
کراچی (دنیا نیوز ) وزیر اعظم نواز شریف نے گرین لائن ریپڈ بس سروس کا سنگ بنیاد رکھ دیا، اس سے پہلے وزیر اعظم افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے کراچی پہنچے ، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ایئرپورٹ پر وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔ ایک سال میں مکمل ہونے والے منصوبے پر 16 ارب روپے کی لاگت آئے گی ۔ ایک سال میں مکمل ہونے والے گرین لائن منصوبہ 17 کلو میٹر طویل ہے جس پر 16 ارب روپے کی لاگت آئے گی جس کے لیے فنڈز وفاقی حکومت فراہم کرے گی ۔ گرین لائن بس سرجانی سے شروع ہوکر گرومندرتک چلے گی جس سے یومیہ تین لاکھ مسافر سفر کرسکیں گے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے وزیر اعظم کو صوبے میں قیام امن کے حوالے سے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرین لائن کا فاصلہ سوجانی سے ٹاور تک 22 کلومیٹر تھا ، سرجانی ٹائون سے میونسپل پارک ایم اے جناح روڈ تک بس چلے گی ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بس سروس کا دائرہ کار صدر کے علاقے تک بڑھایا جائے ، وزیر اعظم نے منصوبے کیلئے خصوصی کاوش کی جس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا اور ہماری کوشش ہے کہ ہم آئندہ دو برسوں میں مزید ایسے پراجیکٹس شروع کریں گے جو اس گرین لائن سے ملے گا ۔ یہ یقیناً ایک بڑا منصوبہ ہے جس سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ ہم اس منصوبے کی چھ لائنز کو اپمے دور اقتدار میں مکمل کر لیں گے ، اس کے علاوہ صوبے میں پانی اور بجلی کے مسائل کا بھی سامنا ہے ، جس میں وفاق نے بھرپور تعاون کیا ہے ،۔ اس منصوبے سے پانی کے بحران میں خاتمہ ہوگا اور بجلی کی کمی بھی دور ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ پورے صوبے کیلئے کئی منصوبے جاری ہیں اور کئی منصوبے پائپ لائن میں ہیں ، انہپوں نے کپا کپہ موٹر وے منصوبہ حیدر آباد سے ملتان تک تک شروع کیا جائے اور سکھر کی بجائے حیدر آباد سے شروع ہو تاکہ لوگوں کو سہولت ہو ۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم متعدد بار سندھ کا دورہ کر چکے ہیں اور ان کی رہنمائی سے ہم نے صوبے میں جرائم پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے ، پورے صوبے میں اغوا برائے تاوان کا کوئی کیس درج نہیں ، اور جلد اس صوبے کو امن کا گہوارہ بنا لیں گے ۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں قیام امن کیلئے رینجرز اور پولیس کی خدمات قابل تعریف ہیں ۔ گورنر سندھ عشرت العباد نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اس پراجیکٹ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ یہ پراجیکٹ عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اس منصوبے سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا تو غلط نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے اقدامات نہیں کئے گئے ۔ اس شہر کو پاکستان کا دل کہا گیا مگر کسی نے اس کی حفاظت نہیں کی ۔ کراچی میں بس کا عجب معاملہ تھا نہ بس چل رہی تھی نہ بس چل رہا تھا 2013 ء میں کراچی کے امن کی بحالی کیلئے وزیر اعظم نے اقدامات کئے اور تمام سیاسی جماعتوں نے ان کا ساتھ دیا ، رینجرز اور پولیس نے بھرپور ساتھ دیا ۔ اس شہر کے استحکام کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے کردار کی تعریف ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کے چیف جنرل راحیل شریف نے کراچی میں قیام امن کیلئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ۔ اس منصوبے کا ابتدائی کام ایک سال میں مکمل کر لیا جائے گا اور آج وزیر اعظم نے کراچی جو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے اس کے دکھڑوں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔ عشرت العباد نے کہا کہ جب آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ہم نے عزم کیا تھا کہ اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، ہم نے بہت سی قربانیاں دیں اور ان کے بعد اس شہر میں امن قائم ہوا ، لیاری ایکسپریس وے پر رکا ہوا کام بھی جلد شروع ہوگا اور اس کے افتتاح کیلئے بھی وزیر اعظم کو دعوت دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملیر وے جو کراچی سےملتان تک جائے گی اس کی تعمیر کیلئے بھرپور مدد فراہم کی جائے اور این ایچ اے کو منصوبوں کی جلد تکمیل کی ہدایت کی جائے ۔ وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ مجھے یاد ہے کہ پچھلے سال اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور آج خدا کے فضل و کرم سے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ۔ یہ منصوبہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا ، اور اس سے یقیناً عوام کے مسائل کا خاتمہ ہوگا ۔ آج کراچی میں جرائم کا بڑی حد تک خاتمہ ہوچکا ہے اور باقی بھی جلد ختم ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی میں جرائم کا خاتمہ ہورہا ہے اور اس وقت ضرورت ہے کہ ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں کہ کراچی کا امن مکمل طور پر بحال ہوجائے ۔ جب تک کراچی کا امن بحال نہیں ہوگا ہم اس آپریشن کو بند نہیں کریں گے ، آج تک کراچی کے حوالے سے عوام کو بری خبریں سننے کو ملتی تھیں آج یہاں نئے منصوبوں کی بنیاد رکھی جارہی ہے ، ایک روز کراچی میں امن و امان کا مسئلہ ختم ہوجائے گا اور ہم صرف کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اقدامات کی باتیں کریں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر کراچی کا امن قائم رہتا تو اس ملک میں بے پناہ ترقی ہوتی ، آج ہم سب اس کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں ہمیں آپ سب کی مدد کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ 18٫4 کلومیٹر طویل ہوگا ۔ لیاری ایکسپریس وے کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے پر مارچ میں کام شروع کر دیا جائے گا اور اس کے لئے 20 ارب کی منظوری دے دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور کوالٹٰ کو مد نظر رکھا گیا اور اسی شفافیت کی بنیاد پر یہ منصوبہ آئندہ برس تک مکمل کرلیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ کراچی سے لاہور تک موٹر وے بنائی جا رہی ہے جس میں حیدر آباد سے کراچی تک کام شروع کیا جا رہا ہے جس کو جلد مکمل کیا جائے گا ۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ کراچی سے پشاور تک موٹر وے کے ذریعے لوگ آپس میں منسلک ہوجائیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں بجلی کے پلانٹ لگانے کیلئے کوئلے کے ذخائر کا استعمال کیا جائے گا ۔ ہم سڑکیں بنانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور بہت جلد اس ملک کو خطے کا مضبوط ترین ملک بنا دیں گے ۔
سے اہم مضامین پڑھیئے