ڈیرہ غازی خان

ڈیرہ غازی خان

اسپیشل فیچر

تحریر :


مظفر گڑھ سے دو راستے ڈیرہ غازی خان کی طرف جاتے ہیں، ایک راستہ 125 میل اور دوسرا 70 میل ہے جو کہ غازی گھاٹ کی طرف جاتا ہے۔ دس میل کا راستہ دریائے سندھ میں سے گزرتا ہے۔ کہیں کہیں پانی کھڑا ہے جس پر کشتیوں کے پل بائے گئے ہیں۔ دریائے سندھ 1910 سے لے کر 1976 تک دو تین میل کے علاقے کو کھا گیا ہے۔ ڈیرہ دو تین میل پیچھے رہ گیا ہے۔ڈی جی کے بذاتِ خود پنجاب میں ہے۔ اس کی ایک سرحد بلوچستان سے دوسری سندھ سے اور تیسری خیبر پختون خوا سے ملتی ہے اس لیے یہاں زیادہ تر پنجابی، بلوچی اور پٹھان آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو، بلوچی اور سرائیکی تینوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن ایک ایسی زبان بھی بولی جاتی ہے جس میں ان سب زبانوں کے لفظ موجود ہیں اور اسی طرح ثقافتی رنگ میں بھی سب علاقوں کے رنگ ملے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک ایسے مکمل رنگ کا احساس ہوتا ہے جس کے تحت پاکستان کی ثقافت اور لوک ورثے کا امتزاج اور ہم آہنگی کو سمجھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں DGK ایک ایسا مرکز ہے جو کہ سچے اور صحیح پاکستانی کا اصل تصور پیش کرتا ہے یہ ایک ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں سب علاقوں کے لوگ مل کر پاکستان کے Superman کا حلیہ بناتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ Mystical Traditions کے دو اہم دھارے بھی یہاں آکر مرکزیت اختیار کرلیتے ہیں۔ہم جہاں بھی گئے اور جتنے بھی صوفی اور روحانی بزرگوں کے مزاروں پر سلام کیا۔ اُن کا یا تو براہِ راست تعلق سخی سرور سے تھا یا سخی سرور اُن کے علاقے سے گزرے۔ لہٰذا لوگوں کا تعلق کسی ایسے Mystic ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح سخی سرور سے بنتا ہے چناںچہ یہ ظاہر ہوا کہ ہم سب یا پاکستان کے رہنے والے ہار کے دانوں کی طرح Mystic کے دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔ شاہ سلیمان کا مزار تونسہ شریف میں ہے لیکن بنوں اور کوہاٹ کے علاقوں سے بھی پٹھان آپ کے ہاں حاضری دینے آتے ہیں۔ اسی طرح خواجہ فرید کے ہاں بھی پاکستان کے ہر علاقے سے لوگ آتے ہیں۔ تو اندازہ یہ ہوتا ہے کہ ہم سب اپنے Mystic کی بدولت ایک قومی وحدت میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو ایک علاقے سے دودسرے علاقے میں ہجرت کرتے رہے تاکہ لوگوں کو تعلیم دیں۔ یہ تعلیم بھی ہمارے لوک ورثے کا اہم حصہ ہے، یہ تعلیم مذہب کے علاوہ انسانی قدروں پر بھی بحث کرتی ہے۔یہاں کڑھائی کا کام بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کام صرف عورتیں ہی کرتی ہیں لیکن اس کڑھائی پر بلوچی ٹانکے کا بہت اثر ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہاں کی کڑھائی پنجابی اور بلوچی کڑھائی کا خوب صورت امتزاج ہے تو بے جا نہ ہوگا… رنگوں کا مزاج بھی مِلا جُلا ہے۔جندری یا خراد کا کام زیادہ تر قریبی کام جام پور میں ہوتا ہے لیکن خاص ڈیرہ غازی خان میں بھی کچھ گھرانے یہ کام کرتے ہیں۔ یہاں بچوں کے کھلونوں کی طرف بھی خاص توجہ دی جاتی ہے اور بچوں کا ریڑھا جس سے چلنا سیکھتے ہیں، بہت خوب اور عمدہ بنایا جاتا ہے۔ پہلے یہ ریڑھا پاکستان کے دُور دُور کے علاقوں میں بھی بھیجا جاتا تھا مگر جب سے واکر نے رواج پایا ہے یہ ریڑھا بہت کم جگہوں پر جاتا ہے۔چھوٹا سنگار میز بھی بہت خوب صورت بنتا ہے۔ یہاں کے لیکر آرٹ میں جو رنگ اور ڈیزائن استعمال ہوتے ہیں وہ چنیوٹ کے لیکر آرٹ کی نسبت دھیمے اور ڈیزائن کھلا کھلا ہے۔ڈیرہ غازی خان سے چند میل پہاڑوں میں بلوچ قبائل آباد ہیں جہان تمُن سِسٹم ہے یہاں کے اہم قبائل میں لغاری، قیصرانی، مزار، کھوسے، تھرجانی اور مری بلوچ قابل ذکر ہیں۔ ان بلوچ قبائل کے اپنے رسم و رواج ہیں۔جب کسی کی شادی ہوتی ہے تو عورتیں خوب صورت رنگ برنگے لباس پہن کر اُنٹوں پر بیٹھ جاتی ہیں اور قافلہ روانہ ہوتا ہے۔ اُنٹوں کی لمبی قطار اور اُن پر رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس بلوچ عورتیں… یوں لگتا ہے جیسے رنگوں کا فوراہ چھُوٹ رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’سپیس ایکس‘‘نے چاند کو ’’داغدار‘‘ کر دیا

’’سپیس ایکس‘‘نے چاند کو ’’داغدار‘‘ کر دیا

راکٹ کی ٹکرسے 60 فٹ گہرا گڑھا، قبل اور بعد کی تصاویر جاریچاند کو ہمیشہ سے انسانی تہذیب میں حسن، اسرار اور پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر خلائی تحقیق کے بڑھتے ہوئے دور میں اس کی سطح پر انسانی سرگرمیوں کے نشانات بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ حالیہ تصاویر میں چاند کی سطح پر ایک بڑا گڑھا سامنے آنے کے بعد ماہرین کی توجہ ایک بار پھر خلائی مشنز کے ماحولیاتی اثرات کی جانب مبذول ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس کے ایک راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے نتیجے میں تقریباً 60 فٹ چوڑا گڑھا بن گیا، جس نے یہ اہم سوال اٹھا دیا ہے کہ انسان کی خلائی فتوحات کہیں چاند کے قدرتی حسن اور قدیم سطح کو مستقل طور پر متاثر تو نہیں کر رہیں۔ یہ واقعہ مستقبل کے چاند مشنز، خلائی ملبے اور دوسرے اجرامِ فلکی کے تحفظ کے حوالے سے نئی بحث کوجنم دے رہا ہے۔ناسا نے چاند کی سطح پر اسپیس ایکس کے راکٹ کے ٹکرانے سے بننے والے ایک بہت بڑے گڑھے کی پہلی باضابطہ تصاویر جاری کر دی ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں اسپیس ایکس کا بے قابو فالکن 9 راکٹ کا دوسرا مرحلہ تقریباً 8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے جا ٹکرایا تھا۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ 4,500 کلوگرام وزنی اور 39 فٹ لمبے راکٹ نے چاند سے ٹکراتے وقت اتنی شدید توانائی خارج کی جو تقریباً 15 ہزار ڈائنامائٹ یا تین ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔اب ناسا کے ایک سیٹلائٹ نے اس تصادم کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تصاویر حاصل کی ہیں، جن میں 60 فٹ چوڑا گڑھا واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس‘‘ پر لکھا: ''نشاندہی ہو گئی: فالکن 9 کے ٹکرانے کی جگہ‘‘۔ناسا کے مطابق اس کے ''لونر ریکونیسنس آربیٹر‘‘ نے چاند کی سطح پر بننے والے اس نئے گڑھے کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ناسا نے مزید بتایا کہ 5اگست 2026ء کو اسپیس ایکس کے ''فالکن 9‘‘ کے بالائی مرحلے کے چاند کی سطح سے ٹکرانے کے نتیجے میں یہ گڑھا وجود میں آیا۔حیرت انگیز تصاویر میں نیا بننے والا گڑھا واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے، جس کے کنارے نسبتاً سیاہ نظر آتے ہیں، جبکہ اس کے مرکز سے مختلف سمتوں میں سیاہ دھاریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ دھاریاں اس مٹی اور چٹانی ذرات کی نشاندہی کرتی ہیں جو راکٹ کے ٹکرانے کے نتیجے میں دور تک پھیل گئے۔ناسا نے اپنے لونر ریکونیسنس آربیٹر کو استعمال کرتے ہوئے یہ تصاویر حاصل کیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں مدار کے دوران جب خلائی جہاز اس مقام کے اوپر سے گزرا تو اس نے چاند کی سطح پر بننے والے گڑھے کی تصاویر کھینچیں۔اس دوران سیٹلائٹ چاند کی سطح سے تقریباً 97 کلومیٹر کی بلندی پر تھا اور ایک میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔گڑھے کی چوڑائی معلوم کرنے کے علاوہ سائنس دانوں نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ اس کی گہرائی 10 فٹ سے کم ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی کوریا کے ایک قمری سیٹلائٹ نے بھی اس مقام کی تصاویر حاصل کی تھیں، جن میں چاند کی سطح پر سیاہ پڑ جانے والا گڑھا واضح طور پر دکھائی دیا۔کوریا ایرو اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا خلائی جہاز ''دانوری‘‘ (Danuri) صبح 7 بج کر 34 منٹ پر (برطانوی وقت کے مطابق) اس مقام کے اوپر سے گزرا، جو اسپیس ایکس کے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے کچھ ہی دیر بعد کا وقت تھا۔ اس سیٹلائٹ نے تصادم سے 30 منٹ قبل بھی اسی مقام کی تصاویر حاصل کی تھیں، جن میں چاند کی سطح کی قبل اور بعد کی حیرت انگیز صورتِ حال واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔دریں اثنا، اسپین کے محققین کے ایک گروپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے عین وقت کی واحد ویڈیو فوٹیج ریکارڈ کی ہے۔تصادم کی روشنی زمین سے کیوں نہیں دکھائی دی؟یہ تصادم چاند کے شمال مغربی کنارے پر واقع آئن اسٹائن گڑھے کے قریب پیش آیا۔ تصادم کے وقت چاند کا یہ حصہ سورج کی جانب رخ کیے ہوئے تھا۔نتیجتاً راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کے وقت پیدا ہونے والی ابتدائی چمک یا شعلہ زمین سے دکھائی نہیں دے سکا۔''فالکن 9 راکٹ کا مقصد چاند سے ٹکرانا نہیں تھا‘‘اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ گزشتہ سال جنوری میں لانچ کیا گیا تھا۔راکٹ اپنے ساتھ دو نجی قمری لینڈرز، فائر فلائی ایرو اسپیس کا ''بلیو گھوسٹ‘‘ اور آئی اسپیس کا ''ریزِلینس‘‘ لے کر چاند کے مدار کی جانب روانہ ہوا تھا۔فالکن 9 کا بنیادی بوسٹر دوبارہ استعمال کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ راکٹ کے بالائی حصوں کو خلا میں پہنچانے کے بعد یہ بوسٹر محفوظ طریقے سے دوبارہ زمین پر واپس آ جاتا ہے۔تاہم یہ حصے کئی برس تک خلا میں گردش کرنے کے بعد اکثر زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہی جل کر تباہ ہو جاتے ہیں۔اگرچہ اس راکٹ کا چاند سے ٹکرانا کبھی بھی مقصد نہیں تھا، تاہم چاند کی کششِ ثقل اور غیر متوقع شمسی موسمی حالات کے امتزاج نے بالآخر فالکن 9 کے راکٹ کا رخ تبدیل کر دیا اور وہ چاند سے ٹکرانے کے راستے پر آ گیا۔ ابتدائی طور پر آزاد ماہرین فلکیات نے راکٹ کے چاند کی جانب بڑھتے ہوئے خطرناک راستے کی نشاندہی کی۔ بعدازاں ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے بھی اس صورتحال کی تصدیق کی۔سوشل میڈیا پر صارفین کے تبصرے''ایکس‘‘ پر شیئر کی گئی اس نئی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک شخص نے طنزیہ انداز میں لکھا: ''اسپیس ایکس چاند پر گرافٹی بنا رہا ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: ''ایکس نے مقام کی نشاندہی کر دی‘‘۔ایک اور شخص نے لکھا: ''کیا چاند پر بننے والا یہ نیا گڑھا واقعی بری بات نہیں؟ ہم نے زمین کے ساتھ پہلے ہی اچھا سلوک نہیں کیا، اب چاند سے بھی ٹکرانا شروع کر دیا ہے‘‘

ال نینو:بدلتا مون سون اور سیلابی خطرات

ال نینو:بدلتا مون سون اور سیلابی خطرات

مون سون کی حالیہ بارشوں نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے خطرات ایک بار پھر نمایاں کر دیئے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارش کے بعد نشیبی علاقے زیرآب آئے، نالے بپھر گئے اور گھروں میں پانی داخل ہوا۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی شدید بارش، شہری سیلاب اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ رہا، جبکہ سندھ کے کئی شہروں میں بھی اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ پاکستان اب قابلِ پیش گوئی مون سون کے بجائے موسم کی شدت اور بے یقینی کا سامنا کررہا ہے۔ کہیں مختصر وقت میں شدید بارشیں ہوتی ہیں، کہیں طویل خشک وقفے آتے ہیں۔ یہی بدلتا موسمی رجحان پاکستان کیلئے اصل چیلنج ہے۔ ال نینو کو صرف خشک سالی کی علامت سمجھنا درست نہیں۔ یہ عالمی موسمی نظام میں خلل ڈالنے والا اہم عنصر ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق 2026 ء میں استوائی بحرالکاہل کے پانی غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے '' ال نینو‘‘ کے امکانات بڑھے، جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت اور شدید موسمی واقعات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوا۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ مون سون ملک کے آبی، زرعی اور معاشی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔مون سون بارشیں دریائوں، ڈیموں، زیر زمین پانی اور زرعی زمینوں کو پانی فراہم کرتی ہیں۔ اگر مون سون کے دن کم ہوجائیں لیکن بارش چند گھنٹوں میں انتہائی شدت سے برسنے لگے تو مجموعی بارش کم ہونے کے باوجود تباہی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ رواں مون سون میں راولپنڈی اور اسلام آباد اس خطرے کی واضح مثال بن کر سامنے آئے۔17 اگست کو شدید بارش کے باعث جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوا، سڑکیں زیرآب آئیں اور برساتی نالوں میں طغیانی سے شہری زندگی متاثر ہوئی۔ پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی شدید بارشوں کے باعث شہری سیلاب کا خطرہ رہا۔ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد سمیت مختلف شہروں کے نشیبی علاقوں کو خطرات سے آگاہ کیا گیا، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ سندھ بھی بدلتے موسمی نظام سے محفوظ نہیں۔ رواں مون سون میں حیدرآباد، سکھر، شہید بینظیرآباد، میرپورخاص، عمرکوٹ اور بدین سمیت مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہوا۔ اس صورتحال نے واضح کردیا کہ موسمیاتی خطرات اب کسی ایک صوبے یا علاقے تک محدود نہیں رہے۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بیک وقت سیلاب اور خشک سالی دونوں خطرات سے نمٹنے کیلئے تیار ہے؟ بعض علاقوں میں پانی کی قلت، خشک سالی اور گرمی فصلوں کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ دوسرے علاقوں میں شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ تباہی مچا سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے دونوں خطرات کو بیک وقت ممکن بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ دبائو زراعت پر پڑتا ہے۔ کسان کیلئے بارش کا وقت اس کی مقدار جتنا ہی اہم ہے۔ بارش دیر سے ہو تو بوائی متاثر ہوتی ہے، زیادہ شدت سے ہو تو کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں جبکہ شدید گرمی پیداوار کم کرسکتی ہے۔ خشک وقفہ طویل ہونے کی صورت میں زیرِ زمین پانی پر انحصار بڑھتا ہے، جس سے اخراجات اور پانی کی کمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی موسمیاتی آفات کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے2025-26ء کے مطابق 2025 ء کے سیلاب سے 822 ارب روپے کے نقصانات ہوئے، ایک ہزار 39 سے زائد افراد جاں بحق، 40 لاکھ سے زیادہ بے گھر اور تقریباً65لاکھ متاثر ہوئے جبکہ زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔اس پس منظر میں پاکستان کو پیشگی تیاری پر مبنی موسمیاتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کو کسانوں، شہریوں اور مقامی انتظامیہ تک بروقت پہنچانا ضروری ہے۔پانی کے بہتر انتظام پر بھی فوری توجہ درکار ہے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیر زمین پانی ری چارج کرنے، چھوٹے ذخائر بنانے اور سیلابی پانی کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے منصوبے ضلعی سطح پر بنائے جائیں۔ بڑے شہروں میں برساتی پانی کی نکاسی بہتر بنانے کے ساتھ قدرتی نالوں پر تجاوزات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ کسانوں کو خشک سالی اور گرمی برداشت کرنے والے بیج، جدید آبپاشی، فصلوں کی انشورنس اور موسمیاتی مشاورت فراہم کی جائے۔ انہیں فصل کے انتخاب کے ساتھ بوائی کے مناسب وقت، پانی کی ضرورت اور متوقع موسمی خطرات سے بھی آگاہ کیا جائے۔ شدید گرمی، بارش، سیلاب اور بیماریوں کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مربوط موسمیاتی چیلنج کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ محکمہ موسمیات، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، آبپاشی، زراعت، بلدیاتی اداروں اور محکمہ صحت کے درمیان بہتر رابطہ وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اداروں کی کمی نہیں، اصل ضرورت بروقت معلومات، مشترکہ منصوبہ بندی اور فوری کارروائی کی ہے۔ ''ال نینو‘‘ کا آغاز بحرالکاہل میں ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات پاکستان کے کھیتوں، شہروں اور گھروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور خصوصاً راولپنڈی اسلام آباد میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف کم یا زیادہ بارش نہیں بلکہ بارشوں کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور شدت ہے۔ موسمیاتی پالیسی کو اب ہنگامی ردعمل سے آگے بڑھانا ہوگا۔ پاکستان کو ایسے مستقبل کیلئے تیار ہونا ہوگا جہاں شدید بارش، اچانک سیلاب، طویل خشک وقفے اور بڑھتی ہوئی گرمی ایک ہی موسم میں مختلف علاقوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ ''ال نینو‘‘ محض بحرالکاہل کا موسمی واقعہ نہیں، پاکستان کیلئے بدلتے موسم کے ساتھ بدلتی پالیسی کی واضح وارننگ ہے۔

ہوئے مر کے ہم جو رسوا!

ہوئے مر کے ہم جو رسوا!

اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیزوتکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کو ضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صِرف پس ماندگان کوبلکہ خود مجھے بھی بڑا دکھ ہوتا ہے۔ لیکن مرزا نے چپ ہونا سیکھا ہی نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ صحیح بات کوغلط موقع پربے دغدغہ کہنے کی جو خداداد صلاحیت انہیں ودیعت ہوئی ہے وہ کچھ ایسی ہی تقریبوں میں گل کھلاتی ہے۔ وہ گھپ اندھیرے میں سررہگزر چراغ نہیں جلاتے، پھلجھڑی چھوڑتے ہیں، جس سے بس ان کا اپنا چہرہ رات کے سیاہ فریم میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگتا ہے۔ اور پھلجھڑی کا لفظ تو یونہی مروّت میں قلم سے نکل گیا، ورنہ ہوتا یہ ہے کہ ''جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کراٹھے‘‘۔اس کے باوصف، وہ خدا کے ان حاضرو ناظر بندوں میں سے ہیں جو محلّے کی ہرچھوٹی بڑی تقریب میں، شادی ہو یا غمی، موجود ہوتے ہیں۔ بالخصوص دعوتوں میں سب سے پہلے پہنچتے اورسب کے بعد اٹھتے ہیں۔ اِس اندازِنشست و برخاست میں ایک کھلا فائدہ یہ ہے کہ وہ باری باری سب کی غیبت کرڈالتے ہیں۔ ان کی کوئی نہیں کرپاتا۔چنانچہ اس سنیچر کی شام کو بھی میوہ شاہ قبرستان میں وہ میرے ساتھ تھے۔ سورج اس شہر خموشاں کو جسے ہزاروں بندگانِ خدا نے مرمر کے بسایا تھا۔ سامنے بیری کے درخت کے نیچے ایک ڈھانچہ قبربدرپڑا تھا۔ چاروں طرف موت کی عمل داری تھی اور ساراقبرستان ایسا اداس اوراجاڑ تھا جیسے کسی بڑے شہر کا بازار اتوار کو۔ سبھی رنجیدہ تھے۔ (بقول مرزا، دفن کے وقت میّت کے سوا سب رنجیدہ ہوتے ہیں) مگر مرزا سب سے الگ تھلگ ایک پرانے کتبے پر نظریں گاڑے مسکرا رہے تھے۔ چند لمحوں بعد میرے پاس آئے اور میری پسلیوں میں اپنی کْہنی سے آنکس لگاتے ہوئے اس کتبے تک لے گئے، جس پر منجملہ تاریخ پیدائش و پنشن، مولد و مسکن، ولدیّت و عہدہ (اعزازی مجسٹریٹ درجہ سوم) آسودہ لحد کی تمام ڈگریاں مع ڈویژن اور یونیورسٹی کے نام کے کندہ تھیں اورآخرمیں، نہایت جلی حروف میں، منہ پھیر کر جانے والے کو بذریعہ قطعہ بشارت دی گئی تھی کہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد اس کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے۔میں نے مرزاسے کہا، ''یہ لوحِ مزار ہے یا ملازمت کی درخواست؟بھلا ڈگریاں، عہدہ اورولدیت وغیرہ لکھنے کا کیا تک تھا؟‘‘انھوں نے حسب عادت بس ایک لفظ پکڑ لیا۔ کہنے لگے ''ٹھیک کہتے ہو۔ جس طرح آج کل کسی کی عمر یا تنخواہ دریافت کرنا بری بات سمجھی جاتی ہے، اِسی طرح، بالکل اِسی طرح بیس سال بعد کسی کی ولدیت پوچھنا بداخلاقی سمجھی جائے گی‘‘۔اب مجھے مرزا کی چونچال طبیعت سے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ لہٰذا انھیں ولدیت کے مستقبل پر مسکراتا چھوڑ کر میں آٹھ دس قبردور ایک ٹکڑی میں شامل ہوگیا، جہاں ایک صاحب جنت مکانی کے حالاتِ زندگی مزے لے لے کر بیان کررہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ خداغریق رحمت کرے، مرحوم نے اِتنی لمبی عمر پائی کہ ان کے قریبی اعزّہ دس پندرہ سال سے ان کی اِنشورنس پالیسی کی امید میں جی رہے تھے۔ ان امیدواروں میں سے بیشتر کو مرحوم خود اپنے ہاتھ سے مٹی دے چکے تھے۔ بقیہ کو یقین ہو گیا تھا کہ مرحوم نے آبِ حیات نہ صرف چکھا ہے بلکہ ڈگڈگا کے پی چکے ہیں۔ راوی نے تو یہاں تک بیان کیا کہ ازبسکہ مرحوم شروع سے رکھ رکھاؤ کے حد درجہ قائل تھے، لہٰذا آخر تک اس صحت بخش عقیدے پر قائم رہے کہ چھوٹوں کو تعظیماً پہلے مرنا چاہیے۔ البتہ اِدھر چند برسوں سے ان کو فلکِ کج رفتار سے یہ شکایت ہوچلی تھی کہ افسوس اب کوئی دشمن ایسا باقی نہیں رہا، جسے وہ مرنے کی بددعا دے سکیں۔ان سے کٹ کر میں ایک دوسری ٹولی میں جا ملا۔ یہاں مرحوم کے ایک شناسا اور میرے پڑوسی ان کے لڑکے کو صبرِجمیل کی تلقین اور گول مول الفاظ میں نعم البدل کی دعا دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ برخودار! یہ مرحوم کے مرنے کے دن نہیں تھے۔ حالانکہ پانچ منٹ پہلے یہی صاحب، جی ہاں، یہی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ مرحوم نے پانچ سال قبل دونوں بیویوں کو اپنے تیسرے سہرے کی بہاریں دکھائی تھیں اور یہ ان کے مرنے کے نہیں، ڈوب مرنے کے دن تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے انگلیوں پرحساب لگا کر کانا پھوسی کے انداز میں یہ تک بتایا کہ تیسری بیوی کی عمرمرحوم کی پنشن کے برابر ہے۔ مگر ہے بالکل سیدھی اور بے زبان۔ اس اللہ کی بندی نے کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کے دانت نہیں ہیں۔ مگر مرحوم اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے محض اپنی دعاؤں کے زور سے موصوفہ کا چال چلن قابو میں کررکھا ہے۔ البتہ بیاہتا بیوی سے ان کی کبھی نہیں بنی۔ بھری جوانی میں بھی میاں بیوی 62 کے ہند سے کی طرح ایک دوسرے سے منہ پھیرے رہے اور جب تک جیے، ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہے۔میں نے گفتگو کا رخ موڑنے کی خاطر گنجان قبرستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہی چپّہ چپّہ آباد ہوگیا۔ مرزا حسب معمول پھر بیچ میں کود پڑے۔ کہنے لگے، دیکھ لینا، وہ دن زیادہ دور نہیں جب کراچی میں مردے کو کھڑا گاڑنا پڑے گا اور نائیلون کے ریڈی میڈ کفن میں اوپر زِپ لگے گی تاکہ منہ دیکھنے دکھانے میں آسانی رہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!جمشید انصاری:ورسٹائل اداکار (2005- 1945ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!جمشید انصاری:ورسٹائل اداکار (2005- 1945ء)

٭...31 دسمبر 1942ء کو سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔چھ برس کی عمر میں اپنی فیملی کے ساتھ بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔٭... 1964ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی، پھر وہ لندن چلے گئے جہاں چار سالہ قیام کے دوران ٹی وی پروڈکشن کے کورسز کیے،کئی سٹیج شوز میں بھی کام کیا۔ 1968ء میں وطن واپس آ گئے۔٭...لاہور ٹی وی سے ان کا پہلا ڈرامہ ''جھروکے‘‘ تھا، پھر کراچی سے انہوں نے آغا ناصر کے لکھے ہوئے ڈرامے ''گھوڑا گھاس کھاتا ہے‘‘ میں اپنی خوبصورت اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ٭...ٹی وی سیریز ''زیر زبر پیش‘‘ میں وہ اپنے فن کی بلندیوں پر تھے۔ اس ڈرامے میں ان کا تکیہ کلام تھا ''زور کس پر ہوا‘‘ یہ بہت مقبول ہوا۔٭...ٹی وی سیریز ''کرن کہانی‘‘ میں انہوں نے صفدربھائی کا کردارادا کیا اور بہت شہرت حاصل کی۔٭... ''انکل عرفی‘‘ ان کی ایک مشہور سیریز تھی۔ اس میں حسنات بھائی کے کردار نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ اس ڈرامے میں ان کا تکیہ کلام تھا ''چکو ہے میرے پاس،جوڈو جانتا ہوں‘‘۔٭...ان کے دیگر مقبول ڈراموں میں ''تنہائیاں، ان کہی، ہاف پلیٹ،شوشا ،سلور جوبلی،دوسری عورت،منزلیں اور ماہ نیم شب‘‘ شامل ہیں٭...انہوں نے بے شمار ریڈیو ڈراموں میں بھی کام کیا۔٭...وہ اپنی بے ساختہ اور برجستہ اداکاری کی وجہ سے مشہور تھے۔٭...1970ء میں انہوں نے پرویز ملک کی فلم ''سوغات‘‘ میں کام کیا۔ ان کی دیگر فلموں میں پاکیزہ، دیوار اور اج دیاں کڑیاں‘‘ شامل ہیں۔٭...انہوں نے 55 نیشنل ایوارڈ اور دو انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کیے۔٭...24 اگست2005ء کو برین ٹیومر کے باعث ان کا انتقال ہوا۔

آج کا دن

آج کا دن

 واشنگٹن پر حملہ24 اگست 1814ء کوبرطانوی فوج نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن پر حملہ کیااوروائٹ ہائوس سمیت کئی اہم عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔امریکہ اور برطانیہ کے درمیان یہ جنگ 1812ء میں شروع ہوئی تھی۔برطانیہ نے اپنی بڑی فوجیں امریکہ کی طرف بھیجیں،امریکی افواج مزاحمت نہ کر سکیں اور صدر جیمز میڈیسن شہر چھوڑکرفرار ہو گئے۔یہ واقعہ امریکی تاریخ میں دشمن افواج کی طرف سے دارالحکومت پر براہِ راست قبضے کی واحد بڑی مثال ہے۔نیدرلینڈز کا جدید آئین 1815ء میں آج کے روزنیدرلینڈز کے جدید آئین پر دستخط کیے گئے۔ یہ آئین ملک کے سیاسی اور حکومتی نظام کی تشکیل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ اس کے ذریعے ریاستی اداروں کے اختیارات، حکمرانی کے اصول اور شہریوں سے متعلق بنیادی معاملات کو منظم کیا گیا۔ نیدرلینڈز کی سیاسی تاریخ میں اس آئین کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس نے ملک کے آئینی نظام کی بنیاد مضبوط کرنے اور مستقبل میں جمہوری طرزِ حکمرانی کی تشکیل کیلئے اہم کردار ادا کیا۔یوکرین کی آزادی24اگست1991ء کو یوکرین نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا۔آزادی کا اعلان ایک ایکٹ کے ذریعے کیا گیاجس کے بعدیوکرین نے خود کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔یہ ایکٹ 19 اگست کو سوویت یونین میں بغاوت کی کوشش کے بعد اپنایا گیا تھا۔ یوکرینی ایس ایس آر کی سپریم سوویت (پارلیمنٹ) نے ایک خصوصی اجلاس میں ایکٹ آف ڈیکلریشن کو بھاری اکثریت سے منظور کیا۔360میں سے ایکٹ کے حق میں 321 اور مخالفت میں 2 ووٹ کاسٹ ہوئے اور 6 غیر حاضررہے۔سٹرلنگ ہال دھماکہ24 اگست 1970ء کو یونیورسٹی آف وسکونسن کے سٹرلنگ ہال میں ایک بم دھماکہ ہوا ۔یونیورسٹی میں دھماکہ اس لئے کیا گیا کیونکہ یہاں کے شعبہ تحقیق کا ویت نام جنگ میں امریکی فوج کے ساتھ مسلسل رابطہ تھا۔دھماکے میں یونیورسٹی کے فزکس کے ایک محقق پروفیسر کی موت ہو ئی جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوئے۔حملہ آور یونیورسٹی کے شعبہ تحقیق برائے جنگی اسلحہ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے ۔ دھماکے کی وجہ سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔قرطبہ معاہدہقرطبہ معاہدے کے مطابق میکسیکو کی جنگ آزادی کے اختتام پر سپین سے میکسیکو کی آزادی کا اعلان کیا گیا۔ اس معاہدے پر 24 اگست 1821ء کو دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے میں 17 آرٹیکلز موجود ہیں۔ معاہدے پر بہت سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے ۔ معاہدے میں موجود کچھ شرائط کو آج بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ہینن ائیر لائنزچینی ایئر لائنز ہینن کی پرواز 8387 ایک اندرون ملک پرواز تھی ۔ 24 اگست 2010ء کی رات کو جہاز شدید دھند کی وجہ سے ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔جہاز میں 99افراد سوار تھے جس میں سے 44افراد جان بحق جبکہ دیگر شدید زخمی ہوئے۔جون 2012ء میں جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پرواز کا عملہ دھندمیں آپریشنز کیلئے حفاظتی طریقہ کار کا مشاہدہ کرنے میں ناکام رہا اور اسی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

پراسرار ’’کائناتی لہریں‘‘

پراسرار ’’کائناتی لہریں‘‘

چینی ماہرین فلکیات کی اہم دریافت،کہکشاں کے پوشیدہ راز کھلنے کی امیدہم جس وسیع و عریض کائنات کا حصہ ہیں، اس میں ہماری زمین ایک معمولی سے سیارے اور سورج ایک عام سے ستارے کی حیثیت رکھتا ہے، مگر ہمارا نظامِ شمسی جس کہکشاں میں واقع ہے وہ اپنے اندر بے شمار راز سموئے ہوئے ہے۔ ملکی وے کہکشاں میں ستاروں، گیس، گردوغبار اور دیگر اجرامِ فلکی کی اربوں سال پر محیط حرکات نے اسے ایک انتہائی پیچیدہ اور متحرک نظام بنا دیا ہے۔ اب چینی ماہرین فلکیات نے اس کہکشاں کے بارے میں ایک اہم دریافت کرتے ہوئے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی لہروں کا سراغ لگایا ہے، جو ملکی وے کی سہ جہتی ساخت اور ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔یہ اہم دریافت چینی اکیڈمی آف سائنسز کے زیر انتظام ''پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری‘‘ (PMO) سے وابستہ محققین کی ایک ٹیم نے کی ہے۔سائنسی جریدے '' نیچر آسٹرونومی‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدات اس بات کے نئے شواہد فراہم کرتے ہیں کہ ملکی وے کی بیرونی ساخت محض ایک ہموار ڈسک پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر عمودی اتار چڑھاؤ اور لہریلی ساختیں بھی موجود ہیں۔ملکی وے کی غیر معمولی ساختفلکیاتی مشاہدات سے پہلے ہی یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ملکی وے ایک مکمل طور پر ہموار کہکشاں نہیں۔ اس کی مجموعی شکل کسی قدر ایسی خمیدہ پلیٹ یا ریکارڈ سے مشابہ ہے جس کے ایک جانب کا کنارہ اوپر اور دوسری جانب کا کنارہ نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے۔ اس بڑے پیمانے کی بگاڑ کو فلکیات کی زبان میں ''وارپ‘‘ (Warp) کہا جاتا ہے۔ کہکشاں کے بڑے پیمانے کے اس خم کے علاوہ اس کے اندر چھوٹی اور نسبتاً باریک عمودی ساختوں کے بارے میں معلومات محدود تھیں۔ سائنسدانوں کیلئے یہ جاننا ہمیشہ ایک اہم سوال رہا ہے کہ ملکی وے کی ڈسک میں یہ اتار چڑھاؤ کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیا ان کا تعلق کہکشاں کے گرد موجود دیگر اجرام یا چھوٹی کہکشاؤں کی کششِ ثقل سے ہے۔چینی محققین کی حالیہ تحقیق نے اسی سوال کا ایک ممکنہ جواب پیش کیا ہے۔''وارپ‘‘ کو الگ کیا تو نئی حقیقت سامنے آگئیاس تحقیق میںسائنسدانوں نے پہلے ملکی وے کی بیرونی ڈسک میں موجود بڑے پیمانے کے ''وارپ‘‘ کو ماڈل کی صورت میں پیش کیا۔ اس کے بعد اس بڑے خم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کیا،تاکہ اس کے پیچھے چھپی نسبتاً باریک ساختوں کا مشاہدہ کیا جا سکے۔یہیں سے تحقیق نے ایک دلچسپ رخ اختیار کیا۔بڑے پیمانے کے خم کو نکالنے کے بعد باقی ماندہ ساخت میں واضح لہریلے عمودی اتار چڑھاؤ نظر آئے۔ یہ ساختیں کسی حد تک پانی کی سطح پر پھیلنے والی لہروں سے مشابہ دکھائی دیتی ہیں۔ سائنسدانوں نے انہیں ''کورگیشنز‘‘ (Corrugations) قرار دیا ہے۔ یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ ملکی وے کی بیرونی ڈسک میں ان لہریلی ساختوں کے بڑے پیمانے پر پھیلے ہونے کے مشاہداتی شواہد سامنے آئے ہیں۔کہکشاں میں لہریں کیسے بنتی ہیں؟اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر ملکی وے میں یہ لہریں پیدا کیسے ہوئیں؟محققین کے مطابق ان ساختوں کے پیچھے ممکنہ طور پر ثقلی خلل یا بیرونی کششِ ثقل کارفرما ہے۔ جب کسی بڑی یا چھوٹی کہکشاں کی کششِ ثقل ملکی وے پر اثر انداز ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہماری کہکشاں کی ڈسک میں ارتعاش پیدا ہوسکتا ہے۔چینی محققین کا خیال ہے کہ یہ عمودی لہریں ممکنہ طور پر ایسی ہی بینڈنگ ویوز (Bending Waves)کا نتیجہ ہیں۔ یہ لہریں کہکشاں کی گیس، ستاروں اور دیگر مادے کی وسیع پیمانے پر ہونے والی عمودی حرکات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔سائنسدانوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ بونی کہکشاؤں (Dwarf Galaxies)جیسی چھوٹی سیٹلائٹ کہکشائیں جب ملکی وے کے قریب سے گزرتی ہیں تو ان کی کششِ ثقل ہماری کہکشاں کی بیرونی ڈسک کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس ثقلی مداخلت کے نتیجے میں ملکی وے کی ڈسک میں لہریں پیدا ہوسکتی ہیں جو وقت کے ساتھ بیرونی حصوں میں پھیلتی رہتی ہیں۔کائناتی ماضی کے سراغماہرین فلکیات کیلئے کہکشاؤں میں موجود ایسی ساختیں دراصل ماضی کے واقعات کے نشان بھی ہوسکتی ہیں۔ جس طرح زمین پر کسی قدیم واقعے کے آثار ہمیں اس کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں، اسی طرح کہکشاں کی موجودہ ساخت میں موجود لہریں اور بگاڑ اس کے ماضی میں ہونے والے ثقلی تعاملات کی یادگار ہوسکتے ہیں۔اگر سائنسدان یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ ملکی وے میں یہ لہریں کس وقت اور کس بیرونی اثر کے نتیجے میں پیدا ہوئیں تو اس سے ہماری کہکشاں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان لہروں کے ذریعے ماضی میں ملکی وے کے قریب سے گزرنے والی کسی بونی کہکشاں یا دوسرے بڑے فلکیاتی جسم کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جاسکیں۔کائنات کو سمجھنے کی ایک نئی کھڑکیچینی سائنسدانوں کی یہ تحقیق اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ جدید دور میں فلکیات صرف دور دراز کہکشاؤں کے مشاہدے تک محدود نہیں رہی بلکہ سائنس دان ہماری اپنی کہکشاں کی انتہائی پیچیدہ اندرونی ساخت کو بھی تین جہتی نقشوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔30 ہزار سے زائد سالماتی بادلوں کے تفصیلی جائزے سے حاصل ہونے والے نتائج نے ملکی وے کی بیرونی ڈسک کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ آنے والے برسوں میں مزید حساس دوربینوں اور جدید کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ان لہریلی ساختوں کا زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ممکن ہے مستقبل کی تحقیقات یہ واضح کردیں کہ ملکی وے میں ایسی لہریں کتنی وسیع ہیں، وہ کس رفتار سے حرکت کرتی ہیں اور ان کے پیچھے کون سے ثقلی واقعات کارفرما رہے ہیں۔یوں چینی محققین کی یہ دریافت بظاہر کہکشاں میں موجود چند لہریلی ساختوں کا مشاہدہ ہے، لیکن اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔ ملکی وے کے ''کائناتی ارتعاشات‘‘ دراصل ہماری کہکشاں کی ایک ایسی داستان سنا رہے ہیں جو اربوں سال سے جاری ہے۔ ان لہروں کا مطالعہ نہ صرف ملکی وے کی سہ جہتی ساخت اور حرکیات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ اس بات پر بھی نئی روشنی ڈال سکتا ہے کہ کہکشائیں کس طرح ایک دوسرے سے متاثر ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ اپنی شکل تبدیل کرتی ہیں۔