بغیر تلوے کے سینڈلز، شینیل کے انوکھے فیشن نے سب کو حیران کردیا
فرانس: (ویب ڈیسک) دنیا کے معروف لگژری فیشن برانڈ شینیل نے اپنے ریزارٹ 2027 فیشن شو میں ایک ایسا غیر روایتی جوتا متعارف کرا دیا، جس نے فیشن حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کو یکساں طور پر حیران کر دیا۔
اس شاندار شو کے دوران ماڈلز نے ایسے ہیلز نما سینڈلز پہن کر ریمپ پر واک کی، جن میں پاؤں کا نچلا حصہ مکمل طور پر نمایاں تھا جبکہ صرف ٹخنے کے گرد ایک باریک پٹی موجود تھی، بظاہر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جوتے کا تصور تو موجود ہے، مگر جوتا خود غائب ہو چکا ہو۔
ان منفرد سینڈلز کی قیمت تقریباً 1500 امریکی ڈالر (پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 4 لاکھ 18 ہزار روپے) بتائی جا رہی ہے، جس پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا، کچھ افراد نے اسے غیر ضروری اور ناقابلِ استعمال قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے جدید فیشن میں ایک جرات مندانہ اور تخلیقی قدم کہا۔
فیشن ماہرین کے مطابق یہ ڈیزائن روایتی جوتوں کے تصور کو چیلنج کرتا ہے اور اسے ایک علامتی اظہار میں بدل دیتا ہے، جوتا صرف پہننے کی چیز نہیں بلکہ ایک احساس، تصور اور جمالیاتی اظہار بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ شینیل کی یہ پیشکش اس برانڈ کی دیرینہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جس میں آزادی، سادگی اور منفرد طرزِ زندگی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، بعض ناقدین کے مطابق یہ ڈیزائن ایسے منظر کی یاد دلاتا ہے جیسے کوئی شخص ساحل سمندر پر جوتے اتار کر ننگے پاؤں چل رہا ہو، مگر فیشن کی علامت پھر بھی برقرار ہو۔
فیشن انڈسٹری میں اس نوعیت کے تجرباتی ڈیزائن پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، جہاں مقصد عملی استعمال کے بجائے تخلیقی سوچ کو اجاگر کرنا اور توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے، شینیل کے یہ سینڈلز بھی اسی روایت کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔
اگرچہ عام زندگی میں ایسے جوتے پہننے کا تصور مشکل دکھائی دیتا ہے، لیکن فیشن کی دنیا میں ہر ڈیزائن کا مقصد عملی ہونا نہیں ہوتا، بعض اوقات مقصد صرف ایک نیا سوال اٹھانا اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے، اور اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ڈیزائن اپنی جگہ ایک کامیاب تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔