اکال گڑھ اور گجرات کی مہمیں

اکال گڑھ اور گجرات کی مہمیں

اسپیشل فیچر

تحریر : کنہیا لال


چونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ترقی اور حصول ریاست و دولت سے سب سکھ سردار جلتے تھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ تازہ نہال بوستان جاہ و جلال بڑھنے نہ پائے، ابھی سے اس کو کاٹ دیا جائے تو بہتر ہے۔ زیادہ تر حسد و بغض اس وقت سردار صاحب سنگھ بھنگی کو تھا جس کا قبضہ لاہور کے تیسرے حصے سے بھی جاتا رہا تھا اور آئندہ اس کو اطمینان نہ تھا کہ حتیٰ الامکان مہاراجہ رنجیت سنگھ اس کے علاقے پر قبضہ نہ کرے گا، بلکہ اس کو یقین تھا کہ لاہور میں رنجیت سنگھ جمعیت قائم کرکے مجھ پر حملہ آور ہو گا۔ اس فکر و اندیشہ میں اس نے فوج کو بڑھایا اور سامان جنگ کا بہت سا جمع کیا اور قریب تھا کہ وہ ایک بڑے بھاری مجمع کے ساتھ لاہور پر یورش کرے، مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جب یہ خبر پائی مناسب جانا کہ خود دشمن پر حملہ کرے اور اس کا ملک اس سے چھین لے یا اپنا تابعدار بنائے۔ چنانچہ موجودہ فوج کے ساتھ فوراً گجرات کو روانہ ہوا۔ جب فوج گجرات کے نزدیک پہنچی، صاحب سنگھ میدان میں آیا اور قلعے کے دروازے بند کرکے لڑائی شروع کی۔ مہاراجہ کی فوج نے قلعے کے چاروں طرف مورچے باندھ دیئے اور اتواپ سے گولہ رانی شروع کی۔ بہت روز تک فریقین کی طرف سے گولہ چلتا رہا۔ گولوں کی ضرب سے بہت سی دیوار گر گئی اور صاحب سنگھ فتح سے ناامید ہو گیا۔ تب اس نے پیغام صلح کا بھیجا اوراطاعت پر راضی ہوا۔ رنجیت سنگھ نے اس سے بڑا بھاری نذرانہ لیا اور آئندہ کے لئے وعدہ اطاعت کالے کر محاصرہ اٹھا لیا اور لاہور کو واپس آیا۔ لاہور میں آکر خبر پہنچی کہ سردار دل سنگھ، سردار مہان سنگھ مہاراجے کے باپ کا دوست ، جس کو سردار مہان سنگھ نے قصبہ اکال گڑھ فتح کرکے بخش دیا تھا، صاحب سنگھ کا دوست، ورفیق بن گیا ہے اور دونوں آپس میں ایک ہو کر چاہتے ہیں کہ فوج بڑھا کر لاہور کو آئین اور جنگ کریں۔ چونکہ دل سنگھ دست پروردہ و پرورش یافتہ سردار مہان سنگھ کا تھا، اس بات کے سننے سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نہایت آزردہ خاطر ہوا اور چاہا کہ جب تک دشمن اپنے ارادے پر کامیاب ہوں، پہلے ہی سے ان کا انتظام کر لے۔ فی الفور ایک خط بہ نام دل سنگھ بہ مضمون ’’اشتیاق ملاقات اور جوش محبت کے‘‘ لکھا اور درج کیا کہ’’ جس طرح سے میرا باپ آپ کا جانی دوست اور دلی خیر خواہ تھا، اسی طرح میں ہوں اور یہ بھی مجھ کو یقین ہے کہ آپ کو بھی بہ نظر محبت میرے باپ کے مجھ سے زیادہ کوئی عزیز نہ ہو گا اور جس طرح کہ آپ نے اور میرے باپ نے باہم محبت و اتفاق رکھ کر ملک گیری کی اور سردار والیان ملک بن گئے، اسی طرح میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ بلا تامل میرے پاس چلے آئیں اورمیری ہمراہی میں فتوحات میں مشغول ہوں۔ دونوں کی سعی و کوشش سے جو ملک مفتوح ہو گا وہ نصفا نصف تصور کیا جائے گا۔ ایک مقام پر بیٹھ کر قناعت کرنا جوانمردوں اور بہادروں کا کام نہیں ہے۔ آپ میرے بزرگ اور میرے باپ کے دوست ہیں۔ مجھ کو آپ سے کچھ دریغ نہ ہو گا، فقط‘‘۔ یہ تحریر جب سردار دل سنگھ کے پاس پہنچی، طمع کے دام میں آگیا اور فوراً صاحب سنگھ سے برگشتہ ہو کر تیار ہو گیا کہ رنجیت سنگھ کے پاس جا کر اور اس کی فوج لاکر صاحب سنگھ سے ملک چھین لے۔ غرض وہ لاہور میں آگیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پہلے ملاقات بڑے تپاک سے اس کے ساتھ کی اور قلعے کے اندر اتارا۔ جب رات ہوئی تو سپاہیوں کا پہرہ اس پر تعینات کرکے نظر بند کر لیا۔ جب وہ قید میں آگیا تو اکال گڑھ کے دخل کے لئے مہاراجہ رنجیت سنگھ مع فوج لاہور سے روانہ ہوا۔ دل سنگھ کی رانی نے یہ خبر پائی کہ رنجیت سنگھ میرے شوہر کو قید کرکے اکال گڑھ کے فتح کرنے کو آیا ہے تو فی الفور اس نے شہر کے دروازے بند کر لئے اور قلعے پر دوتوپیں چڑھا دیں اور چاروں دیواروں پر فوج مامور کر کے مستعد بہ جنگ ہو بیٹھی۔ جب رنجیت سنگھ وہاں پہنچا، معاملہ دگرگوں نظر آیا جس کی امید نہ تھی۔ اگرچہ بعض آدمیوں نے منع کیا کہ اب عورت سے لڑنا مردوں کو کیا ضرور ہے، جب اس کا خاوند ہی ہمارے پاس قید ہے تو یہ ملک گویا ہمارا ہی ملک ہے۔ مگر رنجیت سنگھ اپنی ضد سے باز نہ آیا اور لڑائی شروع کر دی۔ دونوں طرف سے توپ و بندوق چلنے لگی۔ بہت روز لڑائی ہوتی رہی۔ اکثر اوقات وہ عورت اپنی فوج کے ساتھ قصبے سے نکل کر بھی رنجیت سنگھ کی فوج پر مردانہ وار حملہ کرتی۔ ادھر تو لڑائی جاری رکھی اور ادھر اس نے اپنا وکیل صاحب سنگھ بھنگی کے پاس بہ طلب امداد و کمک کے بھیجا۔ صاحب سنگھ اسی وقت اس کی امداد کو تیار ہوا اور جودہ سنگھ حاکم وزیر آباد کو لکھا کہ وہ بھی اس امداد میں اس کے شامل ہو۔ابھی دشمن اپنے اپنے مقام سے فوج لے کر روانہ نہیں ہوئے تھے کہ رنجیت سنگھ کو بھی کسی معتبر کی زبانی یہ خبر مل گئی اور جانا کہ اگر دو دشمن اس طرح سے اور تیسرا دشمن، جو محصور ہے، میرے مقابل ہوں گے تو فتح مشکل ہو گی۔ بہتر یہ ہے کہ اکال گڑھ کا محاصرہ چھوڑ کر پہلے ان کا انتظام کر لیا جائے۔ چنانچہ قلعے کا محاصرہ چھوڑ کر گجرات کو روانہ ہوا۔ چونکہ جودہ سنگھ وزیر آباد یہ بھی دست پر وردہ مہان سنگھ کا تھا۔ اور وزیر آباد فتح کرکے سردار مہان سنگھ نے ہی اس کو دیا ہوا تھا، ایک خط شکایتانہ قدیمی احسان یاد دلا کر اس کے نام تحریر کیا کہ وہ اپنی فوج لے کر صاحب سنگھ کے شامل نہ ہو۔ جب لشکر لے کر مہاراجہ رنجیت سنگھ گجرات کے قریب گیا تو شہر سے باہر دو میل پرآکر صاحب سنگھ مقابل ہوا۔ دونوں فریق صبح سے شام تک لڑتے رہے، فریقین سے بہت سے بہادر کام آئے۔ اسی طرح دوسرے اور تیسرے روز خفیف لڑائیاں ہوتی رہیں۔ چوتھے روز صاحب سنگھ شہر سے باہر نہ نکلا اور محصور ہو کرلڑنے لگا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مورچہ قائم کرکے شہر و قلعہ پر گولہ اندازی شروع کی۔چند روز یہ حال رہا۔ آخر صاحب سنگھ بیدی نے، جو گورونانک کی اولاد سے صاحب زادہ بلند اقتدار تھا اور تمام مثلوں کے سکھ سردار اس کا ادب و لحاظ بہ دل کرتے تھے، درمیان میں آکر چاہا کہ کسی طرح دونوں کی آپس میں صلح ہو جائے اور صاحب سنگھ کی طرف سے رنجیت سنگھ کے پاس آکر صلح کا پیغام دیا اور اپنی طرف سے بھی نصیحت کی اور کہاکہ خالصہ جی کو کہ ایک گورو کے سکھ ہیں، آپس میں کمال محبت و اختلاط درکار ہے، نہ کہ آپس میں تلوار چلتی رہے اور ہزاروں بندگان خدا کا خون ہوا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے صاحب سنگھ بیدی کی بہت تعظیم کی اور نذرانہ و جرمانہ و خرچ فوج کا لینا کرکے محاصرہ اٹھا لیا اور آئندہ کے لئے یہ قرار پایا کہ صاحب سنگھ بھنگی و دل سنگھ اکال گڑھیہ کبھی رنجیت سنگھ کے برخلاف اس کی نسبت ارادہ لڑائی و فساد کا نہ کریں گے اور اس میں صاحب سنگھ بیدی نے ضمانت دی اور نذرانہ معقول اس سے وصول کیا۔ جب یہ انظام ہو چکا تو مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنی فوج لے کر لاہور آگیا۔جب سردار دل سنگھ قید سے چھوٹ کر اکال گڑھ کو گیا، ہایت غم و غصہ کی حالت میں تھا۔ جاتے ہی بیمار ہو گیا اور چند روز میں مر گیا۔ اس کے مر جانے کی خبر جب رنجیت سنگھ کو پہنچی تو چاہا کہ اکال گڑھ جا کر اپنا قبضہ کرے، ایسا نہ ہو کہ صاحب سنگھ گجراتیہ، گجرات سے اکر اس علاقے کو اپنے تصرف میں کرے۔ یہ خیال دل میں قائم کرکے بہت جلد اکال گڑھ کو روانہ ہوا۔ جب چار میل کے فاصلے پر اکال گڑھ سے پہنچا تو اپنا ایک معتبر بھیج کر دل سنگھ کی بیوہ کو اطلاع دی کہ’’ بہ استحکام رابطہ محبت کے جو قدیم سے فیمابین سردار مہان سنگھ اور دل سنگھ کے مربوط تھا، جب تک وہ دونوں سردار زندہ رہے کوشش ہوتی رہی اور اب جو وہ دونوں سرگباش ہو گئے، ہم کو چاہئے کہ جب تک زندہ ہیں اس سلسلے کو نہ توڑیں بلکہ روز بہ روزمضبوط کریں تو بہتر ہے۔ سردار دل سنگھ کے مرنے کا مجھ کو کمال غم ہے اور محض اسی واسطے لاہور سے چل کر آیا ہوں کہ ماتم پرسی کی رسم بجا لائوں اور اس غم و ماتم میں تمہارے ساتھ شامل ہو کر شرائط ہمدردی و غم خواری کی بجا لائوں۔ تم کو چاہیے کہ کسی طرح کا اندیشہ دل میں نہ کرو اور نہ میری طرف سے بدظن ہو‘‘۔ دل سنگھ کی بیوہ نے جب یہ پیام سنا، اگرچہ اس کے دل میں سخت اندیشہ ہوا کہ شاید رنجیت سنگھ اپنے عہد سے پھر جائے اور شہر میں داخل ہو کراپنا قبضہ کر لے مگر اس سے بھی اس کو اطمینان تھا کہ فیصلہ اس کے شوہر کا رنجیت سنگھ کے ساتھ معرفت صاحب سنگھ بیدی کے ہو چکا تھا اور مستحکم عہد ہو چکے تھے کہ آئندہ نہ تو دل سنگھ کبھی رنجیت سنگھ کی بدی میں راضی ہو اور نہ رنجیت سنگھ کبھی اس کو تکلیف دے۔ یہ کب ممکن ہے کہ اب رنجیت سنگھ اب عہد سے ، جو اس نے ایک گوروبیدی کے سامنے کیا ہے، پھر جائے۔ یہ سوچ کر اس نے کہلا بھیجا کہ بہ تقریب ماتم سردار دل سنگھ کے تمام دوست و اقربا قدم رنجہ کر رہے ہیں۔ اگر رنجیت سنگھ نے بھی تکلیف کی ہے تو بے شک آجائے، کوئی اس کو مانع نہیں۔جب یہ بشارت رنجیت سنگھ نے سنی بہت خوش ہوا اور مع اپنی فوج کے شہر میں گھس گیا۔ جاتے ہی شہر اور قلعے کا انتظام کر لیا۔ اپنے سپاہی خزانہ و ذخیرہ وغیرہ مقامات پر مامور کردیئے۔ دل سنگھ کی بیوہ اوراس کے خردسال بچوں کو نظر بند کر لیا۔ دل سنگھ کی فوج جو شہر کے باہر اتری ہوئی تھی یہ خبر پا کر جابجا متفرق ہو گئی۔ اس ضبطی میں رنجیت سنگھ کوبہت سا خزانہ ملا اور بہت سے ہتھیار وغیرہ اور سامان ملک داری کا حاصل ہوا۔ جب دل سنگھ کے تمام علاقے پر دخل پا چکا، اس میں سے دو گائوں سردار دل سنگھ کے بیٹوں اور بیوہ کے خرچ کے لئے واگزار کئے جس سے وہ پرورش پائیں۔(’’تاریخ ِ پنجاب ‘‘ سے ماخوذ )٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
2050 تک  خوراک کی قیمتیں غریبوں کی آمدنی کا نصف نگل سکتی ہیں

2050 تک خوراک کی قیمتیں غریبوں کی آمدنی کا نصف نگل سکتی ہیں

دنیا میں آبادی بڑھنے، قدرتی وسائل پر دباؤ میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ خوراک کا حصول آنے والے برسوں میں کروڑوں لوگوں کے لیے مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق خبردار کرتی ہے کہ 2050ء تک دنیا کے غریب ترین افراد میں سے لاکھوں لوگوں کو اپنی آمدنی کا تقریباً نصف صرف خوراک خریدنے پر خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ صورتحال صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں تعلیم، صحت، رہائش، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے لوگوں کے پاس بہت کم رقم باقی بچے گی۔یہ تحقیق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سے وابستہ جینیفر مورس اور ان کے ساتھی محققین نے کی ہے، جس کے نتائج تحقیقی جریدے Earth's Futureمیں شائع ہوئے ہیں۔ محققین نے مستقبل کی صرف ایک ممکنہ تصویر پیش کرنے کے بجائے تقریباً چار ہزار مختلف ممکنہ حالات کا کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیےGlobal Change Analysis Model یعنی GCAM استعمال کیا گیا جو توانائی، پانی، زمین، معیشت، آبادی اور ماحولیاتی نظاموں کے باہمی تعلق کا جائزہ لیتا ہے۔اس ماڈل نے دنیا کو 32 جغرافیائی خطوں میں تقسیم کیا جبکہ ہر خطے کی آبادی کو آمدنی کے لحاظ سے مزید 10 گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس طرح محققین یہ دیکھنے میں کامیاب ہوئے کہ وسائل کی کمی یا قیمتوں میں اضافہ مختلف آمدنی والے لوگوں کو کس طرح مختلف انداز میں متاثر کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق مستقبل میں خوراک، پانی اور توانائی کی سکیورٹی کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان سب کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔افریقہ اور جنوبی ایشیا پر زیادہ دباؤ کا خدشہتحقیق کے درمیانی یا median نتائج کے مطابق افریقہ کے کئی حصوں اور جنوبی ایشیا میں خوراک کے مسائل نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر مغربی، مشرقی اور جنوبی افریقہ کے غریب ترین 10 فیصد لوگوں کے لیے 2050 ء تک خوراک پر آمدنی کا تقریباً نصف خرچ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے قیمتوں میں اضافہ بھی بڑا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ان کے بجٹ میں خوراک پہلے ہی سب سے بڑا خرچ ہوتی ہے۔اس تحقیق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مستقبل کا بحران صرف خوراک کی قیمتوں تک محدود نہیں ہوگا۔ پانی اور توانائی بھی کئی علاقوں میں بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں آبادی میں اضافہ اور زیرِ زمین پانی کا زیادہ استعمال پانی کی قلت کو بڑھا سکتا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ اور جنوبی افریقہ میں گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور بعض علاقوں کا فوسل فیولز پر انحصار توانائی کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔یوں ایک غریب خاندان کو بیک وقت تین سمتوں سے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے: خوراک مہنگی ہو، پانی محدود ہو اور بجلی یا توانائی بھی مہنگی ہو جائے۔ اگر آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے تو خاندان کو بنیادی ضروریات میں سے کسی ایک پر سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان کیلئے اس وارننگ کا مطلب؟پاکستان کے لیے اس تحقیق کے نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا بنیادی کردار ہے اور گندم، چاول، چینی، دالیں، سبزیاں، پھل اور دیگر زرعی اجناس نہ صرف ملکی خوراک کا حصہ ہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے روزگار سے بھی منسلک ہیں۔اگر مستقبل میں پانی کی دستیابی کم ہوتی ہے، زرعی زمین پر دباؤ بڑھتا ہے یا موسم زیادہ غیر یقینی ہوتا ہے تو اس کے اثرات پیداوار اور خوراک کی قیمتوں دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔ خصوصاً کم آمدنی والے خاندان سب سے پہلے متاثر ہوں گے کیونکہ ان کے بجٹ میں خوراک پہلے ہی بڑا حصہ رکھتی ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورتحال کا ایک اہم حل صرف زیادہ فصل پیدا کرنا نہیں بلکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار، جدید آبپاشی، بہتر بیج، فصلوں کے ضیاع میں کمی، ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات اور پانی کے مؤثر استعمال کی طرف تیزی سے بڑھنا ہے۔ اسی طرح ایسی زرعی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو کسان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد دیں۔مستقبل کی پیش گوئی، انتباہمحققین نے واضح کیا ہے کہ ان کا ماڈل یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ 2050ء میں لازماً یہی صورتحال پیدا ہوگی۔تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مستقبل میں آمدنی، آبادی، زمین کا استعمال، توانائی کا نظام، پانی کی دستیابی، صارفین کے رویے اور موسمیاتی پالیسی سب مل کر لوگوں کی زندگی پر اثر ڈالیں گے۔یہ تحقیق حکومتوں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم انتباہ بھی ہے۔ اگر مستقبل میں خوراک کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے تو صرف خوراک کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید، پانی کے پائیدار استعمال، توانائی کے سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع اور زمین کے دانش مندانہ استعمال پر بھی توجہ دینا ہوگی۔مسئلہ صرف یہ نہیں کہ دنیا میں خوراک کتنی پیدا ہوگی بلکہ یہ بھی ہے کہ کون اسے خریدنے کی استطاعت رکھتا ہوگا۔ اگر کروڑوں افراد اپنی آمدنی کا نصف یا اس سے زیادہ خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہو گئے تو خوراک کی دستیابی کے باوجود عالمی سطح پر ایک سنگین معاشی اور انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ اسی لیے یہ تحقیق مستقبل کی ایک یقینی تصویر سے زیادہ ایک بروقت تنبیہ ہے کہ آج کے فیصلے آنے والی نسلوں کی خوراک، پانی اور توانائی کی سکیورٹی کا تعین کریں گے۔

عالمی یوم اوزون اور اس کی اہمیت

عالمی یوم اوزون اور اس کی اہمیت

ہر سال 16 ستمبر کواوزون کی فضائی تہہ کے تحفظ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں اوزون کی تہہ کی اہمیت، اس کو لاحق خطرات اور اس کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ اوزون کی تہہ زمین کے گرد موجود فضا کا ایک نہایت اہم حصہ ہے جو سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹر وائلٹ (UV) شعاعوں کو جذب کرکے زمین پر موجود انسانوں، جانوروں اور پودوں کو ان کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ اگر اوزون کی تہہ نہ ہوتی تو زمین پر زندگی کا موجودہ نظام شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا تھا۔اوزون کی تہہ کیوں اہم ہے؟اوزون آکسیجن کی ایک خاص شکل ہے جس میں آکسیجن کے تین ایٹم شامل ہوتے ہیں۔ زمین کی فضا میں اوزون مختلف مقامات پر موجود ہے لیکن اس کی سب سے اہم مقدار اسٹریٹوسفیئر میں تقریباً 15 سے 35 کلومیٹر کی بلندی پر پائی جاتی ہے۔ یہی حصہ عام طور پر اوزون کی تہہ کہلاتا ہے۔سورج کی روشنی ہمارے لیے زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن اس میں الٹرا وائلٹ شعاعیں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض شعاعیں انسانی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اوزون کی تہہ ان شعاعوں کی بڑی مقدار کو جذب کرکے زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔اگر اوزون کی تہہ کمزور ہو جائے تو انسانوں میں جلد کے کینسر، آنکھوں کی بیماریوں، خصوصاً موتیا اور مدافعتی نظام کو نقصان پہنچنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح پودوں، فصلوں، سمندری حیات اور دیگر جانداروں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اوزون کی حفاظت دراصل زمین پر زندگی کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اوزون کو لاحق خطرات اور انسانی سرگرمیاںبیسویں صدی میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ بعض صنعتی کیمیکلز اوزون کی تہہ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان میں خاص طور پر کلورو فلورو کاربنز (CFCs) اور بعض دیگر اوزون کو ختم کرنے والے مادے شامل تھے۔ یہ کیمیکلز ماضی میں فریج، ایئر کنڈیشنر، ایروسول سپرے اور مختلف صنعتی مصنوعات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے تھے۔جب یہ مادے فضا کی بلند سطحوں تک پہنچتے ہیں تو سورج کی شعاعوں کے اثر سے ایسے کیمیائی ذرات پیدا کر تے ہیں جو اوزون کے مالیکیولز کو توڑ دیتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں اوزون کی تہہ کمزور ہونے لگتی ہے۔1980ء کی دہائی میں انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں نمایاں کمی، جسے عام طور پر اوزون ہول کہا جاتا ہے، عالمی تشویش کا باعث بنی۔ اس مسئلے نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ ماحولیاتی مسائل کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری نے مونٹریال پروٹوکول پر اتفاق کیا جو 16 ستمبر 1987ء کو منظور ہوا۔ اس معاہدے کے تحت اوزون کو نقصان پہنچانے والے متعدد کیمیکلز کے استعمال اور پیداوار کو مرحلہ وار کم کیا گیا۔ اسی تاریخی معاہدے کی یاد میں 16 ستمبر کو عالمی یومِ اوزون منایا جاتا ہے۔عالمی یومِ اوزون کی اہمیتعالمی یومِ اوزون ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومتوں یا سائنسدانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا فرض بھی ہے۔اس دن کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ عالمی تعاون کی کامیابی کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ مونٹریال پروٹوکول کو اکثر بین الاقوامی ماحولیاتی تعاون کی کامیاب مثال قرار دیا جاتا ہے کیونکہ مختلف ممالک نے مشترکہ مسئلے کو تسلیم کرکے ایسے اقدامات کیے جن سے اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادوں میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملی۔یہ دن ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ اگر دنیا کے ممالک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہو جائیں تو بڑے ماحولیاتی مسائل سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اوزون کی تہہ کا تحفظ صرف آج کی نسل کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ہمیں ایسے صنعتی اور گھریلو طریقے اختیار کرنے چاہئیں جو ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچائیں۔ ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشننگ کے شعبے میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کا استعمال، نقصان دہ کیمیکلز سے گریز اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد اس سلسلے میں اہم اقدامات ہیں۔ہمارا کردار اور مستقبل کی ذمہ داریاںاوزون کی حفاظت ایک عالمی کامیابی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری ذمہ داری ختم ہو گئی ہے۔ ہمیں مسلسل نگرانی، تحقیق اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کی ضرورت ہے۔ صنعتوں کو ایسے کیمیکلز اور آلات استعمال کرنے چاہئیں جو اوزون کی تہہ کے لیے محفوظ ہوں جبکہ حکومتوں کو ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔عام شہری بھی اپنے کردار کے ذریعے اس کوشش کا حصہ بن سکتے ہیں۔ توانائی کا محتاط استعمال، ماحول دوست مصنوعات کا انتخاب، پرانے کولنگ آلات کی مناسب تلفی اور ماحولیاتی قوانین کی پابندی جیسے اقدامات مجموعی طور پر مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی یومِ اوزون صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ زمین کے مستقبل کے تحفظ کا عہد ہے۔ اوزون کی تہہ ہمیں سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے والی قدرتی ڈھال ہے۔ اس کا تحفظ انسانی صحت، زراعت، حیاتیاتی تنوع اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میکسیکو کی تحریکِ آزادی 16 ستمبر 1810ء کو میکسیکو کی آزادی کی وہ تحریک شروع ہوئی جس نے بالآخر میکسیکو کو سپین کی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزاد کرایا۔ اس دن کی صبح پادری میگوئل ایدالگو و کوستیّا نے شہر دولوریس میں چرچ کے لوگوں کو جمع کیا اور سپین کے خلاف بغاوت کی اپیل کی۔ ان کی اس تاریخی پکار کو گریتو دے دولوریس یعنی دولوریس کی پکار کہا جاتا ہے۔ اس اعلان نے مقامی باشندوں، خصوصاً مقامی اور مخلوط نسل کی آبادی میں آزادی کے لیے ایک بڑی تحریک پیدا کی۔ باغی فوج تیزی سے بڑی ہوتی گئی اور چند ہی ہفتوں میں اس نے کئی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ ایدالگو کو 1811ء میں گرفتار کرکے قتل کر دیا گیا لیکن آزادی کی جنگ جاری رہی۔ تقریباً گیارہ سال کی جدوجہد کے بعد 1821ء میں میکسیکو نے سپین سے آزادی حاصل کی۔ می فلاور کا امریکہ کا سفر16 ستمبر 1620ء کو مشہور بحری جہاز می فلاور انگلینڈ کے شہر پلائموتھ سے شمالی امریکہ کی طرف روانہ ہوا۔ اس جہاز پر تقریباً 102 مسافر سوار تھے۔ ان لوگوں کا مقصد امریکہ میں نئی زندگی شروع کرنا تھا۔ می فلاور اس سے پہلے ایک دوسرے جہاز سپیڈ ویل کے ساتھ سفر شروع کر چکا تھا لیکن سپیڈ ویل میں خرابی پیدا ہونے کے باعث اسے واپس آنا پڑا۔ آخرکار می فلاور اکیلا ہی امریکہ روانہ ہوا۔ تقریباً 66 دن کے سفر کے بعد مسافر شمالی امریکہ کے علاقے کیپ کاڈ پہنچے۔ می فلاور کا سفر امریکی تاریخ میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے شمالی امریکہ میں انگریزی آبادکاری کی تاریخ کا ایک اہم باب شروع ہوا۔ اسی سفر کے دوران می فلاور معاہدہ بھی وجود میں آیا جسے بعد کی جمہوری سیاسی روایت کے اہم ابتدائی نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جنرل موٹرز کا قیام 16 ستمبر 1908ء کو امریکہ میں جنرل موٹرز کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کمپنی کے قیام میں کاروباری شخصیت ولیم سی ڈیورنٹ کا بنیادی کردار تھا۔ اس وقت امریکہ میں گاڑیوں کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی تھی لیکن بہت سی چھوٹی چھوٹی کار ساز کمپنیاں الگ الگ کام کر رہی تھیں۔ ڈیورنٹ کا خیال تھا کہ مختلف کار ساز کمپنیوں کو ایک بڑے کاروباری گروپ کے تحت اکٹھا کیا جائے تو زیادہ مضبوط اور کامیاب کمپنی بنائی جا سکتی ہے؛ چنانچہ انہوں نے جنرل موٹرز کو ایک ایسی مرکزی کمپنی کے طور پر قائم کیا جو مختلف گاڑی ساز اداروں کو اپنے تحت شامل کر سکے۔ جنرل موٹرز نے امریکی گاڑیوں کی صنعت کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا اور کئی دہائیوں تک دنیا کی بڑی کار ساز کمپنیوں میں شامل رہی۔ پاپوا نیو گنی کی آزادی16 ستمبر 1975ء کو پاپوا نیو گنی نے آسٹریلیا سے آزادی حاصل کی اور ایک خودمختار ملک بن گیا۔ اس سے پہلے پاپوا نیو گنی کے مختلف علاقے آسٹریلوی انتظام کے تحت رہے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وہاں سیاسی اور انتظامی خودمختاری کی طرف پیش رفت شروع ہوئی۔ 1970ء کی دہائی میں مقامی سیاسی قیادت نے مکمل آزادی کی طرف قدم بڑھائے۔ سر مائیکل سومارے اس عمل کی اہم سیاسی شخصیات میں شامل تھے اور انہیں پاپوا نیو گنی کے بانی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آزادی کے موقع پر آسٹریلوی پرچم اتارا گیا اور پاپوا نیو گنی کا اپنا قومی پرچم لہرایا گیا۔ اسی دن ملک نے باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست کی حیثیت اختیار کی۔صابرا شتیلا قتل عام16 ستمبر 1982ء کو بیروت کے فلسطینی مہاجر کیمپوں صبرا اور شتیلا میں تاریخ کا بدترین قتلِ عام ہوا۔ تین دن (16 تا 18 ستمبر) تک جاری رہنے والے اس ہولناک سانحے میں 3500 سے پانچ ہزار تک نہتے فلسطینی اور لبنانی شہری شہید کیے گئے اور گھروں میں آگ لگا دی گئی۔ لبنان کی عیسائی ملیشیا نے ان کیمپوں میں گھس کر قتل عام کیا جبکہ اسرائیلی فوجی اِن کیمپوں کو گھیرے میں لیے رہے۔ صبرا و شاتیلا کا سانحہ آج بھی فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کی ایک دردناک علامت سمجھا جاتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس قتلِ عام کو نسل کشی کا واقعہ قرار دیا تھا۔

عالمی یومِ جمہوریت

عالمی یومِ جمہوریت

 جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں  ہر سال 15 ستمبر کو عالمی یومِ جمہوریت (International Day of Democracy) منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا  ہے کہ جمہوریت محض انتخابات، سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ کا نام نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی کا ایک ایسا تصور ہے جس میں ریاست کے معاملات میں عوام کی رائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اقتدار قانون کا پابند ہوتا ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔جمہوریت کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ ریاست عوام کے لیے ہے اور اقتدار عوام کی مرضی اور رضامندی سے چلنا چاہیے۔ جمہوری نظام میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور انہیں یہ اختیار مستقل طور پر حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی کو عوام پر مسلط کریں۔ انتخابات عوام کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی پسند کے نمائندے منتخب کریں جبکہ آزاد عدلیہ، پارلیمنٹ، آزاد میڈیا، مضبوط بلدیاتی ادارے اور فعال سول سوسائٹی اس نظام کو توازن فراہم کرتے ہیں۔15 ستمبر کی تاریخ کیوں اہم ہے؟عالمی یومِ جمہوریت کی بنیاد 1997ء میں پڑی جب بین الپارلیمانی یونین (Inter-Parliamentary Union) نے جمہوریت کے عالمی اصولوں سے متعلق اعلامیہ منظور کیا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 8 نومبر 2007 ء کو ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 15 ستمبر کو عالمی یومِ جمہوریت منانے کا فیصلہ کیا۔ 15 ستمبر 2008ء کو یہ دن پہلی مرتبہ عالمی سطح پر منایا گیا۔اس دن کا مقصد دنیا کو یہ احساس دلانا ہے کہ جمہوریت کوئی ایسی منزل نہیں جسے ایک مرتبہ حاصل کر لینے کے بعد ہمیشہ کے لیے محفوظ سمجھ لیا جائے۔ جمہوری اداروں کو مسلسل مضبوط کرنا پڑتا ہے، شہری آزادیوں کا تحفظ کرنا پڑتا ہے اور اقتدار کے استعمال کو آئین اور قانون کے دائرے میں رکھنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال عالمی یومِ جمہوریت کسی نہ کسی اہم جمہوری قدر کی طرف عالمی توجہ مبذول کراتا ہے۔پاکستان کیلئے اہمیتپاکستان کیلئے جمہوریت کی اہمیت محض سیاسی نہیں بلکہ قومی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور سیاسی خیالات رکھنے والے کروڑوں شہریوں کا ملک ہے۔ ایسے متنوع معاشرے کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی آواز سنی جا سکتی ہے، اس کے ووٹ کی قدر ہے اور اس کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی قبل از وقت تبدیلی، اداروں کے درمیان کشمکش، انتخابی تنازعات اور سیاسی تقسیم نے جمہوری نظام کو کئی مرتبہ مشکلات سے دوچار کیا تاہم اس کے باوجود پاکستان میں جمہوریت کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوئی۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ صرف انتخابات کا انعقاد ہی جمہوریت کی ضمانت ہے؟اس کا جواب نفی میں ہے۔ انتخابات جمہوریت کا ایک اہم ستون ضرور ہیں لیکن مکمل جمہوریت اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔ اگر انتخابات تو ہوں لیکن سیاسی مخالفین کو پرامن سیاسی سرگرمی کا حق حاصل نہ ہو، اظہارِ رائے محدود ہو، ادارے کمزور ہوں، قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو یا عوامی نمائندے اپنی ذمہ داریوں کے لیے جواب دہ نہ ہوں تو جمہوریت کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔حقیقی جمہوریت میں اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ حکومت اور اپوزیشن ریاستی نظام کے اہم حصے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن کا کام صرف حکومت کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں پر نظر رکھنا اور متبادل تجاویز پیش کرنا بھی ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی تنقید کو ریاست دشمنی یا ذاتی دشمنی کے بجائے جمہوری عمل کا لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ جمہوری جماعتیں صرف انتخابات کے دوران فعال نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان کے اندر بھی جمہوری رویے فروغ پانے چاہئیں۔ قیادت کا انتخاب، پالیسی سازی، کارکنوں کی تربیت اور فیصلوں میں مشاورت ایسے عوامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر کمزور ہو تو پارلیمانی جمہوریت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتی۔اسی طرح مقامی حکومتیں جمہوریت کی نرسری کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عام شہری کا ریاست سے سب سے براہِ راست تعلق اپنے محلے، یونین کونسل، شہر یا ضلع کے مسائل کے ذریعے ہوتا ہے۔ صاف پانی، صفائی، سڑکیں، نکاسی آب، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل مقامی سطح پر بہتر طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ بااختیار اور باقاعدگی سے منتخب بلدیاتی ادارے شہریوں کو عملی طور پر جمہوریت کا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔پاکستان کے لیے اس دن کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جمہوریت کو محض ایک سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے ایک مستقل طرزِ حکمرانی اور معاشرتی رویے کے طور پر اپنانا ہوگا۔15ستمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف اقتدار حاصل کرنے کا طریقہ نہیں یہ اقتدار کو عوام کے سامنے جوابدہ رکھنے کا نظام ہے۔ پاکستان کا جمہوری مستقبل اسی وقت مضبوط ہوگا جب سیاسی اختلاف کو برداشت، آئین کو بالادست، قانون کو یکساں اور عوام کو ریاستی نظام کا حقیقی مرکز تسلیم کیا جائے۔

کوانٹم کمپیوٹرز

کوانٹم کمپیوٹرز

وہ کر دکھایا جو عام کمپیوٹر کیلئے ممکن نہیںکمپیوٹر کی دنیا میں کئی دہائیوں سے سائنسدان یہ پوچھتے آئے ہیں کہ کیا ایسی مشین بنائی جا سکتی ہے جو ایسے مسائل حل کر سکے جنہیں عام یعنی کلاسیکل کمپیوٹر مؤثر انداز میں حل نہ کر سکے؟ کوانٹم کمپیوٹنگ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے والی ایک جدید ٹیکنالوجی ہے۔ ایک حالیہ تجربے میں سائنسدانوں نے کوانٹم کمپیوٹر کی ایسی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے جس نے اس شعبے میں ایک اہم پیش رفت کی بنیاد رکھ دی ہے۔کوانٹینوم کے محققین نے ایک خاص قسم کا حسابی مسئلہ تیار کیا جسے کَمپلیمنٹ سیمپلنگ کہا جاتا ہے۔ اس تجربے میں کوانٹم کمپیوٹر نے ایسی کارکردگی دکھائی جو کلاسیکل کمپیوٹر کے لیے مقرر کی گئی ریاضیاتی حد سے واضح طور پر بہتر تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں کلاسیکل کمپیوٹر کی کمزوری صرف ایک اندازہ نہیں بلکہ ریاضیاتی طور پر ثابت شدہ تھی۔کَمپلیمنٹ سیمپلنگ کیا ہے؟اس تجربے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں ہمارے پاس نمبروں کا ایک بڑا مجموعہ ہے اور اس میں سے کچھ نمبروں کو ایک گروپ میں رکھا گیا ہے۔ اب ہمیں ایسے نمونے تلاش کرنے ہیں جو اس گروپ کے بجائے اس کے مخالف یا باقی ماندہ گروپ یعنی کَمپلیمنٹ سے تعلق رکھتے ہوں۔کلاسیکل کمپیوٹر کو یہ کام دستیاب معلومات کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔ جیسے جیسے مسئلے کا حجم بڑھتا ہے درست جواب تک پہنچنے کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ معلومات اور حساب درکار ہوتا ہے۔ ایک خاص حد کے بعد یہ کام انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔کوانٹم کمپیوٹر یہاں ایک بالکل مختلف اصول استعمال کرتا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹر کے بنیادی یونٹ کو ''کیوبٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ عام کمپیوٹر میں معلومات بٹس کی صورت میں ہوتی ہیں جبکہ کیوبٹ کو کوانٹم میکینکس کی بدولت ایک ہی وقت میں متعدد ممکنہ حالتوں کے امتزاج میں رکھا جا سکتا ہے۔ اسے سپرپوزیشن کہا جاتا ہے۔محققین نے اسی کوانٹم خاصیت کو استعمال کرتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے ایک مخصوص کوانٹم حالت کو اس کے کَمپلیمنٹ سے متعلق حالت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کوانٹم کمپیوٹر کو اس مسئلے میں ایسی برتری حاصل ہوتی ہے جو کلاسیکل طریقوں سے ممکن نہیں۔55 کیوبٹس والے کوانٹم کمپیوٹر کا تجربہیہ کامیابی صرف نظریاتی دعویٰ نہیں تھی۔ محققین نے اسے حقیقی کوانٹم ہارڈویئر پر آزمایا۔ تجربے میں کوانٹینوم کے ٹریپڈ آئن کوانٹم کمپیوٹرز استعمال کیے گئے اور مختلف سائز کے مسائل حل کیے گئے۔سب سے بڑے تجربات میں 55 کیوبٹس استعمال کیے گئے جبکہ مسئلے کا حجم 37 بٹس تک پہنچا۔ جیسے جیسے مسئلے کا حجم بڑھتا گیا کوانٹم طریقے اور بہترین ممکنہ کلاسیکل طریقے کے درمیان فرق بھی بہت تیزی سے بڑھتا گیا۔نظریاتی طور پر سب سے بڑے مسئلے میں دونوں طریقوں کی کارکردگی کے درمیان فرق تقریباً 137 ارب گنا تک پہنچ سکتا تھا، تاہم یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوانٹینوم کا کوانٹم کمپیوٹر عام طور پر کسی جدید سپر کمپیوٹر سے 137 ارب گنا تیز ہے۔یہ فرق صرف اسی مخصوص ریاضیاتی مسئلے کے حوالے سے ہے جسے تجربے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ عام حساب، انٹرنیٹ، ویڈیو، دفتری کام یا روزمرہ استعمال میں کلاسیکل کمپیوٹر اب بھی کہیں زیادہ عملی ہیں۔کیا کلاسیکل کمپیوٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟اس تجربے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اب کلاسیکل کمپیوٹرز غیر ضروری ہو جائیں گے۔آج کا موبائل فون، لیپ ٹاپ، سرور اور سپر کمپیوٹر کروڑوں ایسے کام انتہائی مؤثر انداز میں انجام دیتے ہیں جن کے لیے کوانٹم کمپیوٹر کی ضرورت ہی نہیں۔ کوانٹم کمپیوٹر کا اصل مقصد کلاسیکل کمپیوٹر کی جگہ لینا نہیں بلکہ ایسے مخصوص مسائل حل کرنا ہے جہاں کوانٹم میکینکس کی خصوصیات حقیقی فائدہ فراہم کر سکیں۔مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹرز سے دواؤں کی تیاری، نئے مواد کی دریافت، پیچیدہ کیمیائی نظاموں کی نقل، مالیاتی مسائل، بعض قسم کے آپٹیمائزیشن مسائل اور کرپٹوگرافی جیسے شعبوں میں اہم فوائد حاصل ہونے کی امید ہے،تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی کئی مشکلات موجود ہیں۔ کوانٹم کیوبٹس بہت حساس ہوتے ہیں اور معمولی ماحولیاتی مداخلت بھی ان میں غلطی پیدا کر سکتی ہے۔ اسی لیے سائنسدان ایرر کریکشن یعنی غلطیوں کی اصلاح اور فالٹ ٹالرنٹ کوانٹم کمپیوٹنگ پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔حالیہ تجربے کی اہمیت یہ ہے کہ اس نے یہ دکھایا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر محض ایک نظری تصور نہیں رہا۔ حقیقی ہارڈویئر پر ایک ایسے مسئلے میں کوانٹم مشین نے کلاسیکل طریقوں کی ثابت شدہ حد عبور کی ہے جو خاص طور پر اس مقصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔یہ ابھی کوانٹم کمپیوٹنگ کا آخری سنگِ میل نہیں بلکہ ایک اہم مرحلہ ہے۔ آنے والے برسوں میں اصل چیلنج یہ ہوگا کہ ایسی کوانٹم برتری کو مزید پیچیدہ اور حقیقی دنیا کے مسائل میں کیسے منتقل کیا جائے۔اگر سائنسدان غلطیوں اور محدود کیوبٹس کے مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ تجربہ مستقبل کی ایک بہت بڑی کمپیوٹنگ انقلاب کی ابتدائی جھلک ثابت ہو سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

وسطی امریکہ کی آزادی15 ستمبر 1821ء کو گواٹے مالا سٹی میں سپین کی نوآبادیاتی حکومت سے آزادی کا اعلان کیا گیا۔ اٹھارہویں صدی کے اختتام اور انیسویں صدی کے آغاز میں لاطینی امریکہ میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ 15 ستمبر کو گواٹے مالا میں سیاسی، مذہبی اور انتظامی شخصیات کا اجلاس ہوا اور آزادی کے اعلان پر اتفاق کیا گیا۔آج بھی 15 ستمبر گواٹے مالا، ایل سلواڈور، ہونڈوراس، نکاراگوا اور کوسٹا ریکا میں آزادی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس طرح 1821ء کا یہ واقعہ نہ صرف سپین کی نوآبادیاتی سلطنت کے خاتمے کا ایک اہم مرحلہ تھا بلکہ وسطی امریکہ کی جدید سیاسی شناخت کی بنیاد بھی بنا۔ ٹینک میدانِ جنگ میں 15 ستمبر 1916ء کو پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ نے ٹینک میدان جنگ میں پہلی بارا ستعمال کئے۔ یہ واقعہ فرانس میں بیٹل آف فلیرز-کورسلیٹ کے دوران پیش آیا جو سومی کی بڑی جنگ کا حصہ تھی۔ پہلی جنگِ عظیم میں مغربی محاذ پر خندقوں کی جنگ نے فوجی کمانڈروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔ دونوں جانب فوجیں خندقوں میں رہتی تھیں جبکہ درمیان میں کھلی زمین، خاردار تاریں، مشین گنیں اور توپ خانے موجود ہوتے۔ پیدل فوج کے لیے دشمن کی دفاعی لائن عبور کرنا انتہائی مشکل اور جان لیوا تھا۔ اسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے برطانیہ میں ایک بکتر بند، زنجیری پہیوں پر چلنے والی گاڑی تیار کی گئی جسے بعد میں ٹینک کہا گیا۔پنسلین کی دریافت سکاٹش سائنسدان الیگزینڈر فلیمنگ نے 15 ستمبر 1928ء کو پینسلین کی دریافت کی جو طب کی دنیا میں ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ فلیمنگ نے دیکھا کہ ایک خاص قسم کی پھپھوندی کے اردگرد موجود بیکٹیریا ختم ہو رہے تھے۔پنسلین نے لاکھوں انسانوں کی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوا کی مدد سے نمونیا، خون کے انفیکشن اور کئی خطرناک بیکٹیریائی بیماریوں کا علاج ممکن ہوا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران پنسلین نے زخمی فوجیوں کے علاج میں بہت مدد کی۔الیگزینڈر فلیمنگ کی دریافت نے جدید طب میں ایک نئے دور کا آغاز کیا اور ان کی عظیم خدمت کی وجہ سے انہیں 1945ء میں نوبیل انعام دیا گیا۔ بیٹل آف برٹن ڈے15 ستمبر 1940ء دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ اور نازی جرمنی کے درمیان جاری بیٹل آف برٹن کا ایک فیصلہ کن دن سمجھا جاتا ہے۔ اس دن جرمن فضائیہ نے لندن پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جبکہ برطانوی فضائیہ نے بھرپور مزاحمت کی۔ اس دن لندن پر دن کے وقت دو بڑے فضائی حملے ہوئے ۔ جرمن قیادت یہ سمجھ رہی تھی کہ برطانوی فضائیہ شدید دباؤ میں ہے اور اس کی جنگی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے لیکن 15 ستمبر کی مزاحمت نے اس اندازے کو غلط ثابت کیا۔ اس کے بعد جرمنی نے دن کے وقت بڑے پیمانے کی فضائی کارروائیوں میں تبدیلیاں شروع کیں اور برطانیہ پر حملے کی حکمت عملی تبدیل ہوئی۔یہ واقعہ دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کی مزاحمت اور جرمنی کی جنگی حکمت عملی پر ایک اہم اثر ڈالنے والا دن ثابت ہوا۔ خروشیف کا دورۂ امریکہ 15 ستمبر 1959ء کو سوویت یونین کے رہنما نکیتا خروشیف امریکہ پہنچے۔ وہ امریکہ کا دورہ کرنے والے پہلے سوویت سربراہِ حکومت تھے۔ 1950ء کی دہائی میں سرد جنگ کے باعث دنیا ایٹمی جنگ کے خدشے سے دوچار تھی، ایسے ماحول میں دونوں سپر پاورز کے سربراہوں کی براہِ راست ملاقات غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔اگرچہ اس دورے کے بعد بھی امریکہ روس اختلافات ختم نہیں ہوئے لیکن اس ملاقات نے یہ ثابت کیا کہ شدید نظریاتی اور فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں سپر پاورز کے رہنما براہِ راست مذاکرات کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 ستمبر 1959ء کو ہونے والا یہ دورہ سرد جنگ کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔