احتجاج کی کال: سندھ اسمبلی جانے والے راستوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا

کراچی: (دنیا نیوز) اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر احتجاج کے اعلان کے بعد سندھ اسمبلی جانے والے راستوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس آج ہو گا جس میں کامیاب ہونے والے امیدوار حلف اٹھائیں گے، نو منتخب ایوان کے پہلے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہو گا جبکہ صدارت سپیکر آغا سراج درانی کریں گے۔

دوسری جانب جی ڈی اے، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے قائدین نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر احتجاج کرنے اور عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف حلف نہ اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا جاتا آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول کی مبینہ دھاندلی کیخلاف صف آرا جماعتوں کو ڈائیلاگ کی دعوت

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری جہدوجہد پُرامن ہے، ہم قانونی اور آئینی احتجاج کی طرف جا رہے ہیں، ہم نئے الیکشن کی طرف جائیں گے، پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کے ارکان بھی حلف نہیں لیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ یہ الیکشن نہیں فراڈ کیا گیا، ن لیگ، پی پی، ایم کیو ایم سے بات نہیں ہو گی، جی ڈی اے رہنما صفدر عباسی نے کہا کہ دھاندلی زدہ الیکشن کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔

ادھر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کے اعلان کے بعد نگران حکومت نے اجلاس سے قبل ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے اسمبلی کی جانب جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

نگران وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ آج 24 فروری کو سندھ اسمبلی اور اس کے اطراف سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات کئے ہیں، شہر قائد کراچی میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت سندھ اسمبلی کے قریب کسی بھی قسم کے جلوس اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کا کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کی شرپسندی اور لاقانونیت کا مظاہرہ کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، امن وامان کے قیام میں عوام، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں