وفاقی بجٹ کیسا ہونا چاہئے؟ معاشی اداروں نے ماڈل بجٹ کا خاکہ جاری کر دیا
کراچی: (دنیا نیوز) وفاقی بجٹ کیسا ہونا چاہئے؟ معاشی اداروں کی جانب سے ماڈل بجٹ کا خاکہ جاری کر دیا گیا، بجٹ کے چیلنجز کن اقدامات سے کم ہوسکتے ہیں ماڈل بجٹ کی رپورٹ نے واضح کر دیا۔
ماڈل رپورٹ کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو بجٹ منظوری کے لیے سخت شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا ہے، غیر ملکی اثاثوں کی واپسی پر ٹیکس چھوٹ سے 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ہنڈی کے بجائے بینکنگ چینل سے رقوم بھیجنے پر 10 روپے فی ڈالر بونس دینے سے ترسیلات بڑھ سکتی ہیں، روپے کی قدر کو 250 فی ڈالر تک لانے سے مہنگائی میں 6 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
ماڈل رپورٹ کے مطابق پالیسی ریٹ میں 1 فیصد کمی سے حکومتی قرضوں پر تقریباً 625 ارب روپے کی بچت ممکن ہے، آئی ایم ایف پالیسیوں سے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف سے ہٹ کر مقامی اصلاحات کریں تو خسارہ 2.1 فیصد تک لایا جا سکتا ہے، آئی ٹی سیکٹر کو ٹیکس چھوٹ دینے سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ماڈل رپورٹ کے مطابق زراعت پر ٹیکس لگا کر ریونیو بیس کو وسیع کرنا وقت کی ضرورت ہے، توانائی شعبے کے نقصانات کم کئے بغیر بجٹ خسارے پر قابو پانا ناممکن ہے۔
سرکاری اداروں کی نجکاری سے بجٹ پر موجود بوجھ کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کیلئے ریگولیٹری رکاوٹوں کو ختم کرنا لازمی ہے۔