روس میں شدید برفانی طوفان، معمولات زندگی متاثر، مختلف شہروں کا درجہ حرارت منفی میں چلا گیا

ماسکو: (شاہد گھمن) روس بھر میں گزشتہ روز سے برفانی طوفان نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں دارالحکومت ماسکو سمیت متعدد علاقوں میں نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات نے ماسکو اور وسطی روس کے شہروں میں اورنج الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طاقتور سائیکلون نے روس کے وسطی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کے باعث مسلسل برف باری، برفیلی آندھی اور شدید منفی درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں اس شدت کی برف باری کو گزشتہ کئی دہائیوں میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

برفانی طوفان کے باعث ماسکو کے ہوائی اڈوں پر سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور متعدد پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں، ٹریفک پولیس نے سڑکوں پر پھسلن اور برف کے جمع ہونے کے باعث شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی ہے جبکہ بلدیہ کے عملے نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں سے برف ہٹانے کا کام تیز کر دیا ہے۔

برفانی طوفان کے ساتھ روس کے کئی بڑے شہروں میں درجہ حرارت آج منفی ریکارڈ کیا گیا، جن میں ماسکوکا درجہ حرارت منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ، جبکہ سینٹ پیٹرزبرگ میں درجہ حرارت منفی 10، کازان میں منفی 8، ایکاتیرینبرگ میں مفنی 11، کرسنایارسک میں منفی 33 جبکہ روس کے سرد ترین علاقے اومیاکون کا درجہ حرارت منفی 46 درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ریسکیو محکموں نے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ گاڑی کے ساتھ سفر صرف ضرورت کے تحت کیا جائے، گرم کپڑوں، برف سے محفوظ جوتوں اور دیگر حفاظتی اشیاء کا استعمال کیا جائے، بزرگ اور بیمار افراد گھر سے غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ برفانی طوفان آئندہ 24 سے 48 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ ہفتے کے وسط سے موسمی حالات میں بتدریج بہتری متوقع ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں