طنز و مزاح:جنون لطیفہ
اسپیشل فیچر
اگرآپ کو کوئی کھانا بے حدمرغوب ہے جوچھڑائے نہیں چھوٹتا توتازہ واردان بساط خانساماں اس مشکل کوفوراً آسان کردیں گے۔ اشیائے خوردنی اورانسانی معدے کے ساتھ بھرپور تجربے کرنے کی جو آزادی باورچیوں کو حاصل ہے وہ نت نئی کیمیاوی ایجادات کی ضامن ہے۔ مثال کے طورپرہمیں بھنڈی بہت پسند ہے لیکن دس گھنٹے قبل یہ منکشف ہواکہ اس نبات تازہ کو ایک خاص درجہ حرارت پرپانی کی مقررہ مقدارمیں(جس کا علم صرف ہمارے خانساماں کوہے)میٹھی آنچ پرپکایا جائے تو اس مرکب سے دفتروں میں لفافے اوربد لگام افسروں کے منہ ہمیشہ کیلئے بند کیے جا سکتے ہیں۔
انہی حضرت نے گزشتہ جمعرات کوسارا گھرسرپراٹھارکھا تھا۔ ہم نے بچی کوبھیجا کہ اس سے کہوکہ مہمان بیٹھے ہیں۔ اس وقت سل کھوٹنے کی ضرورت نہیں۔ اس نے کہلا بھیجا کہ ہم ان ہی مہمانوں کی تواضع کیلئے سل پر کبابوں کا قیمہ پیس رہے ہیں۔ تھوڑی دیربعد ہم نے کباب منہ میں رکھا تو محسوس ہوا گویا چٹ پٹا ریگ مال کھا رہے ہیں اور ہمیں رہ رہ کر میرصاحب پررشک آنے لگا کہ وہ مصنوعی بتیسی لگائے بے خبربیٹھے کھا رہے تھے اور ہماری طرح کرکرا محسوس کر کے لال پیلے نہیں ہوئے۔ صبح تک سب کو پیچش ہو گئی۔ صرف ہمیں نہیں ہوئی اورہمیں اس لیے نہیں ہوئی کہ ہم پہلے ہی اس میں مبتلا تھے۔
یہ بات نہیں کہ خدانخواستہ ہم بیماری اورموت سے ڈرتے ہیں۔ ہم توپرانی چال کے آدمی ہیں۔ اس لیے نئی زندگی سے زیادہ خوف کھاتے ہیں۔ موت برحق ہے اور ایک نہ ایک دن ضرورآئے گی۔ بات صرف اتنی ہے کہ بلانے کیلئے ہم اپنی نیک کمائی میں سے پچاس ساٹھ روپے ماہوارخرچ نہیں کرناچاہتے۔ ہمیں کسی مرض ناشناس حکیم کے ہاتھوں مرنے پربھی چنداں اعتراض نہ ہو گا۔ لیکن ہم کسی صورت خانساماں کو بالاقساط روح قبض کرنے کا اختیار نہیں دینا چاہتے کہ یہ صرف حکیم ڈاکٹروں کاحق ہے۔
بیماری کا ذکر چل نکلا تو اس قوی ہیکل خانساماں کا قصہ بھی سن لیجئے جس کوہم سب آغا کہاکرتے تھے (آغا اس لیے کہا کرتے تھے کہ وہ سچ مچ آغاتھے) ان کاخیال آتے ہی معدے میں مہتابیاں سی جل اٹھتی ہیں۔ تادم وداع ان کے کھانا پکانے اور کھلانے کا انداز وہی رہا جو ملازمت سے پہلے ہینگ بیچنے کا ہوتا تھا۔ یعنی ڈرا دھمکا کراس کی خوبیاں منوالیتے تھے۔ بالعموم صبح ناشتے کے بعد سوکراٹھتے تھے۔ کچھ دن ہم نے صج تڑکے جگانے کی کوشش کی لیکن جب انھوں نے نیند کی آڑمیں ہاتھا پائی کرنے کی کوشش کی توہم نے بھی ان کی اصلاح کاخیال ترک کر دیا۔ اس سے قطع نظر، وہ کافی تابعدار تھے۔ تابعدارسے ہماری مراد یہ ہے کہ کبھی وہ پوچھتے کہ چائے لاؤں؟، اورہم تکلفاًکہتے کہ 'جی چاہے تولے آو ورنہ نہیں‘ ۔توکبھی واقعی لے آتے اورکبھی نہیں بھی لاتے تھے۔ جس دن سے انھوں نے باورچی خانہ سنبھالا گھرمیں حکیم ڈاکٹروں کی ریل پیل ہونے لگی۔ یوں بھی ان کا پکایا ہوا کھانا دیکھ کرسر (اپنا) پیٹنے کوجی چاہتا تھا۔ ''اپنا‘‘ اس لیے کہ حالانکہ ہم سب ہی ان کے کھانوں سے عاجزتھے، لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان کوکیوں کرپرامن طریق سے رخصت کیاجائے۔ ان کونوکررکھنا ایسا ہی ثابت ہواجیسے کہ شیر ببر پر سوار ہو تو جائے لیکن اترنے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔
ایک دن ہم اسی ادھیڑبن میں لیٹے ہوئے گرم پانی کی بوتل سے پیٹ سینک رہے تھے اور دواپی پی کران کو کوس رہے تھے کہ سر جھکائے آئے اور خلاف معمول ہاتھ جوڑکربولے، ''خو! صاب! تم روز روز بیماراوتا اے۔ اس سے امارا قبیلہ میں بڑا رسوائی، خو، خانہ خراب اوتا اے‘‘، (صاحب! تم بار باربیمارہوتے ہو۔ اس سے ہمارے قبیلے میں ہماری رسوائی ہوتی ہے اور ہمارا خانہ خراب ہوتاہے۔) اس کے بعد انھوں نے کہا سنا معاف کرایا، اور بغیرتنخواہ لیے چل دیئے۔
ایسی ہی ایک اوردعوت کا ذکرہے جس میں چند احباب اورافسران بالا دست مدعوتھے۔ نئے خانساماں نے جوقورمہ پکایا، اس میں شوربے کایہ عالم تھا کہ ناک پکڑکے غوطے لگائیں توشاید کوئی بوٹی ہاتھ آجائے۔ اکا دکا کہیں نظر آبھی جاتی تو کچھ اس طرح کہ ''صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں‘‘۔اوربساغنیمت تھا کیوں کہ مہمان کے منہ میں پہنچنے کے بعد، غالب کے الفاظ میں، یہ کیفیت تھی کہ ''کھینچتاہے جس قدراتنی ہی کھنچتی جائے ہے!‘‘
دوران ضیافت احباب نے بکمال سنجیدگی مشورہ دیا کہ ''ریفریجریٹر خریدلو۔ روز روز کی جھک جھک سے نجات مل جائی گی۔ بس ایک دن لذیذ کھانا پکوالو اورہفتے بھرٹھاٹ سے کھاؤ اورکھلاؤ‘‘۔