ملکی و غیر ملکی فلاحی تنظیمیں مدد کے جذبے سے سرشار
دنیا فورم
شرکاء:ہارون رشید رہنما،ایس پی جی آر سی( بنگلہ دیش میں محصورین پاکستانیوں کیلئے کام کرنے والی تنظیم )، رانا وجاہت ، چیئرمین چیریٹی آسٹریلیا ۔ ریحان احمد ، منیجر ہیلپنگ ہینڈز ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ ، یوایس سینٹرل زون ، ٹیکساس، نیر عالم ، چیئرمین فرینڈز آف ہیومنٹی کیلی فورنیا امریکا۔ریاض ولی ، سربراہ یوکے اسلامک مشن برطانیہ، شکیل دہلوی ،بانی عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ ۔ڈاکٹر عاصم قدوائی، بانی اور سی ای اوافضال میموریل فاؤنڈیشن ،نوید لاکھانی چیئرمین حسین لاکھانی ٹرسٹ
محصورین پاکستان اپنے وطن جانا چاہتے ہیں،حکومت پاکستان اقدامات کرے ،ہارون رشید
اکثر سیاسی مشکلات کیوجہ سے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ،نوید لاکھانی،افضال میموریل مریضوں کو مہما ن قرار دیتا ہے ،ڈاکٹر عاصم قدوائی
چیریٹی آسٹریلیا اور الخدمت نے تھر میں جدید اسپتال قائم کیا،رانا وجاہت،ہیلپنگ ہینڈز کراچی میں جدید اسپتال بنارہی ہے ،ریحان احمد
2 ہزارگز پر عالمگیر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کیا ،شکیل دہلوی، محصور پاکستانیوں کیلئے کام کرتے ہیں،نیر عالم،یوکے اسلامک مشن کابنیادی کام دعوت دین ہے ،ریاض ولی
موضوع:‘‘ملکی اور بین الاقوامی فلاحی تنظیمیں جدید تقاضوں سے کتنی ہم آہنگ؟’’
دنیا فورم نے آ ن لائن کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے امریکہ ،برطانیہ ،آسٹریلیا اور پاکستان کی فلاحی تنظیموں کو موقع فراہم کیا کہ وہ ایک جگہ جمع ہوکر اپنے تجربا ت بیان کریں،بیرون ملک جاکر بھی اپنے ملک کی محبت کسی صورت کم نہیں ہوسکتی اور ان فلاحی تنظیموں سے منسلک پاکستانیوں نے یہ ثابت بھی کیا ہے ،پاکستانی قوم مدد کے جذبے سے بھرپور ہے یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک میں بھی رہ کر جہا ں اپنے وطن کے لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں وہیں جس ملک میں مقیم ہیں وہاں بھی چیریٹی کا کام انجام دیتے ہیں،آن لائن دنیا فورم میں ملکی وبین الاقوامی فلاحی اداروں کی توجہ پاکستان خاص طور پر کراچی کے پسماندہ علاقوں کی طرف کرائی گئی تو تمام تنظیموں نے وعدہ کیا کہ وہ ان علاقوں میں اپنے فلاحی کام مزید بڑھا دیں گے ۔ انہوں نے دنیا فورم سے بھی تعاون کی اپیل کی جس کیلئے ہم تیار ہیں۔ آن لائن دنیا فورم میں بنگلہ دیش میں محصورین پاکستان کے کیمپس سے بھی نمائندگی رہی،ہمارے بھائی اپنے وطن کو یاد کرتے ہیں،انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ محصورین پاکستان کو واپس لایاجائے ۔ (مصطفی حبیب صدیقی،ایڈیٹر فورم)
دنیا: کیمپوں میں کورونا کی کیا صورت حال ہے ، فلاحی تنظیمیں کس طرح کام کررہی ہیں؟
ہارون رشید :دنیا فورم کے توسط سے پاکستانی حکومت سے سب سے پہلا مطالبہ ہے کہ ہمیں پاکستان بلایا جائے ، محصورین کیمپوں میں مقیم پاکستانی اپنے وطن جانا چاہتے ہیں، محصورین پاکستانیوں کے روہنگیا ،بوسنیا اورچیچنیا سے زیادہ حالات خراب ہیں جسکی ذمہ دار حکومت پاکستان ہے ۔فرینڈز آف ہیومنٹی کے تعاون سے محصورین کیمپ میں اسکول اور اسپتال قائم ہیں، اسکولوں سے تعلیم یافتہ طالبات اب اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہیں،ہمیں اعلیٰ تعلیم کی سہولت دی جائے توہم نئی دنیا میں قدم رکھ سکتے ہیںاور روزگار بھی ملے گا،ہمیں اعلیٰ سطح کا تعلیمی ادارہ چاہیے ، دنیافور م کے توسط سے فلاحی تنظیموں سے اپیل ہے کہ مل کر محصورین کیمپ میں جدید تعلیمی ادارہ قائم کریں۔ایف او ایس کے تحت 2014 میں بنگلہ دیش سینپورمیں اسکو ل قائم کیا تھا ،جو چھٹی کلاس تک ہے ،سینپور کو تعلیمی شہرکہاجاتا ہے ،حال میں ایف او ایس نے محصورین میں 1570راشن کے تھیلے تقسیم کیے ،شرکاء سے درخواست ہے فوری طورپر 10 ہزارلوگوں کیلئے راشن کا انتظا م کرادیاجائے ۔
دنیا: کیا فلاحی تنظیمیں جدید تقاضوں کے مطابق روزگار فراہم کررہی ہیں؟
نوید لاکھانی :حسین لاکھانی ٹرسٹ مختلف کورسز کرواتا ہے ۔ تعلیم بنیادی ضرورت ہے یہ عام ہوگی تو بے روزگاری کم ہوگی اور لوگوں میں شعور آئے گا،بدقسمتی سے ملک میں تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی،پاکستان میں غربت بہت زیادہ ہے جس کے باعث راشن اور کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کرنی ہوں گی ،ان کاموں میں فلاحی تنظیمیں آگے بڑھ کر کا م کررہی ہیں حکومت کا کردار نظر نہیں آرہا، اپنے اسپتال میں مفت علاج کررہے ہیں،کئی فلاحی ادارے جدید تقاضوں کے مطابق کام کررہے ہیں جس سے لوگوں کو روزگار بھی مل رہا ہے لیکن کئی معاملات میں سیاسی مشکلات کی وجہ سے رکاوٹیں آجاتی ہیں ہم ادارے نہیں بناپاتے اور پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ۔
ڈاکٹر عاصم قدوائی : فلاحی ادارے خدمات کا معیار بہتر بنائیں،صرف کتابیں پڑھ کر معیار بہتر نہیں کرسکتے ،جو مجھے پسند ہے وہی دوسرے کیلئے بھی پسند کرینگے تو بہتری آئے گی،ہم نے کوشش کی اور کامیاب رہے ، افضال میموریل سینٹر میں مریضوں کو اپنا مہما ن قرار دیا اور جن ملازمین کا مریضوں کے ساتھ رویہ اچھا نہیںتھا انہیں فارغ کردیا ۔خدمت کا معیار بہتر کرنے میں رضاکاروں کی اچھی تربیت بھی ضروری ہے ۔روزانہ اللہ سے دعا کرتاہوں میں کمزور اور نا سمجھ ہوں مجھے کام کرنے کی صلاحیت اورہمت حوصلہ عطا فرما، مریضوں کو علاج کے ساتھ ایجوکیٹ بھی کرنا ہے ، ادارے میں 150سے زائد ملازمین ہیں، ڈائیگنوسٹک سروسز سے فلاحی اداروں اور کمیونٹی کو خدمات فراہم کرتے اوراس سے حاصل آمدنی سے ملازمین کو میرٹ کے مطابق تنخواہ دی جاتی ہے ۔ کراچی میں سندس فائونڈیشن کیساتھ مل کر بلڈاسکریننگ ایک جگہ کرنے پر کام کررہے ہیں۔تما م تھیلی سیمیا سینٹر آئی سی یو کے مریض ہمارے پاس بھیجیں۔
رانا وجاہت : پاکستان سمیت دنیا بھر میں این جی او سیکٹرز میں بہتری آرہی ہے ،اس کو برقرار رکھنے کیلئے توازن قائم کرنا ضروری ہے ،ریلیف کے کام کیساتھ ہمیں ادارے قائم کرنے ہونگے ،چیریٹی آسٹریلیا کی ٹیم طویل مدتی منصوبہ بندی پر متفق ہے ،ہم نے پاکستان میں الخدمت کے ساتھ مل کرمری میں آغوش میں کام کیا،وہاں یتیم بچوں کو اعلیٰ تعلیم دی جارہی ہے جہاںفائیو اسٹار ہوٹل کی طرح کی سہولتیں میسر ہیں،ایسا نہیں کہ این جی او ز مل کر کام نہیںکرنا چاہتی ،تھر میں چیریٹی آسٹریلیا اور الخدمت نے مل کر کام کیا،اس کے بعد دیگر این جی اوز نے بھی وہاں کام کرکے اپنا حصہ ڈالا،گزشتہ سال کرائس چرچ میں مسجد میں فائرنگ سے بہت مسلمان شہید ہوئے تھے ۔ امریکا ،کینیڈا،آسٹریلیا اور دیگر مقامات سے کئی این جی اوز وہاں پہنچیں اور مل کرکام کیا ۔چیریٹی آسٹریلیا الخدمت کے ساتھ مل کر مائیکروفنانس پر بھی کام کررہی ہے جس میںلوگوں کو رکشوں ،دکانوں اورٹھیلوں کی صورت میں کاروبار کراتے ہیںتاکہ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔چیریٹی آسٹریلیا نے الخدمت کے ساتھ اسکلز ڈیولپمنٹ سینٹر جو تھرپارکر سے پہلے چارسدہ میں بنا تھا جس میںمقامی لوگوں کو سینڈل بنانا سکھایا کیونکہ وہ لوگ سینڈل بڑی مہارت سے بناتے ہیں ،سیکھنے کے بعد ان کی مالی مدد کی جاتی ہے تاکہ اوزار اورسامان خریدلیں اور سینڈلز بنائیں، سینڈلزشوروم میں رکھی جاتی ہیں جو اچھی قیمتوں میں فروخت ہوتی ہیں جس سے ان کی مالی مدد اور روزگار کے مواقع کھلتے ہیں،اسی طرح کچھ ماہ پہلے وادی کالاش میں خواتین کیلئے ووکیشنل سینٹر کھولا تاکہ خواتین کو مہارت اور روزگار کے مواقع مل سکیں ۔وہاںکی خواتین سلائی کڑائی کی بہت ماہر ہیں ، 2011ء میں تھرپار کر گئے ،وہاں کے لوگوں نے چھوٹے اسپتال کا مطالبہ کیا،ہم نے 15ایکٹر زمین پر چیریٹی آسٹریلیا اور الخدمت نے جدید اسپتال قائم کیاجسے تھر کمپلیکس کہا جاتا ہے جس میں معیاری علاج اور وہ بھی بالکل مفت ہے ،تھر میںمسجد بھی تعمیر کی گئی ،خواتین کیلئے اسکلز ڈیولپمنٹ سینٹر بن رہا ہے ،کوئی بھی کام اکیلے کرنا ناممکن نہیں لیکن مشکل ہوتاہے ،اچھی ٹیم ہوتو کام بہتر انداز میں ہوتے چلے جاتے ہیں،نعمت اللہ خان 2012ء میں آسٹریلیا آئے تو انہوں نے تجویز دی تھی جس کے بعد تھر میں اسپتال بنایاگیا۔الخدمت فاؤنڈیشن کے پاس لیب کا بھی بہت بڑا نیٹ ورک ہے ،الخدمت نے مانسہرہ میں سب سے پہلے چیریٹی آسٹریلیا کے تعاون سے لیبارٹری قائم کی ،آج پاکستان بھر میں 97لیبارٹریاں قائم ہوچکی ہیں،چیریٹی آسٹریلیا نے ملتان میں سوا تین ایکٹر زمین لے کر اسپتال کی بنیاد رکھی جسکی تعمیر مکمل ہوچکی ہے ،مزید کام جاری ہے ، ہمارے تعاون سے الخدمت نے اورنگی ٹائون میں تندور قائم کئے جس میں شہریوں کو سستی روٹی فراہم کی جاتی ہے ۔ٹیم اچھی ہو، لگن ہو اور ایمانداری ہوتو سارے کام آسان ہو جاتے ہیںکہتے ہیں نیت صاف منزل آسان۔بعض مرتبہ کئی مسائل کی وجہ سے پروجیکٹس میں تاخیر ہوجاتی ہے ،ایک 600بستروں پر مشتمل اسپتال کا پروجیکٹ گزشتہ 5 سال سے چل رہا ہے ، لوگ معلوم کرتے ہیںیہ کب مکمل ہوگا،جو انشاء اللہ جلد مکمل ہوگا۔
ریحان احمد : ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈیولپمنٹ کا سلوگن ہی مسلمان اورساری انسانیت کیلئے ہے ۔ 50 سے زائد ممالک میں ہیلپنگ ہینڈ ریلیف اور خدمت کے کام کررہی ہے ۔ امریکہ سے قریب واقع میکسیکو میں زلزلے سے کیربین میں آئے دن سمندری طوفان سے متاثرہ جزائر بہاماس، ڈومینیکا، سینٹ مارٹن، ہیٹی اور دوسرے علاقے متاثر رہتے ہیں، ہم نے رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر انسانیت کی خدمت کی ۔ ہیلپنگ ہینڈ یوایس اے تصور امت پر یقین رکھتی ہے ۔ پاکستان میں 2005 کے زلزلے میں ہیلپنگ ہینڈ نے رفاہی کاموں کا آغاز کیا اور اب تک سیلاب ہو یاسمندری طوفان، خدمت کا دائرہ کار وسیع تر ہوا ، کورونا وائرس کی وبا ء میں جہاں امریکا اور دوسرے ممالک میں ہیلپنگ ہینڈ نے کام کیا وہیں پاکستان میں 11 ہزار سے زائد راشن بیگز بیروزگار ہونے والوں میں تقسیم کیے ۔ کراچی کا علاقہ لیاری ہو یا لاہور واہگہ بارڈر کے نزدیک جلو کی مسیحی کمیونٹی کا علاقہ، بلا تخصیص عقیدہ و مذہب راشن بیگز تقسیم کیے گئے ۔کورونا وائرس کے خلاف جنگ فرنٹ لائن سپاہی ڈاکٹر اور طبی عملے کی سلامتی کیلئے 10 ہزار سے زیادہ پی پی ای کٹس تقسیم کی گئیں۔کراچی کے سول اسپتال، ڈی ایچ کیو ضلع جنوبی کی کورونا مانیٹرنگ ٹیم، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، سندھ کی پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، سکھر، خیرپور، نواب شاہ، لاہور، فیصل آباد اور ملک کے اکثر اضلاع میں یہ پی پی ای کٹس تقسیم کی گئی ہیں یہ سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستان میں پینے کے صاف پانی کے منصوبوں، ہزاروں یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی غذائی امداد کی فراہمی، شجر کاری، معاشرے کے نظر انداز کیے گئے طبقے میں خشک راشن کی تقسیم، مانسہرہ اور کراچی میں معذوروں کی بحالی کے اداروں سمیت متعدد شعبوں میں ہیلپنگ ہینڈ مستقل بنیادوں پر کام کررہی ہے ۔ماسنہرہ میں ایک سینٹر کھولا ہے جس میں معذور بچوں کیلئے ایک پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں جس میں بچوں کو ساری سہولتیںمفت میں فراہم کی جاتی ہیں ،گزشتہ سال وہاںگئے تھے ایک خاندان سے بات ہوئی وہ لوگ بہت خوش تھے ،اسی طرح دوسرا پروجیکٹ کراچی میں ‘‘نادر اسپتال’’ کے نام سے شروع کیا، اس کا نام تبدیل کرکے اب اس کو کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورو ڈیزیز سینٹر کردیا ہے ۔
ڈاکٹر عاصم قدوائی : ایس پی سینٹر ل سے بات ہوئی کہ ہم پولیس والوں کو اپنے سینٹر کے کارڈ بناکر دیں گے جب بھی ان کو لیب کی ضرورت ہوگی تو بغیر منافع کے ان کے ٹیسٹ کیئے جائیں گے ،ان کا ڈیٹا بیس بن رہا ہے ،اسی طرح فائر فائٹرز کیلئے بھی کررہے ہیں،مزید ٹیچر رسپیکٹ(عزت)کارڈ پر بھی کام کررہے ہیں، ایک یونیورسٹی کو کارڈ جاری بھی کردیئے ہیں، کمشنر کراچی سے کئی مرتبہ کہا میں حکومتی اداروں میں صحت کارڈ بناکر دینا چاہتاہوں لیکن آج تک مجھے جواب نہیں ملا،اب ایس ایس پی سے بات ہوگئی اس کو پروسز کرنے جارہے ہیں۔
دنیا:ترقی یافتہ ممالک کی مدد سے کاموں میں مزید بہتری لاسکتے ہیں؟
شکیل وہلوی :عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ 30سا ل سے قائم ہے ،دنیا بھرمیں 64شعبہ جات میں کام کررہے ہیں، صحت،تعلیم ،بچیوںکی شادی اور لوگوں کے روزگار کے شعبوں میں نمایاں کام کررہے ہیں،لوگوں سے خیرات مانگ کر خیرات دینے کے بجائے کچھ ایسے کام بھی کرنے چاہییں جن سے لوگ مد دکے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیںاور یہی لوگ کل دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہوجائیں ،2 ہزارگز پر کورنگی صنعتی ایریا مہران ٹاؤن میں عالمگیر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کیا جہاں آئی ٹی کی جدید تعلیم دی جاتی ہے ، بچوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں، عالمگیر سے تربیت پانے والے بچوں کو فیکٹریوں اور صنعتوں کے مالکان اور انتظامیہ سے بات کرکے بھیجتے ہیں ،اس سال انسٹیٹیوٹ سے 500بچوں نے مختلف کورسز کیے ۔عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت صدقہ بکر ا سروس میں ہرماہ 50ہزار کلو بکرے کاگوشت جمع ہوتا ہے جو ہم اسپتالوں، بچیوںکی شادیوں اور مختلف مقاما ت پر تقسیم کردیتے ہیں ،اس سروس سے آمدنی بھی ہوتی ہے ،مثال کے طورپر ایک بکرا 100 روپے کا خریدا اور 120کا فروخت کردیا جو 20 روپے کی آمدنی ہوئی اسے عطیہ کی صورت میں ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں،ٹرسٹ کے 500ملازمین ہیں ۔
دنیا:کیا فلاحی تنظیمیں مل کوادارہ قائم کرسکتیں ہیں جس سے روزگار مل سکے ؟
ریحان احمد : ایچ ایچ آر ڈی کے پاکستان میں350 رضا کار کام کررہے ہیں، دنیا بھر میں50سے زائد ممالک میں کام اور 20ہزا ر یتیم بچوں کی کفالت کرتے ہیں،تمام فلاحی تنظیمیں مل کر ایسا کام کریں کہ جس سے کچھ ریونیو حاصل ہو مشکل ہے ،مختلف تنظیموں نے کچھ کاروبار شروع کئے ،جس سے آمدنی ہوئی تاہم مشکلات کی وجہ سے بند کرنے پڑے ۔
ڈاکٹر عاصم قدوائی :ہم کب تک لوگوں سے فنڈز مانگتے رہیں گے ،بحران کی وجہ سے کبھی فنڈز رک بھی جاتے ہیں ۔ہمیںاپنی صلاحیتوںکو استعمال کرنا چاہیے ،2003میں افضال میموریل کو قائم کرنے کیساتھ 65صفحات پر مشتمل روڈ میپ بنایا تھا جس کو فالو کررہے ہیں، ڈائگنوسٹک لیب کا دائرہ بڑھا یا ،فلاحی اداروں کو بغیر منافع کے خدمات دینا شروع کیں،آج 50سے 60فلاحی ادارے اے ایم ٹی ایف سے لیب کی سروسزلے رہی ہیں،اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ملازمین کی تنخواہیں اور مریضوں کیلئے فنڈجمع ہوتاہے ۔ہماری لیب میںماسٹر لیول کے لوگ ہیںجولوگوںکو خدمت کے ساتھ آگہی بھی دیتے ہیں ،اے ایم ٹی ایف کا ایک سائیکل چل رہا ہے جس سے لوگوں کو روزگار بھی مل رہا ہے ،رضارکار او ر ملازمت پیشہ افراد میں فرق ہوتاہے ان کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں جسکے باعث تنخواہوں میں بھی فرق ہوتاہے ،اے ایم ٹی ایف کراچی کا پہلا تھیلی سیمیا کا اسپتال ہے جو کراچی میں تمام تھیلی سیمیا سینٹر کیلئے 24گھنٹے دستیاب ہے ۔یہاں ہر وقت علاج کی سہولت میسر ہے ،اے ایم ٹی ایف کے عملے ،ڈاکٹرزاور دیگر ملازمین صحت کی ساری سہولتوں اور تقافل کے ساتھ کور ہیں۔میرا ایمان ہے جس پر سارے کام کررہا ہوتاہوں کہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہاہے ،ہم صرف اپنے حصے کا کام کرتے چلے جائیں ،راستے ہموار ہوتے چلے جائیںگے ۔شکیل دہلوی نے کہا ملک میں ہیر ڈریسر اور نہ جانے کن کن چیزوں کی یونین اور فیڈریشن موجود ہیں لیکن این جی اوز کی یونین نہیں ،اگر این جی اوز مل جائیں تو بہتری آسکتی ہے ۔دنیافور م کے توسط سے تجویز ہے کہ این جی اوز مل کر انڈسٹری لگائیں تو کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
نیر عالم :ڈھائی سال سے بنگلہ دیش میں محصورین پاکستانیوں کیلئے کام کررہے ہیں ،فنڈز امریکہ میں جمع کرتے ہیں،مقامی لوگوں کی بھی مدد کرتے ہیں لیکن 90فیصد فنڈزاور ذرائع محصورین پاکستانیوں کیلئے استعمال ہوتے ہیں، وہاں دو نسلیں تعلیم سے محروم ہوچکی ہیں،2014ء میں محصورین کے کیمپ میں اسکول قائم کیاتھا جو اب بڑھ کر 7اسکولوں تک پہنچ چکا ہے ۔650بچے پہلی جماعت سے چھٹی تک تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھی بنائے ہیں،بنیادی مقصد تعلیم،پانی ، صفائی اورصحت ہے ۔اس وقت کیمپوں میں کورونا کے حوالے سے خدمات انجام دے رہے ہیں، 45 اسکول ٹیچر ز ہیں جو محصورین پاکستان سے ہی لئے گئے ہیں ۔
دنیا: فلاحی اداروں کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کا معیار وہ نہیں جو نجی اداروں کا ہے کیا وجہ ہے ؟
نویدلاکھانی :حسین لاکھانی ٹرسٹ ،سیلانی ویلفیئر کے ساتھ مل کر وکیشنل ٹریننگ پروگرام پر کام کررہا ہے جس میں لوگوں کو ہنرمند بنایا جارہا ہے ،10 سال سے یہ کام کررہے ہیں،ہزاروں لوگوں کو ٹریننگ دی ، لوگوں کو ملازمت پر بھی لگایا ،کئی افرادبیرون ممالک بھی ملازمت کررہے ہیں،ہمارا معیار نجی اسکول والا نہیں ہوتا کیونکہ ہم اپنے استاد کو اچھی تنخواہ نہیں دے سکتے ، طلبہ کی تعدادبہت زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی معیار قائم رکھنا ممکن نہیں۔
دنیا:محصورین کیمپوں میں صحت اور تعلیم کی کیا صورت حال ہے ؟
ہارون رشید : کیمپوں میں صحت اور صورت حال بہت خراب ہے ،کیمپ میں300افراد کیلئے صرف ایک بیت الخلاء ہے ، کورونا کی وجہ سے یہاں محصورین بہت پریشان ہیں،مریض کو اسپتال لے جانے کیلئے ایمبولینس نہیں ہیں،لوگوں کے پاس کھانے کیلئے پیسے نہیں گاڑی میںاسپتال کیسے لے کر جائیں گے ،دنیافورم کے توسط سے تما م شرکاء سے درخواست ہے ہمارے لیے فوری طورپر دو ایمبولینس کا انتظام کرادیا جائے تاکہ فوری مریضوں کو اسپتال لے جاسکیں،اس علاقے کے کیمپ میں60ہزار افراد مقیم ہیں،اسپتال 40کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ،کیمپ میں صرف ایک کلینک تھا وہ بھی بند ہے ۔آن لائن دنیا فورم میں ایس پی سی آرسی کے ہارون رشید نے انکشاف کیا کہ کورونا کی وباء کے دوران محصورین پاکستان مزید مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔
دنیا :یوکے اسلامک مشن کس طرح کام کررہی ہے ،حکومت برطانیہ فنڈز دیتی ہے ؟
ریاض ولی : ادارہ 1996ء سے قائم ہے ،بنیادی کام دعوت دین ہے ۔ اللہ کے فضل سے مخیرحضرات کے عطیات سے فنڈز جمع ہوجاتے ہیں ۔ ہم الخدمت کیساتھ زیادہ کام کرتے ہیں،یوکے اسلامک مشن کے تحت مری میں یتیم بچوں کیلئے آغوش کے نام سے قائم ادارے میں کام کررہے ہیں،برطانیہ میں1500کے قریب کارکنان ہیں،کچھ پروجیکٹس میں فلاحی کاموںکے ساتھ روزگار بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ مدد کے ساتھ لو گ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں، بنیادی مقصد برطانیہ میں مساجد کی تعمیر ہے ۔
نیر عالم : محصورین کیمپس میں پناہ گزین بہاریوں کو کورونا کے باعث اسپتال لے جایاجاتا ہے لیکن کیمپس کا سنتے ہی انہیں طبی امداد روک دی جاتی ہے ، انہوں نے انتبا ہ کیاکہ کورونا سے کیمپس میں حالات خراب ہوسکتے ہیں۔فورم کے دوران میزبان نے بین الاقوامی اور ملکی فلاحی تنظیموں کی توجہ اورنگی ٹائون،کورنگی ،لانڈھی ،کیماڑی اور دیگر نہایت پسماندہ علاقوں کی طرف دلاتے ہوئے اپیل کی کہ فلاحی ادارے ان علاقوں کے اندر اپنے پروجیکٹس شروع کریں۔ جس پر تمام فلاحی تنظیموںنے وعدہ کیا کہ وہ شہر میں موجود اپنے نمائندوں اور دنیا فورم کی مدد سے ان علاقوں میںبھرپور فلاحی کام کا آغاز کریںگے ۔
انڈس اسپتال:کوروناوائرس کے خلاف جنگ میں بھی اگلے محاذ پر
ماہانہ 3لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج ،کورونا کے خلاف جدید سہولتوں سے آراستہ وارڈ تیار
تحریر: سائرہ بانو، ڈپٹی منیجرکیمونیکیشن اینڈ ریسورس ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ، انڈس اسپتال
2007ء میں 150 بستروں پر مشتمل اسپتال کورنگی میں قائم ہوا جس نے پاکستان کے شعبہ صحت میں ایک ایسی مثال قائم کی کہ کوئی اور سرکاری اور نجی اسپتال یہ ریکارڈ نہیں توڑ سکا۔ انڈس کے نام سے یہ ایک غیر سرکاری اور غیر منافع بخش اسپتال تھا جس کا دعویٰ تھا کہ یہاں داخل ہونے والا کوئی بھی مریض علاج کے پیسے نہ ہونے کے باعث واپس نہیں کیا جائے گا اور ہر مریض کو مفت لیکن معیاری علاج فراہم کیا جائے گا۔اسپتال کے کرتا دھرتا افراد کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ کسی مریض سے مذہب، زبان، رنگ اور نسل کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جائے گی اور اس عمل میں کسی بھی مریض کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوگی۔
لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا ممکن نہیں اور جلد ہی یہ اسپتال بند ہوجائے گا۔ خوش آئند بات ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ انڈس اسپتال اب تک نہ صرف قائم ہے بلکہ یہاں ہر ماہ 3 لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور اب تک 10 ہزار سے زائد بچوں کا کینسر اور خون کے امراض کا علاج کیا جاچکا ہے ۔انڈس اسپتال اب 12 اسپتالوں پر محیط ملک گیرہیلتھ نیٹ ورک میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ اسپتال کا بلڈ سینٹرسو فیصد صاف اور محفوظ خون رضاکارانہ بنیادوں پر جمع کرتا اور نیٹ ورک کے اسپتالوں اور دیگر ملحقہ اسپتالوں کو مفت فراہم کرتا ہے ۔ اسپتال کے 4 ریجنل بلڈ سینٹر ملک کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔اسپتال کے 4 فزیکل ری ہیبی لیٹیشن سینٹرز ملک کے 4 شہروں میں موجود ہیں جہاں تقریباً10 ہزار افراد کو مصنوعی ہاتھ اور ٹانگیں فراہم کی جاچکی ہیں۔ نیٹ ورک کے تحت ٹی بی ، ملیریا، ایڈز، ہیپاٹائٹس اور دیگر امراض کے خلاف ملک گیر مہم چلائی جارہی ہے ۔ ان امراض کے قلع قمع کے لئے موبائل ، بوٹ اور کنٹینر کلینکس کام کررہے ہیں۔ ثالثی سطح کے اسپتالوں پر سے دبائو کم کرنے اور لوگوں کو ان کے گھروں کے نزدیک علاج فراہم کرنے کیلئے پاکستان کے 52 اضلاع میں پرائمری کیئر کلینک قائم کیے گئے ہیں اورنیٹ ورک کے کمیونٹی ہیلتھ ورکر گھر گھر جا کر لوگوں میں آگاہی پھیلا رہے ہیں۔
انڈس اسپتال کی کارکردگی کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جارہا ہے او ر پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی ان اقدامات کی معترف ہیں۔ انڈس اسپتال کئی سطحوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ فروری 2020ء میں جب کورونا وائرس کی وباء نے پاکستان کا رخ کیا تو حکومت سندھ نے اپنی دفاعی حکمت عملی مرتب کرنے سے عملی اقدامات کرنے تک انڈس اسپتال کو شریک کار رکھا۔
انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان وزیر اعظم کی نیشنل ٹاسک فورس کے رکن ہیں انھیں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بننے والی صوبائی ٹاسک فورس کا رکن نامزد کیا گیا اور وہ اس حوالے سے اہم مشاورتی کردار ادا کررہے ہیں۔انڈس اسپتال اس قومی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے ۔اپنے تجربے کے پیش نظر انڈس اسپتال کو سرکاری اسپتالوں کی استعداد کار میں اضافے کی ذمے داری سونپی گئی اور انڈس نے جنگی بنیادوں پر دو اسپتالوں میں آئسولیشن اورقرنطینہ وارڈ قائم کیے ۔
مشاورتی اور معاونتی کردار کے ساتھ ساتھ انڈس اسپتال اپنا روایتی کردار بھی ادا کررہا ہے ۔ انڈس اسپتال میں ایک جدید ترین اور تمام ضروری سہولیات سے لیس کووڈ 19 وارڈ قائم کیا گیا ہے ۔ 20 بستروں پرمشتمل اس وارڈ میںضروری تعداد میں وینٹی لیٹرز بھی دستیاب ہیں۔ انڈس اسپتال کی لیبارٹری کی استعداد میں اضافے کیلئے راتوں رات ضروری اقدامات کیے گئے اور اب یہ لیب نہ صرف انڈس اسپتال بلکہ سرکاری اسپتال سے آنے والے مریضوں کے کورونا ٹیسٹ بھی کررہی ہے ۔ لیب 3 شفٹوں میں 24 گھنٹے کام کرتی ہے اور دن میں ہزارسے زائد ٹیسٹ کرسکتی ہے ۔ انڈس اسپتال کو دن میں دو بار جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے ۔انڈس اسپتال کورنگی کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں کورونا کے مریضوں کے لیے ایک حصہ مختص کیا گیا ہے جہاں ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق مشتبہ مریضوں کو زیر نگرانی رکھا جاتا ہے اور مصدقہ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے تمام اسپتالوں میں عملے اور مریضوں کے لیے مفت اسکریننگ کی سہولت دستیاب ہے ۔انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت مظفر گڑھ میں کام کرنے والے رجب طیب اردگان اسپتال میں بھی کورونا وائرس کی اسکریننگ کے ساتھ ایک خصوصی وارڈ قائم کیا گیا ہے ۔
لوگ کورونا وائرس کے خوف میں مبتلاہیں اور نزلے زکام کی علامات کو بھی کورونا وائرس سمجھ کر اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں جس کی وجہ سے اسپتالوں پر دبائو میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ایسے لوگوں کی سہولت کے لیے انڈس اسپتال نے کورنگی اور مظفر گڑھ اسپتال میں خصوصی ہیلپ لائنز کا انتظام کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اسپتال کے ریسرچ سینٹر نے اردو اور انگریزی زبانوں میں ایک آن لائن سوالنامہ بنایا ہے جو پاکستانی آبادی کے لیے مخصوص ہے ۔ اس سوالنامے کی مدد سے لوگ اپنی علامات کا جائزہ لے سکتے ہیںاور اسپتال آنے سے بچ سکتے ہیں۔
کورونا کے علاوہ دیگر امراض میں مبتلا افراد کی سہولت کیلئے ایک ٹیلی کلینک بھی قائم کیا گیا ہے جس کی مدد سے لوگ اپنے امراض کے حوالے سے متعلقہ ڈاکٹروں سے مشاورت کرسکتے ہیں۔انڈس اسپتال اپنے موبائل ٹی بی کلینکس کو کورونا کی اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کے لیے استعمال کررہا ہے ۔ ان میں سے کچھ موبائل کلینکس انڈس اسپتال اور سرکاری اسپتالوں میں موجود ہیں جبکہ کچھ کلینکس ڈرائیو تھرو کلینکس کے طور پر کام کررہے ہیں۔
انڈس اسپتال اپنے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر معاون عملے کو اپنا اثاثہ قراردیتا ہے ۔ ان کی حفاظت ، تربیت اور اپنے تجربے سے دوسروں کو مستفید کرنے کیلئے انڈس اسپتال مختلف آن لائن تربیتی پروگرام کررہا ہے جس میں دیگر نجی اور سرکاری اسپتالوں کے افراد بھی شریک ہوتے ہیں۔انڈس اسپتال اپنے عملے کو اس نفسیاتی دبائو سے نمٹنے کے لیے ماہرانہ مشاورت فراہم کررہا ہے اور ہر وہ شخص جو کورونا سے نمٹنے کے مشن میں شامل ہے اسے ایک اضافی مالی بونس بھی فراہم کیا جارہا ہے ۔انڈس کے ماہرین نے اس ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے مختلف طبی مواد اور رہنما ہدایات بھی تیار کی ہیں اور عوام کی آگاہی کیلئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے مصدقہ معلومات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔
کووڈ 19 کی وجہ سے جو معاشی اور معاشرتی بحران پیدا ہوا ہے اسکے باعث ملک کے شعبہ صحت پر نہایت خطرناک دبائو پڑا ہے ، لاکھوں افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہ مسئلہ پوری قوم کی فوری توجہ کا متقاضی ہے ۔جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ کووڈ 19 کو فوری طور پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جائے وہیں ملک کے وہ لاکھوں مستحق اور پریشان حال افراد بھی ہماری توجہ کے طالب ہیں جو دیگر جان لیوا امراض میں مبتلا ہیں۔ اگر ہم نے فوری طور پر عملی اقدامات کا آغاز نہ کیا تو ممکن ہے کہ ہم جیت کر بھی ہار جائیں۔یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے کوئی ایک فرد یا ادارہ نہیں جیت سکتا ہم صرف مل کر ہی کووڈ 19 کو مکمل طور پرشکست دے سکتے ہیں۔
انڈس اسپتال یہ تمام سہولیات عوام کی زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی مدد سے فراہم کرتا ہے ۔ یہ عطیات کووڈ 19 اور دیگر امراض میں مبتلا افراد کوبہترین اور مفت علاج فراہم کرنے ،طبی عملے ، ماہرین ، رضاکاروں اور دیگر معاون عملے کے لیے حفاظتی لباس اور آلات خرید نے ؛ اور اسپتالوں اور ایمرجنسی رومز کو وسعت دینے کے کام آتے ہیں۔
ڈاکٹرعبدالباری خان اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ہر قومی بحران میں قوم اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے اپنی تمام سہولیات بروئے کار لارہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوم کے مخیر افراد کی مدد سے ہم اس وباء کو روکنے کے قابل ہوجائیں گے ۔
