مشرق وسطیٰ میں جاری بحران تاریخ کے بڑے ’ سپلائی شاکس‘ ہیں: وزیر خزانہ

واشنگٹن: (دنیا نیوز) وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران تاریخ کے بڑے ’ سپلائی شاکس‘ ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کی زیر صدارت مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAP) خطے کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینک کے گورنرز اور علاقائی مالیاتی اداروں کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کی۔

آئی ایم ایف کے ’میناپ‘ اجلاس میں خطاب کے دوران اُنہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کو حالیہ تاریخ کے بڑے سپلائی شاکس میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اِس کے ابتدائی اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا، جن میں درآمدی حکمت عملی، قیمتوں کے نظام اور لاجسٹکس میں ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

وزیرِخزانہ نے اِس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت وسیع پیمانے کی سبسڈیز کے بجائے ہدفی معاونت کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جا سکے جبکہ اُنہوں نے خطاب میں عالمی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے اقدامات پر روشنی بھی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع

سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ حکومت سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر بحران کے دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے جن میں مہنگائی، معاشی ترقی، برآمدات، ترسیلات زر اور کرنٹ اکاؤنٹ شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مضبوط پالیسی بنیادوں کے ساتھ اس عالمی غیر یقینی صورتحال میں قدم رکھا ہے اور ماضی کے جھٹکوں، خصوصاً حالیہ سیلابوں سے اہم سبق سیکھے ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ضروری پالیسی تبدیلیاں ذمہ داری سے کی جائیں گی اور معاشی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں اجلاس کے اختتام پر سینیٹر اورنگزیب نے آئی ایم ایف کی قیادت کے مسلسل تعاون اور روابط پر شکریہ ادا کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں