این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جا سکتا ہے کم نہیں کیا جا سکتا: نثار کھوڑو

حیدرآباد: (دنیا نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ این ایف سی کو آئینی تحفظ حاصل ہے، آئینی طور پر این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھایا تو جا سکتا ہے کم نہیں کیا جا سکتا۔

حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پی پی پی سندھ نثار کھوڑو نے کہا کہ ہر پانچ سال میں نیا این ایف سی آنا چاہئے، 2008 کے بعد تاحال نیا این ایف سی نہیں دیا گیا ہے، ابھی تک این ایف سی کمیشن کا کوئی اجلاس نہیں ہوا ہے۔

صدر پی پی پی سندھ نے کہا کہ این ایف سی کمیشن کی جانب سے این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم کرکے وفاق کا حصہ بڑھانے کی بات تاحال سامنے نہیں آئی ہے، فاٹا اور گلگت بلتستان کو این ایف سی سے حصہ دینے کے متعلق این ایف سی کمیشن میں ہی صوبوں کا موقف آئے گا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ 28 ویں ترمیم کی باتیں میڈیا سے پتہ چل رہی ہیں، 28 ویں ترمیم کے متعلق کوئی ڈرافٹ سامنے نہیں آیا ہے، آئین میں ترامیم ہو سکتی ہیں تاہم یہ مذاق نہیں کہ ہر 15 دن میں آئین میں ترامیم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وفاق سے لے کر صوبوں کے حوالے کرنے کے متعلق پارلیمنٹ میں بحث ہوسکتی ہے، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے غریب عوام متاثر ہوگی، غریب عوام کو حکومت نے جو ریلیف دیا ہے وہ ناکافی ہے۔

صدر پیپلز پارٹی سندھ نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے کل ہی واضع کیا ہے کے فیصلے سیاسی لیڈرشپ کرتی ہے، پاکستان نے بھارت کے ساتھ مقابلہ کرکے معرکہ حق میں کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو دو حملے ہوئے، 9 مئی کو ایک حملہ پاکستان کے اندر ایک سیاسی جماعت نے پاکستان کی ریاست پر کیا، دوسرا حملہ بھارت نے کیا تو پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا، پاکستان کو ہر محاذ پر فتح ملی۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرکے دہشت گردوں کے خلاف کامیابی حاصل کی۔

صدر پیپلز پارٹی سندھ نے کہا کہ پارلیمنٹ نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا، پاکستان میں بحرانوں کا آخری حل آئین اور پارلیمنٹ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں