کراچی مویشی منڈی سے ملکی معیشت کو اچھی امیدیں

دنیا فورم

تحریر : میزبان : مصطفیٰ حبیب صدیقی (ایڈیٹرفورم رو زنامہ دنیا کراچی ) رپورٹ:اعجازالحسن۔ عکاسی :محمد مہدی۔لے آئوٹ :توقیر عباس


شرکاء: یاوررضا چاؤلہ ، ترجمان مویشی منڈی ۔زریں ریاض خواجہ ،رکن کنزیومر پروٹیکشن کونسل سندھ۔کموڈور سید سرفراز علی ،رجسٹرار سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔

منڈی کی منتقلی شہریوں کے مفاد میں ہے ،منفی پراپیگنڈا نہ کریں:  یاور رضاچائولہ

سرسید یونیورسٹی کے طلباء مویشی منڈی کیلئے ایپس بنائیں ،ہر سہولت دینگے :  سید سرفراز علی

بہتر نتائج کیلئے حکومت اور متعلقہ ادارے منصوبہ بندی سے کام کریں:  زریں ریاض خواجہ

 

 موضوع: ‘‘مویشی منڈی بڑی معاشی سرگرمی اور حفاظتی صورت حال ؟’’

 

عیدالاضحی کی آمد آمدہے اور ملک بھر میں سنت ابراہیمی کی ادائیگی کیلئے جانوروں کی خریداری شروع ہوچکی ہے ۔شہر قائد ان دنوں خاص طو ر پر گہماگہمی کا مرکز بنارہتا ہے ،پہلے سہراب گوٹھ پر مویشی منڈی تھی تاہم اس سال ناردرن بائی پاس منتقل کردی گئی،جس پر سوشل میڈیا اور دیگر جگہوں پر مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں کہ منڈی جانے والوں سے لوٹ مار ہورہی ہے جس کے بعد عوام خوف زدہ ہوگئے ،ہم نے حقائق جانے کیلئے مویشی منڈی کے ترجمان یاور رضاچائولہ سے رابطہ کیا اور دنیا فورم میں دعوت دی۔سرسید یونیورسٹی آ ف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے سماجی موضوع پر بھی اپنی جامعہ فراہم کی اور مکمل سہولت دی۔

یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں فورم کا انعقاد کیاگیا جس میں معلوم ہوا کہ مویشی منڈی میں بہت زیادہ سہولتیں فراہم کردی گئیں ہیں،بینک بھی موجود ہے ،پارکنگ کی جگہ سے منڈی تک شٹل سروس بھی جاری ہے ،سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں جبکہ تمام بیوپاریوں کو آئی ڈی کارڈز بھی جاری کئے گئے جن کی آئی ڈی کے ذریعے کسی شکایت کی صورت میں انتظامیہ انہیں تلاش کرسکتی ہے ۔یقینا شہر سے دور ہونے کی وجہ سے کچھ مشکلات ہیں تاہم ترقی یافتہ ممالک اورمتحدہ عرب امارات اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی مویشی منڈی شہر سے دور ہوتی ہے ،حتیٰ کے مذبحہ خانے بھی دور ہوتے ہیں اور صارف کو صرف قربانی کا گوشت لانے کی اجازت ہوتی ہے بہرحال یہ حقیقت ہے کہ وہاں عوام کو منڈی تک جانے کیلئے حکومت کی جانب سے بھرپور سہولت فراہم کی جاتی ہے جو ہمارے ہاں کافی حد تک نہیں ہے ،اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ،بہرحال دنیا فورم میں ہم نے جہاں عوامی مسائل اٹھا ئے وہیں منڈی میں موجود جدید سہولتوں کو بھی سراہاگیا۔

ایک بات جو بار بار دہرائی گئی وہ یہ کہ شہر قائد کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا درست استعمال کیاجائے اور پراپیگنڈے سے بچا جائے کیونکہ عید الاضحی پر بڑی معاشی سرگرمی ہوتی ہے جو یقینا کراچی سمیت پورے ملک کے لئے بہت اہم ہے ،لیکن جو مسائل ہیں ان کی جانب بھی توجہ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔شکریہ(مصطفی حبیب صدیقی،ایڈیٹر فورم دنیا اخبار کراچی) برائے رابطہ: 0092-3444473215,0092-3212699629 ،mustafa.habib@dunya.com.pk

 دنیا: مویشی منڈی سہراب گوٹھ سے کیوں منتقل کی گئی؟

یاوررضاچاؤلہ :کراچی میں 27سال سے مویشی منڈی لگ رہی ہے ۔شروع میں الآصف اسکوائر سہراب گوٹھ پر منڈی لگتی تھی ا سکے بعد سہراب گوٹھ ایم نائن میں 22سال تک لگتی رہی۔کراچی کی مویشی منڈی ایشیاء کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں 12لاکھ سے زائد جانور لائے جاتے ہیں ۔دنیا میں کہیں بھی اتنے زیادہ جانورجمع نہیں کئے جاتے ۔سہراب گوٹھ کے اطراف سوسائٹیاں بننے سے آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ۔سہراب گوٹھ پر منڈی کیلئے کئی د شواریوں کا سامنا ہوتا تھا جبکہ شہریوں کو پریشانی بھی ہوتی تھی ان ہی مسائل کو دیکھتے ہوئے اس سال منڈی ناردرن بائی پاس منتقل کی ۔دنیا بھر میں اس طرح کی سرگرمیاں شہروں کے اندر نہیں باہر ہوتی ہیں ۔کراچی مویشی منڈی میں پورے پاکستان سے جانور لائے جاتے ہیں ان کو شہر میں رکھنے سے شہریوں کے مسائل میں اضافہ ہورہاتھا۔شہریوں کی سہولت کیلئے جوڑیا بازار،سوک سینٹر اور سینٹرل جیل کو بھی شہر سے باہر منتقل کردینا چاہیے ۔ناردرن بائی پاس پر منصوبہ کے تحت جگہ موجود ہے ۔انفرااسٹرکچر مکمل ہے ۔منڈی میں دونوں جانب سڑکیں ہیں جس کی وجہ سے جانور خریدنے کیلئے آنے والوں کو بھیڑ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔سہراب گوٹھ منڈی میں بارش ہوجانے پر کافی مسائل ہوجاتے تھے ،جانوروں کو سنبھالنا مشکل ہوتا تھا۔ ہمار ا مسئلہ ہے کوئی بھی نیا کام شروع ہونے سے پہلے منفی پراپیگنڈے کا آغاز ہوجاتاہے کراچی کا مثبت تاثر اجاگر کریں۔حال ہی میں ایک صاحب کو چھینا جھپٹی کے دوران گولیاں لگیں واقعہ عائشہ منزل کے قریب ہوالیکن سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مویشی منڈی سے جوڑ دیا گیا ۔کہاں عائشہ منزل اور کہاں منڈی ۔ واقعے کی صحیح معلومات شیئر کی تو سوشل میڈیا سے فوری ہٹادیا گیا ۔شہر کو تباہ کرنا بہت آسان ہے ،ہم سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے منفی خبروں کو فوری پروموٹ کردیتے ہیں۔

دنیا: عید الاضحی سے معاشی صورت حال کیسے بہتر ہوسکتی ہے ؟

یاوررضا چاؤلہ : اس مرتبہ ملک بھر میں عید الاضحی کے جانوروں کی فروخت ایک کروڑ10لاکھ تک پہنچ جائے گی اس سے ملک کو800ارب روپے کی آمدنی ہوگی۔پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مطابق2021 میں عید قربان پر 90لاکھ جانور قربان کیئے گئے جس سے 400بلین روپے کی آمدنی ہوئی۔یورپ میں پاکستان کا چمڑا اچھی قیمت میں فروخت ہوتا ہے ۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں اور مسائل کی وجہ سے بڑے فائدوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔طلباء سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ایپس بنا ئیں اورمثبت سر گرمیاں اجاگر کریں۔ناردرن بائی پا س منڈی میں ہرسہولت فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔شہریوں سے درخواست ہے خاص طورپر ان نوجوانوں سے جو سوشل میڈیا کاپلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں وہ منڈی کا اچھا چہرہ سامنے لائیں اس سے ملک معاشی طورپر مضبوط ہوگا۔ہمارے طلباء بہت ذہین ہیں وہ مویشی منڈی کو ڈیجیٹلائز ڈکرنے پر کام کریں اس سے ہماری چیزیں بہتر ہوں گی ۔

دنیا:مویشی منڈی میں سیکیورٹی او ر دیگر کیا سہولتیں ہیں؟

یاور رضا چاؤلہ : مویشی منڈی میں جانوروں کے علاج اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے 24گھنٹے ڈاکٹر زموجودہیں۔اس سال منڈی جدید خطوط پر قائم کی ہے ۔ بینک موجود ہے جانور خریدنے کیلئے نقد رقم لانا ضروری نہیں۔بینک سے پے آرڈر بنوائیں ۔چیک دیں ،اے ٹی ایم مشین بھی ہے ۔ منڈی میں 200 بیت الخلاء بنائے گئے ہیں ،اب خواتین بھی خاندان کے ساتھ آرہی ہیں ان کیلئے الگ بیت الخلاء بنائیں گے ۔منڈی میں بیوپاریوں کو آئی ڈی کارڈز جاری کئے ہیں ۔ شہریوں کو بیوپاریوں سے خریدوخروخت یا جانور خریدنے کے بعد مشکلات ہوں ،کوئی بیوپاری اگر بیمار جانور فروخت کردے تو شہری بیوپاری کی آئی ڈی بتاتے ہوئے شکایت کرسکتا ہے فوری کارروائی کریں گے ۔

دنیا: تعلیمی ادارے کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

کموڈور سید سرفراز علی : یونیورسٹی میں طلبا ء مختلف ایپس او راپیلی کیشن کے ذریعے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں،طلباء جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف اپیلی کیشن کو استعمال کرتے ہوئے مویشی منڈی میں کاروبار کو بڑھانے میں تشہیر کیلئے ایپس بنائیں ۔ طلباء کو مکمل سہولت فراہم کرینگے تاکہ کراچی کی مویشی منڈی کو فائدہ ہواور کراچی جو کہ ملک کا معاشی حب ہے اس کی ترقی سے ملک ترقی کرے گا۔

دنیا: سرسید یونیورسٹی طلباء کومعاشرے کااچھا شہری بنانے میں کیا کردار ادا کررہی ہے ؟

کموڈور سرفراز علی : سرسید یونیورسٹی کی بنیاد علی گڑھ یونیورسٹی کے تحت رکھی گئی ۔علی گڑھ یونیورسٹی کی خاص بات تھی کہ اس میں نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی بچے پڑھنے کیلئے آتے تھے ۔ ہاسٹل میں ہرزبان سے تعلق رکھنے والے طلباء رہتے تھے جن کی انتظامیہ اور اساتذہ تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت کرتے تھے اور معاشرے میں ایک مقام رکھتے تھے ۔آج بھی علی گڑھ یونیورسٹی سے نکلنے والے بچے تربیت کی وجہ سے ایک پہچان رکھتے ہیں اسی مقصدکو لے کرچل رہے ہیں۔یونیورسٹی میں طلباء باقاعدہ یونیفار م پہنتے ہیں جس سے ان کی پہچان ا ور حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔طلباء میں اعلیٰ اور کمتر کپڑوں کا احساس نہیں ہوتا ایک چھے اور برابری کے ماحول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔والدین آتے ہیں بچوں کو یونیفام میں دیکھ کراچھا محسوس کرتے ہیں ۔منڈی میں شہری بڑی رقم لے جاتے ہوئے خوف کا شکار ہوتے ہیں اگر ٹوکن سسٹم سے خریدوفروخت ہوجائے تو شہریوں کو سہولت مل سکتی ہے ۔

یاورر ضا چاؤلہ:سرسید یونیورسٹی مویشی منڈی کو بہتر بنانے میں طلباء کوپروجیکٹ دے اور کام کرے توآئندہ سال مویشی منڈی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سہولتیں فراہم کریں گے ۔طلباء مل کر کام کریں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں ۔

دنیا: صارفین کے تحفظ اور مسائل میں کمی کیلئے کیا کرنا چاہیے ؟ 

 زریں ریاض خواجہ :مویشی منڈی میں سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔گارڈز رکھے جائیں اورچیک کیاجائے کون کیا لے کر جا رہا ہے ۔ کراچی سے جانوروں کی خریداری کیلئے منڈی جانے والوں کیساتھ لوٹ مار کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں ان کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔منڈی میں خواتین کیلئے الگ واش رومز ہونے چاہئیں ۔یونیورسٹی کے انجینئرز سوشل میڈیاکے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے بلاک چین ،ویب سائٹ پر صفحات بنائیں اور مثبت چیزوں کی تشہیر کریں اس سے معاشی صورت حا ل بہتر ہوسکتی ہے ۔ نوجوان بچے اور خواتین بھی جانوروں کو دیکھنے منڈی جاتی ہیں۔ملک کی بہتری کیلئے سب کو بڑھ چڑھ کر حصہ لیناچاہیے ۔عام طورپر جانوروں کی خرید و فروخت نقد رقم میں ہوتی ہے شہر سے دور بڑی رقم لے جانا مشکل مرحلہ ہے ،حکومت ان مسائل کو حل کرے ۔

دنیا:مویشی منڈی اور راستوں کی کیا صورت حال ہے ؟

یاور رضا چاؤلہ: کراچی سے ناردرن بائی پاس منڈی جانے کیلئے تین راستے ہیں،ایک گلشن معمار، معمار گوٹھ سے سیدھا راستہ منڈی کی طرف جاتا ہے ،دوسرا ناظم آباد فور کے چورنگی سے اور تیسر ا مین سپر ہائی سے منڈی کی طرف جاتاہے ۔سندھ پولیس کے ساتھ مل کر راستوں میں 8 چیک پوسٹیں قائم کی ہیں۔رینجرز بھی چیکنگ کررہی ہے ۔کوشش کررہے ہیں راستوں میں شہریوں کو پریشانیوں کا سامنا نہ ہو۔عوام بھی تعاون کریں اور منفی خبروں کی تشہیرنہ کریں ۔منڈی میں بیوپاری کوئی جانور لے کر جاتا ہے ا س کو ڈاکٹر چیک کرتاہے کہ کہیں اس کو کوئی بیماری یا خراب جانور تو نہیں ۔ بیوپاری کے کتنے جانور ہیں سب کا ریکارڈ رکھا جارہاہے ۔ بیوپاری کا شناختی کارڈ لینے کے بعد اس کو کمپیوٹر آئی ڈی جاری کی جاتی ہے جو بار کوڈ کے ساتھ ہوتی ہے ۔ با ر کوڈ کی مدد سے سارے جانور ڈاکومینٹڈ ہوجاتے ہیں ،کارڈ کے ذریعے فروخت اور رہ جانے والے جانوروں کا بھی معلوم ہوجائے گا۔پہلے پرچی سسٹم کے ذریعے ریکارڈ رکھا جاتا تھا اس سال سارے عمل کو کمپیوٹرائزڈ کررہے ہیں۔

منڈی میں ہزاروں بیوپاری ہیں ان کو پابند کیا ہے کہ ان کے پا س اکاؤنٹ ہے تو بہتر اگرنہیں ہے تو اپنا شناختی کارڈ منڈی میں موجود بینک میں لے کرجائے اور 5 منٹ میں اکاؤنٹ کھلواسکتاہے ۔منڈی میں کسی شہری کے ساتھ کوئی بیوپاری بیمار یا عیب والا جانور فروخت کردیتا ہے یا خریدو فروخت میں بے ایمانی کرتاہے توہمیں اس بیوپاری کی آئی ڈی بتائی جائے ہم آئی ڈی کی مدد سے متعلقہ بیوپاری کے خلاف فوری کارروائی کریں گے ۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ جب بھی منڈی میں جانور خریدیں بیوپاری کی آئی ڈی کی تصویر لے کر محفوظ کرلیں ۔گھر جاکر بھی ہمیں آئی ڈی بتاکر شکایت کرسکتے ہیں۔گزشتہ سال بھی کئی شہریوں کو بیوپاریوں سے رقم واپس دلوائی ۔منڈی میں جب بھی بیوپاری منڈی میں جانور لے کر آتاہے اس سے تحریری معاہدہ کیا جاتاہے کہ بیمار جانور فروخت کرنے پر جرمانہ کیا جائے گا۔اگرجانور منڈی میں آنے کے بعد بیمارہو اتو علاج کرانے کا پابند ہوتا ہے ۔منڈی میں ایس او پیز کا بھی خیال رکھا گیاہے ،سیکیورٹی کیلئے کیمرے نصب کیئے ہیں۔

دنیا:منڈی شہر میں ہونے سے لوگوں کو سہولت ہوسکتی ہے ؟

یاور رضا : معاشرے میں بہتری او ر اچھائیوں کیلئے کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں۔ایساممکن نہیں کہ سارے کام میرے گھر پر ہی ہوجائیں۔ کچھ کاموں کیلئے گھر اور شہر سے باہر بھی جانا پڑتاہے لوگ جاتے بھی ہیں ۔ کوشش کر رہے ہیں شہریوں کو ایسی جگہ فراہم کریں جہاں ساری سہولتیں میسر ہوں۔ منڈی 700ایکڑ پر ہے جہاں جنریٹر کے ذریعے 24گھنٹے بجلی فراہم کی جاری ہے ،یہ کوششیں ہماری 22سالوں کی محنت کا نتیجہ ہے جسے کچھ لوگ سوشل میڈیا پر منفی خبروں کی ذریعے برباد کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ہمارا مزاج بن گیا ہے کہ ہمیں سنسنی خبروں کے بغیر مزا نہیں آتا۔سوشل میڈیا پر کوئی خبر وائر ل ہوجائے سب اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں حقیقت معلوم نہیں کرتے جس کے نتیجے میں معاشرے میں غیریقینی اور مایوسی کی فضا بن جاتی ہے ،ہمیں ان عادتوں پر غور کرتے ہوئے خود سے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا میرا عمل صحیح ہے یا غلط۔دنیافورم کی اچھی کاوش ہے جو مثبت طرز کو اجاگر کرکے معاشرے میں بہترین کام کررہاہے ۔ہمیں ملکی اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنا حصہ ڈالناہے ۔ 

 دنیا فور م میں طلباء کے سوالات اور تجاویز

دنیا فورم میں طلبا ء نے شرکاء سے سوالات کئے اور تجاویز بھی دیں۔ شعبہ کمپیوٹرسائنس کے طالب علم سلیم احمدنے کہا کہ ناردرن بائی پاس منڈی گئے تھے راستہ طویل اور ڈر بھی لگ رہاتھا کہیں لوٹ مار نہ ہوجائے اور رقم نہ چھن جائے ۔لوٹ مار کی افواہوں کی وجہ سے بھی خوف آرہا تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کوئی واقعہ نہیں ہوا خیریت سے سارے معاملات ہوگئے ۔کچھ واقعات کی وجہ سے لوگوں میں خوف ہے ۔حکومت اور متعلقہ ادارے ایسی منفی خبروں کی تردید اور درست معلومات کیلئے سوشل میڈیا پر آگہی مہم چلائیں۔میری تجویز ہے کہ شہر میں بھی کئی بڑے بڑئے مقامات ہیں اگر منڈی یہاں لگادی جاتی تو عوام کو سہولت ہوجاتی ۔طالب علم عبد اللہ نے کہاکہ گلشن معمار میں بھی بہت جگہ ہے اگریہاں منڈی لگادی جاتی تو شہری لمبے سفر سے بچ جاتے ۔ کرایہ بہت لگ جاتا ہے ،مہنگاجانور کے ساتھ بہت زیادہ کرایہ بھی شہریوں پر اضافی بوجھ ہے اس پر بھی غور کیا جائے ۔

رکن کنزیومر پروٹیکشن زریں ریاض نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے صحیح منصوبہ بندی سے کام کریں توپروجیکٹ کے اچھا نتائج سامنے آتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا ادارے تعاون نہیں کرتے ۔سڑک بن رہی ہوتو متعلقہ شعبے کے ذمہ دار نہیں آتے جب بن جاتی ہے تو کھدائی اور توڑ پھوڑ کرنے کیلئے فوری آجاتے ہیں۔طالب علم اللہ ڈنو نے کہاکہ دیگر ممالک میں سلاٹر ہاؤس اور منڈیوں میں صفائی ستھرائی کے بہتر انتظامات ہوتے ہیں ہماری منڈی میں کیا صورت حال ہے ؟دوسرا سوال ہے شہر میں سلاٹر ہاؤس کیوں نہیں ہیں ۔ان کے نہ ہونے سے عوام گلیوں محلوں میں قربانیاں کرتے ہیں اور صفائی ستھرائی نہ ہونے سے مسائل ہوتے ہیں ؟۔ مویشی منڈی کے ترجمان یاور رضا چاؤلہ نے کہا کہ مسائل کی بنیادی وجہ ہمارے ادارے ایک دوسرے سے تعاون نہیں کرتے ۔جب تک ہم خود کو بہتر نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہوں گے ،ہمیں شہر کو اپنا گھر سمجھتے ہوئے کردار ادا کرنا ہوگا،گھر کی صفائی کیلئے بھی کوششیں کرتے ہیں تو گھر صاف رہتاہے ،اسی طرح گلی محلوں کیلئے بھی سوچیں اور بڑھ چڑھ کا فلاحی کاموں میں حصہ لیں بہت جلد چیزیں بہترہونا شروع ہوجائیں گی،

گزشتہ تین سال سے سلاٹر ہاؤسز کیلئے کوششیں کررہے ہیں ،کئی فلاحی ادارے قربانی کیلئے مقامات بھی بناتے ہیں لیکن عوام ان جگہوں پر نہیں جاتے ان کی کوشش ہوتی ہے قربانی گھر کے سامنے ہو۔گلی میں ایک ہفتے تک جانور کھڑا رہے لوگ دیکھ کر واہ واہ کرتے رہیں ،ہمیں خود اپنی اور محلوں والوں کے حقوق کی پرواہ نہیں ہوتی جس سے مسائل حل نہیں ہورہے ، جب تک اپنے رویوں کو بہتر نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہوں گے ،دبئی جاکر دیکھیں آپ کومعلوم ہوگا منڈی کہاں ہوتی ہے ۔وہاں گھروں کے سامنے کچھ نہیں ہوتاسارے کام دو ر دور بنے سلاٹرہاؤس میں ہوتے ہیں ۔گھنٹوں کا سفر طے کرکے جائیں اور اپنے حصہ کا گوشت لے کر آجائیں وہاں ہماری طرح نہیں ہوتا کہ گھر کے باہر ہی قربانی کرنی ہے ،ہم دیگر ممالک کی مثالیں تو دیتے ہیں لیکن ان کی طرح عمل بھی تو کریں ۔یونین کونسل کی سطح پر سلاٹر ہاؤس بن سکتے ہیں۔پاکستان کو بنے 75سال ہوگئے لیکن ہم آج تک یونین کونسل کی سطح پر سلاٹر ہاؤس نہیں بناسکے ۔شعبہ سول انجینئرنگ کے طالب علم عمر نے کہا کہ مویشی منڈی کا طویل سفر ،راستے میں خوف اور گاڑیوں کو کرایہ زیادہ ہونے کی وجہ سے شہر میں ہی جانور خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں اگر حکومت یا متعلقہ ادارے عوام کو قربانی کے جانور کو خرید نے کے عمل کو آسان بنادے یا شہر سے شٹل اسروس شروع کردے تو عوام کو پہنچنا آسان ہوجائے گا۔ یاور رضا چاؤلہ نے کہا بالکل ممکن ہے ، منڈی کے دروازے سے پوری م منڈی میں وزٹ کیلئے اسی ہفتے سے شٹل سروس شروع کردیں گے ۔

گلشن معمار ،معمار موڑ سے بھی شٹل سروس شروع کرنے کی کوشش کریں گے ۔معمار موڑ سے سیدھا راستہ مویشی منڈی کو جاتاہے مشکل سے 15منٹ لگتے ہیں ۔شہری اگر وہاں سے منڈی آئیں تو کم وقت میں منڈی پہنچ سکتے ہیں۔رستہ بھی محفوظ ہے اور سڑک کا نقشہ سوشل میڈیا پر بھی موجود ہے ۔ طلباء اور میڈیا کے لوگوں سے بھی کہوں گا وہ مویشی منڈی کا دورہ کریں اور خود چیزوں اور سہولتوں کا جائزہ لیں اورمویشی منڈی کا مثبت چہرہ سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ہمیں ترجیح صرف ملک کی معیشت کی بہتری کیلئے ہونی چاہیے ۔سوشل میڈیا پر صرف افواہیں ہیں۔زریں ریاض نے کہا جو طلباء بھی جدید ٹیکنالوجی پر کام کررہے ہیں وہ تھوڑا وقت نکال کر مویشی منڈی میں جانوروں ،منڈی کے انتظامات ، آسان طریقوں سے آن لائن کس طرح ہوسکتی ہے اس پر کام کریں اورمزید بہتری کیلئے سوفٹ ویئر یا ایپلی کیشن بنائیں ،ہم سے شیئر کریں تعاون کیلئے تیار ہیں۔شعبہ کمپیوٹر کے طالب علم احمد جاوید نے کہا عوام منڈی جانا چاہتے ہیں لیکن خوف کی وجہ سے نہیں جارہے ان کو آگہی اور سہولتیں دی جائیں ۔یاور رضا نے کہا کہ ملک کے نوجوان خاص طور طالب علم بہت ذہین ہیں آپ خود لوگوں کو سہولت دینے والے بن جائیں ،اپنے علم اور صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے کام کریں آہستہ آہستہ آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔

ایڈیٹر فورم نے کہا کہ شہر میں مسائل ہیں ،مشکلات ہیں لیکن یہ شہرہمارا ہے ہم اس کا جو چہرہ پیش کریں گے باہر وہی جائے گا۔ہمیں مثبت سرگرمیوں کی تشہیر کرنی ہے ۔دبئی ،سعودی عرب اور دیگر ممالک میں بھی قربانی ہوتی وہاں شہر سے دور ایک مقام اور نظام ہوتا ہے جس کے تحت قربانی ہوتی ہے کسی کے گھر کے سامنے قربانی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی کہ کہنے کی اہمیت ہوتی ہے لیکن اپنے ملک میں جب تگ گھرکے سامنے جانور نہ کٹے قربانی نہیں ہوگی،ہمیں ان چیزوں سے باہر نکلناہوگا اورمعاشرے کی بہتری کیلئے خود کو بدلنا ہوگا جیسے باہر جاکر بدل لیتے ہیں۔

 طلباء کی جانب سے چند تجاویز

٭ مویشی منڈی سے سہراب گوٹھ تک شٹل سروس شروع کی جائے ۔

٭ یونین کونسل کی سطح پر سلاٹر ہاؤس بن سکتے ہیں۔

٭ عوام کا خوف ختم کرنے کیلئے آگہی اور تحفظ دیاجائے ۔

٭ دیگر ممالک کی طرح مذبحہ خانے قائم کئے جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

توانائی اور معاشی بہتری کیلئے عوام کو بدلنا ہوگا

شرکاء: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت ،ماہر معاشیات اورڈین کالج آف اکنامکس اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آئی او بی ایم کراچی۔انجینئر خالد پرویز،چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئرز(آئی ای ای ای پی)۔انجینئر آصف صدیقی،سابق چیئرمین آئی ای ای ای پی ۔پروفیسر ڈاکٹر رضا علی خان، چیئرمین اکناکس اینڈ فنانس این ای ڈی ۔ڈاکٹر حنا فاطمہ ،ڈین بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی۔سید محمد فرخ ،معاشی تجزیہ کار پاکستان اکنامک فورم۔ احمد ریحان لطفی ،کنٹری منیجر ویسٹنگ ہائوس۔

گھریلو ملازمین پر تشدد معاشرتی المیہ،تربیت کی اشدضرورت

شرکاء: عمران یوسف، معروف ماہر نفسیات اور بانی ٹرانسفارمیشن انٹرنیشنل سوسائٹی ۔ اشتیاق کولاچی، سربراہ شعبہ سوشل سائنس محمد علی جناح یونیورسٹی ۔عالیہ صارم برنی،وائس چیئرپرسن صارم برنی ٹرسٹ ۔ ایڈووکیٹ طلعت یاسمین ،سابق چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم۔انسپکٹر حناطارق ، انچارج ویمن اینڈ چائلڈ پرو ٹیکشن سیل کراچی۔مولانا محمود شاہ ، نائب صدرجمعیت اتحادعلمائے سندھ ۔فیکلٹی ارکان ماجو اورطلبہ و طالبات

درسگاہوں کا احترام لازم،پراپیگنڈا خطرناک ہوسکتا ہے

شرکاء:پروفیسر ڈاکٹر طلعت وزارت ماہر تعلیم آئی بی اے ۔ مظہر عباس،معروف صحافی اور تجزیہ کار۔ ڈاکٹر صائمہ اختر،سربراہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹرایس ایم قیصر سجاد،سابق جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ۔ پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹر مانا نوارہ مختار ،شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ اساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔

انتخابی منشور:حقیقت یا سراب۔۔۔۔۔؟

شرکاء: ڈاکٹر اسامہ رضی نائب امیر جماعت اسلامی کراچی محمد ریحان ہاشمی،رکن رابطہ کمیٹی ایم کیوایمسردارعبدالرحیم ، صدرمسلم لیگ فنکشنل سندھ ڈاکٹرحنا خان ،انچارج شعبہ تاریخ جامعہ کراچیڈاکٹر معیز خاناسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ جامعہ کراچیاساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد

بجٹ:انتخابی یا عوامی۔۔حکومت سنجیدگی اختیارکرے

شرکاء: احمد علی صدیقی، ڈائریکٹرسینٹر فار ایکسی لینس اسلامک فنانس آئی بی اے کراچی ۔ڈاکٹر شجاعت مبارک، ڈین کالج آف بزنس مینجمنٹ اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کراچی۔ڈاکٹر حنافاطمہ ، ڈین فیکلٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی ۔ محمد ادریس ،سابق صدر ایوان صنعت و تجار ت کراچی۔ضیا ء خالد ، سینئرپروگرام منیجر سی ای آئی ایف آئی بی اے کراچی ۔

پاکستان کودیانتدار اور باصلاحیت لیڈر چاہیے، عوام کردار اداکریں

شرکاء: ڈاکٹر عصمت آراء،چیئرپرسن شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی۔ڈاکٹر معیز خان ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ جامعہ کراچی ۔ڈاکٹر معروف بن رئوف ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تعلیم اور صدر سوسائٹی فار سوشل سائنسز آف ریسرچ ایسوسی ایشن ۔ نورالعارفین صدیقی ، معروف ٹی وی اینکر ۔ شعبہ ابلاغ عامہ کے طلباء زیان احمد خان اور جویریہ بنت شاہدطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔