نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 11.10 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 6540 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 13لاکھ 60 ہزار 19 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 63 ہزار 344 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 12 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 77 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1119 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 67 ہزار 598 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 58 ہزار 902 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑ 44 لاکھ 74 ہزار 618 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1055 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 60 ہزار 335،سندھ میں 5 لاکھ 20 ہزار 415 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 83 ہزار 865،بلوچستان میں 33 ہزار 855 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 15 ہزار 939،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 480 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 35 ہزار 130 ہوگئی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

سانحہ سیالکوٹ، ورکرز کو کس نے اکسایا، ملزم کا پتا چل گیا: ڈی پی او

پاکستان

سیالکوٹ: (دنیا نیوز) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سیالکوٹ عمر سعید ملک نے فیکٹری میں ہجوم کی طرف سے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کے قتل کے حوالے سے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورکرز کو کس نے اکسایا اور پھر اکٹھا کیا، ملزم کا پتا چل گیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پریانتھا کمارا کی متشدد ہجوم کے ہاتھوں موت کے معاملے میں صبور بٹ نے ورکرز کو اشتعال دلایااور ہجوم کو اکٹھا کیا۔ فیکٹری کے اسٹچنگ یونٹ کے اسٹیچر صبور بٹ نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پریانتھا کےخلاف ہجوم کو اکٹھا کرنے میں وہ ملوث ہے۔ واقعے سے پہلے پریانتھا نے اسٹیچنگ ہال کا دورہ کیا تھا، تصویر میں صبور بٹ اور پریانتھا کو واضع دیکھا جاسکتا ہے۔

ڈی پی او سیالکوٹ نے یہ بھی کہا کہ ملزم صبور بٹ اس وقت جسمانی ریمانڈ پر ہے، اس سے تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر مرکزی ملزمان کے کردار کا تعین بھی کیا جارہا ہے۔

سانحہ سیالکوٹ، ملوث افراد کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے: وفاقی کابینہ

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ اجلاس کے دوران سیالکوٹ واقعہ پر بریفنگ دی گئی۔

کابینہ اراکین نے اجلاس کے دوران سیالکوٹ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں، سانحہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔

سانحہ سیالکوٹ، پریانتھا کمارا کے لواحقین کیلئے ایک لاکھ ڈالر امداد جمع

 سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کی طرف سے مبینہ توہین مذہب کے الزام کے بعد قتل ہونے والے سری لنکن منیجر کے ورثاء کی کفالت کے لیے بزنسمینوں نے بڑا قدم اٹھا لیا۔ پریانتھا کمارا کے لواحقین کیلئے ایک لاکھ ڈالر امداد جمع کرلی اور ہر ماہ باقاعدگی سے تنخواہ بھجوانے کا بھی اعلان کر دیا۔

آنجہانی پریانتھا کمارا کی یاد میں وزیراعظم آفس میں تعزیتی ریفرنس اور ان کی جان بچانے کیلئے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے والے ملک عدنان کو سند عطا کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی کی طرف سے آنجہانی پریانتھا کمارا کے لواحقین کیلئے ایک لاکھ ڈالر جمع کرنے اور ہمیشہ ان کی کفالت کرنے کے اعلان کو سراہا۔

عمران خان نے یہ اعلان بھی کیا کہ سیالکوٹ کی کاروباری کمیونٹی نے مقتول کے اہلخانہ کے لیے ایک لاکھ ڈالر اکھٹے کیے ہیں جبکہ جس کارخانے میں وہ ملازم تھے وہ ہمیشہ کے لیے ان کی تنخواہ ان کے لواحقین کو دیتا رہے گا۔

دین کے نام پر ظلم کرنیوالوں کو نہیں چھوڑینگے: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات نہیں ہونے دوں گا اور ملوث لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے، دین اور حضورﷺ کے نام پر ظلم کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ میں قتل ہونے والے پریانتھا کمارا کی یاد میں منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس دوران آنجہانی کے خاندان، سری لنکن حکومت اور عوام سے اظہاریکجہتی کیا گیا۔

تقریب میں وفاقی وزرا فوادچودھری، غلام سرورخان، حماداظہر، عمر ایوب، شیریں مزاری، علی محمد خان، معاون خصوصی علامہ طاہراشرفی اورعثمان ڈار، سری لنکن شہری کو ہجوم سے بچانےکی کوشش کرنیوالے ملک عدنان، سری لنکن ہائی کمشنربھی تقریب میں شریک ہوئے۔

تقریب کے دوران سری لنکن شہری کی جان بچانے کی کوشش کرنیوالے ملک عدنان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ سیالکوٹ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ افسوس ناک واقعے کے بعد ہمیں ملک عدنان کو دیکھ کرخوشی ہوئی۔ سانحہ سیالکوٹ میں ملوث لوگوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ فیصلہ کیا ہے جنہوں نے دین کواستعمال کیا اعلان کررہا ہوں ان کونہیں چھوڑنا۔مدینہ کی ریاست میں رحم اورانصاف تھا، ایسا کسی معاشرے میں نہیں ہوتا خود الزام لگایا اور خود ہی سزا دے دی، سارے پاکستان نے سیالکوٹ میں تماشا دیکھا، اب فیصلہ کرلیا آئندہ ایسے واقعات نہیں ہونے دینا۔

 انہوں نے کہا کہ انسانوں کے معاشرے میں انصاف ہوتا ہے، جانوروں کے معاشرے میں کمزور کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، ہمارے نبی ﷺ نے مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے کی ذمہ داری لی، مدینہ کی ریاست میں رحم اورانصاف تھا، سیالکوٹ میں دین کے نام پرلوگوں کو مار رہے ہیں اور جلا دیتے ہیں، یہ کونسا انصاف ہے، آپ نے ہی الزام لگایا اورخود ہی قتل کردیا، ایسا کسی معاشرے میں نہیں ہوتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ججز، وکلا ایسے کیس ہی نہیں سنتے تو اس کا کون دفاع کرے گا، سانحہ اے پی ایس کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خلاف غصہ آیا تھا، اس کے بعد پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتا، سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے پریا نتھا کمارا کی فیملی کے لیے ایک لاکھ ڈالر اکٹھا کیا اور ہمیشہ فیملی کو تنخواہ بھی دی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ پوری قوم عاشق رسول ﷺ ہے، ہمیں نبی ﷺ کی سیرت پر چلنا ہوگا، اگرہم نبی ﷺ کی سیرت کو پڑھ لیں تو کوئی بھی ایسی حرکتیں نہ کرے، اسی لیے ہم نے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی، ہمیں بچوں کونبی ﷺ کی زندگی بارے بتانا ہو گا، ہمارے نبی ﷺ دنیا کے سب سے عظیم انسان تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان واحد ملک جواسلام کے نام پربنا تھا، اس طرح کی حرکتوں سے اوورسیزپاکستانی کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، سیالکوٹ میں ہجوم نے جو کچھ کیا بہت تکلیف ہوئی، ملک عدنان کو تمغہ شجاعت 23 مارچ کودلوائیں گے۔ ایسے واقعات کو بھارت میں بہت اٹھایا جاتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں کسی کو گائے کا گوشت کھانے پر مار دیا جاتا ہے، بھارت میں ایسے واقعات دیکھ کر ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے، بھارتی میڈیا جب ایسے واقعات دکھاتا ہے تو کہتا ہے پاکستان میں بھی ایسا ہوتا ہے، پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا اور جب تک میں زندہ ہوں انشااللہ ایسے واقعات نہیں ہونے دونگا۔

سانحہ سیالکوٹ، وزیراعظم عمران خان نے ملک عدنان کو تعریفی سند سے نواز دیا

سیالکوٹ میں قتل ہونے والے سری لنکن شہری کی یاد میں وزیراعظم آفس اسلام آباد میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے۔ تقریب میں پریانتھا کمارا کے خاندان، سری لنکن حکومت اور عوام کےساتھ اظہار تعزیت کی گئی۔

تقریب میں وفاقی وزرا، سری لنکن ہائی کمشنر اوردیگر نے شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک عدنان کو تعریفی سند سے نوازا گیا۔

 وزیراعظم آفس میں ملک عدنان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن میرا جذبہ یہی تھا کہ کسی طرح سری لنکن شہری کو بچا لوں، چاہتا تھا کہ کوئی ایسا واقعہ نہ پیش آ جائے کہ ملک کا نام خراب ہو۔

انہوں نے کہا کہ شاید یہ قتل قوم کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ہو، یہ واقعہ پاکستان کی سوچ کو بدل دے گا، سوچ بدلے گی تو آنے والی نسل کی بہتر پرورش ہو گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں