آرتھرائٹس: خاموش تکلیف، بڑا مسئلہ
اسپیشل فیچر
''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘
ہر سال 12 اکتوبر کو جوڑوں کے درد کیخلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے
جوڑوں کا درد، اکڑاؤ اور سوجن اکثر بڑھتی عمر کی معمولی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کر دی جاتی ہے، حالانکہ آرتھرائٹس ایسی بیماریوں کا مجموعہ ہے جو انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ ہر سال 12اکتوبر کو عالمی یومِ آرتھرائٹس منانے کا مقصد اس مرض اور دیگر ریمیٹک و عضلاتی بیماریوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق آرتھرائٹس صرف بزرگوں تک محدود نہیں بلکہ مختلف عمروں کے افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال 12اکتوبر کو آرتھرائٹس یا جوڑوں کے درد کے خلاف آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں اس مرض کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنا اور صحت کے اداروں کو اس بیماری کے تدارک کیلئے اقدامات پر آمادہ کرنا ہے۔ اس سال یہ دن ''حرکت کے ذریعے خوابوں کی تکمیل میں معاونت‘‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں لاکھوں افراد جوڑوں کے درد کے مسائل سے دوچار ہیں، جوڑوں کے درد کے بارے میں عالمی مہم 1996ء میں ''آرتھرائٹس اینڈ ریو میٹزل انٹرنیشنل‘‘ تنظیم کی جانب سے شروع کی گئی تھی، اس کے بعد سے ہر سال ورلڈ آرتھرائٹس ڈے منایا جاتا ہے۔
آرتھرائٹس محض ایک عارضی تکلیف نہیں بلکہ ایک ایسا موذی مرض ہے جو وقت کے ساتھ جوڑوں کو متاثر کر کے انسان کی نقل و حرکت، روزمرہ سرگرمیوں اور معیارِ زندگی پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری سے متاثر ہیں اور ان میں اکثریت خواتین اور عمر رسیدہ افراد کی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آگاہی کی کمی، بروقت تشخیص کا فقدان اور علاج کے مہنگے اخراجات اس مرض کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے آرتھرائٹس کا عالمی دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جوڑوں کی بیماری کو نظرانداز نہ کیا جائے کیونکہ ابتدائی توجہ اور بروقت علاج ہی صحت مند زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
آرتھرائٹس دراصل کوئی ایک مخصوص بیماری نہیں بلکہ 200 سے زائد اقسام کے عوارض کا مجموعہ ہے جو جسم کے جوڑوں، ہڈیوں، عضلات اور بافتوں کو متاثر کرتے ہیں۔سب سے عام اقسام میں ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ (Osteoarthritis) اور ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ (Rheumatoid Arthritis) شامل ہیں۔ ''آسٹیو آرتھرائٹس‘‘ عموماً بڑھتی عمر، زیادہ وزن یا جسمانی دباؤ کے باعث ہوتی ہے، جبکہ ''رمیٹائیڈ آرتھرائٹس‘‘ ایک خودکار مدافعتی بیماری (Autoimmune Disorder) ہے جس میں جسم کا دفاعی نظام خود اپنے جوڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 35کروڑ افراد آرتھرائٹس کے کسی نہ کسی درجے میں مبتلا ہیں۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، ہر چوتھا بالغ شخص کسی نہ کسی مرحلے پر جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہوتا ہے، جبکہ خواتین میں یہ مرض مردوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ پایا جاتا ہے۔خاص طور پر 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں رمیٹائیڈ آرتھرائٹس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کی تشخیص میں تاخیر، مناسب علاج کی کمی اور معاشرتی عدم آگاہی کی وجہ سے مریض اکثر دیر سے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچتا ہے۔
پاکستان میں بھی آرتھرائٹس کا مرض عام ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ملک کی بالغ آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ کسی نہ کسی درجے میں جوڑوں کے درد یا سوزش کا شکار ہے۔خاص طور پر خواتین، گھریلو خواتین، مزدور طبقہ، اور بزرگ افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔پاکستان میں زیادہ تر لوگ ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لوگ اسے عام جسمانی درد یا تھکن سمجھ کر وقتی درد کش ادویات پر اکتفا کرتے ہیں، جس سے مرض مزید بڑھ جاتا ہے۔گرم و مرطوب موسم، غذائی کمی اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی بھی اس بیماری کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر جوڑوں میں مسلسل درد، سوجن یا سختی محسوس ہو تو فوراً ماہر امراضِ جوڑ سے رجوع کرنا چاہیے۔ تشخیص کیلئے عام طور پر خون کے ٹیسٹ، ایکس رے، یا ایم آر آئی کی مدد لی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرتھرائٹس کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن ابتدائی تشخیص، محتاط طرزِ زندگی، اور درست علاج سے مریض ایک فعال اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔
آرتھرائٹس کے عالمی دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ''درد کو تقدیر نہیں سمجھنا چاہیے ،علاج، آگاہی اور امید سے بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے‘‘۔ اس دن مختلف ممالک میں آگاہی واکس، سیمینار، اور مفت طبی کیمپ منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ عوام کو بیماری کی وجوہات، علامات اور علاج کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی تقریب کے طور پر نہیں بلکہ ایک عزمِ نو کے طور پر منائیں۔ آرتھرائٹس کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شعور، ہمدردی اور عمل ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔