سرکاری افسران کو جاری این او سیز، اجازت ناموں سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کو جاری این او سیز اور اجازت ناموں سے متعلق بڑا فیصلہ کر لیا۔

وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کو پہلے سے جاری تمام متعلقہ این او سیز اور اجازت نامے فوری طور پر واپس لے لیے۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS)، پولیس سروس آف پاکستان (PSP)، سیکرٹریٹ گروپ (SG) اور آفس مینجمنٹ گروپ (OMG) کے افسران فیصلے کی زد میں آئیں گے۔

کابینہ سیکرٹریٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باقاعدہ آفس میمورنڈم جاری کردیا، جس کے مطابق گورنمنٹ سرونٹس کنڈکٹ رولز 1964 کے تحت جاری تمام این او سیز فوری طور پر واپس تصور ہوں گے۔

کنڈکٹ رولز 1964 کے رولز 6، 16، 18، 20، 21 اور 22 کے تحت جاری این او سیز بھی واپس لے لیے گئے ہیں جبکہ دیگر متعلقہ شقوں کے تحت جاری این او سیز بھی فوری طور پر واپس لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق نئے اجازت نامے کے خواہشمند افسران کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی اور افسران اب نئے نافذ کردہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 کے تحت ازسرنو درخواست دیں گے۔

حکم 10 اگست 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ پرانے کنڈکٹ رولز کے تحت حاصل اجازتیں ختم کردی گئی ہیں اور افسران کیلئے نئے 2026 کنڈکٹ رولز کے تحت تازہ این او سی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نجی کاروبار، ملازمت یا دیگر ایسی سرگرمیوں کیلئے پہلے سے حاصل متعلقہ اجازتیں بھی نئے سرے سے درکار ہوں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...