پاکستان کا اپنے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزارنے کیلئے ایران سے رابطہ، حکام کی تصدیق
اسلام آباد: (ذیشان یوسفزئی) علاقائی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنے آئل ٹینکرز کی آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کے معاملے پر ایران سے رابطہ کیا ہے، جس کی تصدیق سینئر حکام نے کی ہے۔
سینئر حکام نے دنیا نیوز کو بتایا کہ پاکستانی حکام ایران سے رابطے میں ہیں تاکہ پاکستانی جہازوں کو اس اہم سمندری راستے سے گزرنے کی اجازت حاصل کی جا سکے۔
حکام کے مطابق اگر تہران کے ساتھ اس حوالے سے کوئی مفاہمت طے پا جاتی ہے تو اس وقت اجازت کے منتظر پاکستان کے آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق کم از کم دو پاکستانی جہاز اجازت ملتے ہی روانگی کے لئے تیار کھڑے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور دیگر عالمی سمندری راستوں سے ملاتی ہے، اور عالمی توانائی کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارت نے بھی اپنے جہازوں کی گزرگاہ کے حوالے سے ایران سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد بھارتی ایل این جی کارگو جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت مل گئی۔
سینئر حکام کے مطابق معمول کے حالات میں پاکستان کی تیل بردار کھیپیں آبنائے ہرمز کے راستے چار دن میں ملک پہنچ جاتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث متبادل طور پر بحیرہ احمر کے راستے آنے والی کھیپوں کو پاکستان پہنچنے میں تقریباً بارہ دن لگ رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں بدلتی سکیورٹی صورتحال کے باعث توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کے حوالے سے ممالک کو بڑھتے ہوئے لاجسٹک اور اسٹریٹجک چیلنجز کا سامنا ہے۔