جی سی سی خطے میں کشیدگی کے باوجود تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی ریکارڈ
ابوظہبی: (سید مدثر خوشنود) جی سی سی خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے باوجود عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدید اتار چڑھاؤ کے بعد جمعہ کے روز خام تیل کی قیمتیں قدرے نیچے آئیں جبکہ برینٹ خام تیل تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب اور امریکی خام تیل تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ٹریڈ ہوتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق توانائی منڈی میں حالیہ کمی کے باوجود صورتحال بدستور غیر یقینی ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات عالمی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تجزیاتی انداز میں پیش کیے گئے اعداد کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی نقل و حمل اور بحری جہازوں کی آمد و رفت میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے جس سے توانائی کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی خام تیل کی ترسیل کا ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی مجموعی سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اسی لیے اس علاقے میں سکیورٹی خدشات یا عسکری تناؤ کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے، حالیہ ہفتوں میں جنگی صورتحال کے باعث جہاز رانی میں رکاوٹیں اور سپلائی میں کمی کے خدشات سامنے آئے جس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی۔
حکام اور مارکیٹ مبصرین کے مطابق اگرچہ قیمتوں میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں مستقبل قریب میں دوبارہ تیزی یا شدید اتار چڑھاؤ خارج از امکان نہیں، توانائی کے عالمی ادارے بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسٹریٹیجک ذخائر کے استعمال جیسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔