لاہور ہائیکورٹ کا این سی اے افسر کی برطرفی سے متعلق اہم فیصلہ

لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے افسر کی برطرفی سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا۔

جسٹس ملک اویس خالد نے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے ایڈمن افسر سلطان قمرالزمان کی برطرفی کے خلاف درخواست پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے برطرفی کا حکم معطل کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار سلطان قمرالزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر نے کسی قانونی جواز کے بغیر ان کے مؤکل کو عہدے سے برطرف کیا۔

وکیل کے مطابق قانون کے تحت وائس چانسلر اس وقت تک برطرفی کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا جب تک انکوائری کمیٹی میں الزامات ثابت نہ ہو جائیں، درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

جسٹس ملک اویس خالد نے قوانین کے برعکس برطرفی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رجسٹرار این سی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور ادارے کی جانب سے جمع کرایا گیا مبہم جواب مسترد کر دیا۔

دوران سماعت جسٹس ملک اویس خالد نے ریمارکس دیئے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو کیوں نہ بھرتیوں کے پورے عمل پر حکم امتناعی جاری کر دیا جائے۔

عدالت نے چیئرمین بورڈ آف گورنرز این سی اے کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کی اپیل کو 15 روز کے اندر اندر قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔

عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی، عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد برطرفی کا حکم معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں