ڈیرہ غازی خان

ڈیرہ غازی خان

اسپیشل فیچر

تحریر :


مظفر گڑھ سے دو راستے ڈیرہ غازی خان کی طرف جاتے ہیں، ایک راستہ 125 میل اور دوسرا 70 میل ہے جو کہ غازی گھاٹ کی طرف جاتا ہے۔ دس میل کا راستہ دریائے سندھ میں سے گزرتا ہے۔ کہیں کہیں پانی کھڑا ہے جس پر کشتیوں کے پل بائے گئے ہیں۔ دریائے سندھ 1910 سے لے کر 1976 تک دو تین میل کے علاقے کو کھا گیا ہے۔ ڈیرہ دو تین میل پیچھے رہ گیا ہے۔ڈی جی کے بذاتِ خود پنجاب میں ہے۔ اس کی ایک سرحد بلوچستان سے دوسری سندھ سے اور تیسری خیبر پختون خوا سے ملتی ہے اس لیے یہاں زیادہ تر پنجابی، بلوچی اور پٹھان آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو، بلوچی اور سرائیکی تینوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن ایک ایسی زبان بھی بولی جاتی ہے جس میں ان سب زبانوں کے لفظ موجود ہیں اور اسی طرح ثقافتی رنگ میں بھی سب علاقوں کے رنگ ملے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک ایسے مکمل رنگ کا احساس ہوتا ہے جس کے تحت پاکستان کی ثقافت اور لوک ورثے کا امتزاج اور ہم آہنگی کو سمجھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں DGK ایک ایسا مرکز ہے جو کہ سچے اور صحیح پاکستانی کا اصل تصور پیش کرتا ہے یہ ایک ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں سب علاقوں کے لوگ مل کر پاکستان کے Superman کا حلیہ بناتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ Mystical Traditions کے دو اہم دھارے بھی یہاں آکر مرکزیت اختیار کرلیتے ہیں۔ہم جہاں بھی گئے اور جتنے بھی صوفی اور روحانی بزرگوں کے مزاروں پر سلام کیا۔ اُن کا یا تو براہِ راست تعلق سخی سرور سے تھا یا سخی سرور اُن کے علاقے سے گزرے۔ لہٰذا لوگوں کا تعلق کسی ایسے Mystic ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح سخی سرور سے بنتا ہے چناںچہ یہ ظاہر ہوا کہ ہم سب یا پاکستان کے رہنے والے ہار کے دانوں کی طرح Mystic کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ شاہ سلیمان کا مزار تونسہ شریف میں ہے لیکن بنوں اور کوہاٹ کے علاقوں سے بھی پٹھان آپ کے ہاں حاضری دینے آتے ہیں۔ اسی طرح خواجہ فرید کے ہاں بھی پاکستان کے ہر علاقے سے لوگ آتے ہیں۔ تو اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ہم سب اپنے Mystic کی بدولت ایک قومی وحدت میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو ایک علاقے سے دودسرے علاقے میں ہجرت کرتے رہے تاکہ لوگوں کو تعلیم دیں۔ یہ تعلیم بھی ہمارے لوک ورثے کا اہم حصہ ہے، یہ تعلیم مذہب کے علاوہ انسانی قدروں پر بھی بحث کرتی ہے۔یہاں کڑھائی کا کام بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کام صرف عورتیں ہی کرتی ہیں لیکن اس کڑھائی پر بلوچی ٹانکے کا بہت اثر ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں کی کڑھائی پنجابی اور بلوچی کڑھائی کا خوب صورت امتزاج ہے تو بے جا نہ ہوگا… رنگوں کا مزاج بھی مِلا جُلا ہے۔جندری یا خراد کا کام زیادہ تر قریبی کام جام پور میں ہوتا ہے لیکن خاص ڈیرہ غازی خان میں بھی کچھ گھرانے یہ کام کرتے ہیں۔ یہاں بچوں کے کھلونوں کی طرف بھی خاص توجہ دی جاتی ہے اور بچوں کا ریڑھا جس سے چلنا سیکھتے ہیں، بہت خوب اور عمدہ بنایا جاتا ہے۔ پہلے یہ ریڑھا پاکستان کے دُور دُور کے علاقوں میں بھی بھیجا جاتا تھا مگر جب سے واکر نے رواج پایا ہے یہ ریڑھا بہت کم جگہوں پر جاتا ہے۔چھوٹا سنگار میز بھی بہت خوب صورت بنتا ہے۔ یہاں کے لیکر آرٹ میں جو رنگ اور ڈیزائن استعمال ہوتے ہیں وہ چنیوٹ کے لیکر آرٹ کی نسبت دھیمے اور ڈیزائن کھلا کھلا ہے۔ڈیرہ غازی خان سے چند میل پہاڑوں میں بلوچ قبائل آباد ہیں جہان تمُن سِسٹم ہے یہاں کے اہم قبائل میں لغاری، قیصرانی، مزار، کھوسے، تھرجانی اور مری بلوچ قابل ذکر ہیں۔ ان بلوچ قبائل کے اپنے رسم و رواج ہیں۔جب کسی کی شادی ہوتی ہے تو عورتیں خوب صورت رنگ برنگے لباس پہن کر اُنٹوں پر بیٹھ جاتی ہیں اور قافلہ روانہ ہوتا ہے۔ اُنٹوں کی لمبی قطار اور اُن پر رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس بلوچ عورتیں… یوں لگتا ہے جیسے رنگوں کا فوراہ چھُوٹ رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
قلعہ روہتاس کی شاہی مسجد

قلعہ روہتاس کی شاہی مسجد

سادگی میں پوشیدہ عظمت کی داستانقلعہ روہتاس وسیع رقبے، بلند و بالا فصیلوں اور ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام کے باعث برصغیر کی عظیم عسکری تعمیرات میں شمار ہوتا ہے۔اسے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری نے شمال سے پنجاب کے میدانوں کی طرف آنے والی پرانی جرنیلی سڑک پر تعمیر کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ معزول مغل بادشاہ ہمایوں کو اپنی سابقہ سلطنت میں واپس آنے سے روکا جائے۔ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے چوسہ میں شکست دی تھی اور وہ ایران فرار ہو گیا لیکن شیر شاہ کو خدشہ تھا کہ ہمایوں پنجاب واپس آنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ شیر شاہ کی دوسری تشویش گکھڑ قبائل تھے جوپوٹھوہار وادی پر قابض تھے اور مغلوں کے روایتی اتحادی تھے۔ قلعہ روہتاس میں جنوبی سمت، کابلی دروازے کے قریب واقع شاہی مسجد ایک ایسی یادگار ہے جو اپنی سادگی میں ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ مسجد اُس دور کے فنِ تعمیر، عسکری حکمتِ عملی اور طرزِ فکر کی عکاسی کرتی ہے۔پہلی نظر میں یہ مسجد اپنی سادہ ساخت کے باعث توجہ کا مرکز نہیں بنتی۔ نہ اس میں بلند مینار ہیں، نہ رنگین کاشی کاری اور نہ ہی پیچیدہ نقش و نگار۔ لیکن اس کی ساخت اور محلِ وقوع پر غور کیا جائے تو اس کی اہمیت واضح ہونے لگتی ہے۔ مسجد کو قلعے کی دیواروں میں اس مہارت سے ضم کیا گیا ہے کہ یہ دفاعی نظام کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ انداز اس بات کی دلیل ہے کہ اُس دور میں تعمیرات محض جمالیاتی نہیں بلکہ عملی اور دفاعی تقاضوں کے تحت بھی کی جاتی تھیں۔مسجد کا بنیادی ڈھانچہ ایک مختصر صحن اور ایک سادہ ہال پر مشتمل ہے جسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصہ محرابی دروازوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ محرابیں نہ صرف تعمیراتی حسن رکھتی ہیں بلکہ اندرونی فضا میں توازن اور وسعت کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں۔ چھت پر گنبد سادہ اور بغیر کسی آرائش کے ہیں جو اس دور کے سادہ طرزِ تعمیر کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔اس مسجد کی ایک نہایت دلچسپ اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کے گنبد باہر سے نظر نہیں آتے۔ عام طور پر مساجد کی شناخت ان کے گنبدوں اور میناروں سے ہوتی ہے مگر یہاں ان عناصر کو جان بوجھ کر پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ قلعے کی عسکری نوعیت ہے جہاں ہر تعمیر کو دفاعی حکمتِ عملی کے مطابق ڈھالا جاتا تھا۔ مسجد کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا کہ وہ دشمن کی نظروں سے اوجھل رہے اور قلعے کے مجموعی دفاعی ڈھانچے میں خلل نہ ڈالے۔مزید برآں مسجد کا ایک داخلی راستہ ایسا بھی ہے جو قلعے کی دیواروں کے اندر سے گزرتے ہوئے براہِ راست کابلی دروازے کے اندرونی حصے تک پہنچتا ہے۔ یہ راستہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسجد کو قلعے کی روزمرہ زندگی کا لازمی جزو سمجھا گیا تھا۔ قلعے میں موجود سپاہیوں اور عملے کے لیے یہ ایک محفوظ اور قریب ترین عبادت گاہ تھی۔تاریخی لحاظ سے یہ مسجد خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ شہر شاہ سوری کے دور کی چند محفوظ مذہبی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ سوری عہد اپنی مضبوط فوجی تعمیرات کے لیے مشہور تھا مگر مذہبی عمارات نسبتاً کم تعمیر کی گئیں۔ اس لیے روہتاس قلعہ کی یہ شاہی مسجد اس دور کے فنِ تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے، جو ہمیں اس عہد کی سادگی، سنجیدگی اور عملی سوچ سے روشناس کراتا ہے۔اگر اس مسجد کا تقابل بعد کے مغل دور کی مساجد سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ مغل طرزِ تعمیر میں شان و شوکت، تزئین و آرائش اور جمالیاتی پہلوؤں کو نمایاں اہمیت دی گئی جبکہ اس مسجد میں سادگی اور افادیت کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہی فرق دونوں ادوار کے فکری اور ثقافتی رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔آج جب ہم اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو یہ ہمیں ماضی کی ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں سادگی میں حسن اور ضرورت میں حکمت پوشیدہ تھی۔ یہ مسجد بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر ایک مکمل داستان چھپی ہوئی ہے،ایک ایسی داستان جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل عظمت ظاہری شان و شوکت میں نہیں بلکہ مقصدیت، توازن اور فکری گہرائی میں ہوتی ہے۔یوں روہتاس قلعہ کی شاہی مسجد نہ صرف ایک تاریخی ورثہ ہے بلکہ ایک فکری علامت بھی ہے جو ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ فنِ تعمیر کا اصل حسن اس کی افادیت اور معنویت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

لمبی عمر کا راز: غصے سے بچیں اور مثبت سوچ اپنائیں

لمبی عمر کا راز: غصے سے بچیں اور مثبت سوچ اپنائیں

دنیا بھر میں لوگ طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے راز تلاش کرتے رہتے ہیں مگر بعض اوقات یہ راز نہایت سادہ ہوتا ہے۔ معروف امریکی اداکارDick Van Dyke جو اپنی 100 سالہ عمر کے قریب بھی متحرک اور خوش باش نظر آتے ہیں اپنی لمبی عمر کا راز ایک حیرت انگیز مگر سادہ عادت کو قرار دیتے ہیں اور وہ ہے: غصہ نہ کرنا اور مثبت رہنا۔یہ محض ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ جدید سائنس بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ڈک وان ڈائک کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں کبھی غصہ نہیں کرتے اور ہمیشہ مثبت سوچ کو اپناتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کا انسانی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل غصہ اور ذہنی دباؤ دل کی بیماریوں، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے، جو دنیا میں قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو افراد اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں اور مثبت اندازِ فکر اپناتے ہیں وہ نہ صرف ذہنی طور پر مطمئن رہتے ہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔سٹریس کے جسم پر اثراتسائنس کے مطابق جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ یا غصے کی حالت میں رہتا ہے تو اس کے جسم میں ایک خاص قسم کا کیمیائی ردِعمل پیدا ہوتا ہے جو دل اور خون کی نالیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حالت جسم کے خلیات کو بھی متاثر کرتی ہے، خاص طور پرٹیلومیئرز کو جو ہمارے ڈی این اے کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٹیلومیئرز کے کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ جسم تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس پرُسکون اور مثبت ذہن رکھنے والے افراد میں یہ عمل سست ہو جاتا ہے جس سے صحت مند عمر میں اضافہ ممکن ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والے افراد عام طور پر صحت مند عادات اپناتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، متوازن غذا کھاتے ہیں اور زندگی کے مسائل کو بہتر انداز میں ہینڈل کرتے ہیں۔خود ڈک وان ڈائک بھی بڑھاپے کے باوجود ہفتے میں کئی بار ورزش کرتے ہیں جو اُن کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔غصہ نکالنا یا قابو کرنا؟عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ غصہ نکال دینا بہتر ہے، مگر تحقیق اس کے برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح جسم مزید تناؤ کی حالت میں رہتا ہے اور دل پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ آدمی گہری سانس لینے کی مشق کرے،دعا‘مراقبہ یا یوگا کرے،حالات کو ٹھنڈے دماغ سے سمجھے۔یہ طریقے نہ صرف غصے کو کم کرتے ہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔اگرچہ مثبت سوچ ایک اہم عنصر ہے لیکن لمبی عمر صرف اسی پر منحصر نہیں۔ جینیات، خوراک، ورزش اور طرزِ زندگی بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مثلاً باقاعدہ جسمانی سرگرمی،متوازن غذا،سماجی روابط،ذہنی سکون۔یہ تمام عوامل مل کر ایک صحت مند اور طویل زندگی کی بنیاد بنتے ہیں۔ڈک وان ڈائک کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ لمبی عمر کے لیے کوئی پیچیدہ فارمولا ضروری نہیں۔ ایک سادہ سی عادت،غصے سے بچنا اور مثبت رہنا،انسان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی لا سکتی ہے۔جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ذہنی سکون اور خوش مزاجی نہ صرف دل کو مضبوط بناتی ہے بلکہ عمر کو بھی بڑھاتی ہے۔ اس لیے اگر ہم واقعی ایک طویل اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ اور رویے پر توجہ دینا ہوگی۔یاد رہے لمبی زندگی کا راز دواؤں میں نہیں بلکہ ہمارے رویے میں چھپا ہوا ہے۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

انڈے اور آلو کے کباباجزا: انڈے تین عدد(ابال کر لمبائی میں دو دو حصے کرلیں)۔ آلو :چار عدد(اُبال کر میش کر لیں)، بریڈ کرمز: ایک پیالی، تیل: حسب ِضرورت، سبز دھنیا: (باریک کٹا ہوا)، دو عدد انڈوں کی سفیدی (اچھی طرح پھینٹ لیں )، نمک اور کالی مرچ: حسب ِذائقہ۔ترکیب: میش کئے ہوئے آلوؤں میں نمک اور کالی مرچ ملائیں، پھر اس میں ابلے ہوئے انڈوں پر آلو کا آمیزہ لگائیں۔ انڈوں کی سفیدی اس وقت تک پھینٹ جب تک کہ جھاگ اٹھ آئے۔ انڈوں کو سفیدی میں ڈبوئیں، پھر ان کے اوپر بریڈ کرمز لگا کر گرم تیل میں تل کر سنہر اکر لیں۔ دھنیے سے سجا کر گرم گرم پیش کریں۔میٹھی سویاں اجزاؔ:سویاں :دو کپ۔کھویا: 50گرام۔دودھ : ایک کپ۔پستہ :چوتھائی کپ ۔ بادام:چوتھائی کپ ۔گھی :ایک کھانے کا چمچ۔ چھوٹی الائچی کا پاوڈر:ایک چائے کا چمچ۔کشمش ـ: تین چمچ۔ترکیب: موٹے پیندے والی دیگچی میں گھی کو گرم کرلیں اور اس میں سویوں کو بھون لیں جب تک کہ اس میں سے خوشبو نہ آنے لگے اور ان کارنگ گولڈن براؤن نہ ہو جائے۔اب آنچ کو بند کردیں اوراسے ایک طرف رکھ دیں۔ایک برتن میں دودھ کو ابال لیں اور چوپ کیے ہوئے بادام پستے اس میں شامل کردیں اور 3،2 منٹ کے لیے پکا لیں۔ اب چینی شامل کر کے انہیں دودھ میں گھلنے دیں۔کھویا بھی دودھ میں شامل کر دیں اور اس وقت تک پکائیں جب تک کہ مکسچر گاڑھا نہ ہوجائے۔اس میں سویاں ڈال دیں اور مزید 5منٹ کے لیے پکائیں۔اب الائچی پاوڈر کو ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں اور کسی سرومگ ڈش میں نکال لیں۔چوپ کئے ہوئے بادام پستے کو اوپر سے چھڑک کر سرو کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

عراق جنگ کا آغاز19 مارچ 2003ء کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس جنگ کا اعلان کیا اور اسے' عراقی آزادی‘ کے آپریشن کا نام دیا۔اس روز بغداد پر شدید فضائی حملے کیے گئے، جن کا مقصد عراقی قیادت اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ چند ہفتوں میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تاہم اس کے بعد ملک میں بدامنی اور خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔یہ جنگ عالمی سیاست میں ایک متنازع باب بن گئی کیونکہ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود نہیں تھے۔ڈے لائٹ سیونگ 19 مارچ 1918ء کو امریکہ میں پہلی بار ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا قانون نافذ کیا گیا۔ یہ اقدام پہلی عالمی جنگ کے دوران توانائی بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔اس نظام کے تحت گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کر دیا جاتا تھا تاکہ دن کی روشنی سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بعد میں یہ نظام یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اپنایا گیا۔اگرچہ اس پر تنقید بھی ہوتی رہی لیکن یہ آج بھی کئی ممالک میں استعمال ہو رہا ہے اور جدید معاشی و سماجی نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ ''نیرو ڈکری‘‘ حکمنامہ19 مارچ 1945ء کو ایڈولف ہٹلر نے ایک متنازع حکم جاری کیا جسے نیرو ڈکری کہا جاتا ہے۔اس حکم کے تحت جرمنی کے بنیادی ڈھانچے جیسے پل، فیکٹریاں اور ٹرانسپورٹ نظام کو تباہ کرنے کا کہا گیا تاکہ اتحادی افواج کو فائدہ نہ مل سکے۔ تاہم اس حکم پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ کئی جرمن حکام نے اسے نظر انداز کر دیا۔یہ فیصلہ ہٹلر کی مایوسی اور جنگ کے آخری مراحل میں اس کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جب جرمنی شکست کے قریب تھا۔ لیبیا میں فوجی کارروائی19 مارچ 2011ء کو لیبیا میں نیٹو کی قیادت میں فوجی کارروائی شروع کی گئی۔اقوام متحدہ کی منظوری سے شروع ہونے والی اس کارروائی میں فضائی حملے شامل تھے جنہوں نے قذافی حکومت کو کمزور کر دیا۔ بالآخر اسی سال معمر قذافی کا اقتدار ختم ہو گیا۔یہ واقعہ عرب بہار کی تحریک کا ایک اہم حصہ تھا اور اس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ایویاں معاہدہ19 مارچ 1962ء کو فرانس اور الجزائر کے درمیان ایویاں معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں الجزائر کی آزادی کی راہ ہموار ہوئی۔یہ معاہدہ کئی سالہ خونی جدوجہد کے بعد طے پایا، جس میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے بعد الجزائر نے باقاعدہ طور پر آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ریاست کے طور پر ابھرا۔یہ واقعہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی ایک بڑی مثال ہے اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔

موتی مسجد

موتی مسجد

شاہی قلعہ لاہور میں فنِ تعمیر کا شاہکارشاہی قلعہ لاہور میں واقع موتی مسجد مغل دور کی تعمیرات میں ایک نہایت دلکش اور روحانی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کی گئی یہ مسجد اپنے حسن، سادگی اور روحانی وقار کے باعث تاریخی و مذہبی دونوں حوالوں سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مغل فنِ تعمیر کی روایت میں یہ مسجد نہ صرف جمالیاتی خوبیوں کی نمائندہ ہے بلکہ اس دور کی مذہبی اور ثقافتی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔موتی مسجد کی تعمیر 1654ء میں مغل شہنشاہ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ شاہجہاں کا زمانہ مغل فنِ تعمیر کے عروج کا دور سمجھا جاتا ہے۔ اسی عہد میں تاج محل جیسی عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی۔ اُس دور کی عمارتوں میں سنگِ مرمر کا استعمال، نفیس نقش و نگار اور متوازن طرزِ تعمیر نمایاں نظر آتے ہیں۔لاہور کے شاہی قلعے کے مغربی حصے میں واقع یہ مسجد نسبتاً چھوٹے سائز کی ہے مگر اس کی خوبصورتی اور نفاست اسے قلعے کی اہم ترین عمارتوں میں شامل کرتی ہے۔ اسے مکمل طور پر سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کیا گیا جو راجستھان کے علاقے مکرانہ کی کانوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ یہ سنگِ مرمر اپنی چمک اور پائیداری کی وجہ سے مغل عمارتوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔موتی مسجد کا نام اس کے سفید اور چمکدار سنگِ مرمر سے منسوب ہے۔ سنگِ مرمر کی چمک کسی موتی کی طرح محسوس ہوتی ہے اسی لیے اسے موتی مسجد کہا جاتا ہے۔ مغل دور میں مساجد کو قیمتی پتھروں کے ناموں سے منسوب کرنے کی روایت بھی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسی نام کی مساجد آگرہ اور دہلی میں بھی موجود ہیں۔موتی مسجد شاہی قلعہ لاہور کے مغربی جانب واقع ہے۔ قلعے کی مجموعی عمارتیں زیادہ تر شمال جنوب سمت میں تعمیر کی گئی ہیں مگر مسجد کی سمت اس اصول سے مختلف ہے۔مسجد تک رسائی ایک چھوٹے سے دروازے کے ذریعے ہے جو شمال مشرقی سمت میں واقع ہے۔ یہ دروازہ قلعے کے مکتب خانہ کے قریب واقع ہے۔ جب کوئی شخص اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ایک طویل اورخاموش برآمدہ آتا ہے۔ یہ برآمدہ ماحول میں ایک خاص سنجیدگی اور خاموشی پیدا کرتا ہے۔جب زائر اس برآمدے سے گزر کر مسجد کے صحن میں داخل ہوتا ہے تو اچانک سفید سنگِ مرمر سے بنی روشن اور چمکتی ہوئی عمارت سامنے آ جاتی ہے۔ یہ منظر نہایت دلکش اور روح پرور محسوس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ایک پاکیزہ اور روحانی ماحول میں قدم رکھ دیا گیا ہو۔موتی مسجد کی پیشانی پانچ حصوں یا محرابی دہانوں پر مشتمل ہے۔ درمیان والا حصہ قدرے آگے کی طرف ابھرا ہوا ہے جو اسے نمایاں کرتا ہے۔ پانچ محرابی دہانوں پر مشتمل یہ طرزِ تعمیر مغل فنِ تعمیر کا ایک پسندیدہ انداز تھا۔اس طرز کو مریم زمانی مسجد میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بعد میں یہی انداز مغل دور کی بیشتر بڑی مساجد میں اختیار کیا گیا۔تاہم موتی مسجد کی ساخت میں ایک اہم فرق بھی ہے۔ اس میں مغربی دیوار کے ساتھ دو عرضی راہداریاں بنائی گئی ہیں جبکہ مریم زمانی مسجد میں صرف ایک راہداری ہے۔ اس تبدیلی نے مسجد کے اندرونی حصے کو زیادہ کشادہ اور متوازن بنا دیا۔موتی مسجد کی بیرونی شکل و صورت نسبتاً سادہ اور غیر نمائشی ہے۔ مغل دور کی کئی عظیم عمارتوں کے برعکس اس مسجد میں زیادہ تزئین و آرائش نظر نہیں آتی۔ لیکن یہی سادگی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔ سفید سنگِ مرمر کی سطح سورج کی روشنی میں چمکتی ہے اور عمارت کو ایک خاص وقار عطا کرتی ہے۔مسجد کے صحن اور نماز گاہ میں داخل ہونے کے بعد جو سکون اور خاموشی محسوس ہوتی ہے وہ اس کے روحانی ماحول کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک روحانی مقام بھی سمجھی جاتی ہے۔ثقافتی اور تاریخی اہمیتلاہور کا شاہی قلعہ برصغیر کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مغل دور میں یہ قلعہ شاہی رہائش گاہ اور حکومتی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس قلعے کے اندر موجود عمارتیں مغل فنِ تعمیر کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرتی ہیں۔ موتی مسجد ان عمارتوں میں خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ مغل دور کی مذہبی تعمیرات کی بہترین مثال ہے۔ یہ مسجد نہ صرف سیاحوں بلکہ تاریخ اور فنِ تعمیر کے ماہرین کی بھی توجہ کا مرکز ہے۔شاہی قلعہ آنے والے سیاح موتی مسجد کی خوبصورتی اور سکون بخش ماحول سے ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد نہ صرف مغل فنِ تعمیر کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم حصہ ہے۔

 مستقبل کی حیران کن ٹیکنالوجی

مستقبل کی حیران کن ٹیکنالوجی

شیشے کے ایک ٹکڑے میں دو ملین کتابوں کا ڈیٹادنیا میں ڈیٹا کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہر روز اربوں فائلیں، تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات تخلیق ہو رہی ہیں مگر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ معلومات آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکیں گی؟ روایتی سٹوریج ڈیوائسز جیسے ہارڈ ڈرائیوز، میگنیٹک ٹیپس اور SSD عموماً چند سال یا زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں تک قابلِ اعتماد رہتی ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے ایک حیران کن ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس میں شیشے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر ڈیٹا ہزاروں سال تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔یہ نئی ٹیکنالوجی امریکی ادارے مائیکروسافٹ ریسرچ کے سائنسدانوں نے تیار کی ہے جسے پروجیکٹ سلیکا کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں عام شیشے کے ایک باریک مربع ٹکڑے میں لیزر کی مدد سے ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس چھوٹے سے شیشے میں تقریباً دو ملین کتابوں کے برابر معلومات محفوظ کی جا سکتی ہیں اور تحقیق کے مطابق یہ ڈیٹا کم از کم 10 ہزار سال تک محفوظ رہ سکتا ہے۔شیشے میں ڈیٹا لکھنے کا طریقہاس ٹیکنالوجی میں انتہائی طاقتور اور نہایت مختصر دورانیے کی لیزر شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں جنہیں فیمٹو سیکنڈ لیزر کہا جاتا ہے۔ فیمٹو سیکنڈ دراصل وقت کی انتہائی چھوٹی اکائی ہے جو ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتی ہے۔ یہ لیزر شعاعیں شیشے کے اندر نہایت باریک تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں جن کے ذریعے ڈیجیٹل معلومات کو کوڈ کیا جاتا ہے۔ لیزر کے ذریعے شیشے کے اندر ننھے ننھے تین جہتی نقاط بنائے جاتے ہیں جنہیں ووکسَل (Voxel) کہا جاتا ہے۔ ہر ووکسل دراصل ایک چھوٹے ڈیجیٹل پکسل کی طرح ہوتا ہے جو ڈیٹا کا ایک حصہ محفوظ کرتا ہے۔ ان ووکسلز کو مختلف گہرائیوں اور تہوں میں ترتیب دے کر بہت زیادہ مقدار میں معلومات ذخیرہ کی جا سکتی ہیں۔ حیران کن گنجائشسائنسدانوں نے تجربے کے طور پر تقریباً 12 مربع سینٹی میٹر کے ایک شیشے کے ٹکڑے میں 4.8 ٹیرابائٹ ڈیٹا محفوظ کیا۔ یہ مقدار تقریباً دو ملین کتابوں یا پانچ ہزار ہائی ڈیفینیشن فلموں کے برابر ہے۔ اس ڈیٹا کو شیشے کے اندر سینکڑوں تہوں میں محفوظ کیا گیا، جس سے سٹوریج کی گنجائش کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہزاروں سال تک محفوظ ڈیٹااس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ اس کی پائیداری ہے۔ روایتی سٹوریج ڈیوائسز وقت کے ساتھ خراب ہو جاتی ہیں جبکہ شیشے میں محفوظ ڈیٹا کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بجلی یا مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تجربات میں شیشے کو انتہائی درجہ حرارت تک گرم کر کے بھی جانچا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ معلومات 10 ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔مزید یہ کہ شیشے کی یہ سٹوریج ٹیکنالوجی پانی، حرارت، مقناطیسی میدان اور دیگر بیرونی اثرات کے مقابلے میں بھی بہت زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اسے طویل مدتی محفوظ آرکائیوز کے لیے بہترین سمجھا جا رہا ہے۔مستقبل میں ممکنہ استعمالماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد روزمرہ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کے لیے اسٹوریج فراہم کرنا نہیں بلکہ طویل مدتی ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا ہے۔ مثال کے طور پر: قومی یا عالمی تاریخی ریکارڈ، موسمیاتی اور سائنسی ڈیٹا، ثقافتی اور ادبی ورثہ، حکومتی دستاویزات۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ دنیا کی بڑی لائبریریاں اور آرکائیوز لاکھوں کتابوں اور دستاویزات کو شیشے کی چھوٹی پلیٹوں میں محفوظ کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج انسانیت بے شمار ڈیجیٹل معلومات تخلیق کر رہی ہے لیکن موجودہ سٹوریج ٹیکنالوجی اس معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنے کے قابل نہیں۔ اس صورتحال کو بعض ماہرین ڈیجیٹل ڈارک ایج کا خطرہ بھی قرار دیتے ہیں یعنی آنے والی نسلیں ممکن ہے ہمارے دور کی معلومات تک رسائی نہ حاصل کر سکیں۔ شیشے پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی اس مسئلے کا ممکنہ حل فراہم کر سکتی ہے۔شیشے میں ڈیٹا محفوظ کرنے کی یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل کے ڈیجیٹل آرکائیوز کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک چھوٹے سے شیشے کے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنا سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیران کن پیش رفت ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگتی ہے تو ممکن ہے کہ آنے والی صدیوں میں انسانی علم و تہذیب کے بڑے ذخیرے شیشے کے ننھے ٹکڑوں میں محفوظ ہوں۔