نارووال میں بین الاقوامی پیس ڈائیلاگ: امن، مکالمہ اور ہم آہنگی کا عالمی پیغام
نارووال: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ نارووال میں بین الاقوامی پیس ڈائیلاگ 2026 کا انعقاد ایک مستحسن اقدام ہے، جو دنیا کو امن، رواداری اور مکالمے کا واضح پیغام دے رہا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نارووال کو علم کے شہر میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں ترقی، تعلیم اور امن کا مرکز بنے گا، انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نفرت کے زیر اثر ایک نوجوان نے انہیں نشانہ بنایا، تاہم یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشرے کو انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تعصب سے پاک کرنا ناگزیر ہے، ان پر چلائی گئی گولی ایک زہریلے بیانیے کا نتیجہ تھی، جو اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کو آج سب سے زیادہ امن کی ضرورت ہے اور نارووال سے دنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ نفرت کا جواب مکالمے سے دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور اس کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا، ہمیں بانی پاکستان کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتے ہوئے ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا ہوگا اور معاشرے میں برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے اور ہمیں اپنی زبان اور رویے سے دوسروں کے لیے آسانی اور تحفظ پیدا کرنا چاہیے، کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دوسرے انسان کے ایمان کا فیصلہ کرے، انہوں نے پروپیگنڈا پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی اور معاشرے میں اتحاد، محبت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ایک عظیم اور کامیاب ریاست بنانے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے اور ہمیں ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کی عزت اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا، انتہاپسندی اور دہشت گردی نے پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا، تاہم قوم، افواجِ پاکستان اور اداروں کی قربانیوں کے باعث ملک کو محفوظ بنایا گیا، پاکستان کے علماء کرام نے متحد ہو کر امن کا پیغام دیا اور “پیغامِ پاکستان” اسی قومی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔
اس موقع پر مراکش کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر سعد الدین العثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ پاکستان اور یہاں کے عوام سے محبت کے باعث طویل سفر طے کر کے اس کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں، یہ کانفرنس امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم بن چکی ہے، انہوں نے پاکستانی طلبہ و طالبات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر میں امن اور ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
صوبائی اسمبلی کے رکن احمد اقبال نے کہا کہ نارووال آج امن، برداشت اور ہم آہنگی کی علامت بن چکا ہے اور یہ ڈائیلاگ ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب دنیا کو مکالمے اور باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے کہا کہ دو سو سے زائد بین الاقوامی سکالرز اور اعلیٰ حکام نارووال آئے ہیں اور شہر کی ترقی کو سراہا ہے، نارووال کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شہر دیگر شہروں کے لیے مشعل راہ بن چکا ہے اور اسے نالج کوریڈور بنانے کی کوششیں کامیابی سے جاری ہیں۔