اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور

اسلام آباد: (دنیا نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق ٹیلی فونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسحاق ڈار نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جون 2026 کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) کے مطابق کشیدگی میں کمی کی راہ اختیار کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا اور ایران کے درمیان 18 جون کو طے پانے والا 14 نکاتی عبوری امن معاہدہ ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا، جبکہ پاکستان نے اس میں ثالث کے طور پر دستخط کیے تھے۔

بیان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد پاکستان امن کوششوں میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے، ان حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر کرنے کے اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن کا بحران پیدا ہوا۔

اسلام آباد معاہدے پر دستخط کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے توانائی بحران اور معاشی دباؤ میں کمی آئے گی، تاہم گزشتہ چند روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

آج بھی مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال کشیدہ ہے، امریکا نے ایران پر آج بھی 140 اہداف پر حملے کیے ہیں جبکہ ایران نے ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنانے، آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے اور خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر حملے تیز کرنے کا اعلان کیا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں امریکی اتحادی کے فوجی اڈے پر کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگرز، کویت میں امریکی فوجی ریڈار سائٹ، عمان میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے معاونتی اور ایندھن فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز، اور قطر میں جنگی طیاروں کی مرمت کے مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیب کو نشانہ بنایا۔

ان حالات کے پیش نظر اسحاق ڈار نے عباس عراقچی سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد مؤثر راستہ ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں