سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار

اسلام آباد: (دنیا نیوز) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کیخلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار دے دیا۔

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت سول جج قدرت اللہ نے کی۔

بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے سول جج کی عدالت پیش ہو کر حاضری لگوائی، درخواست گزار خاورمانیکا کے وکیل رضوان عباسی نے کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل مکمل کر لیے۔

درخواست گزار کے وکیل رضوان عباسی نے شادی سے پہلے تعلقات پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہاں دو افراد آئے ہیں جنہوں نے آنکھوں سے دیکھا اورایک وہ جسے بتایا گیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ قانون دیکھیں، قانون کیا کہتا ہے، وکیل رضوان عباسی نے جواب میں کہا کہ اس کیس میں 203 سی لاگو ہوتی ہے۔

جج قدرت اللہ نے ریمارکس دیئے کہ شکایت کنندہ کے ساتھ 2 گواہ ضروری ہیں، میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ یہ شرائط پوری ہوں، اگرآپ کو دلائل کے لیے وقت چاہیے تو میں وقت دے دیتا ہوں۔

عدالت نے مزید کہا کہ قانون واضح ہے اسے ہم تبدیل نہیں کر سکتے، ججمنٹ کی تب ضرورت ہوتی ہے جب قانون واضح نہ ہو۔

وکیل نے استدعا کی کہ میرے دلائل سن لیں میں تیار ہوں، میں نے سپریم کورٹ جانا ہے اس لیے ابھی سن لیں، جج نے جواب میں کہا کہ آپ مشورہ کر لیں پھر دلائل دے دیں۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ گھرمیں خاتون ملازمہ بھی تھی ٹرائل میں اس کا نام بھی آسکتا ہے جس کے ساتھ ہی عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا۔

وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو عدالت نے کہا کہ آپ قانون کو دیکھ لیں، قانون 496 بی کے حوالے سے کیا کہتا ہے؟ خاور مانیکا کا بیان دیکھ لیں، اس میں کچھ بھی نہیں ہے، قانون کے مطابق شکایت کنندہ کے ساتھ دو گواہان لازم ہیں۔

وکیل درخواستگزار نے کہا کہ خاور مانیکا نے بتایا انہیں زنا کے حوالے سے بتایا گیا، دو گواہان خاورمانیکا کو ملا کر تو بن گئے۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا میڈیکل ثبوت موجود ہے؟ درخواستگزار کے وکیل نے جواب دیا کہ میڈیکل کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ زنا کے کیس میں طبی معائنے کے حوالے سے مختلف وضاحتیں ہیں، خاورمانیکا کو نوکر نے بتایا اس نے زنا ہوتے دیکھا، خاورمانیکا یہ سن کر گواہ بھی بن گیا، البتہ 496 بی ٹرائل کی سٹیج پر دیکھ لیں گے۔

وکیل درخواست گزار نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کر دی جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کو آدھا شکایت کنندہ اور آدھا گواہ تو نہیں بنا سکتے، خاور مانیکا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نکاح خواں بھی موجود ہے، چشم دید گواہ اور سننے والا بھی موجود ہے۔

بعد ازاں عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو چند گھنٹوں بعد سناتے ہوئے درخواست قابل سماعت قرار دے دی اور فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے جبکہ عدالت نے دفعہ 496 بی میں بھی بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کو نوٹس جاری کر دیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں