پیپلز پارٹی کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی: فیصل ممتاز راٹھور

مظفرآباد (محمد اسلم میر) وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی۔

اسلام آباد میں آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر سردار زاہد تبسم کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل راٹھور کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی آزاد کشمیر قیادت اقتدار کے حصول کے لیے انتخابات اور حکومت بنانے کی جلدی میں تھی جب کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ پہلے آزاد کشمیر میں امن قائم کیا جائے اور اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں۔

اُنہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر حال میں انتخابات کراکے حکومت بنانے پر مصر رہی جس کے نتیجے میں آج آزاد کشمیر کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

 وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنا ہے، جس کا قابل عمل حل مذاکرات ہیں۔

فیصل راٹھور ممتاز کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کردہ سچ کمیشن کا قیام تمام سٹیک ہولڈرز کو موجودہ بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکتا ہے۔

اُنہوں  نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی اور مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کرانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے، ان کے بقول نکیال، سہنسہ، کھوئی رٹہ، چڑھوئی، مظفرآباد کے کوٹلہ اور کھاوڑہ سمیت بعض حلقوں میں جہاں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی، بعد ازاں نتائج کو شکست میں تبدیل کیا گیا۔

حویلی کے انتخابی نتائج کے حوالے سے وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ انہیں غیر ضروری طور پر متنازع بنایا گیا، حالانکہ 2026 کے انتخابات حویلی کی تاریخ کے پرامن ترین انتخابات میں شمار ہوتے ہیں۔

فیصل راٹھور ممتاز نے کہا کہ 2011 کے انتخابات کے بعد تقریباً ایک ماہ تک حویلی میں حالات کشیدہ رہے، متعدد دکانیں جلائی گئیں اور املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ 2016 اور 2021 کے انتخابات میں بھی بدامنی اور کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیراعظم انہوں نے انتخابات کے دوران کسی قسم کی مداخلت نہیں کی، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چودھری محسن عزیز کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر پیپلز پارٹی ہر قانونی اور آئینی فورم پر جواب دے گی۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اگر کسی امیدوار کو انتخابی عمل میں بے ضابطگی کی شکایت ہے تو الیکشن ٹریبونل سمیت آئینی و قانونی فورمز موجود ہیں جہاں شواہد کے ساتھ رجوع کیا جاسکتا ہے۔

فیصل راٹھور ممتاز کا کہنا تھا  کہ انتخابی معاملات پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخابی شکایات کے ازالے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی تقریباً آٹھ ماہ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختصر مدت اور مشکل مالی حالات کے باوجود حکومت نے گورننس، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سہولیات کے شعبوں میں عملی اقدامات کیے، آؤٹ آف سکول چلڈرن پروگرام کے لیے تقریباً 7 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ تعلیم اور صحت کے نظام کی بحالی پر بھی توجہ دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے ہسپتالوں اور میڈیکل کالج کی تعمیر کے منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ نوجوانوں کے لیے آئی ٹی اور ڈیجیٹل مواقع بڑھانے، سیاحت کے فروغ، توانائی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر بھی توجہ دی گئی۔

ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے حوالے سے فیصل راٹھور نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں آپٹیکل فائبر منصوبے کی منظوری دی گئی جبکہ  5  جی ٹیکنالوجی کے ٹرائل سے متعلق پالیسی اقدامات بھی کیے گئے، حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کیے گئے اور سرکاری گاڑیوں کے فیول اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملاقات کے موقع پر آل کشمیر نیوز پیپر سوسائٹی کے صدر سردار زاہد تبسم سمیت امجد چودھری، سردار حمید، دلاور بخاری، نثار کیانی، اعجاز خان، ہارون رشید، شاہد اعوان، چودھری فضل حسین، زاہد بشیر، راجہ کفیل احمد، اعجاز عباسی، منظور ڈار، جاوید اقبال، خالد گردیزی اور سید عزادار حسین کاظمی بھی موجود تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...