورانسانی معدے کے ساتھ بھرپور تجربے کرنے کی جو آزادی باورچیوں کو حاصل ہے وہ نت نئی کیمیاوی ایجادات کی ضامن ہے۔ مثال کے طورپرہمیں بھنڈی بہت پسند ہے لیکن دس گھنٹے قبل یہ منکشف ہواکہ اس نبات تازہ کو ایک خاص درجہ حرارت پرپانی کی مقررہ مقدارمیں(جس کا علم صرف ہمارے خانساماں کوہے)میٹھی آنچ پرپکایا جائے تو اس مرکب سے دفتروں میں لفافے اوربد لگام افسروں کے منہ ہمیشہ کیلئے بند کیے جا سکتے ہیں۔انہی حضرت نے گزشتہ جمعرات کوسارا گھرسرپراٹھارکھا تھا۔ ہم نے بچی کوبھیجا کہ اس سے کہوکہ مہمان بیٹھے ہیں۔ اس وقت سل کھوٹنے کی ضرورت نہیں۔ اس نے کہلا بھیجا کہ ہم ان ہی مہمانوں کی تواضع کیلئے سل پر کبابوں کا قیمہ پیس رہے ہیں۔ تھوڑی دیربعد ہم نے کباب منہ میں رکھا تو محسوس ہوا گویا چٹ پٹا ریگ مال کھا رہے ہیں اور ہمیں رہ رہ کر میرصاحب پررشک آنے لگا کہ وہ مصنوعی بتیسی لگائے بے خبربیٹھے کھا رہے تھے اور ہماری طرح کرکرا محسوس کر کے لال پیلے نہیں ہوئے۔ صبح تک سب کو پیچش ہو گئی۔ صرف ہمیں نہیں ہوئی اورہمیں اس لیے نہیں ہوئی کہ ہم پہلے ہی اس میں مبتلا تھے۔یہ بات نہیں کہ خدانخواستہ ہم بیماری اورموت سے ڈرتے ہیں۔ ہم توپرانی چال کے آدمی ہیں۔ اس لیے نئی زندگی سے زیادہ خوف کھاتے ہیں۔ موت برحق ہے اور ایک نہ ایک دن ضرورآئے گی۔ بات صرف اتنی ہے کہ بلانے کیلئے ہم اپنی نیک کمائی میں سے پچاس ساٹھ روپے ماہوارخرچ نہیں کرناچاہتے۔ ہمیں کسی مرض ناشناس حکیم کے ہاتھوں مرنے پربھی چنداں اعتراض نہ ہو گا۔ لیکن ہم کسی صورت خانساماں کو بالاقساط روح قبض کرنے کا اختیار نہیں دینا چاہتے کہ یہ صرف حکیم ڈاکٹروں کاحق ہے۔بیماری کا ذکر چل نکلا تو اس قوی ہیکل خانساماں کا قصہ بھی سن لیجئے جس کوہم سب آغا کہاکرتے تھے (آغا اس لیے کہا کرتے تھے کہ وہ سچ مچ آغاتھے) ان کاخیال آتے ہی معدے میں مہتابیاں سی جل اٹھتی ہیں۔ تادم وداع ان کے کھانا پکانے اور کھلانے کا انداز وہی رہا جو ملازمت سے پہلے ہینگ بیچنے کا ہوتا تھا۔ یعنی ڈرا دھمکا کراس کی خوبیاں منوالیتے تھے۔ بالعموم صبح ناشتے کے بعد سوکراٹھتے تھے۔ کچھ دن ہم نے صج تڑکے جگانے کی کوشش کی لیکن جب انھوں نے نیند کی آڑمیں ہاتھا پائی کرنے کی کوشش کی توہم نے بھی ان کی اصلاح کاخیال ترک کر دیا۔ اس سے قطع نظر، وہ کافی تابعدار تھے۔ تابعدارسے ہماری مراد یہ ہے کہ کبھی وہ پوچھتے کہ چائے لاؤں؟، اورہم تکلفاًکہتے کہ 'جی چاہے تولے آو ورنہ نہیں‘ ۔توکبھی واقعی لے آتے اورکبھی نہیں بھی لاتے تھے۔ جس دن سے انھوں نے باورچی خانہ سنبھالا گھرمیں حکیم ڈاکٹروں کی ریل پیل ہونے لگی۔ یوں بھی ان کا پکایا ہوا کھانا دیکھ کرسر (اپنا) پیٹنے کوجی چاہتا تھا۔ ''اپنا‘‘ اس لیے کہ حالانکہ ہم سب ہی ان کے کھانوں سے عاجزتھے، لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان کوکیوں کرپرامن طریق سے رخصت کیاجائے۔ ان کونوکررکھنا ایسا ہی ثابت ہواجیسے کہ شیر ببر پر سوار ہو تو جائے لیکن اترنے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ایک دن ہم اسی ادھیڑبن میں لیٹے ہوئے گرم پانی کی بوتل سے پیٹ سینک رہے تھے اور دواپی پی کران کو کوس رہے تھے کہ سر جھکائے آئے اور خلاف معمول ہاتھ جوڑکربولے، ''خو! صاب! تم روز روز بیماراوتا اے۔ اس سے امارا قبیلہ میں بڑا رسوائی، خو، خانہ خراب اوتا اے‘‘، (صاحب! تم بار باربیمارہوتے ہو۔ اس سے ہمارے قبیلے میں ہماری رسوائی ہوتی ہے اور ہمارا خانہ خراب ہوتاہے۔) اس کے بعد انھوں نے کہا سنا معاف کرایا، اور بغیرتنخواہ لیے چل دیئے۔ایسی ہی ایک اوردعوت کا ذکرہے جس میں چند احباب اورافسران بالا دست مدعوتھے۔ نئے خانساماں نے جوقورمہ پکایا، اس میں شوربے کایہ عالم تھا کہ ناک پکڑکے غوطے لگائیں توشاید کوئی بوٹی ہاتھ آجائے۔ اکا دکا کہیں نظر آبھی جاتی تو کچھ اس طرح کہ ''صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں‘‘۔اوربساغنیمت تھا کیوں کہ مہمان کے منہ میں پہنچنے کے بعد، غالب کے الفاظ میں، یہ کیفیت تھی کہ ''کھینچتاہے جس قدراتنی ہی کھنچتی جائے ہے!‘‘دوران ضیافت احباب نے بکمال سنجیدگی مشورہ دیا کہ ''ریفریجریٹر خریدلو۔ روز روز کی جھک جھک سے نجات مل جائی گی۔ بس ایک دن لذیذ کھانا پکوالو اورہفتے بھرٹھاٹ سے کھاؤ اورکھلاؤ‘‘۔

’’جہنم کا دہانہ‘‘ بیدار؟

’’جہنم کا دہانہ‘‘ بیدار؟

خطرناک آتش فشاں کے نیچے میگما جمع ہونے لگازمین کے سینے میں چھپی آتش فشانی طاقت جب حرکت میں آتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ بظاہر خاموش دکھائی دینے والے آتش فشاں بھی اندر ہی اندر تباہ کن قوت جمع کرتے رہتے ہیں، جو کسی بھی وقت لاوے، راکھ اور زہریلی گیسوں کی صورت میں باہر نکل سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے اب ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والے خطرناک آتش فشاں کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے، جہاں زمین کی گہرائی میں پگھلی ہوئی چٹانوں، یعنی میگما، کے جمع ہونے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کی یہ تنبیہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ قدرت کی بعض خاموش قوتیں بیدار ہونے پر انسانی آبادیوں اور ماحول کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ''جہنم کا دہانہ‘‘ کہلانے والا آتش فشاں دوبارہ بیدار ہو سکتا ہے۔محققین نے فعال آتش فشاں ماسایا کے نیچے میگما کے دو ایسے ذخائر کے بھرنے کے شواہد دریافت کیے ہیں، جن میں پگھلی ہوئی چٹانیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہ آتش فشاں نکاراگوا کے دارالحکومت مناگوا سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں تقریباً 20 لاکھ افراد آباد ہیں۔دوسری جانب، ہر سال ہزاروں سیاح اس آتش فشاں کے خوف ناک نام کی وجہ بننے والے لاوے سے بھرے سانتیاگو دہانے کو دیکھنے کیلئے یہاں آتے ہیں۔آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ مسلسل تشویش کا باعث بنا رہتا ہے اور ایک نئی تحقیق میں زمین کے نیچے چھپی سرگرمی کے پریشان کن آثار سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ تحقیق میں کسی فوری خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''جہنم کے دہانے‘‘ کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ میگما کی زیر زمین سرنگوں اور ذخائر پر مشتمل اس نظام کو سمجھنا ان تبدیلیوں کی نشاندہی کیلئے انتہائی اہم ہے جو آتش فشاں کے ممکنہ طور پر پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور امریکی ریاست پنسلوانیا کی پین اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ لیزی جانسن نے کہا کہ ماسایا آتش فشاں کی سرگرمیوں اور ان سے وابستہ خطرات کو مکمل طور پر سمجھنا انتہائی اہم ہے۔''جہنم کا دہانہ‘‘ ایک غیر معمولی طور پر پیچیدہ آتش فشاں ہے، جو ایک دوسرے کے اندر واقع کئی دہانوں اور زمین میں بننے والے گڑھوں پر مشتمل ہے۔ یہ گڑھے میگما کے زیر زمین ذخائر خالی ہونے کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس پیچیدہ ساخت کے باعث زمین کی سطح کے نیچے موجود سرنگوں اور میگما کے ذخائر کے باہمی نظام کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ان معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہونے کا اشارہ دے سکتی ہیں۔ شہر کے اتنے قریب واقع سیاحتی مقام کیلئے یہ صورت حال سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔محترمہ جانسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماسایا آتش فشاں سے آخری مرتبہ 1772ء میں لاوے کا ایک بڑا بہاؤ خارج ہوا تھا، تاہم اس سے مسلسل خارج ہونے والی گیسوں کے باعث آتش فشانی گیس سلفر ڈائی آکسائیڈ کی خطرناک حد تک زیادہ مقدار اکثر پیدا ہوتی رہتی ہے۔گزشتہ 50 برسوں کے دوران اس آتش فشاں میں کئی دھماکے بھی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اب تک ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم محققین کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ تحقیق کاروں نے اپنے نئے مقالے میں یورپی خلائی ایجنسی کے ''سینٹینل1‘‘ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔یہ سیٹلائٹ ہر 12 دن بعد اس علاقے کے اوپر سے گزرتا ہے اور زمین کی سطح کے اتار چڑھاؤ کی تفصیلی تصاویر جمع کرتا ہے۔ ان تصاویر کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ زمین کے نیچے میگما کی نقل و حرکت کے باعث سطح زمین کس طرح بلند یا پست ہو رہی ہے۔محترمہ جانسن کے مطابق ''جب زمین کی سطح نیچے بیٹھتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آتش فشاں کے اندر سے میگما خارج ہو کر کسی دوسری جانب منتقل ہو رہا ہے، لیکن جب زمین دوبارہ بلند ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ نیا میگما اندر داخل ہو رہا ہے‘‘۔ تحقیق کاروں نے 2018ء سے 2022ء کے وسط تک مشاہدہ کیا کہ مشہور سانتیاگو دہانے کے عین شمال میں واقع ماسایا کے مرکزی میگما ذخیرے کے اردگرد زمین کی سطح تقریباً 1.2 انچ (3 سینٹی میٹر) نیچے بیٹھ گئی تھی۔اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین موجود ذخیرے سے میگما کی کچھ مقدار دوسری جانب منتقل ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں زمین کی سطح نیچے دھنس گئی۔تاہم، 2022ء سے 2024ء کے دوران زمین کی سطح ایک بار پھر بلند ہونا شروع ہو گئی، جس سے یہ اشارہ ملا کہ زیر زمین میگما کا ذخیرہ دوبارہ بھر رہا ہے۔حیرت انگیز طور پر، اس پورے چھ سالہ عرصے کے دوران سانتیاگو دہانے اور اس میں موجود لاوے کی جھیل کے آس پاس زمین کی سطح مسلسل نیچے دھنس رہی تھی۔ محققین کے مطابق، اس صورتِ حال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ زمین کی سطح سے تقریباً 656 فٹ (200 میٹر) نیچے میگما کا ایک دوسرا، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرہ بھی موجود ہے، جو سرگرم ہے۔ محترمہ جانسن نے مزید کہا کہ یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ آتش فشاں کے اندر میگما کی نقل و حرکت کا نظام پہلے کے اندازوں سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس تبدیلی کی ایک وجہ میگما کے دوسرے، نسبتاً کم گہرائی میں واقع ذخیرے میں اس کی مقدار کا کم ہونا بھی ہو سکتی ہے۔محققین مستقبل میں اس نوعیت کی مزید پیمائشوں کے ذریعے آتش فشاں کی سرگرمیوں کے بارے میں زیادہ جامع معلومات حاصل کرنے اور اس کے پھٹنے کی پیش گوئی کے نظام کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔ پین اسٹیٹ یونیورسٹی کے شریک محقق ڈاکٹر ینگ چولکم کا کہنا ہے کہ مسلسل نگرانی کے ذریعے ہمیں آتش فشاں کی معمول کی سرگرمیوں کو سمجھنے اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر کسی موقع پر لوگوں کو خبردار کرنے کی ضرورت پیش آئے تو مسلسل نگرانی کی بدولت ہم بروقت ایسا کر سکتے ہیں۔

’’عمودی ڈراپ‘‘

’’عمودی ڈراپ‘‘

ماؤنٹین بائیک رائیڈر کا حیران کن کارنامہسائیکلنگ محض ایک کھیل نہیں بلکہ حوصلے، مہارت، جسمانی طاقت اور خطرات کا سامنا کرنے کے غیر معمولی جذبے کا نام بھی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ماؤنٹین بائیک چلانے والے کھلاڑی دشوار گزار راستوں، گہری کھائیوں اور عمودی ڈھلوانوں پر اپنی صلاحیتوں کا امتحان لیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک باہمت سائیکل سوار نے پیشہ ور کھلاڑی بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے عمودی بلندی سے نیچے اترنے کا ریکارڈ توڑ کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کی یہ کامیابی نہ صرف غیر معمولی مہارت اور جرأت کا مظہر ہے بلکہ اس حقیقت کی عکاس بھی ہے کہ بلند عزائم، مسلسل محنت اور خود اعتمادی انسان کو حیرت انگیز کارنامے انجام دینے کے قابل بنا سکتی ہے۔ماؤنٹین بائیک پر تقریباً چار میٹر کی بلندی سے نیچے اترنا ہی بیشتر لوگوں کو بریک لگانے پر مجبور کرنے کیلئے کافی ہے، لیکن آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ماریو نیوراٹر کیلئے یہ اپنی سائیکلنگ کی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا ایک موقع تھا۔ پیشہ ور ماؤنٹین بائیک کھلاڑی بننے کا خواب دیکھنے والے ماریو ہمیشہ سے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور پہلے سے زیادہ بلندی، فاصلے اور رفتار تک پہنچنے کیلئے کوشاں رہے ہیں۔ کم عمری ہی سے اپنے شعبے میں بہترین بننے کی کوششوں کے نتیجے میں انہوں نے سائیکل پر کسی مقررہ ہدف پر عمودی طور پر سب سے زیادہ بلندی سے گرنے (مردوں کی کیٹیگری) کا گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ماریو کو ماؤنٹین بائیک چلانے کا سات سالہ تجربہ ہے۔ 13 ستمبر 2025ء کو 20 سالہ ماریو نے 3.80 میٹر (12.46 فٹ) کی بلندی سے نیچے اتر کر یہ ریکارڈ قائم کیا۔ یہ بلندی تقریباً ڈبل ڈیکر بس کے برابر ہے۔ ماریو نے بتایا کہ میں نے اس سے پہلے کبھی اس طرح کے باکس نما ہدف پر لینڈنگ نہیں کی تھی۔ تاہم، عمومی طور پر میں نے چھوٹی بلندیوں سے آغاز کیا اور برسوں کے دوران بتدریج زیادہ سے زیادہ بلندی سے نیچے اترنے کی مشق کرتا رہا۔اگرچہ اتنی بلندی سے نیچے اترنے کا حوصلہ کرنا اس ریکارڈ کی کوشش کا ایک اہم مرحلہ تھا، تاہم ماریو کیلئے یہ یقینی بنانا بھی ضروری تھا کہ وہ درست نشانے کے ساتھ لینڈنگ باکس پر اتریں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا، لیکن میں جانتا تھا کہ باکس پر درست انداز میں اترنا مشکل ہو گا۔ میں نے اس مقصد کیلئے خصوصی تربیت حاصل نہیں کی تھی، اس لیے مجھے معلوم نہیں تھا کہ کامیابی کیلئے کتنی کوششیں کرنا پڑیں گی۔ بالآخر، سب کچھ توقعات کے مطابق کافی اچھا رہا۔ماریو نے ریکارڈ قائم کرنے کی یہ کوشش آسٹریا میں منعقد ہونے والے ''بائیک ریپبلک سولڈن فیسٹیول‘‘ کے دوران کی، جسے ''سواچ نائنز‘‘ کے ساتھ یکجا کیا گیا تھا۔ اس میلے میں ماؤنٹین بائیکنگ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے سائیکل سواروں اور شائقین نے شرکت کی۔ ماریو نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ میرے خیال میں اس طرح کے کارنامے کیلئے یہ میلہ بہترین موقع تھا۔ یہاں سائیکلنگ سے وابستہ پوری کمیونٹی جمع ہوتی ہے، اس لیے ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کیلئے اس سے بہتر ماحول ممکن نہیں تھا۔ماریو نے سائیکل پر سب سے زیادہ عمودی بلندی سے نیچے اترنے اور 360 ڈگری گھومتے ہوئے سائیکل پر کسی مقررہ ہدف پر سب سے زیادہ عمودی بلندی سے اترنے کے ریکارڈ قائم کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ اب وہ ان کوششوں کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا وہ ان میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ اگر ان کوششوں کی کامیابی کی تصدیق ہو گئی تو ریکارڈ توڑنے والا یہ ہفتہ ان کیلئے مزید بڑی کامیابیوں کا باعث بن سکتا ہے۔