2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہو جائے گا: سہیل آفریدی

پشاور:(دنیا نیوز) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہو جائے گا۔

پشاور میں ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام میں محفوظ خوراک سے متعلق آگاہی کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام سے صحت بخش خوراک کی فراہمی میں بہتری آئی ہے، محکمہ خوراک کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ ہمارا صوبہ گندم میں خود کفیل نہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ غذائی خود کفالت کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے، آئندہ بجٹ میں محکمہ خوراک کا بجٹ بڑھاتے ہوئے جدید گودام تعمیر کیے جائیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ سال 2030 تک خیبرپختونخوا کئی شعبوں میں خود کفیل ہو جائے گا، پنجاب کی جعلی حکومت نے بار بار خطوط لکھنے کے باوجود بھی خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی بند کی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب 17 سیٹوں والوں کو اقتدار دیا جاتا ہے تو وہ عوام کے مفاد کا نہیں سوچتے، سی آر بی سی منصوبے کے لیے صوبائی حکومت نے 3 ارب روپے مختص کیے مگر وفاق نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ سی آر بی سی منصوبہ میں وفاق 80 فیصد فنڈنگ کا پابند تھا، اب 65 فیصد پر آگیا، ناردرن بائی پاس منصوبے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے 4 ارب روپے کی بریج فنانسنگ کی ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پشاور بس ٹرمینل مکمل ہے مگر این ایچ اے راستے کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہا، سوات ڈیم منصوبہ تیار ہے مگر غیر ملکی انجینئرز کے دورے کے لیے وفاق این او سی نہیں دے رہا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ صوبہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے مگر استعمال 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی گیس بند کر رکھی ہے، متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں