حج تیسرے مرحلے میں داخل، جمرہ عقبہ پر رمی کا سلسلہ جاری
ریاض: (دنیا نیوز) دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام نے 9 ذوالحجہ کی شب مزدلفہ میں گزارنے اور سنت نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے قصر و جمع کی صورت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں۔
دس ذوالحجہ کو حجاج مرحلہ وار قافلوں کی صورت میں وادی منیٰ پہنچے جہاں انہوں نے جمرہ عقبہ (بڑے شیطان) کو کنکریاں ماریں، قربانی کے بعد بال اتروا کر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو گئے۔
سعودی حکومت کی جانب سے قربانی کے ’الاضاحی‘ پروگرام کے تحت حجاج کو مطلع کر دیا جاتا ہے کہ ان کی جانب سے قربانی کس وقت ہو گی۔
دس ذوالحجہ کو وہ حجاج جنہوں نے قربانی کی ہے، انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیا ہے۔
حجاج آج سارا دن منیٰ میں ہی قیام کریں گے اس دوران وہ زیادہ تر وقت اپنے خیموں میں رہتے ہوئے عبادت کریں گے جبکہ کل 11 ذوالحجہ کو تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں ماری جائیں گی۔
جمرات پل پر سکیورٹی انتظامات مثالی ہیں جن میں پل پر آمدورفت کے راستوں کو جدا کرنا سب سے اہم ہے، راستوں کو جدا کرنے کا مقصد پل پر جانے اور رمی کے بعد واپس آنے والے حجاج کو ٹکراؤ سے بچانا اور غیرضروری ازدحام سے محفوظ رکھنا ہے۔
جمرات پل کے راستوں میں جگہ جگہ ٹھنڈے پانی کے کولرز نصب کیے گئے ہیں جبکہ زیریں اور بالائی منزلوں پر تازہ ہوا کے لیے بڑے بڑے پنکھے نصب ہیں، تاکہ حجاج بغیر کسی دشواری کے رمی کر سکیں۔
سعودی فورسز کے سکیورٹی اہلکار حجاج کی رہنمائی اور مدد میں پیش پیش ہیں جبکہ سکاوٹس اور رضا کار بھی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔